آج کا کالم

حسین، دلکش اور قانونی بھرشٹا چار

حفیظ نعمانی

بی جے پی کے صدر امت شاہ اُترپردیش کے تین روزہ دورے پر وارد ہوئے ہیں عنوان یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے الیکشن کی زمین ہموار کرنے کے لئے آئے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ وہ تین منتری جو سڑک ناپ ہیں نہ ایم ایل اے ہیں نہ ایم ایل سی انہیں  کیسے اور کتنے نوٹوں میں بغیر الیکشن لڑائے ایم ایل سی بنا دیا جائے؟ امت شاہ کو مودی جی نے کیوں اتنا اوپر اٹھایا ہے؟ یہ وہی جانیں کہنے والوں کا کہنا ہے کہ گجرات کی بارہ برس کی ہر کمزور رگ امت شاہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ ڈرتے ہیں اس لئے ان کا منھ بھرے رکھنے پر مجبور ہیں۔ ہوسکتا ہے یہ غلط ہو۔

امت شاہ کے کروڑوں روپئے کے شاہانہ استقبال سے پہلے ہی سوٹ کیس نام کی گولی کے لئے بدکردار اور مجرم ضمیر ممبروں کا اپنی اپنی پارٹی میں دم گھٹنے لگا تھا۔ وہ جب 20  کلومیٹر تک زعفرانی زمین زعفرانی آسمان اور زعفرانی اُتر دکھن سے گذرتے ہوئے لکھنؤ آئے تو خبریں آنے لگیں کہ وہ اکھلیش کے اور ایک مایاوتی کا پالا ہوا سوٹ کیس نام کی گولی کھانے امت شاہ کے پاس جارہاہے۔

وزیراعظم نے ہزار کے بجائے دو ہزار کا نوٹ اور پانچ سو کے نوٹ کو نازک اسی لئے بنایا تھا۔ اسی وقت نہ جانے کتنے لوگوں نے کہا تھا کہ اب بھرشٹاچار کے لئے جتنی جگہ اور جتنا وزن دس لاکھ روپئے کے لئے ہوتا تھا اب اتنا وزن اور اتنی جگہ میں ایک کروڑ روپئے آجائیں گے۔ مودی جی کانگریس بھرشٹاچار مکت بھارت بنا چکے اب مودی بھرشٹاچار کے لئے ہلکے سوٹ کیس کی ضرورت تھی یہ کام انہوں نے کرلیا اب ایک ایک کروڑ کے ہلکے پھلکے سوٹ کیس بنائے جارہے ہیں اور ان کا نام گولی سوٹ کیس رکھا جاسکتا ہے سب سے پہلے گوا میں منوہر پاریکر جان جان کی جنگ لڑکر جب راہل سے ہار گئے تو مودی جی نے فرضی کمپنیوں والے وزیر سڑک نتن گڈکری کو بھیجا اور وہ اپنے ساتھ سوٹ کیس گولیوں کا پورا پتہ لے گئے۔ پاریکر نے کانگریس کے ممبروں کو وزارت دی گڈکری نے گولی سوٹ کیس کسی کو ایک کسی کو دو اور کسی کو…

دو دن کے بعد ہی یہی کھیل منی پور میں کھیلا مگر ان دونوں بدترین اور شرمناک حرکتوں کو بھرشٹاچار نہیں حکمت عملی کہا گیا اور کسی کے چہرے پر ندامت کا سایہ بھی نہیں آیا جیسے بھرشٹاچار کا کوئی منجھا ہوا کھلاڑی ہو اور ہر دن ایسے کھیل کھیلتا رہا ہو۔ اُترپردیش کے الیکشن میں وزیراعظم جیسے پورے ملک کے مکھیا نے کھل کر ہندو مسلم کا کارڈ کھیلا ہر تقریر میں اکھلیش پر ایک ہی الزام لگایا کہ اترپردیش کی ہر نعمت مسلمان کو دے دی اور ہر قسم کی تکلیف ہندو کو دی اور اشارہ دیا کہ بس ہندو ہندو ایک ہوجائیں ۔ مودی جی وزیر اعلیٰ بارہ سال رہے ہیں اور اب تین سال سے وزیراعظم ہیں انہیں حق تھا کہ وہ بجلی اور زمین کے سکریٹریوں کو طلب کرتے اور معلوم کرتے کہ کیا قبرستان کے لئے اکھلیش نے مسلمانوں کو زمینیں دی ہیں اور شمشان کو نہیں دی؟ یا بجلی رمضان میں تم مسلمانوں کو دیتے ہو اور دیوالی میں اندھیرا رہتا ہے؟ وہ سکریٹری کانپنے لگتے اور بتاتے اگر اترپردیش کا دورہ کیا جائے تو جہاں اندھیرا شروع ہوجائے سمجھ لیجئے گا مسلمانوں کا علاقہ شروع ہوگیا اور جس قبرستان کی آدھی آدھی زمین پر ہندوئوں نے قبضہ کرلیا ہے سمجھ لیجئے گا یہ مسلمانوں کا قبرستان ہے۔ جس کی حدبندی کے لئے اکھلیش یادو نے کہا ہے۔

لیکن مودی جی نے ہندوئوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور کہا دیکھو مت بس میری سنو اور مان لو۔ انہوں نے بدترین فرقہ پرستی دکھائی اور یوپی کی زمین کو گجرات بنا دیا۔ اس سے بڑا ظلم اترپردیش کے ساتھ دوسرا نہیں ہے۔ ہم 72  سال سے لکھنؤ میں ہیں نہ جانے کتنے ہندوئوں سے تعلق ہے۔ 40  سال تک باغ گونگے نواب میں رہے جہاں صرف تین گھر مسلمانوں کے تھے اور 100  سے زیادہ ہندو جس میں پنجابی اور سندھی بھی مگر عزت ایسی کہ میرے بچوں کی ہر شادی میں وہ اور ان کی ہر خوشی اور غم میں شریک ہم تھے۔ اترپردیش میں آگ لگاکر اب وزیر اعلیٰ کو سند دے رہے ہیں کہ بہت اچھا کام کررہے ہو۔

