آج کا کالم

جے این یو سے غائب نجیب اور علم جرمیات

سدھیر جین

جے این یو کے طالب علم نجیب کا معاملہ ملک میں موجود ماہر علم جرمیات بھی سمجھ رہے ہوں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ ماہر جرمیات کا کردار اپنے ملک میں ابھی تک طے نہیں ہو پایا ہے. ویسے یہ ماہر علم جرمیات ٹریننگ کے وقت پولیس سائنس بھی پڑھتے ہیں۔ لیکن انڈین  پولیس سروسز یا ریاستوں کی پولیس سے تربیت یافتہ ماہر علم جرمیات کی الگ سے کوئی خاص جگہ اب تک نہیں  بن پائی ہے۔ جو تھوڑی بہت بنی تھی وہ بھی جنونی اور روایتی علم کے نئےترقی  کے ماحول میں حاشیہ پر جا رہی ہے۔ حالانکہ پولیس ٹریننگ اسکولوں میں ماہر علم جرمیات کی تقرری کا قانون پچھلی صدی کی آٹھویں دہائی میں ہی بن گیا تھا۔ لیکن پولیس سائنس کے غیر ملکی علم سائنس کو پڑھ کر نکلنے والے ان ماہر علم جرمیات کو ہندوستانی پولیس کے لئے بہت کام کا سمجھا نہیں گیا۔ چاہے قندھار طیارہ اغوا کا معاملہ ہو یا آروشی قتل، ہر بار پولیس اپنے روایتی طرز عمل سے ہی کام چلاتی رہی اور آخر تک اپنی فضیحت کرواتی رہی۔ ہو سکتا ہے کہ نجیب کے اس معاملے میں آگے پیچھے ماہر علم جرمیات کی یاد آئے۔ ایک تربیت یافتہ ماہر علم جرمیات ہونے کے ناطے اس مضمون میں کچھ باتیں ذکر کرنے کی خواہش ہے۔

علم جرمیات کیا ہے؟

یہ سائنس کی ایک شاخ ہے. اس میں جرم کے تقریبا ہر پہلو کی پڑھائی ہوتی ہے۔ اپنے ملک میں اس مضمون کی باقاعدہ پڑھائی مدھیہ پردیش کے ساگر یونیورسٹی میں 1960 کی دہائی میں شروع ہوئی تھی۔ لیکن علم جرمیات اور عدالتی سائنس کے نام سے شروع کئے گئے اس محکمہ کی طرف ریاستی حکومتوں نے بہت زیادہ توجہ کبھی نہیں دی۔ یہاں سے نکلے تربیت یافتہ ماہرعلم جرمیات کو بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشل ڈیفنس جیسی تنظیموں اور اداروں کی تحقیق کے شعبوں میں کام کرنے کا موقع ضرور ملا لیکن یہ دیکھنے میں نہیں آیا کہ پولیس سائنس میں ان کے ہنر کا استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ جھوٹ پکڑنے کی مشین چلانے کے چھوٹے موٹے کام پر لگانے کی ایک دو  مثالیں ضرور ہیں لیکن ڈٹیکٹو ٹریننگ اسکول یا انڈین پولیس سروسز کے لئے تیار کئے جانے والے زیر تربیت افراد کو تربیت دینے کا کام عام طور پر پرانے آئی پی ایس کے حوالے ہی رہا۔اس کی وجوہات کیا ہیں؟ یہ ایک الگ سے تحقیق کا موضوع ہے۔ آج اس پر غور وفکر کرنے کا کام ملک کی وزارت داخلہ یا انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت کا ہے۔

