آج کا کالم

جہاں قیمت زیادہ ہو سیاستدان بکتے ہیں!

ڈاکٹر سلیم خان

انتخابی نتائج کے بعد برپا ہونے والی سیاسی اتھل پتھل اور اترپردیش و اتراکھنڈ سے قبل گوا م و منی پور میں قائم ہونے والی حکومت کی جلدبازی کو دیکھ کر  شہنشاہ اکبر کی ایک مشہور کہانی یاد آتی  ہے۔ اکبر ایک قیمتی عربی عطر  کی خوشبو سے محظوظ ہورہا تھا کہ اس کی کچھ بوندیں قالین پر گرگئیں ۔ بے ساختہ اکبر زمین پر جھکا اور عطرکوانگلی سے چن کر سونگھنے لگا۔ وہاں سے گذرتے ہوئے  بیربل کی نظر پڑی تواکبر شرمندہ ہوگیا ۔ اسے خیال ہوا بیربل  کیا سوچے گا؟ اتنا بڑا بادشاہ عطر کی ایک بوند کیلئے زمین پر جھک گیا۔ اپنی خجالت مٹانے کیلئے اکبر نے ایک بہت بڑے حوض میں  عطر  بھر کے منادی کرادی کہ عوام  جتنا چاہیں  لے کرجائیں ۔ لوگ بالٹیاں بھر بھر کے عطر لے جانے لگے ۔ قلعہ کی چھت سے اس منظر کو دیکھ کر اکبر نے پوچھا کیوں بیربل  کیسی رہی؟ بیربل نے جواب  دیابادشاہ سلامت  ’’جو بوند سے گئی سو حوض سے نہیں آتی‘‘۔

جس طرح امریکی جمہوریت کی اصلی چہرہ اوبامہ کے دور میں نہیں بلکہ ٹرمپ کے زمانے میں  نظر آیا اسی طرح ہندوستان میں جمہوری  دیو استبداد کے چہرے پران تین ریاستوں میں جہاں دو قومی جماعتوں کو واضح اکثریت حاصل ہوگئی  نہایت خوبصورت پردہ پڑا رہا لیکن گوا اور منی پور میں ساری قلعی کھل گئی ۔ اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں بی جے پی کو پہلے اپنی حکومت کرنے  کے بعد منی پور اور گوا کی جانب متوجہ ہونا چاہیے تھا لیکن اسے ڈرتھا کہ ایک بار دیگرجماعتوں کے ارکان اسمبلی  کانگریس سے جڑجائیں گے تو انہیں توڑنا مشکل ہوگا اس لئے پہلے چوری کے مال کو ٹھکانے لگایا گیا پھر حلال کمائی کی جانب توجہ کی گئی۔    امیت شاہ کی اس پاکٹ ماری  نے اترپردیش اوراتراکھنڈ کی زبردست کامیابی پر کلنک لگادیا۔

گوا یا منی پور میں کسی کو وزیراعلیٰ بنایا جانا جس قدر آسان ہے اتر پردیش یا اتراکھنڈ میں نہیں ہے۔ یوپی میں وزیراعظم کے منظور نظر منوج سنہا بھو می ہار ہیں اور چونکہ انتخاب او بی سی کی مدد جیتا گیا ہے اس لئے سنہا کے ہاتھ میں کمان دینا مسائل کھڑاکرسکتا ہے۔ پارٹی کے صوبائی صدر کیشو پرشاد موریہ پسماندہ ہیں لیکن ان کی صلاحیت مشکوک ہے۔ موریہ نے منگل کو وزیراعظم سے ملاقات کی اور جمعرات کو پارلیمانی بورڈ کی نشست میں امیت شاہ کے بس اتنا کہنے پر کہ موریہ جی آپ ہی نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب فرمائیں  ان کے خون کا دباو ایسا بڑھا کہ  اسپتال لے جانا پڑا۔ اب وہ بیچارے خود اپنا انتخاب کیسے کرسکتے تھے یہ ہیں سنگھ کے شیر کہ جن کے دل کی دھڑکن کرسی کے دور ہوتے ہی تھمنے لگتی ہے۔ موریہ کے بارے  کہا جاتا ہے کہ وہ بھی بچپن میں چائے بیچتا تھا اور اس کی تربیت سنگھ کے اندر  اور وی ایچ پی  و بجرنگ دل میں بھی ہوئی ہے پھر بھی یہ حال ہے۔

