آج کا کالم

جنرل بپن راوت کی گل افشانیاں  قومی سیاست کے لیے خطرے کی گھنٹی

ڈاکٹر سلیم خان

ہندوستان کا ایک طرۃٔ امتیاز  فوج  کی مداخلت سے پاک جمہوری سیاسی نظام رہا ہے۔ پاکستان  کے سیاسی معاملات  فوج  کا عمل دخل بلکہ اقتدار پر قبضہ کو بہت  بڑا عیب سمجھا جاتاہے حالانکہ ہندوستانی حکومت کے پاکستانی جمہوری حکمرانوں کی بہ نسبت فوجی آمروں سے زیادہ اچھے تعلقات رہے ہیں۔ یہ ماضی کا قصۂ پارینہ تھا لیکن مودی جی نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے بہترین رشتے قائم کرلیے جبکہ فوجی سربراہ  جنرل  بپن راوت چین سمیت پاکستان سے تعلقات بگاڑنے پر تلے ہوے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے سابق فوجی سربراہ وی کے سنگھ کو وزیر مملکت برائے امورخارجہ بنایا   تاکہ وہ پڑوسی ممالک سے تعلقات استوار کریں لیکن وہ خاموش  بیٹھے رہتے ہیں جبکہ جنرل راوت  جن کی ذمہ داری فوج کی دیکھ ریکھ ہے آئے دن ایک نہ ایک شوشہ چھوڑ دیتے ہیں۔ پہلے تو ان کا موضوع سخن  پا کستان اور چین تھا مگر اب کشمیر اور آسام جیسے نازک داخلی معاملات میں بھی وہ  لب کشائی کرنے لگے ہیں۔ وزیردفاع نرملا  سیتارامن میں جرأت نہیں ہے کہ ان کی زبان کو لگام دیں۔  وزیراعظم نریندر مودی تو خیر اپنی چوکیداری کے داغ دھونے کے لے نیرو مودی کی تلاش میں سرگرداں ہیں  انہیں پتہ ہی نہیں کہ جنرل راوت کیا  گل کھلا تے پھر رہے ہیں۔

جنرل بپن راوت نے پچھلے دنوں شمال مشرقی ریاستوں میں بنگلہ دیش سے ہونے والی غیرقانونی دراندازی کے لیے مغربی ہمسائے یعنی پاکستان کی جانب انگشت نمائی کی چین کی حمایت کا اشارہ دیا۔جنرل راوت نے پاکستان یا چین کا نام نہیں لیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ مغرب کا ہمسایہ ملک پراکسی گیم کھیل رہا ہے۔ ایک کانفرنس میں وہ بولے اب اس علاقے میں آبادی کے تناسب کو نہیں بدلا جاسکتا۔ آسام کے برعکس جہاں کے بنگالی زبان بولنے والے مسلمان صدیوں سے آباد ہیں پاکستان  کے اندر افغانستان سے ہزاروں مہاجر نقل مکانی کرکے داخل ہوئے لیکن کسی پاکستانی جنرل نے یہ الزام نہیں لگایا کہ اس کے پیچھے ہندوستان کا ہاتھ ہے۔ جنرل راوت اگر یہ اوٹ پٹانگ الزام  بنگلہ دیش پر لگاتے تب بھی لوگ  جھانسے میں آجاتے لیکن پاکستان  کے سبب چین کا اس کی حمایت سےبنگلادیشیوں کا ہندوستان میں آنا ایک ایسا لطیفہ ہے جس پر جنرل صاحب کو  لطائف کی دنیا  کے بے تاج بادشاہ کا خطاب دیا جانا چاہیے۔

جنرل راوت نے یاد دلایا کہ بی جے پی ایک زمانے میں ۲ ارکان پارلیمان پر مشتمل  جماعت تھی مگر اس کو یہاں تک پہنچنے میں بڑا وقت لگا جبکہ  آسام  میں آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نام کی جماعت بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔وہ شاید نہیں جانتے کہ اے آئی یو ڈی ایف کے بعد بننے والی عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کو راجدھانی دہلی میں  ملیا میٹ کرکے رکھ دیا۔ اس تبدیلی کے لیے کیا وہ نیپال یا سری لنکا کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔ فی الحال شمال مشرقی ہندوستان کے تین صوبوں میں انتخابی مہم چل رہی اور وزیراعظم آئے دن ایک نیا بہروپ دھار کر رائے دہندگان کو لبھارہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جنرل راوت بھی ان کے ساتھ جمہورا کا کردار ادا کرنے کے لیے گوہاٹی گئے تھے۔ انہوں نےاپنے گمراہ کن  بیان سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی  یو ڈی ایف  غیر قانونی تارکین وطن کی حمایت سے  مضبوط ہو رہی ہے۔

