آج کا کالم

جھوٹی خبروں کے جنجال سے کیسے بچیں؟

رويش کمار

‘ہم دونوں’، ‘رام اور شیام’، ‘سیتا اور گیتا’، ‘شرملي’، ‘ڈان’، ‘ستے پے ستا’، ‘راوڈی راٹھور’، ‘کرش’ یہ سب ڈبل رول والی فلمیں ہیں، جس میں کبھی جعلی کردار حقیقی کو برباد کر دیتا ہے، تو کبھی حقیقی کردار جعلی کا فائدہ اٹھا کر اس کا غلط استعمال کرتا ہے. اسی ترتیب میں 1993 میں پہلاج نہلانی کی ایک سپر ہٹ فلم آتی ہے ‘آنکھیں’، جس میں گووندا اور چنکی پانڈے تھے اور گانا تھا ‘او لا دوپٹے والی اپنا نام تو بتا’. اس فلم کا آغاز ایک ایسے سین سے ہوتا ہے جو جعلی نیوز اور فوٹوشاپ کی آمد کا اعلان کرتا ہے. ایماندار وزیر اعلی بنے راج ببر پر کیمرے کی آنکھیں گڑ جاتی ہیں، ان کے ہر موومنٹ کی کاپی کی جاتی ہے اور دہشت گرد کو چھڑانے کے لیے وزیر اعلی کا ہی نقل تیار ہو جاتی ہے. تب اس طرح کا کھیل سنیما والے پلاٹ کو دلچسپ بنانے کے لئے کرتے تھے، آج سیاست کو فسادی بنانے کے لئے جعلی نیوز کا گھونٹ پلا رہے ہیں.

فیک نیوز ہر جگہ ہے. ہم صحافیوں کو لے کر بھی جعلی نیوز گڑھی گی ہیں. مرکزی دھارے کے چینل اور اخبار جعلی نیوز کا دھڑلے سے استعمال کر رہے ہیں. جعلی نیوز کا ایک ہی مقصد ہے. آپ بھیڑ کا حصہ بنیں، فسادی بنیں اور گھر سے باہر نہ بھی نکلیں تو بھی کھانے کی میز پر بیٹھ کر تصور کرتے رہیں کہ دیکھو جی آج کل ان کا دماغ چڑھ گیا ہے، وہ اس طرح ہوتے ہیں، انہیں ایسے ہونا ہوگا، سبق تو سکھانا ہی ہو گا. آپ کو یہ سب جعلی نیوز کے بنیاد پر کر رہے ہوتے ہیں تاکہ آپ جب تشدد کر دین تو اس کا الزام نہ تو سیاست پر آئے نہ حکومت پر. 31 دسمبر، 1999 کی رات پوری دنیا میں جوش تھا کہ نئی صدی آ رہی ہے. ملینیم. سن 2000. 21 ویں صدی. اس صدی کا آغاز ہوتا ہے سب سے بڑے جعلی نیوز سے. تب اس کا نام فیک نیوز نہیں تھا، جس طرح سے اب ہے. وائی ​​ٹو کے اور ملینيم بگ تھا اس کا نام.

وائی ​​ٹو کے کا مطلب ہے ایئر 2000. انٹرنیٹ کی آمد کے بعد دنیا کی پہلی عالمی فیک نیوز. ساری دنیا نئی صدی کی آمد سے زیادہ اس بات سے پریشان تھی کہ اب دنیا کے اختتام ہونے والا ہے. جیسے ہی گھڑی میں سال 2000 دستک ہو گی، دنیا بھر کے کمپیوٹر بند ہو جائیں گے. The day the earth will standstill … The computer crash of the millennium جیسی هیڈلان شائع ہونے لگی. بینک کے فیل ہونے سے لے کر بجلی کی سپلائی کٹنے تک کی افواہ پھیل گئی. ہسپتالوں کے آئی سی یو میں لوگ مر جائیں گے. آکسیجن کی سپلائی بند ہو جائے گی. شیئر بازار حادثے کا شکار ہو جائیں گے، میزائل اپنے آپ چلنے لگیں گی. 2008 میں برطانیہ کے ممتاز صحافی نک ڈیوس نے ایک کتاب لکھی. Flat Earth News. اس کے کور پر لکھا ہے an award winning reporter exposes falsehood distortion and propaganda in the global media، مطلب ایک رپورٹر نے گلوبل میڈیا میں جھوٹی خبروں، حقائق کو توڑنے مروڑنے اور پروپیگنڈہ کے کھیل کو اجاگر کر دیا ہے. 21 ویں صدی آئی اور ایسا کچھ نہیں ہوا لیکن اس پر دنیا بھر کی حکومتوں نے سوا تین لاکھ کروڑ روپے پھونک دیئے. یہ 21 ویں صدی کا سب سے بڑا عالمی گھوٹالہ تھا. نک ڈیوس نے اپنی اس کتاب میں وائی ٹو کے سفر کو تلاش کیا ہے. انہیں پتہ چلا کہ وائی ٹو کی پہلی کہانی ٹورنٹو سے شائع ہونے والے فنانشل پوسٹ کے کسی کونے میں سنگل پیراگراف میں چھپی تھی. کسی کمپیوٹر ماہر نے یوں ہی خبردار کیا تھا. وہاں سے یہ اسٹوری 1995 تک آتے آتے امریکہ، میکسیکو، کینیڈا، یورپ، آسٹریلیا اور جاپان تک پھیل گئی.