مہیش شرما جیسا براہمن اور مہنت اویدیناتھ بھی دعویدار ہیں جن کے حامی اب کی بار یوگی سرکار کے نعرے لگا تے پھر رہے ہیں   ۔ ایک منچلا تو ادتیناتھ کیلئے شعلے کے ویرو کی طرح کسی اونچی عمارت پر چڑھ کر نعرے لگانے لگا۔ خیر یہ تو طے ہے کہ ادتیناتھ وزیراعلیٰ نہیں بنا تھا یہ یوگی نئے وزیراعلیٰ کی نیند حرام ضرور کرے گا۔  سنگھ اپنے منظورِ نظر راجناتھ کو وزیراعلی ٰ کی کرسی پر دیکھنا چاہتا لیکن ان کو بھیجنے کا فائدہ اور نقصان پر مودی اور شاہ کوئی فیصلہ نہیں کرپارہے ۔ راجناتھ اس کو فالتو بات کہہ کر مسترد کررہے ہیں مگر اخبارات میں مسلسل ان کو آگے بتایا جارہا ہے۔ ایسے میں مہاراشٹر یا ہریانہ کے طرز پر کسی نئے چہرے کی قسمت بھی کھل سکتی ہے جو ہردم مودی سے ’پریرنا ‘لے کران کے آگے دُم ہلاتا رہے۔

اتراکھنڈ میں تین عدد سابق وزارئے اعلیٰ کے علاوہ کانگریس کے باغی  وجئے بہوگنا بھی وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں اس لئے جیت کے باوجود بی جے پی کوئی فیصلہ نہیں کرپارہی ہے جیسا کے کانگریس نے پنجاب میں کردیا ۔ 16 تک اعلان کی توقع کی جارہی تھی لیکن 17 آگئی کوئی اعلان نہیں ہوا۔  گوا اور منی پور بہتچھوٹی ریاستیں ہیں کہ ان دونوں میں جملہ 4 لوک سبھا کی نشستیں بنتی ہیں جبکہ اکیلے شہر ممبئی سے ۶ ارکان پارلیمان منتخب ہوتے ہیں ۔ انکا بجٹ بھی ممبئی کے دسویں حصے سے کم ہوگا اس لئے وہاں پر کانگریس  کےاقتدار میں ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا نیز اگر کانگریس اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہتی تو اپنے آپ بی جے پی کی حکومت قائم ہوجاتی  اس لیے ایسی ہڑ بڑاہٹ کی ضرورت  نہیں تھی؟  لیکن اس ہنگامہ میں فی الحال اتر پردیش کی آپسی  سر پھٹول کو ڈھانپ دیا گیا ۔ لکھنو میں ہر کوئی وزیراعلیٰ کے سوال پر یہی  کہہ رہا ہے اس کا جواب صرف شاہ اور مودی کے پاس ہے اور نہیں بتا رہے ہیں ۔  سوال یہ ہے کہ اس کا جواب ان دو لوگوں کے پاس کیوں ہے؟ جمہوریت میں اگر عوام کے نمائندے حکومت کرتے ہیں تو منتخب ارکان اسمبلی کو اکثریت سے فیصلہ کرنا چاہیے۔ یہ وہی ہائی کمانڈ اور ریموٹ کنٹرول والی روایت ہے جس کی مخالفت کرتے کرتے سنگھ پریوار خود اس کا شکار ہوگیا ہے۔

