آج کا کالم

جمال خاشقجی کے قتل سے رہف القنون کے فرار تک

رہف القنون کے فرار اور ارتداد کا معاملہ سعودی معاشرے کے سنگین خلفشار کی جانب اشارہ کرتا ہے

ڈاکٹر سلیم خان

اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی ایگنیس نے الزام لگایا ہے کہ  سعودی حکومت کے حکام نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی منصوبہ بندی کی اور ترکی کی تحقیقات کو کیا۔ انہوں نے کہا  کہ ’’ میرے مشن کے دوران ترکی میں جمع کیے گئے شواہد میں بادی النظرایسا لگتا  ہے کہ جمال خاشقجی کا منصوبہ بند طریقے پر سفاکی سے قتل کیا گیا تھا‘‘۔کیلیمارڈ نے بین الاقوامی برادری سے فوری طور پر اس پر توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔ یہ یقیناً سنگین معاملہ ہے اس لیے کہ اسلام کی نظر میں ایک انسان کا ناحق قتل ساری انسانیت کے قتل جیسا ہے لیکن ابھی تین ماہ قبل اقوام متحدہ کے ہی ایک  جائزہ کے مطابق ۲۰۰۶ ؁ سے ۲۰۱۷ ؁ کے درمیان دنیا بھر میں  جملہ ۱۰۱۰ صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ ۲۰۱۸ ؁  کے پہلے ۹ ماہ میں ۸۰ صحافیوں کو جان سے مار دیا گیا یعنی ہر چوتھے دن ایک صحافی کوآزادیٔ اظہار کی قیمت  اپنی جان سے چکانی پڑی۔ اس تناظر میں جمال خاشفجی کے قتل پر یہ شور شرابہ کچھ زیادہ معلوم ہوتا ہے جبکہ سعودی حکومت اس قتل میں شامل ۵ لوگوں کو موت کی سزا دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سچ تو یہ ہے رہف القنون کے فرار اور ارتداد کا معاملہ سعودی معاشرے کے سنگین خلفشار کی جانب اشارہ کرتا ہے اور اگر  اس کو حکومت اور عوام  نے نظر انداز کردیا تو یہ عالم اسلام کا بہت بڑا نقصان ہوگا۔

ایک ایسے وقت میں جب کہ نیدر لینڈ کے اسلام دشمن اور گستاخ رسول گیرٹ ولڈرز کی پارٹی کے سابق رکن  جورم فان کلافرین مشرف بہ اسلام ہوجاتا ہے  سعودی عرب کی ۱۸ سالہ  دوشیزہ رہف القنون کا دین اسلام  دین اسلام سے منحرف ہوجانا نہایت تشویش کی بات ہے۔ یہ بات اس لیے چونکانے والی  مسلمان لاکھ گئی گذری حالت میں بھی دین سے نہیں پھرتا اور پھر ایک ایسی ملک لڑکی کے جہاں  حرمین شریفین واقع ہوں۔ اس ملک میں جہاں   شرعی قوانین اب بھی بڑی حد تک  نافذالعمل ہوں۔ نماز کے اوقات میں سارا کاروبار بند ہوجاتا ہو اور حجاب کا پاس و لحاظ رکھا جاتا ہو۔  سعودی عرب میں دنیا بھر سے ملازمت کے لیے آنے والے کئی غیر مسلم اسلامی شعائر سے متاثر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوجاتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد مشرق بعید فلپائن کے عیسائیوں کی ہوتی ہے۔ اس کے باوجود کسی فرد کا  تھائی لینڈ جاکر اسلام سے منحرف ہو جانا کس قدر حیرت و ندامت کی بات ہے۔  رہف نے بتایا چونکہ  وہ مذہب اسلام چھوڑ چکی ہے اور سعودی عرب میں ارتداد کی  سزا موت ہے اس لیے اس کی جان کو خطرہ  لاحق ہے۔

