آج کا کالمنقطہ نظر

جعلی گؤ ركشكو کے بہکاوے میں آنے سے پہلے!

رويش کمار

گؤ رکشا کے اس دور میں مہاراشٹر حکومت نے صحافیوں کی حفاظت کے لئے ایک بل پیش کیا اور پاس بھی ہو گیا. بی جے پی نے انتخابی وعدہ کیا تھا جو مکمل ہو گیا. یہ بل اگر پاس ہوا تو مہاراشٹر میں صحافیوں یا میڈیا اداروں پر حملہ کرنا قابل سزا جرم ہو جائے گا. میڈیا انسٹی ٹیوٹ کے انتظام یعنی مینجمنٹ کو اس قانون سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ انہیں اس قانون کے تحت تحفظ نہیں ملے گا. ہمارے ساتھی پرساد كاتھے نے بتایا کہ اس کے تحت کنٹراکٹ، آن لائن، فری لانس صحافیوں کو بھی تحفظ ملے گا اور یہ غیر ضمانتی جرم ہوگا. بل کے مطابق صحافی پر حملہ کرنے والے کو 3 سال کی سزا ہو گی اور 50 ہزار کا جرمانہ ہوگا. صحافت کی آڑ میں غلط کام کرنے والوں کو بھی یہی سب سزا ملے گی. صحافی پر حملہ کرنے والوں کو اس کے علاج کا خرچ اٹھانا ہوگا.

میڈیا اداروں پر حملہ کرنے والے کو نقصان کی تلافی کرنی ہوگی. مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں میں ڈاکٹروں کی حفاظت کے لئے بھی قانون ہے. اس طرح سب کے لئے مختلف قانون بنیں گے تو ایک دن وکیل سیکورٹی قانون، ممبر اسمبلی سیکورٹی قانون، پائلٹ سیکورٹی قانون، ایيرهوسٹیٹس سیکورٹی قانون بھی بن جائے گا. تب ایک دن کوئی غریب کہے گا حکومت ہماری حفاظت کے لئے بھی قانون بنا دو. صحافیوں کو اس وقت سب سے زیادہ حفاظت کی ضرورت اس بات سے ہے کہ ان کی خبر شائع کی جائے اور جہاں کام کرتے ہیں وہاں کم سے کم صحافت اقدار کے مطابق سے ہو جائے. خیر  ٹاپک چینج کرتے ہیں اور گؤ رکشا پر آتے ہیں.

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور 6 ریاستوں کو نوٹس جاری کر تین ہفتے کے اندر اندر جواب مانگا ہے. تحسین پوناوالا اور شہزاد پونا والا نے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی ہے کہ گؤ حفاظت کے نام پر دلتوں اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے والی تنظیموں پر اسی طرح پابندی لگایی جائے جیسے سیما جیسے تنظیم پر لگایا گیا ہے. سپریم کورٹ نے مرکز اور ریاستوں سے جواب مانگا تھا لیکن جواب نہیں ملا تو نوٹس جاری کر دیا ہے. مرکز کے علاوہ گجرات، راجستھان، جھارکھنڈ، اتر پردیش اور کرناٹک حکومت کو نوٹس جاری کیا گیا ہے. جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس اے ایم كھانولكر اس معاملے کی سماعت کر رہے ہیں. 3 مئی کو اس معاملے میں سماعت ہوگی.

راجستھان میں گؤ رکشا کے لئے اسٹامپ ڈیوٹی میں معمولی اضافہ کا گیا ہے۔ پھر بھی مخالفت ہو رہی ہے. دس روپے سے لے کر ڈیڑھ سو کا اضافہ گائے کے نام پر تو برداشت کیا ہی جا سکتا ہے لیکن جو غریب ہیں اسے راحت مل جائے تو اس میں بھی برائی نہیں.

