آج کا کالم

جی ایس ٹی کا فائدہ – غریبوں کو یا بڑی صنعتوں کو؟

رویش کمار

بدھ کو راجیہ سبھا میں جس اتحاد اور خیرخواہی پر لوگ جذباتی ہوئے جا رہے ہیں، وہ دراصل اس لیے بھی ہے کہ معاشی پالیسیوں کے معاملے میں اب ساری جماعتیں ایک جیسی ہیں. خاص کر بی جے پی اور کانگریس. جب پالیسیوں میں ہی کوئی فرق نہیں تھا تو دلیلیں کہاں سے ٹكراتیں. راجیہ سبھا میں وزیر خزانہ جیٹلی اور سابق وزیر خزانہ چدمبرم کی زبان اور باڈی لینگویز ایسی تھی جیسے دونوں ایک چیپٹر پڑھ کر آئے ہوں اور اسے اپنا پرچہ بتانے کی کوشش کر رہے ہوں. دونوں کی تقریروں میں چند لسانی اختلافات کے ساتھ وسیع رضامندی کا اظہار ہو رہا تھا. یہی وجہ ہے کہ اقتصادی پالیسی کے وقت ایوان کا اتحاد بے مثال لگتا ہے. یہ اتحاد نہیں ہے، ہماری کم مائیگی ہے. ایک بھی پارٹی جی ایس ٹی کی مخالفت میں کوئی ٹھوس دلیل نہیں رکھ پائی، سب پیوند کاری کر رہے تھے.

جی ایس ٹی کو جی ڈی پی میں اضافہ، روزگار میں اضافہ اور غربت دور کرنے کے پیکج کے طور پر پیش کیا گیا ہے. ایک بیدار جمہوریت میں ہونا یہ چاہیئے تھا کہ حکومت کو ایوان اور ایوان کے باہر بتانا چاہئے کہ دنیا میں کہاں کہاں ایسا ہوا ہے اور اس کی بنیاد کیا ہے. جہاں جی ایس ٹی لاگو ہے ان میں سے کس ملک کی جی ڈی پی ہندوستان کی جی ڈی پی کے برابر ہے جہاں جی ایس ٹی نہیں ہے. میكنجی گلوبل انسٹی ٹیوٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2005 سے 2014 کے درمیان دنیا کی 25 ترقی یافتہ معیشت میں دو تہائی خاندانوں کی اصل آمدنی کم ہوئی ہے یا جوں کی توں رہ گئی ہے، جس کے سنگین اقتصادی اور سماجی نتائج ہو سکتے ہیں. صرف 2 فیصد خاندانوں کی اصل آمدنی میں اضافہ ہوا ہے. یہی بات سارے ماہر اقتصادیات کہہ رہے ہیں. تمام ممالک میں دیکھا گیا ہے کہ ملک کا پچاس فیصد اثاثہ کوئی سو پچاس لوگوں کے ہاتھوں میں جمع ہو گیا ہے.

ہندوستان میں جی ایس ٹی کے تاخیر سے لاگو ہونے پر رونے کی ضرورت نہیں ہے. آسٹریلیا میں 1975 سے مباحثہ شروع ہوا اور نافذ ہوا سن 2000 میں. وہاں بھی کانگریس بی جے پی کی طرح لیبر اور کنزرویٹیو پارٹی اپنا موقف بدلتے رہے. کنزرویٹیو پارٹی نے تو مینی فیسٹو سے جی ایس ٹی نکال دیا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد لاگو کرنے میں ہی مصروف ہو گئی. ہندوستان جس جی ایس ٹی کو تاریخی بتا رہا ہے، وہ سب سے پہلے فرانس میں 1954 میں نافذ ہوا تھا. اسی اپریل میں ملیشیا نے جی ایس ٹی لاگو کیا ہے. نیوزی لینڈ میں 1986 میں نافذ ہوا. 1991 میں کناڈا اور جنوبی افریقہ میں لاگو ہو چکا ہے. 140 سے زیادہ ممالک جی ایس ٹی نافذ کر چکے ہیں. امریکہ میں جی ایس ٹی نہیں ہے.

