آج کا کالم

جن تنتر اور دھن تنتر کی دھینگا مشتی

ملک کے مفاد کی بہ نسبت اقتدار کی ہوس ان جعلی دیش بھکتوں کے نزدیک زیادہ اہمیت کی حامل ہوگئی ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

یہ ہندوستان کی تاریخ میں  پہلی بار ہوا ہے ۵۶ انچ کے چھاتی  والا پردھان سیوک اخبار نویسوں سے چھپتا پھرتا ہے۔ کبھی تو بنے بنائے سوالوں کے رٹے رٹائے جواب دیتا ہے اور کبھی  اس کا دفتر اخباری سوالات  کے جو جوابات لکھ کر بھیجتا ہے وہ اخبار میں انٹرویو کے طور پر چھپ جاتے ہیں۔ لیکن ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب ہندوستان کا وزیر اعظم اخبارنویسوں کو انٹرویو دیا کرتا تھا  اور ان میں  اٹل بہاری واجپائی بھی شامل تھے۔ انہوں نے راجدیپ سردیسائی کوانٹرویودیتے ہوئے کہا تھا ۱۹۵۷؁ کے پہلے انتخاب میں ان کے پاس دوعدد جیپ تھی ایک پارٹی کی اور ایک کرائے کی۔ ان میں سے ایک جنگل میں خراب ہوگئی اس لیے وہ ووٹ نہیں دے سکے مگر الیکشن جیت گئے۔ آگے ایک سوال کے جواب میں وہ بولے  سیاست بہت خطرناک  صورتحال کی جانب گامزن   ہے۔ ’جن تنتر، دھن تنتر( یعنی جمہوریت، دولتیت) میں بدل رہا ہے‘  یہ دیش کے لیے اچھا نہیں ہے۔ راجدیپ نے پوچھا تو  کیا اب  جس کے پاس پیسہ ہو گاوہی چناو لڑ سکے گا؟  اٹل جی نے کہا وہی لڑ سکتا ہے اور وہی جیت سکتا ہے۔

اٹل جی نہیں جانتے تھے کہ اس خطرناک  صورتحال کو ان کی اپنے جانشین پروان چڑھائیں گے۔ ان کی استھی کلش کے سہارے  انتخاب  جیتنے کا خواب دیکھنے والے مودی جی  جن تنتر کو پوری طرح دھن تنتر میں بدل دیں گے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ  سیاسی جماعتوں کے ساتھ الیکشن کمیشن کے سالانہ مشاورتی اجلاس میں بی جے پی کے سواساری سیاسی  جماعتوں نےانتخاب پراخراجات کو پابند بنانے  کی حمایت کی۔ بی جے پی نے اول تو دستوری ترمیم کے ذریعہ  سیاسی چندے کو تمام  حدود و قیود سے مبراّ کیا اوراب  انتخابات  کے خرچ کو بے حدو حساب کرنے پر زور دے رہی ہے۔ ساری  سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن سےانتخابی ا خراجات  کی حد مقرر کرنے کااصرار کررہی  ہیں مگر بی جے پی اس کی مخالفہے۔اس کے جنرل سکریٹری بھوپندر یادو اور وزیر جے پی نڈاّ کا کہنا ہے کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیےبلکہ زیادہ سے زیادہ تشہیر کے مواقع اور سہولت دی جانی چاہیے۔

بی جے پی انتخابی اخراجات پر پابندی کی مخالفت اس لیے کررہی ہے کہ اس کو  کانگریس، این سی پی، سی پی آئی، سی پی آئی ایم اور ترنمول کانگریس کے ذریعہ مجموعی طور پر جمع شدہ   چندے سے ۹گنا زیادہ رقم  موصول ہوئی ہے۔ بہوجن سماج پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ پارٹی کو سال  ۲۰۱۶ ؁ اور ۲۰۱۷ ؁  کے دوران ۲۰ ہزار روپے سے زیادہ کا چندہ نہیں ملاجبکہ بی جے پی نے ۲۵ء۵۳۲ کروڈ روپیہ اعانت وصول کی۔ جبکہ کانگریس ا کو جملہ ۴۲ کروڈ سے کم رقم ملی جو بی جے پی ۱۳ گنا کم ہے۔  جمہوریت کی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ سب کو یکساں مواقع فراہم کرتی ہے تو کیاانسیاسی جماعتوں  کا مقابلہ برابری ہے؟ ایک سوال یہ  بھی ہے کہ اگر بی جے پی اقتدار میں نہیں ہوتی کیا اسے اس قدر روپیہ ملتا۔ اگر نہیں تو کیا یہ رشوت کی خوشنما شکل نہیں ہے؟