گوا اور منی پور میں عوام نے جن کو سب سے زیادہ نشستوں پر منتخب کیا تھا وہ اقتدار سے محروم کردیئے گئے اور جن کو مسترد کردیا انہوں نے جوڑ توڑ کرکے حکومت بنالی ۔ اس طرح عوام کی حکومت، عوام کی مرضی اور عوام کی خاطر کا نعرہ پوری طرح زمین بوس ہوگیا۔  دستوری ضابطے کے مطابق گورنر کو سب سے پہلے انتخاب سے قبل  قائم ہونے والے محاذ کے رہنما کو حکومت سازی کی دعوت دینی چاہیے۔ اس کے برعکس گوا  جس پارٹی کو  دعوت  دی گئی ہے اس کی حامی جماعت نے انتخاب سے قبل اپنا الحاق ختم کردیا تھا ۔ دوسری  صورت میں سب سے بڑی جماعت کو دعوت دی جانی چاہیے۔ ایسے میں کانگریس کو موقع ملنا چاہیے تھا اس لیے کہ وہ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔

بی جے پی کا تو سرے سے کوئی حق ہی نہیں تھا اس لیے کہ  انتخاب سے قبل وہ برسرِ اقتدار تھی اور اس کے وزیراعلیٰ نیز  ۸ میں ۶ وزراء کو عوام نے شکست فاش سے دوچار کردیا  تھا ۔ اگر وہ سب سے بڑی پارٹی ہوتی تب بھی اس کو دعویٰ نہیں پیش کرنا چاہیے تھا۔ نرسمھا راو جب اکثریت سے محروم ہوگئے تو انہوں نے سب سے بڑی پارٹی ہونے باوجود کھلے دل سے شکست کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت سازی سے معذرت کرلی لیکن اقتدار کے بھوکے سنگھ پریوار سے ایسی توقع کرنا محال ہے۔منی پور میں بھی یہی ہوا ۔ دونوں مقامات پر چور دروازوں سے بی جے پی نے عوام کی رائے کو قدموں تلے روندتے ہوئے  اقتدار کو ہتھیا لیا۔ یہ صورتحال امیر مینائی کےترمیم شدہ  شعر کی مانند ہے؎

منی پور اور یوپی کی سیاست مختلف یوں ہے

 اِدھر جلدی ہی جلدی ہے ، اُدھر آہستہ آہستہ

نوٹ بندی کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے پہلا خطاب 13 نومبر کو گوا میں کیا اور خوب مگر مچھ کے آنسو بہائے ۔ ملک کی عوام سے کہا ۵۰ دنوں تک مشقتیں جھیلیں میں تمہیں بدعنوانی سے پاک ہندوستان دوں گا۔ لوگوں نے پریشانی  تو خوب جھیلی لیکن ان کے حصے میں بدعنوانی سے لت پت انتخابات آئے جس میں پانی کی طرح کالا دھن بہایا گیا اور پھراسی کالے دھن کے زور پر ارکان اسمبلی کی خریدو فروخت کا بازار گرم کیا گیا۔ وزیراعظم نے قوم کی خاطر اپناسب کچھ قربان کرنے  کا ذکر کیا لیکن انتخاب  میں شرمناک شکست کے باوجود   گوا کا تخت قربان نہ کرسکے ۔  اس کے بعد وزیراعظم نے ۳۰ جنوری کو گوا کا پھر سے دورہ کیا اور اپنی مختصرترین  تقریر میں عدم استحکام کو سب سے بڑی بیماری بتا کر عوام سے گذارش کی کہ بی جے پی اطمینان بخش اکثریت سے نوازاجائے  تاکہ وہ اطمینان کی زندگی بسر کرسکیں ۔ گوا کی عوام نے بی جے پی کو 20 سے 13 پر پہنچا  کروزیراعظم کا اطمینان و سکون غارت کردیا ۔