اپنی تقریر کے درمیان جنرل صاحب  پر  جب قومی یکجہتی  کا بخار چڑھا تو وہ بولے’’ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس علاقے میں جو لوگ رہتے ہیں انھیں بلا لحاظ ذات، مذہب اور جنس آپس میں مل کر رہنا ہے۔ ہمیں پہلے مل کر رہنا ہوگا اور پھر مسائل پیدا کرنے والوں کی نشاندہی کرنی ہوگی۔ مسلمان ۱۳ویں صدی سے آسام میں آنا شروع ہوئے تھے۔ لہذا آسام پر ان کا بھی حق ہے۔ لیکن ہمیں غیرقانونی طور پر یہاں بسنے والوں کی نشاندہی کرنی چاہیے‘‘۔

 سوال یہ ہے آخر ایک فوجی جنرل کو یہ پروچن دینے کی ضرورت کیوں  پیش آئی۔ کیا سارے سیاسی و سماجی کارکنان  ملک کی سرحد پر اپنی جان کا بلیدان دے چکے ہیں جو فوجی سربراہ کو پندو نصائح کی زحمت اٹھانی پڑی۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ آسام میں حکومت غیرقانونی تارکین وطن کی نشاندہی کرنے کے لیے شہریوں کا رجسٹر ترتیب دے رہی ہے اور لاکھوں لوگوں کے دل میں  اپنی  شہریت اور سکونت کے تعلق سے  کھٹکا لگا ہوا۔ سراکری افسران سابق فوجیوں کوتک شہریت سے محروم کرنے کے درپہ ہیں  راوت صاحب نے اپنے غیر ضروری بیان سے بلاضرورت رائتہ پھیلا کر فوج کے وقار کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس  متنازع بیان پر لازماً سب سے پہلا ردعمل  مولانا بدرالدین اجمل کا ہونا چاہیے تھا سو انہوں نے کہا فوجی سربراہ بپن راوت کا سیاسی بیان حیران کن ہے۔ یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ ایک   فوجی سربراہ کو کسی  پارٹی کے بی جے پی سے تیز ترقی کرنے سے تشویش کیوں ہے؟ جمہوری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے اصولوں پر مبنی کوئی  سیاسی جماعت اگر بلندیوں کو چھو تی ہے تو اس میں فکرمندی کی کیا بات ہے؟

رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے اس بیان پر نکتہ چینی کرتے ہوے مشورہ دیا کہ ’’ فوجی سربراہ کو سیاست دانوں کی طرح بات نہیں کرنی چاہیے۔ سیاسی پارٹیوں کا اتار چڑھاو دیکھناان کا کام نہیں ہے۔ ہماری جمہوری اقدار اور ملک کا قانون فوج کواس طرح کی بیان بازی میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ ‘‘ اس معاملے میں کانگریس کے اکھلیش پرتاپ سنگھ کا نے کہا کہ ”فوجی سربراہ کو اس طرح کے متنازع بیان سے بچنا چاہیے تھا، لیکن اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ اویسی کو زبردستی بیان دینے کی عادت ہے، فوج پر بیان بازی نہیں ہونا چاہیے”۔ اس طرح کے دوغلے بیانات سے آج کل کانگریس کی حالت دھوبی کے گدھے  کی سی ہوگئی ہے۔