رہف کا معاملہ  ٹوئٹر   کے ذریعہ منظر عام پر آیا۔ اس نے اپنی تصویر اور نام کے ساتھ  لکھا کہ ’میرے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں  ہےاور اب میں اپنا اصل نام اور تمام معلومات عام کر رہی ہوں‘۔ سچ تو یہ ہے اسلام کو کھو دینے کے بعد انسان کے پاس بچتا ہی کیا ہے؟ مایوسی و اضمحلال  کی جانب پہلے قدم کا اعتراف گویا رہف نے خود  کردیا۔ اس   پیغام کے شائع  ہوتے ہی ٹوئٹر پر ’سیو رہف‘ (saverahaf #) کے نام سے ایک ٹرینڈ شروع ہو گیا جس میں دنیا بھر سے لوگ اس کی مدد کے لیے اپیل کرنے  لگے۔ اس  لڑکی کے والد سعودی عرب کے شمالی صوبے حائل قصبہ  السلیمی شہر کے گورنر ہیں۔ اس کےاہل خانہ کے ایک ترجمان نے تو  بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے اور وہ صرف نوجوان لڑکی کی سلامتی کے بارے میں متفکر ہیں۔ رہف  کےوالد اور بھائی ملاقات کے لیے تھائی لینڈ تک  پہنچے تاہم اس نے ان سے بھی ملنے سے انکار کر دیا۔

اہل خانہ کے اس مشفقانہ رویہ کے  برخلاف رہف کا کہنا تھا کہ’’میں نے اپنی معلومات اور تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کی ہیں اور اس وجہ سے  میرے والد بہت غصے میں ہیں۔ میرا خاندان مجھے قتل کردے گا جس کی وہ دھمکیاں بھی دیتا رہا ہے۔ میرا خاندان معمولی باتوں پر بھی مجھے قتل کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے۔ میری زندگی خطرے میں ہے۔ ‘ رہف نے روئٹر سے گفتگو کرتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا کہ  ’’ میں اپنے ملک میں کام نہیں کر سکتی، پڑھ نہیں سکتی، اس لیے میں آزادی چاہتی ہوں اور اپنی مرضی سے پڑھنا و کام کرنا چاہتی ہوں ‘۔ یہ عجیب  بات ہے کہ جب سعودی عرب میں تعلیم کا رواج کم تھا خواتین گھر کی ملکہ بن کر رہتی تھیں لیکن اب تو خواتین کے لیے یونیورسٹی تک کھل گئی ہے اس کے باوجود رہف کو شکایت ہے کہ میں پڑھ نہیں سکتی۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ دنیا میں ایسے کتنے گورنر ہوں گے جن کی بیٹیاںملازمت کرتی ہوں؟ خیر ’میں آزادی چاہتی ہوں والی بات درست ہے‘  کیونکہ سعودی عرب میں کم ازکم اب تک مادر پدر آزاد مغربی معاشرہ عام نہیں ہوا  ہے آگے کیا ہوگا کوئی نہیں جانتا؟

رہف کی فریاد پرسب سے پہلے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے تھائی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بنکاک ائیرپورٹ پر پھنسی اس خاتون کی طے شدہ منصوبے کے تحت سعودی عرب واپسی روک دیں۔ مشرق وسطیٰ میں اس ادارے  کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل پیج نے ایک بیان میں کہا کہ ‘اپنے خاندان کو چھوڑنے والی سعودی خواتین کو ان کی مرضی کے بغیر واپس بھجوایا گیا تو وہ اپنے رشتے داروں کی جانب سے شدید تشدد، آزادی سے محرومی اور دیگر شدید نوعیت کے نقصان کا سامنا کر سکتی ہیں۔اس کے بعد  اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزیناں کی نگرانی میں ہوٹل سے چلی گئی۔ رہف کی اس حرکت نے دشمنان اسلام کو کس قدر شاد باد کیااس کا اندازہ  اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسے پلک جھپکتے کینیڈا کی شہریت کے مل گئی۔ وزیراعظم نے بذات خود ٹوئٹر اس کی تصدیق کی اور وزیرخارجہ نے  رہف کااستقبال کرتے ہوئےاس کو بہادر لڑکی کے خطاب سے نوازہ۔ عام طور پر ایسے مواقع پر ہم دشمنان اسلام کو موردِ الزام ٹھہرا کراپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے کوتاہی  کی پردہ پوشی کرتے ہیں۔ اس لیے ایسے مواقع پر خود احتسابی  سب سے زیادہ اہم ہوجاتی ہے تاکہ اسباب و علل کا پتہ لگا کر اصلاح حال کے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