وزیراعظم نے اپنی اسی تقریر میں  گوا کے عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے ایک قابل وزیردفاع ملک کو دینے کیلئے شکریہ ادا کیا اور اعلان کیا کہ وہ اس قدر طاقتور ہے کہ میں بھی ان کی بات سنتا ہوں ۔ انتخابی نتائج میں جب بی جے پی کی حالت پتلی ہوئی تو وزیراعظم وہ شکریہ کے ساتھ  اسی طاقتور وزیردفاع کو دھکا دے کر دہلی سے گوا بھیج دیا۔ کون طاقتور ہے اور کس کی سنتا ہے یہ جھوٹ بھی کھل گیا۔ گوا میں منوہر پریکر کا سب سے بڑا دشمن   گوا فارورڈ پارٹی کا صدر وجئے سردیسائی ہے۔ منوہر پریکر اس کو سیاسی دلال کہتے تھےاور اس نے منوہر پریکر کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ جس وقت وزیراعظم فرانس کے جنگی جہازخرید رہے تھے وزیردفاع پریکر گوا کے بازار میں مچھلی بیچ رہے تھے ۔ بالآخر اسی سردیسائی کے اصرار پر منوہر پریکر کو دہلی سے بھگایا گیا اور منوہر پریکر نے کمال ابن الوقتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سردیسائی کی حلف برداری کرائی ۔ گوا میں ۱۹۹۹؁ کے اندر اسمبلی معلق تھی مگر دہلی میں کانگریس کی سرکار تھی  تو وہاں بھی کانگریس کا اقتدار اس بارمرکز میں بی جے پی سرکار اس لئے گوا میں بی جے پی کا اقتدار۔

اتر پردیش کو لے کر مسلمانوں کو اس بات کا بہت قلق ہے کہ ان کے ووٹ تقسیم ہوئے ۔ اس میں شک نہیں کہ اگر مسلمانوں کے ووٹ تقسیم نہ ہوتے تو بی جے پی 300 تک نہیں پہنچ پاتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کاٹھیکرہ بلاوجہ  مسلمانوں کےسر پھوڑا جارہا ہے۔    بی جے پی کی جیت کا اصل سبب  ہندووں کے ووٹ کی تقسیم ہے۔ اتر پردیش کے 40 فیصد غیر بی جے پی  ہندو اگر کئی  حصوں میں تقسیم نہیں ہوتے تو بی جے پی کا خواب کبھی بھی شرمندۂ    تعبیر نہیں ہوتا ۔ وہ مسلمانوں کی مدد سے بڑے آرام سے حکومت کرسکتے تھے اس لئے یہ ملت کی نہیں ان سیکولر ہندووں کی ناکامی ہے۔ آج کل اس طرح سے بحث کی جاتی ہے کہ گویا ہندو صرف بی جے پی میں ہیں ۔ بی جے پی کے مخالف ہندو سماج کو کوئی موردِ الزام ہی  نہیں ٹھہرایاجاتا  اورسارا بخار مسلمانوں پر اتار دیا جاتا ہے حالانکہ ان کی حالت تو اس شعر کے مصداق ہے؎