 یہی وہ خطرناک صورتحال   ہےجس کی جانب اٹل جی نے اشارہ کیا تھا اور کہا تھا دھنوان ہی انتخاب جیت سکتا ہے۔ ان کی اپنی بی جے پی اب  دھن دولت کے سہارے انتخاب جیتنے کا قانونی جواز فراہم  کرنے کی تگ و دومیں مصروف  ہے۔ اس اقدام کا پوشیدہ  پیغام یہ  ہے کہ سنگھ پریوار  نے  ہندوتوا کے  جس نظریہ کی بنیاد پر کامیاب ہونے کا دعویٰ کیا تھا  اس میں عملاً شکست تسلیم کرلی گئی  ہے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اس کے باوجود اس کوصرف ۶۶۳انفرادی چندہ دہندگان نے ۸۲ء۱۶ کروڑ روپے چندہ دیا یعنی اوسطاً ۵۴ء۲لاکھ روپئے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کن لوگوں کا پیسہ ہے۔ اس کے برعکس ۴۳ء۵۱۵ کروڈ بڑے سرمایہ دار گھرانوں نے دیا ہے۔ یہ گھرانے اپنی دولت کیسے وصول کررہے ہیں اس کا بھی ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔

کانگریسی رہنما  ویرپا موئیلی کی قیادت میں  پارلیمانی کمیٹی نے ریزرو بینک کے ذریعہ بینکنگ سیکٹر میں ’ڈوبے قرض کا مسئلہ (یعنی این پی اے) ‘کو ریزرو بنک کے ذریعہ نہیں روکے جانے پر سنگین  نوعیت کاسوال اٹھایا ہے۔ اقتصادیات  پر پارلیمان  کی اسٹینڈنگ کمیٹی کےمطابق ریزرو بینک کو دباؤ والے اکاؤنٹ کا پتہ لگا کر شروعاتی اشارے پکڑنے چاہیے تھے۔ کمیٹی نے کہا کہ سینٹرل بینک نے دسمبر ۲۰۱۵ ؁  سے پہلے اس سمت کوئی اقدام نہیں کیابلکہ ری اسٹرکچرنگ پلان کے بہانے دباؤ والے کھاتوں  کو نظر انداز کیا گیا۔ ریزرو بینک کی اس کوتاہی کے سبب  پبلک سیکٹر کے بینکوں کا ڈوبا قرض مارچ ۲۰۱۵ ؁  سے مارچ ۲۰۱۸ ؁  کے دوران ۲ء۶لاکھ کروڑ روپے بڑھا ہے۔ اسی دوران دہلی میں  بی جے پی کا سیون اسٹار مرکزی دفتر تعمیر ہوا ہے۔ یہ پتہ لگاناضروری ہے کہ جن لوگوں نے بنکوں کی دولت لوٹی ان میں سے کس کس نے بی جے پی کو کتنا چندہ دیا ؟

کریسل ایک عالمی معاشی ادارہ ہے اس کے مطابق ۲۰۱۸ ؁ کے معاشی سال کے اندر ملک میں بینکوں کا کل این پی اے قریب ۳ء ۱۰لاکھ کروڑ روپے ہے یعنی سرمایہ دار عوام کا ۱۰ لاکھ کروڈ سیاستدانوں کے ساتھ ملی بھگت سےڈکار گئے۔ اٹل جی نے اسی خطرناک  صورتحال سے خبردار کرتے ہوئے  اس کو لعنت قرار دیا تھا۔ انہوں  نے کہا تھا ابھی تک پیسہ دینے والے اپنے مفادات پر زیادہ زور نہیں  دے رہے ہیں  لیکن پونجی کے اثرات بڑھ رہے  ہیں اور یہ آگے چل کردیش کے لیے ایک ابھیشاپ (لعنت) ہوگا۔ مودی جی اور سنگھ پریوار بھی جانتا ہے کہ دولت کی  بے شمار ریل پیل ملک کے جسدِ سیاسی کی خاطر جان لیواعذاب ہے لیکن اقتدار کے حصول نے ان کو اندھا کردیا ہے۔ ملک کے مفاد کی بہ نسبت  اقتدار کی ہوس ان  جعلی دیش بھکتوں کے نزدیک  زیادہ اہمیت کی حامل ہوگئی ہے۔ عوام جب اس حقیقت سے واقف ہوجائے گی  تو انہیں اس کرتوت کا مزہ چکھائے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close