سیاسی جماعتوں کو اس بیان کی مذمت کرنی چاہیے مگر چونکہ یہ بیان بی جے پی کے حق میں اس لیے ابن الوقتی کا مظاہرہ کرتے ہوے اس نے جنرل راوت کی تائید کردی۔ سبرمنیم سوامی نے کہہ دیا  ” اگر کسی شخص نے اپنی بات رکھی ہے تو اس میں برائی کیا ہے؟ جنرل راوت نے صرف مسائل کے متعلق آگاہ کیا ہے، اس پر ہنگامہ آرائی نہیں ہونا چاہیے”۔ سوامی سے دوقدم آگے نکلتے ہوے آر ایس ایس کے راکیش سنہا بولے”اویسی کا کام بیان بازی کرنا ہے، جنرل راوت نے کیا کہا  اور کیا نہیں ، اسے بھول جائیے، وہ کوئی گڑیا نہیں ہے۔ وہ ایک اہم عہدے پر فائز ہیں اور شمال مشرق میں جو بھی مسائل ہیں ان پر بولنے کا انھیں حق ہے”۔جنرل راوت جب سنگھ پریوار کے خلاف بیان  دیں گے تو سنہا صاحب کا دماغ ٹھکانے آجائے گا۔ فوج کے ترجمان نے تو شاید اس بیان دیکھا ہی نہیں  ورنہ  اس بیان کو غیر سیاسی نہ  کہتے۔ خود جنرل صاحب  نےبھی کہہ دیا  ” میں نے کوئی سیاسی یا مذہبی بات نہیں کی ہے۔ میں نے صرف ترقی اور اتحاد کی بات کی ہے”۔ وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے یہ کہہ کر جنرل راوت کی بلاواسطہ توہین کردی کہ  کسی شخص نے کوئی بیان دیا اس پر کسی اور نے رد عمل ظاہر کیا تو اس پر میں تبصرہ کیوں کروں ؟محترمہ  سیتارامن یہ شخص کوئی آدمی نہیں  فوجی سربراہ ہے۔

جنرل راوت نے اپنی نادر العقل تحقیق کی بنیاد پر انکشاف کیا کہ بنگلہ دیش سے نقل مکانی  کی دو وجوہات  ہیں۔ ایک وجہ تو جگہ کی کمی ہے، بارشوں میں سیلاب سے بیشتر علاقے متاثر ہوتے ہیں اور رہنے کے لیے جگہ نہیں بچتی ہے۔ وہ شاید نہیں جانتے کہ بنگلہ دیش سے زیادہ سیلاب آسام میں آتے ہیں۔ سیلاب زدہ  بنگلہ دیشی  اگرآسام آجاتے ہیں تو آسامی کہاں جاتے ہیں اور جس وقت یہ مہاجرت ہوتی ہے سرحد پر تعینات  فوجی اور بارڈر سیکورٹی فورس کیا سیلاب میں بہہ کر خلیج بنگال کی جانب نکل جاتے ہیں ؟  انہوں نے آسام میں کشمیر کو گھسیٹتے ہوئے کہہ دیا جس طرح جموں و کشمیر میں بدامنی پھیلانے کے لیے شدت پسندوں کو بھیجا جاتا ہے۔ اسی طرح شمال مشرقی ریاستوں میں شرپسندی کے لیے غیرقانونی نقل مکانی کرائی جاتی ہے۔ جنرل صاحب نہیں جانتے  کہ آسام کی  علٰحیدگی پسند تنظیم  اُلفا میں پاکستانی نہیں آسامی  نوجوانوں پر مشتمل ہے  اور پچھلے ماہ یوم جمہوریہ  کے موقع پر اس نے ترنگا جلاکر آزادی کے نعرے لگائے تھے۔ یہ ویڈیو ذرائع ابلاغ کو بھیجی گئی،  گزشتہ سال اس موقع پر ۹ بم دھماکے کیے  گئے تھے۔