جی ایس ٹی کو لے کر عوام میں ابھی کافی بحث ہونی ہے. (اردو) کے قارئین تک اس سے متعلق تمام تجربے اور بھی تاخیر سے پہنچیں گے. اس کی جگہ پر ایک ملک ایک ٹیکس جیسے نعرے ٹھیل دیئے جائیں گے اور لوگوں کو لگے گا کہ اس سے صرف بھلا ہی ہونے والا ہے. تمام منصوبوں کے ساتھ یہی دعوے کئے جاتے ہیں کہ اب غریبی گئی، نوکری آئی. مگر کوئی ان منصوبوں کا نتیجہ نہیں بتاتا کہ کتنوں کو نوکری ملی. کتنوں کی غریبی گئی. انٹرنیٹ پر دس بارہ مضامین اور رپورٹ پڑھنے کے بعد جو سمجھ میں آیا وہ میں خود کے لئے بھی اور اپنے (اردو) کے قارئین کے لئے لکھ رہا ہوں ۔ کچھ گھنٹے لگا کر کئی مضامین اور رپورٹ کو پڑھا ہے اور آپ کے لئے لکھا ہے.

جی ایس ٹی بنیادی طور پر ایک صرف ٹیکس ہے. جی ایس ٹی آخری صارفین دیتا ہے. اسے 1950 کی دہائی سے دنیا بھر میں انكم ٹیکس کے متبادل کے طور پر لایا جا رہا ہے. موجودہ دور میں سرمایہ کہیں ٹھہرتا نہیں ہے. وہ ایک ملک سے دوسرے ملک میں راتوں رات چلا جاتا ہے. دن میں سینسیکس دھڑام سے گر جاتا ہے اور اس نقل و حرکت سے حکومتی ریوینو کو بڑا خسارہ ہوتا ہے. اس سرمایہ کو لانے اور روک کر رکھنے کے لئے ٹیکس اور سود کی شرح میں کئی قسم کی چھوٹ دی جاتی ہے. پھر بھی سرمایہ کی یہ فطرت نہیں بدل پائی ہے.

لہذا اس کی تلافی کا یہ آئیڈیا نکالا گیا کہ اگر تمام مصنوعات کے صرف پر جی ایس ٹی کے نام سے ایک ٹیکس لگا دیں تو ٹیکس وصولی کی بنیاد کو وسعت ملے گی. جی ایس ٹی لاگو کرتے وقت یہی بتایا جاتا ہے کہ یکساں اور مستقل ٹیکس ہے. مگر آگے آپ پڑھیں گے کہ کس طرح حکومتوں نے جی ایس ٹی کی شرح میں اضافہ کرنے کی ترکیبیں نکالی ہیں تاکہ كارپوریٹ کا ٹیکس کم ہوتا چلا جائے. انہیں پیکیج دیا جا سکے. جن کی ادارتی اور انفرادی کمائی زیادہ ہے، انہیں راحت دے کر عام اور غریب عوام پر یکساں طور پر ٹیکس لانے کا نظام لایا گیا ہے. جو زیادہ كمائے گا وہ کم ٹیکس دے اور جو کم کماتا ہے وہ یکساں ٹیکس کے نام پر زیادہ ٹیکس دے. سب نے کہا کہ جی ایس ٹی سے تین سال مہنگائی آتی ہے. میں نے کہیں نہیں پڑھا کہ مہنگائی صرف تین سال کے لئے آتی ہے. بلکہ یہی پڑھا کہ مہنگائی آتی ہے.

نیوزی لینڈ کا جی ایس ٹی سب سے اعلی درجہ کا سمجھا جاتا ہے. یہاں پر کسی بھی مصنوعات کو جی ایس ٹی کے دائرے سے باہر نہیں رکھا گیا ہے. جی ایس ٹی کی شرح ایک ہے اور سب پر لاگو ہے. ہندوستان کی طرح تین قسم کی جی ایس ٹی نہیں ہے. نیوزی لینڈ کے سامنے ہندوستان کی طرح الگ الگ ریاستی انتظامیہ کا چیلنج نہیں ہے، جیسے ہندوستان میں شراب، تمباکو اور پٹرول کو جی ایس ٹی سے باہر رکھا گیا ہے. آسٹریلیا کی طرح ہندوستان میں تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی خدمات کو باہر نہیں رکھا گیا ہے. جی ایس ٹی کا یکساں ٹیکس لاگو ہونے سے سروس ٹیکس بڑھ جائیں گے اور صحت اور تعلیم اور مہنگے ہو جائیں گے.