رہف القنون نامی مسلم دوشیزہ کا سعودی عرب کی  فرار ہوکر کینیڈا میں پناہ حاصل کرنا  بیماری نہیں اس کی ایک علامت ہے  اوراس کے پیچھے ایک طویل حکایت ہے۔ مسلم دنیا کی سب سے  بڑی محرومی وہاں پر نافذ اسلام کے نام پر ملوکیت  کو قرار دیا جاتا تھا۔  یہ  عجیب ستم ظریقی تھی کہ  جس ملوکیت کے  لیےاسلام کو ملزم قرار دیا جاتا تھا  اس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان حکمرانوں نے اسلامی خلافت کا گلا گھونٹ کر ملوکیت کو کا قلاوہ اپنے گلے میں ڈال رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی مخالفت کرنے والی  مغربی حکومتوں  کے مسلم بادشاہوں کے ساتھ بہترین تعلقات استوا رہتے ہیں ۔ ایران کے  بادشاہ رضا شاہ پہلوی   کا یہی معاملہ تھا اس نے قبل از اسلام قدیم ایرانی تہذیب  سے  اپنارشتہ جوڑا۔ اس   پر گھمنڈ کیا اور اسلام پسندوں کے ہاتھوں عبرتناک  انجام کو پہنچا۔ آج کل سعودی عرب بھی اسی راہ پر گامزن ہے۔حرمین شریفین پر ناز کرنے والے حکمراں اب مدا ئن  کے کھنڈرات  میں انگریزوں کی مدد سے قدیم تہذیب کی بازیافت میں مصروف عمل ہیں۔ وہاں پر روایتی موسیقی کا ثقافتی میلہ لگا کر اس پر فخر جتایا جا رہاہے ۔

مدائن کا ذکر حضرت موسیٰ  ؑ  اور حضرت صالح ؑ کی سیرت میں ملتا ہے۔ یہ علاقہ  مدینہ منورہ سے ۳۵۰ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ وہاں  پہلی صدی  عیسوی کے آثارِ قدیمہ میں سے ۱۳۱ پتھروں اور چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے گھر موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس  شہر خموشاں کی آبادی اس وقت چار پانچ لاکھ کے قریب رہی  ہوگی۔اب اس میوزیم  کو دو پہاڑوں کے درمیان دنیا کا سب سے بڑا عجائب گھر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ سیاحوں کی توجہ اپنی جانب  مبذول کرنےوالی  دلکش نقش ونگار سے مزین مقبروں کو ثقافتی ورثے کی حیثیت حاصل  ہوگئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو نے اس مقام کو سعودی عرب کا عالمی ورثہ قرار دیا ہے۔ اس سیاحتی مرکز کو مقبول بنانے کے لیے ۸ ہفتوں تک ہر آخرِ ہفتہ میں   ’تنتورہ میں سرما‘ نامی ایک موسیقی  کی تقریب کا اہتمام کیا جارہاہے۔ شیشوں کے آڈیٹوریم میں لبنان کی گلوکارہ مجیدہ الرومی سے لے فرانس کپکون تک  اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ایک سعودی فنکار نے اس  صورتحال پر  نہایت دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہم ایک ایسے ملک میں  زندگی گزار رہے ہیں جہاں بچوں کو دن میں کہا جاتا ہے کہ  موسیقی ممنوع ہے اور رات میں انہیں موسیقی کی محفلوں میں شریک کیا جاتا ہے‘‘۔ اس رویہ کے نتیجے میں رہف جیسا سانحہ کیا واقعی تعجب خیز ہے؟

مدائن میں  سیاحت کو فروغ دینے اور عرب کی تاریخ و ثقافت  سے سیاحوں کو واقف کرانے کے لیے ایک سرکاری ادارہ تشکیل دیا گیاہے۔ اس ’  العُلی رائل کمیشن ‘کے ڈائریکٹر جنرل  عمرمدنی کے مطابق  آئندہ ۳ تا ۵ برس میں یہ سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔  یہاں پر فرانسیسی ماہرین کی مدد سے سیاحوں کے عیش و آرام کی خاطر پانچ ستارہ ہوٹل کھولے جائیں گے جس  سےبیروزگاری پر قابو پایا جائے گا۔ سعودی عرب کی دو تہائی آبادی ۳۰ سال سے کم ہے اور بیروزگاری سے دوچار ہے ان کی توجہات کو معاشی تنگی سے ہٹانے کی خاطر تفریحات کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ قدیم رومی بادشاہ  اپنے عوام کو بہلانے کے لیے روٹی اور کھیل کا حربہ آزماتے تھے۔سعودی حکمرانوں کا خیال ہے کہ اگر نوجونوں کو حرصِ دولت اور سیرو تفریح میں مشغول کردیا جائے تو سیاست میں ان کی دلچسپی ختم ہوجائے گی  اور احتجاج کا خطرہ ٹل جائے گا۔ اسی غرض سے  محمد بن سلمان نے اقتدارمیں دخیل ہونے کے بعدسے جزیرۃ العرب کے اندر انقلابی تبدیلیاں برپا کرنا شروع کردی ہیں جس کے نتیجے میں  اسلامی  شعائر  کی پامالی کا سلسلہ دراز ہوگیا۔