اگر کرتے تو ماہر علم جرمیات کیا کرتے؟

تفتیش کا آغاز روایتی طریقے سے ہی ہوتا۔ مثلا ریسرچ افسر سب سے پہلے نجیب کے ممکنہ دشمنوں، نجیب کے دوستوں، رشتے قرابت داروں اور طالبات، دور کے ساتھیوں کی فہرست بناتا۔ یہ فہرست موجودہ پولیس نے بھی ضروربنائی ہوگی۔ لیکن روایتی انداز میں ایک کمی یہ ہوتی ہے کہ جیسے ہی چار نام پتہ چلتے ہیں پولیس وہاں چل پڑتی ہے۔ روایتی طریقہ تھرڈ ڈگری میتھڈ والا ہوتا تھا۔ عام طور پر روایتی پولیس کو آج بھی یقین ہے کہ لاٹھی بجا کر سب کچھ معلوم کر لے گی۔ جبکہ دنیا بھر میں مہذب معاشرے کی پولیس کو یہ تربیت دی جانے لگی ہے کہ وہ سائنسی طریقے سے تفتیش کرے۔ اسی لئے علم جرمیات میں سماج کی نفسیات کو خاص طورسے پڑھایا جاتا ہے۔ اس میں سماجی تحقیق کے طریقہ کار کو بڑی شدت سے پڑھایا جاتا ہے۔ حقائق جمع کرنے کے سائنسی طریقے ماہر علم سماجیات کو تفصیل سے پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کے لئے انہیں سوالنامے، سوال شیڈول اور انٹرویو گائیڈ بنانے کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اس طریقہ کار کے چلن میں نہ آ پانے کی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ وقت، محنت اور اخراجات کے لحاظ سے یہ طریقہ مہنگا پڑتا ہے۔ ویسے یہ طریقہ اپنایا جاتا تو نجیب معاملے میں متعلقہ افراد سے معلومات حاصل کرنے کے لئے کم از کم چار سو افراد کی فہرست بنانی پڑتی۔ کھوئی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کا سائنسی طریقہ بھی تیار ہے۔ تحقیقاتی کتے ایسے کام میں اچھی خاصی تربیت پا رہے ہیں۔

اب تو وكٹمولجي بھی ہے ہمارے پاس

یہ علم جرمیات کی نئی شاخ ہے۔ اس میں مجرم سے زیادہ جرم کے شکار یعنی وكٹم کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ قانون پر عمل کروانے کی ذمہ دار ایجنسیوں اور قانونی نظام کو برقرار رکھنے کے لئے جوابدہ حکومتوں کو یہ شاخ بڑی اچھی لگتی ہے۔ ادھر اس کا چلن بڑھ رہا ہے۔ ویسے یہ روایتی طریقہ بھی رہا ہے۔ مثلا اپنی جیب کٹنے کی شکایت کرنے پر عام طور پر پولیس یہ پوچھتی تھی کہ ابے تو بھیڑ میں کیا کر رہا تھا؟ یا تو اپنے گھر واپس اتنی رات گئے کیوں جا رہا تھا؟ ویسے یہاں نجیب کے معاملے میں وكٹمولجي یہ لگائی جا سکتی تھی کہ اس کے  شکار ہو جانے کے امکانات کیا کیا ہو سکتے ہیں۔ یہ حساب لگاتے ہی معاملے کی تفتیش بہت ہی آسان ہو جاتی ہے۔ لیکن نئے ماحول میں ایسے سائنسی طریقے لگانے سے کئی سماجی اور سیاسی مسائل کے بھی کھڑے ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اسی وجہ سے پولیس اس چکر میں نہ پڑتی ہو۔

 علم جرمیات کی ضرورت بڑھنےکے آثار

رلم جرمیات کا طالب علم جب جرم کی وجوہات کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے سماجی، سیاسی، اقتصادی، اور قانونی تمام وجوہات پڑھا دیے جاتے ہیں۔ ملک میں جس طرح کے اقتصادی حالات ہیں جس طرح بے روزگاری کے مسائل بڑھ رہے ہیں، سماجی تعصب بڑھ رہا ہے، اس لحاظ سے ایک عام اندازہ یہ ہے کہ آنے والے وقت میں جرائم کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوگا۔ یہ بری صورت حال درپیش نہ آئے اس کام کے لئے بھی  ماہرین علم جرمیات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ جرائم کے خلاف مزاحمت کے لئے پولیس کی صلاحیت اور کارکردگی کا نظم و نسق ابھی سے کرنے میں ہی سمجھداری ہے۔ آگ لگنے پر کنواں کھود نہیں پائیں گے۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سدھیر جین

سدھیر جین معروف سینیئر صحافی ہیں اور انڈین ایکسپریس گروپ- جن ستا کے چیف سب ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

Close