جہاں بھی جی ایس ٹی نافذ ہوا ہے وہاں کچھ سال تو ایک ٹیکس ہوتا ہے مگر اس کے بعد اضافہ کا عمل شروع ہوتا ہے. نیوزی لینڈ میں جی ایس ٹی 1986 میں 10 فیصد تھا، پہلے 12.5 فیصد بڑھا اور پھر 15 فیصد ہو گیا. آسٹریلیا میں سن 2000 سے 10 فیصد ہے اور وہاں خوب بحث چل رہی ہے کہ اسے بڑھا کر 15 فیصد یا اس سے بھی زیادہ 19 فیصد کیا جائے. برطانیہ نے حال ہی میں جی ایس ٹی کی شرح بڑھا کر 20 فیصد کر دی ہے. 30 ملکوں کی ایک تنظیم ہے OECD (Organization of Economic Co-Operation and

Development). گزشتہ پانچ سالوں میں 30 میں سے 20 رکن ممالک نے اپنے یہاں جی ایس ٹی کی شرحیں بڑھائی ہیں. OECD کے مطابق 21 ممالک نے 2009 سے 2011 کے درمیان جی ایس ٹی کی شرح کو بڑھا کر 17.6 سے 19.1 کیا ہے. جبکہ جی ایس ٹی کا اصل تصور یہ ہے کہ سب پر ٹیکس لگے، بالکل کم ٹیکس لگے، مگر بعد میں آہستہ آہستہ صارفین سے وصولی ہونے لگتی ہے. اسی لئے ہندوستان میں کانگریس کہہ رہی ہے کہ 18 فیصد زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی تجویز آئین میں شامل کی جائے. مودی حکومت اس کو شامل کرنے سے مکر رہی ہے کہ دنیا میں جہاں بھی جی ایس ٹی نافذ ہوا ہے وہاں چند سال کے بعد جی ایس ٹی میں اضافہ کرنے کی نوبت آئی ہے. اسی اپریل میں ملیشیا میں جی ایس ٹی نافذ ہوا ہے وہاں فی الحال 6 فیصد جی ایس ٹی رکھا گیا ہے.

جی ایس ٹی میں اضافہ کرنے کی نوبت کیوں آتی ہے؟ جو مجھے سمجھ میں آیا وہ اس لیے کیونکہ جی ایس ٹی کے نام پر كارپوریٹ ٹیکس کم کیا جاتا ہے. امیر لوگوں کے انكم ٹیکس کم ہوتے ہیں. حکومت کو کم ریوینو حاصل ہوتا ہے، اسے چھپانے کے لئے حکومت بتانے لگتی ہے کہ کل ریوینو میں جی ایس ٹی کی شراکت بہت کم ہے. اس لئے جی ایس ٹی کی شرح بڑھائی جا رہی ہے. آسٹریلیا میں جی ایس ٹی سے کل ریوینو کا 23 فیصد ٹیکس ہی آتا ہے. ایک جگہ پڑھا کہ آسٹریلیا کے کل ریوینو میں جی ایس ٹی کا حصہ 12.1 فیصد ہے، جاپان میں 19.5 فیصد ہے. آسٹریلیا میں حکومت نے دعوی کیا ہے کہ ٹیکس وصولی کم ہونے سے گزشتہ دس سال میں تعلیم اور صحت میں 80 ارب آسٹریلین ڈالر کی کٹوتی کی گئی ہے. اگر جی ایس ٹی سے ریوینو زیادہ آتا تو تعلیم اور صحت میں کٹوتی کیوں کرنی پڑی. ہندوستان میں بھی ریوینو کے بڑھنے کا دعوی کیا جا رہا ہے. کہیں بھی نوکری بڑھنے کا ذکر تک نہیں ملا.

آسٹریلیا، برطانیہ اور نیوزی لینڈ کے بارے میں میں نے پڑھا کہ وہاں پر جی ایس ٹی نافذ ہونے کے ساتھ ساتھ انكم ٹیکس میں بھی کمی کی گئی ہے تاکہ عام انکم ٹیکس دہندہ  اشیاء کی قیمتیں بڑھنے کا جھٹکا برداشت کر سکیں. ہندوستان میں انکم ٹیکس میں کمی کا کوئی ذکر تک نہیں کر رہا ہے. الٹا وزیر خزانہ گزشتہ دو بجٹ سے كارپوریٹ ٹیکس میں کمی کا ہی اعلان کئے جا رہے ہیں. تو کیا یہ جی ایس ٹی بڑے كارپوریٹ اور اعلی طبقات کو فائدہ پہنچانے کے لئے آ رہا ہے. اب بحث یہ چل رہی ہے کہ جی ایس ٹی کے دائرے سے کچھ بھی باہر نہ ہو، جیسا نیوزی لینڈ نے کیا ہے.