کہاں قاتل بدلتے ہیں ، فقط چہرے بدلتے ہیں

 عجب اپنا سفر ہے فاصلے بھی ساتھ چلتے ہیں

بی جے پی ایک فسطائی جماعت ہے  اس کے سفاکی کی زد میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو عوام بھی آتے ہیں ۔ اتر پردیش انتخاب کے دوران دہلی  یونیورسٹی میں اے بی وی پی کی غنڈہ گردی سامنے آئی ۔ اس میں مردوں کے علاوہ خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی ویڈیو عام ہوئی قومی کی خاطر کارگل میں جان نچھاور کرنے والے فوجی کی  بیٹی گرمہرکو آبروریزی اور قتل کی دھمکی دی گئی ۔  ایودتیناتھ سمیت کئی بی جے پی رہنماوں نے حملہ آوروں کو حق بجانب ٹھہرایا۔  گرمہر مسلمان نہیں تھی اس کے باوجود ہندووں کا ضمیر نہیں جاگا انہوں نے بڑھ چڑھ کر بی جے پی کوووٹ دیا۔ مسلمانوں    کے اندازے کی غلطی سے ووٹ تقسیم  ہوئے لیکن ظلم و فسطائیت کے خلاف وہ متحد تھے ۔ آج جو لوگ  یہ کہہ کر امت میں بددلی پھیلاتے ہیں کہ مسلمانوں کا سیاسی وزن ختم ہوگیا انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ظلم  وجبر کے خلاف  قومِ مسلم ہی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنی ہوئی ہے۔سارے کے سارے  مسلمان عدل کے حامی ہیں اور عدل کی آواز کا  وزن  مسلمانوں کے سبب سے ہے ورنہ اترپردیش کے نصف ہندو فسطائیت کے علمبرداربن چکے ہیں ۔

عام ہندو سماج سے ہٹ کر ہندو شدت پسندوں کا حال گوا میں ملاحظہ فرمائیں ۔ جس طرح سیکولر ہندوووٹ کی تقسیم کا فائدہ بی جے پی کو اتر پردیش میں ملا اسی طرح ہندو شدت پسندوں کی تقسیم سے گوا میں کانگریس کا بھلا ہوا۔ 5 سال تک مہاراشٹر وادی گومانتک  پارٹی  بی جے پی کی حکومت میں عیش کرتی رہی لیکن انتخاب سے عین پہلے اس نے بی جے پی کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا ۔ اسی وقت آرایس ایس میں بغاوت ہوئی اوراس کے رہنما  سبھاش ویلنگکر نے سنگھ پریوار کے نظم و ضبط کو پامال کرتے ہوئے گوا پرانت آرایس ایس بنا ڈالی ۔ اس کے بعد قومی سطح پر اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی شریک ہندتوا وادی  شیوسینا بھی گوا پہنچ گئی اور ان تینوں شدت پسند ہندو تنظیموں  نے ایک محاذ بناکر   بی جے پی کا بیڑہ غرق کیا۔ مسلم دینی یا سیاسی جماعتوں نے کیا غیر بی جے پی جماعتوں کے خلاف ایسی کوئی حماقت کی ہے؟ انتخاب کے بعد بی جے پی اور ایم جی پی اپنا تھوکا چاٹ کر ساتھ ہوگئے۔ ویلنگکر نے اپنی پارٹی تحلیل کردی اور آرایس ایس میں لوٹ آئے۔ یہ ہے ہندو احیاء پرستوں کے نظم و ضبط کی ایک مثال جس کا لوگ اٹھتے بیٹھتے امت کو طعنہ دیتے ہیں ۔اتفاق سے اس بار اتر پردیش کے مسلمانوں کی حالت ایسی ہوگئی کہ ؎

میں جب چلا مری منزل بھی چل پڑی آگے

 ہمارا کم نہ ہوا فاصلہ میں کیا کرتا

انتخاب سے قبل جس بی جے پی کے خلاف جو لوگ گوا اور منی پور میں  زہر اگل رہے تھے وہ انتخاب کے بعد کیسے  بغلگیر ہوگئے؟ یہ چمتکارمرکزی حکومت کی گاجر اور چابک کی پالیسی کے سبب رونما ہواہے۔ ان نام نہاد عوامی نمائندوں میں سے اکثر وبیشتر بدعنوان ہیں ۔  ان کا کچاّ چٹھاّ مرکزی حکومت کے پاس ہے اور انہیں بڑی آسانی سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا جاسکتا ہے۔ اس لئے ان نمائندوں کو بلیک میل کرنا سرکار کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ منی پور میں تقریر کرتے ہوئے وزیراعظم نے عوام سے کہا  کہ اگر آئندہ انتخاب میں  وہ بی جے پی کو اقتدار میں لاتے ہیں تو وہاں پر لاگو ساری معاشی پابندیاں ختم کردی جائیں گی ۔ اس اعلان میں یہ دھمکی پوشیدہ ہے کہ اگر ان لوگوں نے بی جے پی کو مسترد کردیا تو ان  کی معاشی پابندیاں جاری رہیں گی ۔ اس دھمکی کے باوجود منی پور کی عوام نے بی جے پی کے بجائے کانگریس کو سب سے زیادہ نشستوں سے نواز دیا  لیکن گوا کی مانند وہاں بھی عوامی نمائندوں کو خرید لیا گیا۔  بقول شاعر؎