ایک ہفتہ پہلے ایک مرکزی وزیر آئے تھے انہوں نے کہا کہ روزگار کا جال بچھا دیا جائے گا۔ انہیں کون بتاتا کہ اگر مسلمانوں کو بالکل برباد کرنے اور ہندوئوں کو بے روزگار کرنے کا کوئی مقابلہ ہو تو اترپردیش اوّل آئے گا۔ گوشت کھال ہڈی اور سینگ کا کام اور کاروبار کرنے والے صوبہ کی ہزاروں آرا مشینیں جن سے جڑے ہوئے مزدور بڑھئی اور ٹرالی والے زردوزی والے عمارت بنانے والے مستری مزدور لوہار اور ہر کارخانہ اور ہر کاروبار سے جڑے کاریگر اور ملازمین کی چھنٹنی کیونکہ جی ایس ٹی کی مار سے ہر کام آدھا رہ گیا اور نہ جانے کون کون جن کی تعداد کروڑوں ہوگئی ہے جو صرف چار مہینے میں یوپی میں بے روزگار ہوگئے۔

بڑے کے گوشت پر پابندی نہیں دشمنی کا سب سے زیادہ اثر سبزی پر پڑا کہ آلو اور کٹہل کے علاوہ ہر سبزی 75  اور 100  کے درمیان ہے۔ جو غریب کے لئے انگور سیب اور سنترہ ہے اور جب ہر غریب چٹنی پر ٹوٹ پڑا تو وہ ہرا دھنیا اور ہری مرچ جو ہمارے زمانہ میں سبزی فروش خریدار کے تھیلے میں یوں ہی ڈال دیا کرتے تھے ان کی قیمت سن کر غریب بیہوش ہوجاتا ہے اور یہ یوگی کے مبارک قدم ہیں کہ اُترپردیش میں کم از کم دو کروڑ بے روزگار ہوگئے اور روٹی یا چاول نمک کے پانی کے ساتھ کھانے پر مجبور ہیں جو سونیا گاندھی دو روپئے کلو گیہوں اور تین روپئے کلو چاول غریبوں کے لئے پاس کرگئی تھیں ۔

بی جے پی نے بہار اور یوپی دونوں جگہ دکھا دیا کہ عوام کے سامنے جانے کی ہمت نہیں ہے وہ نہ پھول پور کا الیکشن لڑنا چاہ رہے ہیں اور نہ ممبران اسمبلی سے استعفے دلاکر تین وزیروں کو لڑا رہے ہیں بلکہ جو کبھی نہیں ہوا کہ کونسل کے ممبر خرید رہے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ موریہ اور تینوں وزیر الیکشن لڑکر کیوں نہیں  آتے؟ اسے زنانہ ہتھیار کہتے ہیں اور اسے ڈرپوک اور بزدل اپناتے ہیں بہادر لڑکر آتا ہے۔

کتنے شرم کی بات ہے کہ جس بھرشٹاچار کی وجہ سے کانگریس کو ہٹایا تھا اس سے بہت بڑے بھرشٹاچاری حکومت میں آکر بیٹھ گئے۔ کانگریس کے زمانہ میں کس نے کہا میں نے رشوت دی اور کس نے کہا میں نے رشوت لی؟ آج بھی نہ بقل نواب کہیں  گے کہ میں نے سوٹ کیس لیا یا وعدہ لیا کہ میرے ہر جرم کو دھو دیا جائے گا اور نہ دوسرے کونسل کے ممبر جو سوچ رہے ہیں کہ حکومت ان کے دشمنوں کی ہے وہ اپنے ہاتھوں کمائیں گے تو پکڑے جائیں گے اور اب مہاراجہ سے ہی رشوت میں منھ مانگی گولی سوٹ کیس لیں تو پانچ سال بعد الیکشن بھی لڑیں گے۔ رشوت یا بھرشٹاچار ایسی ہی چیز ہے جس سے دونوں کا بھلا ہوتا ہے اور اسے امت شاہ خوب جانتے ہیں۔

مودی جی نے کہا ہے کہ وہ 15  اگست کو اس سال چھوٹی تقریر کریں گے۔ ان کے پاس اب کہنے کو بچا ہی کیا ہے کالا دھن ان کی جڑ بن گیا مہنگائی نے بڑے بڑوں کو جھکا دیا نوٹ بندی نے نہ جانے کتنوں کو توڑ اور مارا اور اب وہ تعریف کررہے ہیں اس جی ایس ٹی کی جو ابھی ایک مہینہ ہونے کے بعد بھی وکیلوں تک کی سمجھ میں نہیں آئی۔ اس سے بڑا مذاق کیا ہوگا کہ برفی کا ایک ٹکڑا اگر سادہ ہے تو ٹیکس پانچ فیصدی اگر چاندی کا ورق لگ گیا تو بارہ فیصدی اور اگر بادام یا پستہ اس پر رکھ دیا تو 18  فیصدی۔ ایسا ہی تقریباً ہر سامان کے ساتھ ہے جس نے بازاروں کی رونق آدھی کردی۔ بس جو اسکول چلانے کا کاروبار کررہے ہیں یا گیہوں چاول اور نمک بیچ رہے ہیں ان کی دُکانوں پر آدمی نظر آتا ہے۔

خرد کا نام جنوں پڑگیا جنوں کا خرد

جو چاہے آپ کا حسن ِ کرشمہ ساز کرے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close