آسٹریلیا میں ایک مطالعہ بھی ہوا کہ جی ایس ٹی نافذ ہونے سے وہاں کی چھوٹی صنعتوں پر کیا اثر پڑا ہے. پایا گیا ہے کہ ابتدائی دور میں جی ایس ٹی نافذ کرانے کے لئے سافٹ ویئر، کمپیوٹر، اکاؤنٹنٹ رکھنے، فارم بھرنے میں لگے کئی گھنٹے وغیرہ، ان سب پر اخراجات کافی بڑھ گئے لیکن بعد میں انہیں فائدہ ہوا ہے. ظاہر ہے جی ایس ٹی سے بزنس کا عمل آسان ہوتا ہے. یہ بزنس کے لئے ضروری ہے، مگر اس سے عام آدمی کی زندگی آسان نہیں ہوتی ہے، غریبی دور نہیں ہوتی ہے. بلکہ ان سب کے نام پر بڑے بزنس کو بڑا پیکج حاصل ہوتا ہے. آج کے فائیننشیئل ایکسپریس میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ جی ایس ٹی کے آنے سے ہندوستان کی بڑے صنعتوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہو گا. جب ایوان میں بحث ہوتی ہے اس وقت یہ کیوں نہیں کہا جاتا ہے کہ بڑی صنعتوں کو کافی فائدہ ہوگا. کیوں کہا جاتا ہے کہ جی ایس ٹی غریبوں کے لئے ہے، عام بزنس مین کے لئے ہے.

ہر جگہ یہ بات آئی کہ جی ایس ٹی سے غریبوں پر مار پڑتی ہے. نیوزی لینڈ نے اس کا یہ حل نکالا ہے کہ وہ غریبوں کو کئی طرح کی مالی امداد دیتا ہے، ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر کے ذریعہ. ہندوستان میں بھی اس کی وکالت ہو رہی ہے، مگر آپ دیکھیں گے کہ کئی جگہوں پر اس الیکٹرانک نظام کے نام پر بڑی تعداد میں غریبوں کو الگ بھی کیا جا رہا ہے. نیوزی لینڈ میں جی ایس ٹی کو سمجھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس کی کامیابی تبھی ہے جب سیاسی دباؤ میں کسی آئٹم کو جی ایس ٹی سے باہر نہیں کیا جائے۔ جب ہر چیز پر ٹیکس لگائیں گے تبھی زیادہ ریوینو آئے گا.

آسٹریلیا کی اقتصادی امور کی صحافی جیسکا ارون نے مضمون لکھا ہے جو انٹرنیٹ پر موجود ہے. انہیں کے مضمون میں پٹر ڈیوڈسن نام کے ٹیکس ایکسپرٹ کا کہنا ہے کہ جیسے ہی آپ انكم ٹیکس سے جی ایس ٹی کی جانب قدم بڑھاتے ہیں، معاشرے میں نابرابری بڑھنے لگتی ہے. نیوزی لینڈ میں تیس سالوں میں اقتصادی نابرابری میں اضافہ ہوا ہے. مطلب غریبوں کی تعداد بڑھی ہے اور غریبوں کی غریبی میں اضافہ ہوا ہے. جی ایس ٹی سے ترقی کی شرح بڑھنے کی کوئی واضح بنیاد تو نہیں ملتی مگر یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ اس سے نابرابری بڑھتی ہے.

میں نے صرف آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے بارے میں بات کی ہے. ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسا ملک ہو گا یا کئی ایسے ممالک ہوں گے جہاں جی ایس ٹی کے بعد اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہو گئی ہو. اگر ایسا ہوا ہوتا تو دنیا میں غربت کے بڑھنے کی بات کیوں ہو رہی ہے. کیوں کہا جا رہا ہے کہ مزدوری نہیں بڑھ رہی ہے، نوکری نہیں بڑھ رہی ہے. ہم نہیں جانتے کہ ہندوستان میں کیا ہوگا، مگر دنیا میں جو ہوا ہے اس کے بارے میں جاننے میں کوئی برائی نہیں ہے. زیادہ سوالات کے ساتھ دیکھنے پرکھنے سے نئے نظام کے تئیں اعتماد بھی بڑھ سکتا ہے اور خدشہ بھی. ایک شہری کے لیے ضروری ہے کہ تاریخی لبادہ اوڑھ کر آ رہے نئے نظام کے طرز عمل کا جائزہ لیتا رہے. اسی میں سب کی بھلائی ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close