زمانے بھر کے لوگوں کی سیاست ہم نےدیکھی ہے

جہاں قیمت زیادہ ہوسیاستدان  بکتے ہیں

مرکز میں جس جماعت کی حکومت  ہو اس کے ساتھ جانے کے نتیجے میں لوٹ کھسوٹ کے جو مواقع حاصل ہوتے ہیں اس  کا سب سے زیادہ  علم عوام کے نمائندوں کو ہوتا ہے  اور سچ تو یہ ہے کہ یہی چیز ان میں سے اکثرو بیشتر کو سیاست میں لاتی  ہے۔ یہی وجہ ہے کہ   انتخاب کے بعد واضح اکثریت کی عدم موجودگی میں جو گدھوں کا بازار لگتا ہے اس  میں  سارے کہ سارے ایک جانب لڑھک جاتے ہیں ۔ عوام کا جو روپیہ ٹیکس کے نام پر خزانے میں جمع کیا جاتا ہے اسےقومی  فلاح و بہبود کے بجائےان حکمرانوں کی عیش و عشرت  پر لٹایا جاتا ہے۔  حالیہ انتخابی نتائج نے یہ  بھی ثابت کردیا کہ ملک کے ہندوعوام  کو بہلانے پھسلانے کیلئے چند نمائشی اقدامات کافی ہیں ۔ وزیراعظم نے تین سالوں تک وارانسی کو نظر انداز کیا اور تین دن وہاں جاکر چند علامتی تماشے کئے تو لوگ ایسے فدا ہوئے کے جملہ ۸ نشستوں پر کامیاب کردیا۔  علامہ اقبال نے اس  کیفیت کی کیا خوب منظر کشی کی ہے؎

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر

پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری

نوٹ بندی کی دقتوں کو بھلا کر ملک بھر کے  بے حس عوام جس طرح بی جے پی کوووٹ دے رہے ہیں اسے دیکھ کر ایک حکایت یاد آتی ہے۔ کسی  ملک میں ایک مہاراجہ سے اس کی رعایا اسی طرح  خوش  تھی جیسے کہ آج کل مودی جی سے خوش ہے۔ عوام کی زبان پر حرف شکایت کا نام و نشان نہیں تھا۔  راجہ  پریشانتھا کہ کوئی اسے پوچھتا ہے نہ  شکایت  کرتا ہے۔ایک دن اس نے اپنے پردھان منتری کو شہر کے دروازے پر جوتے کے ساتھ کهڑا کر دیا تاکہ جو بھی وہاں سے گزرے اس کو ایک جوتا مارے۔ کئی دنوں تک لوگ جوتا کھاتےاور ہنس کرگذرجاتے لیکن کوئی  شکایت نہ کرتا ۔  بادشاہ نےپریشان ہوکردس دس جوتے مارنے کا حکم دے دیاجس سے شہر کے دروازے پر جوتے کھانے والوں کی بھیڑ لگ گئی  جو بادشاہ کے حضورجا پہنچی۔بادشاہ نےخوش ہوکرآنےکی  وجہ دریافت کی تو وہ بولے  ہم  آپ کے بھکت ہیں ہزار جوتے کھا سکتے ہیں ۔بس پرارتھنا یہ ہے کہ جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھا دیں تاکہ عوام کو طویل  قطارکی زحمت نہ ہو۔ ویسے ہر حال میں  ہمارا  ووٹ تو آپ ہی کیلئے ہے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close