آج کا کالم

جوانوں کی شہادت پر بدلی زبان: کیا حکومت کو دباؤ میں آنا چاہئے؟

رويش کمار

اتحاد اور قوم پرستی کا مسئلہ آتے ہی ٹی وی کی بحثوں میں جان آ جاتی ہے. اینكرو کی زبان جرنلسٹوں سے بھی زیادہ جارحانہ ہو جاتی ہے. آفس میں باس اور سڑک پر ٹریفک سے جوجھتے ہوئے گھر پہنچنے کے بعد آپ بھی ٹی وی پر کچھ تو ابتدائی-گرم، گرم چاہئے. کچھ چاہئے کی یہ طلب تعلیم یا طبی جیسے موضوعات کی بحث سے کہاں پوری ہوتی ہے. ایک سر ایک بدلے پچاس سر کا نعرہ سنتے ہی آپ میں جان آ جاتی ہو گی. صحافیوں میں بھی خوف سما آگیا ہے، ان سے کوئی پوچھ نہیں رہا ہے، پھر بھی ٹویٹ کر اپنے قوم پرستی کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں ، جبکہ انہی چینلز پر دن بھر کچھ ایسے پروگرام چلتے رہتے ہیں جن کا تعلق ملک کی تعمیر سے کتنا ہوتا ہے، آپ بہتر جانتے ہوں گے. صحافت سے مایوس ہوتے سامعین کے درمیان فوج، حد اور پاکستان ایک اچھا موقع فراہم کرتا ہے، اپنی ساکھ کا لائسنس نیا کرنے کا. لہذا ہم لنگر زور زور سے اتحاد کے سینٹینل بن جاتے ہیں .

ٹی وی چینلز کی زبان میں بات کی جگہ بارود کا مطالبہ ہے، ‘ایک سر کے بدلے پچاس سر’ کا اعلان ہے، ‘کب تک سهے گا ہندوستان’ جیسے جملے دیکھ کر ایڈیٹر کی شرمندگی سمجھ آتی ہے، وہ بھول گیا ہے کہ سرجیکل ہڑتال کے وقت اس کتنا فخر ہوا تھا. ہم صحافیوں کو صحیح میں کسی دوا کی ضرورت ہے، شاید بابا رام دیو کے جدید لیب میں اس کی کوئی دوا ہو. آج بھارت کے ملٹری آپریشن کے ڈائریکٹر جنرل نے پاکستان کے ملٹری ڈائریکٹر جنرل سے ہاٹ لائن پر بات کی. اس بات چیت کے بعد جو پریس ریلیز دی گئی ہے اس کی زبان میں ٹی وی چینلز کی بارودی زبان کی طرح نہیں ہے. پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی فوج کے ڈيجيےمو نے کرشنا وادی سیکٹر میں 1 مئی کو ہوئی واقعہ پر شدید تشویش ظاہر کی ہے. اسی جگہ پر کنٹرول لائن کے بھارتی حصے میں پاکستان کی لاتعلقی نے گھس کر بھارتی سینا پر حملہ کیا اور دو جوانوں کے لاشوں کو سے savaged-وكشت کر دیا. پاکستان کی فوج نے پیچھے سے مکمل سپورٹ دیا. ہندوستانی فوج کے ڈيجيےمو نے کنٹرول لائن کے قریب پاکستان کی بیٹ ٹرینگ کیمپوں کی موجودگی پر بھی تشویش ظاہر کی ہے. ڈيجيےمو نے یہ بھی جتا دیا کہ ایسی غیر انسانی کارروائی کسی بھی شرافت کے پار ہے اور یہ سخت مذمت کے قابل ہے.

جنہیں اس مسئلے سے نمٹنا ہے، ان کی زبان میں شدید تشویش اور فکر ہے. جنہیں اس مسئلے سے نہیں نمٹنا ہے ان اینكرو اور چینلز کی زبان میں شعلے بھڑک رہے ہیں . کیا آپ کو آپ کی حکومت میں واقعی بھروسہ نہیں ہے کہ وہ کچھ نہیں کرے گی. کیا حکومتوں کو اب ٹی وی چینلز کے برقرار بدحواس ریفرنڈم کے مطابق چلنا ہوگا. پاکستان نے جو کیا ہے، اس کا نہ تو دفاع کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی چپ رہا جا سکتا ہے. بھارت-پاکستان تعلقات میں ایسا پڑاؤ ہر ماہ دو ماہ بعد آ جاتا ہے جہاں پہنچ کر کئی بار سمجھ نہیں آتا کہ اب کیا کیا جائے. یہی وجہ ہے کہ ہم لنگر بڑبڑانے لگتے ہیں . ٹی وی توپ بن جاتا ہے. ہماری سیاست بھی ٹی وی کی زبان میں بات کرنے لگتی ہے. ٹی وی آپ کے لیڈروں کو ہی نہیں لڑوا رہا ہے، آپ کو بھی ویسا ہی بنا رہا ہے.