جنرل راوت پر چونکہ حکومت قابو نہیں کرپارہی ہے اس لیے بولے جارہے ہیں۔ ۱۲ جنوری ؁۲۰۱۸ کو کہہ دیاجموں وکشمیر کے اسکولوں میں ہندوستان کا مکمل نقشہ دکھانےکے بجائے جموں وکشمیر الگ سے دکھا کر طالب علموں کے ذہن میں غلط باتیں بٹھائی جارہی ہیں۔ وہاں اسکولوں میں مدرسین جو کچھ پڑھارہے ہیں وہ نہیں پڑھایاجانا چاہئے۔سوشیل میڈیا اور سرکاری مدارس ریاست میں غلط اور گمراہ کن پروپگنڈہ کے ذریعہ نوجوانوں کو گمراہ کررہے ہیں جس کےسبب ریاست میں برہمی پھیلتی ہے۔ فوجی سربراہ نے مشورہ دیا کہ ریاست میں چند مدارس اور مساجد کو کنٹرول کرنے کیلئے میکانزم تیار کیا جائے اور نصاب تعلیم میں تبدیلی کی جائے۔ جموں کشمیر کی حکومت میں بی جے پی شامل ہے اس لیے یہ تلقین بند کمرے میں  حکومت کو دینا چاہیے۔ عوام میں بیان بازی کرکے انہوں نے حزب اختلاف کو ہنگامہ کرنے کا موقع عطا کردیا۔

اسمبلی اجلاس میں نیشنل کانفرنس کے ارکان نے شدید احتجاج کیا اور اس کے رکن اسمبلی علی محمد ساگر نے فوجی سربراہ کے بیان  کوانتہائی تکلیف دہ اور نامناسب گردانتے ہوے کہا اس طرح کے تکلیف دہ بیانات سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اس سے کشمیریوں میں غلط پیام جاتا ہے۔ اس کے جواب میں  وزیر تعلیم جموں و کشمیر الطاف بخاری نے فوجی سربراہ پر ریاستی اُمور میں مداخلت کا الزام عائد کیا۔ اس کے برعکس  بی جے پی کے ترجمان بریگیڈیئر (ر) انیل گپتا نے کہا کہ ریاستی وزراء کو حقیقت پسند ہونا  چاہئے۔فوجی سربراہ کے بیان کو  تو غلط معنوں میں نہیں  لینا چاہیےاور سیاسی موضوع بنانے سے احتراز کیا جانا چاہئے۔ کاش کہ گپتا جی اپنی  سیاسی ذمہ داری ادا کرتے اور جنرل راوت کو سیاسی بیانات دینے سے پر ہیز کرنے کی تلقین کرتے  تو اس ’سوچھّ بھارت ابھیان ‘  کی نوبت ہی نہ آتی۔

وزیر تعلیم سید الطاف بخاری نے ایک کتابی نمائش کے موقع پر جنرل بپن راوت کے بیان  کی  دھجیاں اڑا دیں۔ دو دن بعد سخت برہمی کا اظہار کرتے انہوں نے کہا   ’’فوج شعبہ تعلیم میں مداخلت نہ کرےاور اپنے کام پر توجہ دے‘‘۔وہ بولے جن  لوگوں کا شعبہ تعلیم سے کوئی واسطہ نہیں ہے، وہ بھی  تبصرے کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ تعلیم شعبے کو کس طرح چلانا ہے‘‘۔ بخاری نے کہا ’’فوجی سربراہ اس ملک کے ایک محترم اور معزز عہدیدار ہیں ، وہ ایک پیشہ ور افسر ہیں ،مجھے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت پر کوئی شک نہیں ہے،لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ ایک ماہر تعلیم ہیں کہ تعلیم پر خطبات دیں کوئی  بھی سماج غیرتعلیمی ماہرین کے مشورےسے نہیں چلتا۔ مجھے  نہیں معلوم کہ وہ جانتے ہیں یا نہیں ،تعلیم کنکورنٹ لسٹ  (متفقہ فہرست) میں نہیں آتا ہے، یہ ریاست کے اختیار میں ہے، ہم جانتے ہیں کہ ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو کیسے چلانا ہے‘‘۔