عوام کی بے چینی کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کے بجائے انہیں  بہلا پھسلا کر لوٹنے کے لیے  سینما گھر کھولے گئے اور موسیقی کی تقربیات کا زور وشور سے  انعقاد کیا جانے لگا۔ گزشتہ سال اپریل میں حکومت نے اعلان  کیا کہ معیار زندگی کو جدیدیت میں ڈھالنے اور انہیں کھیل اور تفریح کی سہولتیں مہیا کرنے کی خاطر ۲۰۲۰؁ میں ۵۰ارب سعودی ریال یعنی ۱۳ ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کی جائیگی ۔ ظاہر ہےمغرب کی پیروی میں اس مقصد  کے  حصول کی خاطر  غریب عوام کا خون چوسا جائے گا۔اس عمل کی ابتداء مقامی باشندوں کے بجائے غیر ملکی مقیم سے کی گئی اور ان پر طرح طرح کے ٹیکس تھوپ دیئے گئے لیکن  وہ دن دور نہیں جب مقامی باشندے بھی اس کا شکار ہوں گے۔  ان معاشی دشواریوں کا اثر بڑے سرکاری عہدوں پر نہیں ہوا جہاں انگریز فائز ہیں اس لیے کہ وہ سب تو مستثنیٰ ہیں یا ان کا ادارہ خرچ برداشت کرتا ہے۔ اس چکی میں غریب  اور متوسط طبقہ پسنے لگا۔

سعودی عرب میں مقیم  مغرب نواز  ان تبدیلیوں کے وارد ہونے سے بہت خوش تھے۔ ان کو ایسا لگ رہا تھا کہ جو نام نہاد گھٹن کا ماحول ہے وہ ختم ہوجائے گا اور فحاشی وعریانیت کی یوروپی فضا  وہاں بھی مہیا ہوجائے گی لیکن اس کے الٹ ہوگیا۔ سعودی عرب  کے اندرجب تک اسلامی اقدار  کا جیسا  کچھ بھی پاس و لحاظ  تھا وہ  ایک غریب پرور ملک تھا۔  دنیا بھر کے لوگ خوشحالی کی تلاش میں وہاں آتے اور اپنی مراد کو پہنچتے تھے۔ لاکھوں عرب و غیر عرب حکومت کے ذریعہ چلائی جانے والی فلاحی  سہولیات کا فائدہ اٹھاتے  اور بغیر ٹیکس کے اپنی آمدنی سے دور دیس میں رہنے والے اعزہ و اقارب کے مسائل حل کرنے کے لیے روانہ کردیتے۔ ان نام نہاد اصلاحات کے پردے میں مغرب کا  استحصالی نظام  جب سے وہاں  پہنچا ہےاس نے متوسط طبقہ کا جینادوبھر کردیا  ہے۔ ایسے ایسے ٹیکس نافذ کیے کہ لوگ اپنے خاندان وطن بھیجنے پر مجبور ہوگئے۔ مہنگائی میں اضافہ نے غریب طبقات کی نیند حرام کردی ۔ اس طرح  گویا سعودی عرب کی اسلام سے دوری نے وہاں رہنے والے غریب الوطن لوگوں سے ان کی خوشحالی چھین لی ؟ لیکن ان تلخ  حقائق  کو تہذیبی و ثقافتی ملمع سے ڈھانپ دیا گیا تاکہ مغربی ذرائع ابلاغ رطب اللسان رہے۔