1997 تک ملینیم بگ کی کہانی سامنے کے صفحے پر جگہ حاصل کرنے لگی اور 1998 تک اس کہانی نے طوفان مچا دیا. پوری دنیا میں ملینیم مسئلے پر شائع ہونے والی رپورٹ کی تعداد دس ہزار سے بھی زیادہ جا پہنچی تھی. ایک مصنف نے تو وائی 2 کے سے کیسے بچیں لکھ کر کروڑوں کما لئے. لہذا جب کوئی کامیاب ہو، کشیدگی سے کس طرح بچیں ٹائپ کتاب لکھے تو محتاط ہو جائیں. لوگوں کو بیوقوف بنانے والی ان کتابوں کو پڑھ کر نہ تو کوئی کامیاب ہوا اور نہ ہی کسی کا دباؤ کم ہوا ہے.

اس وقت بھارت میں اٹل بہاری واجپئی کی حکومت تھی. 9 جنوری 2000 کو ہندو اخبار نے وائی ٹو کے فرضی واڑے پر خبر شائع کی، جس میں لکھا کہ اس سے نمٹنے کے لئے 1998 کے آخر میں ایک نوڈل ایجنسی سے پیدا ہوتا، جس کا نام وائی ٹو کے ایکشن فورس تھا، اس کے ہیڈ بنائے گئے تھے مونٹیک سنگھ اہلووالیہ. جو اس وقت منصوبہ بندی کمیشن کے رکن تھے. تب اس سے نمٹنے کے لئے 700 کروڑ کا فنڈ بنا تھا، ساتھ ہی تمام محکموں کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنے 1999 کے سالانہ بجٹ کا تین فیصد وائی ٹو کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے خرچ کر سکتے ہیں. پرائیویٹ کمپنیوں سے کہا گیا کہ وہ اپنا خرچ خود کریں جس کے لئے انہیں 1999-2000 کے بجٹ میں ٹیکس چھوٹ دی گئی تھی. جعلی نیوز نے غریب ملک بھارت کو بھی چونا لگا دیا، پان کس نے کھایا اور کس کے ہونٹ سرخ ہوئے پتہ نہیں. روس، کوریا جیسے ملک بھی تھے جو ہنسے تھے اور ایک نیا پیسہ خرچ نہیں کیا تھا. پھر شاید حکومتوں نے اپنے اوپر آزما کر دیکھا تھا کہ جعلی نیوز چل سکتا ہے یا نہیں. ویسے اس معاملے میں ہم دنیا سے سینئر تھے. ستمبر 1995 میں ہی بھارت بھر کے کئی حصوں میں لوگ گنیش جی کو دودھ پلا چکے تھے. جعلی نیوز آج ہم سب کو آپس میں لڑوا رہا ہے. اس بات کی  پوری کوشش کر رہا ہے کہ ہم سب فسادی بن جائیں. نک ڈیوس کی طرح بھارت میں پرتیک سنہا جو altnews.in چلاتے ہیں، روز جعلی نیوز پکڑتے رہتے ہیں. ان کے ساتھ اور بھی لوگ ہیں جیسے پنکج جین جو SM Hoax Slayer پر جعلی نیوز کو پکڑتے رہتے ہیں.