 وزیر تعلیم  بخاری نے الٹا فوجی سربراہ کو نصیحت کی کہ وہ سرحدوں کی حفاظت یقینی بنائیں تو تشدد کے واقعات کم ہوجائیں گے۔ شاید انہیں معلوم  نہیں ہےمگر مجھے یہ بہت ہی اچھی طرح سے معلوم ہے۔کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے جہاں فوج کا کسی چیز پر کنٹرول نہیں ہے۔ہماری فوج ایک اچھا کام کررہی ہے، جو ان کا کام ہے، انہیں وہ کام کرنا چاہیے، جو بحیثیت وزیر تعلیم میرا کام ہے، میں وہ کروں گا، میرا کام ہے بچوں کو تعلیم فراہم کروانا ہے، میں بچوں کو بہت اچھی تعلیم فراہم کرا رہا ہوں۔ ہمارے پاس دو جھنڈے ہیں ، ہمارے پاس اپنا ریاستی آئین ہے، ہر ایک ریاست کا اپنا نقشہ ہے۔ہر اسکول میں اپنی ریاست کا بھی نقشہ ہوتا ہے، اگر فوج اپنا کام صحیح سے انجام دے گی تو علیحدگی پسندی کہیں جنم نہیں لے گی، اگر وہ اپنا کام صحیح سے کریں گے تو تمام مسائل حل ہوں گے۔ جنرل راوت اگر اپنی زبان کو قابو میں رکھتے تو انہیں  الطاف بخاری سے یہ بھلی بری  نہیں سننی پڑتی۔

یہ جنرل صاحب کا پرانا روگ ہے۔ستمبر میں نئی دہلی کے اندر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں  نے ہند پاک اختلافات کو ’نا قابلِ مفاہمت ‘ قرار دے دیا تھا اور اس خام خیالی  کو بھی رد کردیا  تھاکہ جمہوریت پسند یا جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ممالک ایک دوسرے سے جنگ نہیں کرتے۔جنرل روات نےکہا  تھاچین کے ساتھ مستقبل میں ٹکراؤ کے اندیشہ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا اور پاکستان بھی اس موقع پر فائدہ اٹھا سکتا ہے، اس لئے ہندستان کو ایک ساتھ دو محاذوں پر اپنا دم خم دکھانے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔جنرل راوت نے یہ دلچسپ انکشاف بھی کیا کہ  پاکستان  کے ساتھ دوستی کی کوئی گنجائش نہیں دکھائی دیتی کیوں کہ وہاں کی فوج نے حکومتی نظام اور لوگوں کے من میں یہ یہ بات ڈال دی  ہے کہ ہندستان دشمن ہے اور وہ ملک کے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے۔ یہ الزام  خود جنرل راوت پر بھی لگ سکتا ہے کیونکہ جو کچھ  پاکستان کی فوج نے وہاں کیا وہ یہاں کررہے ہیں۔

  چین کے تناظر میں  ایک  فوجی سربراہ کا یہ  دعویٰ جنرل صاحب کو زیب نہیں دیتا کہ ’فوجیں تنہا جنگ نہیں لڑتیں بلکہ پوری قوم جنگ لڑتی ہے اور ہمیں اس کے مطابق خود کو تیار کرنا چاہیے‘۔ راوت شاید نہیں جانتے کہ آریس ایس کے لاکھوں بلیدانی جتھے  ۳ دن کے نوٹس پر ملک کے تحفظ کی خاطر جان لڑانے کے لیے سر پر کفن باندھ کر تیار بیٹھے ہیں۔ مناسب ہوگا کہ بھاگوت اور راوت ساتھ ساتھ بیٹھ کر مفاہمت بنالیں۔ ان لوگوں نے ملک کی فوج کامذاق بنارکھا  ہے۔ چین نے بھارتی آرمی چیف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پھٹکارا تھا کہ بھارت امن کو سبوتاژ کرنے والی بیان بازی اور اقدامات سے باز رہےکیونکہ  جنرل بپن راوت کا بیان غیر تعمیری اور باہمی تعلقات کو خراب کرنے والا ہے۔اس طرح کے بیانات سے سرحدوں پر امن اور استحکام کو نقصان پہنچے گا۔ سکم سیکٹر کی حلقہ بندی ہو چکی ہے۔ چین اپنے علاقے کی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اس  لیے وہ ڈوکلام سے عبرت پکڑے۔اس طرح جنرل بپن راوت نے بین الاقوامی سطح پر بھی قوم کو رسوا کیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں حزب اختلاف فوج کو مداخلت کی دعوت دیتا ہے لیکن مودی سرکار اقتدار میں ہونے کے باوجود اس آگ سے کھیل رہی ہے۔ جنرل بپن روات کے شعلہ فشاں بیانات  پر یہ شعر صداق آتا ہے ؎

شعلہ رو، شعلہ سخن، شعلہ بدن، شعلہ مزاج

آگئے گھر میں میرے آگ لگانے والے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close