گؤ رکشا کے نام پر تشدد، سیاست کے علاوہ انہی مسائل کے تناظر میں بہت سی ایسی کہانیاں ہیں، جنہیں ہم جانیں تو ان کی مدد سے سیاسی مسئلے کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں. گؤ رکشا کو لے کر ٹی وی اور اخبارات پر چلنے والی بحثیں ہر واقعہ کے بعد انہی سارے دعووں کے ساتھ حاضر ہو جاتی ہیں. بہت سے لوگ اس بات سے حیران  تھے کہ پہلو خان ​​گو پالک تھے، رمضان میں دودھ کے کاروبار کے لئے گائے خریدی تھی. ہمارے ساتھی هرشا نے ایک رپورٹ بھیجی ہے مارواڑ مسلم ماڈل گوشالا کی. جودھ پور کے باڑ میر روڈ پر بجواڑ گاؤں میں یہ گوشالا ہے. 2004 سے چل رہی اس گوشالا کو مولانا آزاد اسکول کے آپریٹر چلاتے ہیں. آس پاس کے دیہات میں جب گایے بیمار ہو جاتی ہیں، لاچار ہو جاتی ہیں اور دودھ دے سکنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی تو لوگ چھوڑ دیتے ہیں. اس لیے نہیں کہ اس وقت انہیں گایوں سے محبت نہیں رہ جاتی، اس لئے بھی گائے پالنے والے بیمار اور بوڑھی گائے خرچہ نہیں اٹھا سکتے ہیں. لہذا ویکسین لگا کر چھوڑ دیتے ہیں. کچھ لوگ تو قصایی کو فروخت کرتے ہیں، مگر بہت سے لوگ گائے کو فروخت کرنے کی ہمت نہیں جٹا پاتے ہیں. لہذا ایسی گایوں کو عتیق محمد صاحب اپنی گوشالا میں لے آتے ہیں. یہاں 200 سے زائد گائیں ہیں. سب کی سب بیمار اور لاچار. ان کے علاج کے لئے ڈاکٹر ہیں اور دور دراز کے گاؤں میں جاکر علاج بھی کروا دیتے ہیں. عتیق محمد نے بتایا کہ وہ اسکول بھی چلاتے ہیں، جہاں تمام کمیونٹی کے بچے پڑھتے ہیں. یہی نہیں، عتیق احمد کی گوشالا میں بیمار گائے کا نام بھی رکھا جاتا ہے. گنگا، جمنا، خیال، آنندی، انجلی، اجوڑي، گیتا، موڈكي، كالكي، انوپڑي، دھولكي، كچوڑي، سیتا، لکشمی. عتیق کی گوشالا میں گایوں کے یہ نام ہیں. ایک گائے کا نام سلطان اور ممتاز بھی ہے. عتیق محمد نے کہا کہ وہ احسان نہیں کر رہے بلکہ اپنا فرض ادا کر رہے ہیں. ان گوشالا گیٹ بند نہیں ہوتا اور گائیں باندھی نہیں جاتی. کیونکہ ڈیم دینے سے گائے کیچڑ میں دیر تک رہتی ہے اس سے اس کے کھر یعنی پاؤں خراب ہو جاتے ہیں اور کھڑی نہیں رہ پاتی ہے.

میں نے یہ کہانی اس لیے نہیں بتایی کہ اسے سنتے ہی ہم فلمی سٹايل میں جھگڑا چھوڑ کر سیکولر ہو جائیں. میں امید بھی نہیں کرتا. جو زہر ہمارے دماغ میں بھر گیا ہے وہ برسوں کے بعد نکلے گا۔ عتیق محمد کی کہانی سے نہیں جائے گا. ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہماری زراعت نظام میں مویشیوں کا لازمی حصہ ہے. راجستھان سے لے کر بہار تک میں مویشیوں کے ان گنت میلے لگتے ہیں. بہت سے کمیونٹی ایسی ہیں جو گایوں کے جھوبڈ کو لے کر ایک ریاست سے دوسری ریاست چلے جاتے ہیں تاکہ انہیں سبز گھاس مل سکے. گؤ رکشا کی سیاست ان عام لوگوں کے اوپر قانون کی پیچیدگیاں مسلط رہی ہے. آپ نے موٹروے کے کنارے دیکھا ہوگا دو چار لوگ سینکڑوں کی تعداد میں گائے بیل لئے چلے جارہے ہیں. دراصل یہ نقل مکانی کر رہے ہوتے ہیں. اب انہیں کیا پتہ کہ کلکٹر سے اجازت لینی ہوگی. بے وجہ ایک قانون ان لوگوں کی زندگی میں گھس جاتا ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close