آپ جانتے ہیں کہ بنگال کے باشيرہاٹ میں گزشتہ دنوں فرقہ وارانہ تشدد کا واقعہ ہوا تھا. وہاں یہ تصویر پھیلائی جانے لگی کہ بدريا میں ہندو عورتوں کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے. بنگلہ میں لکھا تھا، ‘ٹی ایم سی کی حمایت کرنے والے ہندو بتاو کیا تم ہندو ہو.’ اس تصویر کے سہارے ایک خاص کمیونٹی کے خلاف ایک کمیونٹی کو بھڑکایا جا رہا تھا. اسے ایكسپوذ کرتے ہوئے altnews.in نے بتایا ہے کہ اس تصویر کو بی جے پی ہریانہ کی ایک رکن نے ہندی میں لکھ کر شیئر کر دیا. لکھ دیا کہ بنگال میں جو حالات ہیں، ہندوؤں کے لئے تشویش کا موضوع ہیں. بعد میں پتہ چلا کہ یہ تصویر بنگال کی نہیں ہے، بلکہ 2014 میں ریلیز ہوئی بھوج پوری فلم کے ایک سین کی ہے. آپ سوچ سکتے ہیں کہ بھوج پوری فلم کے ایک سین کا استعمال کر کے بنگال اور بنگال سے باہر مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے. یہی نہیں اسکرول ڈاٹ ان نے اس پر پوری خبر چھاپتے ہوئے لکھا ہے کہ بی جے پی کی ترجمان نپور شرما نے 2002 کے گجرات فسادات کی تصویر شیر کر دی کہ یہ بنگال میں ہو رہا فرقہ وارانہ تشدد ہے. اسکرول نے لکھا ہے کہ بتانے کے بعد بھی ان ٹویٹس کو ڈلیٹ نہیں کیا گیا ہے.

ایک عام قاری کا جعلی نیوز کو پکڑنا مشکل ہے. حال ہی میں وزارت داخلہ کی رپورٹ میں اسپین کی سرحد کی روشن تصویر چھپ گئی، آلٹ نیوز نے جب پکڑا تو وزارت داخلہ نے معافی مانگی. سوچیں یہ کام مرکزی دھارے میڈیا کا تھا. اگر سارے اخبارات تک یہ تصویر پہنچ جاتی تو آپ بھی مان لیتے کہ واہ کیا کام ہوا ہے. آج کل کے رہنما ایک اور کام کرتے ہیں. آپ کی پسند کا میڈیا کھڑا کرتے ہیں جسے میں گودی میڈیا کہتا ہوں اور جو ان کی پسند کا نہیں ہے، اسے ہی فیک بتانے لگتے ہیں. جیسے امریکہ کے صدر ڈونا لڈ ٹرمپ سی این این نیویارک ٹائمز کو فیک نیوز کہتے ہیں. اب تو وہ فیک نیوز سے بور ہوکر فراڈ نیوز کہنے لگے ہیں.

28 سیکنڈ کا یہ ویڈیو تاریخی ہے. اس ویڈیو میں ٹرمپ سی این این کو فیک نیوز بتانے کے لئے خود بھی فیک نیوز کا حصہ ہو جاتے ہیں. 2007 کے اس ویڈیو میں ٹرمپ فیک پہلوان کو مار رہے ہیں. مارنے کی ایکٹنگ کر رہے ہیں مگر 2017 میں اسے اصل میں قتل کرنے کی خواہش کے طور پر پیش کرتے ہیں. پہلوان کو لنگر بنا دیتے ہیں اور اسے مارنے لگتے ہیں. اس کے چہرے پر سی این این کا لوگو لگا دیتے ہیں. خبروں کی دنیا مایا جال میں بدل گئی ہے. لیڈر آپ پر جادو کرنے کے لئے طرح طرح کے پینترے بازی کر رہا ہے. لہذا فیک نیوز سے جو لڑے گا حکومتیں اسے بھی فیک نیوز بتا دیں گی.

آپ کے لئے بچنے کا راستہ بہت کم ہے. لیڈر، رہنما، جعلی نیوز یا فوٹوشاپ پھیلائیں گے اور آپ کے اخبار اور چینل چپ رہ جائیں گے تو آپ کو پتہ کیسے چلے گا کہ کتنے لوگوں کو الٹی نیوز معلوم ہے. بھارت میں اس کھیل کا ایک ہی مقصد ہے کہ آپ فسادی بننے کے لئے ہمیشہ تیار رہیں یا فسادیوں کو سپورٹ کرنے لگیں. ہم کوشش کریں گے کہ جعلی نیوز پر پورے ہفتہ بحث کریں. آغاز اس تاریخی سفر سے کریں گے. انٹرنیٹ اور 21 ویں صدی سے پہلے پروپیگنڈہ اور جعلی نیوز کی شکل کیسا تھا، اسی پر بات کریں گے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close