اینکرز لیڈروں کو لڑا بھی رہے ہیں اور بول بھی رہے ہیں جب تک شہیدوں کی چتا جل رہی ہے اس وقت تک سیاست نہیں ہونی چاہئے. آپ اس اینکر کی زبان میں اس سیاست کی معصومیت تو دیکھئے. یو پی اے بمقابلہ این ڈی اے کے وقت میں دہشت گرد حملوں اور جوابی کارروائی کے اعداد و شمار ابھر آئے ہیں . دونوں حکومتوں میں مقابلے ہونے لگی ہے کہ کون بہتر تھا. 2011 سے 13 کے درمیان یو پی اے کے وقت 270 بار سيذ فاير کی خلاف ورزی ہویی تھی. 2014-16 کے درمیان این ڈی اے کے وقت 349 بار سيذ فاير کی خلاف ورزی ہوئی ہے. 2011-13 کے درمیان یو پی اے کے وقت سيذفاير کی خلاف ورزی میں 17 جوان شہید ہوئے. 2014-16 کے درمیان این ڈی اے کے وقت 27 سیکورٹی فورس شہید ہوئے.

اس طرح دہشت گردانہ حملے میں 2011 سے 13 کے درمیان 108 فوجی شہید ہوئے جبکہ این ڈی اے کے وقت یعنی 2014-16 کے درمیان 180 سیکورٹی فورس شہید ہوئے ہیں . یہ اعداد و شمار جنوبی ایشیا دہشت گردی پورٹل سے لیے گئے ہیں . حال ہی میں کپواڑہ میں ایک فوجی کیمپ پر دہشت گردانہ حملہ ہوا. کیپٹن ايش یادو اور دو جوان شہید ہو گئے. دہشت گردوں نے بینک کی کیش وین پر حملہ کر 50 لاکھ روپے لوٹ لیے اور جموں کشمیر پولیس کے پانچ جوانوں کو مار دیا. تب اس طرح کا ابال کیوں نہیں آیا. جموں و کشمیر کے حالات یہ ہیں کہ اننت ناگ لوک سبھا علاقے میں ضمنی انتخاب کے لئے الیکشن کمیشن کو 70،000 سیکورٹی فورس کا مطالبہ کرنا پڑتا ہے. کچھ دن پہلے سرینگر لوک سبھا علاقے میں ضمنی انتخاب ہوا تھا اس میں قریب 90،000 ووٹ ہی پڑے تھے. اننت ناگ لوک سبھا ضمنی انتخاب منسوخ کر دیا گیا ہے.

منگل کو دہلی میں جموں کشمیر کے گورنر این این ووہرا نے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے ساتھ ملاقات کی. گورنر ووہرا نے وزیر داخلہ کو یقین دلایا کہ حالات پر جلد ہی قابو پا لیا جائے گا. قریب 10 دن پہلے وادی کے حالات پر جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے ملاقات کی تھی. محبوبہ نے بھی حالات جلدی سدھرنے کی بات کی. پیر کو بھی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ایک اعلی سطحی میٹنگ کی تھی، جس میں NSA اجیت ڈوبھال کے علاوہ IB چیف، CRPF کے ڈی جی اور ہوم سیکرٹری شامل ہوئے تھے.

کیا پاکستان ہندوستان کو اکسا رہا ہے. حال ہی میں پاکستان کے آرمی چیف باجوا نے سرحد کا دورہ کیا اور کہا کہ جموں کشمیر میں چل رہی سرگرمیوں کو پاکستان سیاسی حمایت دے گا. کیا نواز شریف کے اقتدار پر گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے، ترکی کے صدر بھارت کے دورے پر جس وقت وزیر اعظم سے مل رہے تھے، اسی وقت سر کاٹنے کی یہ خبر آئی تھی. مجھے پتہ ہے کہ اب بم بارود اور بدلہ جیسے جملوں کے علاوہ کسی اور لہجہ میں سننے کا لوگوں کا موڈ نہیں ہے، پھر بھی ہم اجے شکلا اور سشات سرین کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ان کے جائز غصے کے علاوہ حکومت کو کیا کرنا چاہیے تھا جو نہیں کر رہی ہے. اگر حکومت کو حملہ کرنا ہی ہے تو اسے ٹی وی کے اینكرو کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کر لینا چاہئے، بات چیت کی بات کرنے والوں کو بہانہ نہیں بنانا چاہیے. ویسے بھی اکثریت میں وہ نہیں ہیں جو بات چیت کی بات کرتے ہیں ، ان کی تعداد اتنی ہے کہ وہ کونسلر کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتے. بہت سے اینكرو کو سنا، وہ حکومت کو نہیں گھیر سکتے تو بات چیت کی بات کرنے والوں کو گھیرنے لگے ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close