عوام توجہ بنیادی مسائل سے ہٹانے کی خاطر اور انہیں تفریح کی افیون پلانے کے لیے ۳۵برس سے عائد سنیما گھروں پر  پابندی ہٹا ئی گئی۔ ایک نجی تھیٹر میں جب پہلی  ہالی ووڈ کی فلم ’بلیک پینتھر‘ دکھائی  گئی تو فلم بینوں میں خواتین اور مرد سب  شامل تھے۔ اس موقع کو سعودی وزیر ثقافت اور اطلاعات، اواد الاواد نے ایک تاریخ ساز لمحہ قرار دیا اور کہا کہ ’’ سعودی عرب میں تبدیلی آرہی ہے اور ملک متحرک معیشت اور معاشرے کی جانب گامزن ہے‘‘۔سعودی حکومت نے ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس میں ۲۰۳۰؁ تک ملک بھر میں ۳۰۰سنیما گھر تعمیر ہوں گے اور ۲۰۰۰ اسکرین کھڑی کی جائیں گی۔ مغربی ذرائع نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے اس کا  یہ جواز  بھی پیش کیا ہے  چونکہ سعودی شہریوں کو ووٹ کا حق حاصل نہیں ہے اور تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی مسلسل گر رہی ہے جس سے آئندہ  برسوں میں معاشی شعبے کے اندر  نئے چیلنجس  سامنے آ سکتے ہیں۔

 اس پس منظر میں سیاسی استحكام یقینی بنانے کے لیے  یعنی حکمرانوں کے اقتدار کو محفوظ و مامون رکھنے کی خاطرمعیار ِ زندگی کی  بہتر ی کے نام پر یہ کھیل کھیلا جارہا ہے۔ اس طریقہ سے ممکن ہے کچھ سال قوم کو بہلا پھسلا دیا جائے  لیکن اگر وہ پھر بھی قابو میں نہ آئی تو جمہوریت کا تماشہ لگا دیا جائے گا۔ اس کے بعد پھر پوری قوم زندہ باد مردہ میں مست ہوجائے گی۔ اس کو جتانے اور اس کو ہرانے کے کھیل شروع ہوجائے گا۔  حکومت کی ہر کامیابی پرحکمرانوں  کے نام کا قصیدہ پڑھے جائیں گے  اور ہر ناکامی پر خوداپنے آپ  کو موردِ الزام ٹھہراکر  کوسے گی ۔ اچھے دنوں کے خواب مسلسل دیکھتی رہے اوردن  رات حرص و ہوس کے سراب کے پیچھے بھاگتی رہے گی ۔ سعودی عرب میں جمہوری  نظام نافذ ہوجائے تب بھی وہاں  انتخاب میں وہی لوگ  کامیاب ہوں گے جن پاس مال و دولت کا انبار ہوگا یا جنہیں  سرمایہ داروں کی حمایت حاصل ہوگی اور جو ان کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔اس لیے کہ بقول اقبال ؎

ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہُوری لباس

جب ذرا آدم ہُوا ہے خود شناس و خود نگر

مملکت سعودیہ میں مغربی تہذیب و ثقافت کے لیے  ماحول سازی کی شروعات دوسال قبل  ہوچکی تھی  جب  سعودی کونسل کے رکن شیخ عبداللہ المطلق نے  ایک ریڈیو پروگرام میں کہا  تھاکہ مسلمان خواتین کو حیادار لباس پہننا چاہیے لیکن اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ عبایا (برقع) ہی زیب تن کریں۔ شیخ مطلق نے  یہ احمقانہ دعویٰ بھی کردیا  کہ "اسلامی دنیا میں ۹۰ فیصد سے زائد خواتین عبایا نہیں پہنتی ہیں۔ اس لیے ہمیں بھی لوگوں کو عبایا پہننے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے”۔ شیخ عبداللہ المطلق نہیں جانتے کہ اس بابت مسلم دنیا تو کجا مغرب کے اندر رہنے والی مسلمان خواتین بھی  حجاب کی جانب برضا و رغبت  لوٹ رہی ہیں۔ یہ کوئی زبردستی کا معاملہ نہیں ہے۔ ایسے پردہ کرنے والی خواتین کو اسے ترک کرنے کی ترغیب ناقابل فہم ہے۔

سعودی عرب کی شہزادی ریما بنت بندر السعود جو جنرل اسپورٹس اتھارٹی کے منصوبہ بندی اور ترقیاتی ادارے کی نائب سربراہ ہیں کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اس وقت مثبت تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ سعودی عرب میں بات اب صرف عورتوں کے حقوق کی نہیں بلکہ صنفی غیر جانبداری کی ہے۔ کیونکہ سعودی عرب ایک بین الاقوامی معاشرے کا حصہ ہے جس کیلئے ہم بین الاقوامی شہری تیار کرنا چاہتے ہیں اور ایسا کرنے کیلئے ہمارے پاس ۲۰۳۰ ؁  کا ہدف  ہے۔ اس ٹارگٹ سے ۱۱ سال قبل ۱۸  سالہ رہف محمد القنون  کی شکل میں ریما بنت بندر اور محمد بن سلمان نے جو کامیابی درج کرائی ہے اس کے لیے وہ  مغرب کی مبارکباد کے مستحق ہیں۔

 رہف نے اہل خانہ کی طرف سے مبینہ بدسلوکی اور جبری شادی کے منصوبے سے فرار ہو کر بیرون ملک پناہ لینے میں کامیاب ہوگئی۔ ابتداء میں وہ  آسٹریلیا جانا چاہتی تھی مگر تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں اسے حکام نے روک لیا کیونکہ اس  کے پاس کوئی سفری دستاویزات نہیں تھے۔ رہف کےبقول  بنکاک میں سعودی اہلکاروں نے مبینہ طور پر اس کا  پاسپورٹ زبردستی لے لیا تھا۔ تھائی حکام نے  جب اسے  ملک بدر کر کے واپس سعودی عرب بھیجنے کا ارادہ کیا تو  انسانی حقوق کی تنظیموں نے  مخالفت و احتجاج  کیا جس کے بعد تھائی حکام نے اپنا فیصلہ ملتوی کر دیا۔ اس دوران  اقوام متحدہ کے تحت  مہاجرین کے ادارے نے رہف کو پناہ کی متلاشی  سعودی خاتون کی  حیثیت کو باقاعدہ تسلیم کر لیا۔

اقوام متحدہ کے مہاجرین سے متعلقہ امور کے ہائی کمشنر فیلیپو گرانڈی نے خود تسلیم کیا ہے  کہ  ’’مہاجرین کا تحفظ آج کل ایک پرخطر کام ہے، جس کی ضمانت  ہمیشہ نہیں دی جا سکتی۔ لیکن رہف القنون کے معاملے میں ترک وطن اور مہاجرت سے متعلق بین الاقومی قانون اور انسانی اقدار کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس سے اندازلگایا جاسکتا ہے کہ عالمی سطح پر کئی ملین مہاجرین کو کس طرح کے تکلیف دہ حالات کا سامنا ہے۔‘‘ رہف  القنون کی بابت جس گرم  جوشی کا مظاہرہ ہوا ایسا معاملہ  بنگلا دیش اور ہندوستان کی سرحد پر پھنسے ہو ئے روہنگیا مہاجرین کے ساتھ نہیں ہوتا  کیونکہ وہ غریب ہیں اور ان کی مدد کرکے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔

اس بابت آخری بات یہ ہے کہ دین  اسلام میں عقائد کو اعمال پر یک گونہ فوقیت حاصل ہے  لیکن اگر ان کے درمیان توازن بگڑ جائے تو اعمال کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر اگر عقائد کا استعمال صرف عناد و تکفیر کے لیے ہونے لگے تو اعمال کی اہمیت بالکل ختم ہوجاتی ہے اور اس کے بعد عقیدہ بھی سلامت نہیں رہتا۔ رہف القنون کی نسل کا بنیادی مسئلہ  کا اسی عدم توازن کے نتیجے میں پیدا ہونے والا فساد ہے۔ جمال خاشقجی کو سفاکانہ قتل  میں  بھی اسی رویہ نے بڑا کردار ادا کیا  ہے جہاں عقائد کے مقابلہ معاملات اور انسانی حقوق کے احترام کو ثانوی حیثیت دےدی  گئی ہےجبکہ ”حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا : (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اﷲ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔”

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. باتیں قاری کی نگاہوں کے سامنے ہیں،جس کا تجزیہ غیرجانبدارانہ طور پر وہ پیش کرسکتے ہیں۔
    اس مضمون کے تناظر میں جو اہم تبصرہ ہے وہ یہ کہ موصوف کے قلم نے صرف سکے کے ایک رخ کو بیان کیا ہے۔حالاں کہ اصول پسند آدمی جب گفتگو کرتا ہے تو وہ خیر وشر دونوں بغیر افراط وتفریط کے بیان کرتا ہے،اور دونوں کی پرکھ کے وقت بھی اصول سے نہیں ہٹتا،اور موازنے کی بات آتی ہے -کہ جس کے بعد کسی نتیجے پرپہنچا آسان ہوگا-تو اس میں بھی عدل سے کام لیتا ہے،اور توازن نہیں کھوتا۔لیکن موصوف کی تحریر سے یہ بات تو بالکل صاف اور واضح ہے کہ انہوں نے اپنے اندر کے غم اور اسلامی تہذیب وثقافت کے تئیں ہمدری کا اظہار نہیں کیا۔بلکہ اس کے پس پردہ وہ اپنے عناد اور سینے میں دفن نفرت کی اس چنگاری کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے،جس کی سعی پیہم میں مسلم سماج کا ایک بڑا طبقہ منصوبے سازی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔اور وہ ہمہ وقت اسی فراق میں رہتا ہے کہ ہر دن کوئی رہف اور خاشقجی جیسا معاملہ خبروں کے منظرنامے پر آئے اور ان کے دل کی تسکین کا باعث بنے۔اس طرح کی ذہنیت والے افراد کبھی بھی غیرجانبدار نہیں ہوسکتے اور نہ ہی ان نگاہ سعودی حکومت کی خدمات کو دیکھ سکتی ہیں۔ہاں!وہ اس کی کمیوں اور کوتاہیوں کو شمار کرنے میں پی ایچ ڈی کرسکتے ہیں۔ان کی مثال غلیظ پر بھنبھنا والی مکھیوں کی ہے،جنہیں پھول اور اس کی خوشبو پسند نہیں،یہ بس گندگیوں کی تلاش میں رہتے ہیں،اور اچھائیاں ان کی نگاہ کے دائرہ کار سے باہر ہوتئ ہیں۔بہت حیرت ہوتی ہے جب انسان مسلکی تعصب میں ذہنی دیوالیہ کا شکار ہوجاتا ہے،پھر اسے اس بات کا ہوش وحواس نہیں رہتا کہ میانہ روی اور عدل وانصاف پر مبنی گفتگو کیاہے۔
    عالمی سطح پر سعودی حکومت کو کتنے چیلینجیز کا سامنا ہے اور کتنی فیصد عوام اس کی طرز حکومت کو سراہتی ہے،ہم اس ذکر کو نہیں چھیڑیں گے۔تاہم اتنا تو بالکل واضح اور صاف ہے کہ برصغیر کی مسلم برادری میں توحیدپرستوں سے نفرت کا اظہار کرنے والا ایک بڑا طبقہ موجود ہے،جن میں پیش پیش تقلیدی اور تحریکی ہیں،اور اپنی اس مہم کی تقویت سازی کے لیے ان کے ہاتھ ترکی (ملحد)حکومت اور ایرانی(رافضی)سے جاملتے ہیں۔اور پھر ان کی توحیدی قلعے پر ہرزہ سرائیاں،اتہام اور زبان درازیاں اس طرح شروع ہوتی ہیں،گویا صاحب ہجو فرشتہ برادری سے تعلق رکھتے ہوں۔اور دنیا کے سب سے بڑے بدبخت یہ توحید پرست اور ان کی حکومت ہے۔
    یہ بدعقیدوں،ملحدوں اور اباحیت پسندوں کا جمگٹھا ہے،جن کی زبان پر شہادتین اور عمل میں شرک وبدعات کی غلاظتیں ہیں،جن کے افکارو خیالات نظریہ الحاد وزندیقیت کو دعوت دیتے ہیں۔
    پھر علم وعمل میں یہی پھسڈی افراد سورج کو دیا دکھانے چلے آتے ہیں،توحید کی شان وشوکت اور اس کی بلندی کو تھوکنے کی کوشش کرتے ہیں،جن سے ان کا اپنا چہرہ خراب ہوتا ہے۔
    تھوڑے سے توقف کے ساتھ میں پوچھتا ہوں کہ آخر

متعلقہ

Close