حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیاں

مولانا سید جلال الدین عمری

قُلْ اِنَّنِيْ ہَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍۥۚ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰہِيْمَ حَنِيْفًاوَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ لَا شَرِيْكَ لَہ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِـمِيْن (الانعام: 162 تا 164)

بزرگو،بھائیو،دوستو اور عزیزو! محترم خواتین، مائو،بہنو اور بیٹیو!

عید الاضحی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد تازہ کرتی ہے۔ حضرت ابراہیم ؑکی زندگی کے بہت سے پہلو ہیں اور ہر پہلو میں ہمارے لیے عبرت اور نصیحت ہے۔ آپ کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو قربانی ہے۔ اللہ کی رضا اور خوش نودی کے لیے، اس کے دین کی دعوت و تبلیغ اور اس کے فروغ کے لیے جس بڑی سے بڑی قربانی کا تصور کیا جا سکتا ہے   ،حضرت ابراہیم نے وہ قربانی پیش کی۔

 حضرت ابراہیم ؑعراق کے شہر ’ار‘ میں پیدا ہوئے۔ وہاں کی آبادی ستارہ پرست تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سے کہا: یہ ستارے تو خود کسی برتر ہستی کے احکام کے پابند ہیں ۔کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ تمام ستارے اور سیارے،چاند اور سورج اسی کے حکم سے گردش کر رہے ہیں ۔ ان میں سے کوئی با اختیار نہیں ہیں ۔ یہ کیسے خدا ہوجائیں گے؟ خدا تووہ ہے جس کی ان سب پر حکومت ہے۔وہ ایک ہے ۔میں اسی ایک خدا کو مانتا ہوں ۔اس کے سوا کسی کو خدا نہیں مانتا:

اِنِّىْ وَجَّہْتُ وَجْہِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (الانعام:79)

(میں نے اپنا رخ کیا اس ذات کی طرف بالکل یکسو ہوکر جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں شرک کرنے والوں میں سےنہیں ہوں )

حضرت ابراہیم علیہ السلام جس شہر میں پیدا ہوئے اس کی پوری آبادی ستارہ پرست تھی۔ اس کے درمیان حضرت ابراہیمؑ فردِ واحد تھے جنہوں نے ستارہ پرستی پرتنقید کی اور الٰہ واحد کی پرستش کا عَلَم لے کر کھڑے ہوگئے۔اس پرقوم مخالف ہوگئی، بادشاہِ وقت مخالف ہوگیا، یہاں تک کہ خاندان، جو بہت ہی با ا ثر تھا، مخالف ہوگیا۔ باپ نے کہا کہ اگر تم اپنی اس دعوت سے باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگ سار کردوں گا ۔ اس پر بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی دعوتِ توحیدسے باز نہ آئے تو قوم نے فیصلہ کیا کہ اسے ایسی سزا دو کہ دنیا یاد رکھے کہ جو ہمارے دین کی مخالفت کرتا ہے اس کا کیا حشر ہوتا ہے؟انہوں نے کہا:

ابْنُوْا لَہٗ بُنْيَانًا فَاَلْقُوْہُ فِي الْجَــحِيْمِ(الصافات:97)

(اس کے لیے ایک الائو(آتش کدہ) تیار کرو اور اسے دہکتی ہوئی آگ میں پھینک دو۔)

انہوں نے اس پر عمل بھی کیا۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میں اللہ کے دین کے لیے جان دے سکتا ہوں ۔ میں ایک خدا کا ماننے والا ہوں ۔ یہ نا ممکن ہے کہ میں اپنی جان بچانے کے لیے اسے چھوڑ دوں اور دوسرے خدائوں کی پرستش کرنے لگوں ، تم میری جان لینا چاہتے ہو تو لے لو۔ میں اللہ واحد کے نام پر حرف نہ آنے  دوں گا۔یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ جب تک آدمی کے دل میں ایمان و یقین نہ ہو، اس پر جان دینے کا حوصلہ نہ ہو، اس وقت تک وہ یہ جرأت نہیں کر سکتا۔قوم نے آتش کدہ تیار کیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اتنا بڑا تھا کہ خوداس کے قریب نہیں جاسکتے تھے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم ؑکو گوپھن میں باندھ کر پھینکا گیا۔ وہ منتظر تھے کہ ابراہیم اس میں جل کر بھسم ہوجائیں گے ،لیکن  اللہ تعالی کو ان سے ابھی اور کام لینا تھا۔ اس نے آگ سے کہا:

يٰنَارُ كُـوْنِيْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا عَلٰٓي اِبْرٰہِيْمَ(الانبیاء:69)

(اے آگ ! تم ٹھنڈی ہو جائو اور ابراہیم کے لیے سلامتی بن جائو)

آگ کیوں جلاتی ہے؟ سائنس اس کی بہت سی توجیہیں کرے گی،لیکن صحیح توجیہ یہ ہے کہ اللہ کے حکم سے جلاتی ہے۔ پانی کیوں پیاس بجھاتا ہے؟ اس کی بہت سی توجیہیں کی جائیں گی، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ پانی کے ذریعہ پیاس اللہ کے حکم سے بجھتی ہے۔ اگر اللہ نہ چاہے تو پانی پیاس نہیں بجھائے گا، آپ کے حلق کے نیچے پانی نہیں اترے گا۔ اسی طرح آگ بھی اللہ کے حکم سے جلاتی ہے۔ اللہ نے آگ سے کہا: تمہاری تپش ختم ہوجائے ، ابراہیم کو کسی طرح کی گزند نہ پہنچے اور وہ صحیح سلامت نکل جائیں ۔ چنانچہ آگ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نہیں جلایا اور وہ صحیح سلامت اس سے نکل آئے۔ قرآن نے کہا:

وَاَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنَا ھُمُ الاَخْسَرِیْنَ۔(الانبیاء:70)

انہوں نے ابراہیم کے خلاف ایک چال چلی، لیکن اللہ نے ان کی چال کو ناکام کردیا۔ایک دوسرے مقام پر کہا :

 فَجَعَلْنٰہُمُ الْاَسْفَلِيْنَ (الصافات:98)

( ہم نے ان کو نیچا کردیا)

میرے دوستو اور ساتھیو! پہلی قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے دین کے لیے جان کی دی۔ انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ دین و ایمان کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کرسکتے ہیں ۔وہ یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے؎

جان دی دی ہوئی اسی کی تھی

 حق تو یہ ہے کہ حق ادانہ ہوا

یہ قیامت تک کے لیے الٰہ واحد کا نام لینے والوں کے لیے نمونہ ہے۔سوچئے، ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو جان پر کھیل کر خدائے واحد کی عبادت و اطاعت کا اعلان کریں ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام جب آگ سے باہر نکل آئے تو کہا کہ اب میں یہاں نہیں رہ سکتا۔ فرمایا:

اِنِّىْ ذَاہِبٌ اِلٰى رَبِّيْ سَيَہْدِيْنِ( الصافات:99)

(میں اپنے رب کی طرف جارہا ہوں )میں یہ بستی چھوڑ رہا ہوں ۔ اب یہ سرزمین میرے رہنے کے قابل نہیں رہی۔ یہ بستی مجھے قبول نہیں کر رہی ہے تو میں یہاں نہیں رہوں گا۔ آدمی کواپنے وطن سے محبت ہوتی ہے ،لیکن حضرت ابراہیمؑ نے محض اللہ کے لیے اسے چھوڑ دیا۔وہ سرزمین چھوڑدی جس میں پیدا ہوئے،پلے بڑھے اور پرورش پائی، جہاں ان کا معزز خاندان رہتا تھا، جس آبادی میں نبوت کا اعلان کیا اور الہ واحد کی پرستش کی دعوت دیتے رہے۔ سوچیے، یہ کتنی بڑی قربانی تھی۔ سوچیے، ہے کسی کا جگر کہ وہ محض اللہ کے دین کی خاطر اپنا وطن چھوڑدے اور کسی دوسری جگہ چلا جائے۔

 وطن سے نکلتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی کہ اے اللہ! مجھے نیک اور صالح اولاد دے۔ اللہ نے فرمایا: ہم تمہیں بہ طور انعام ایک ایسا بچہ عنایت کریں گے جو بہت ہی برد بار، صبر کرنے والا اورمشکلات کو برداشت کرنے والا ہوگا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام بڑھاپے میں پیدا ہوئے۔ ابھی وہ اپنی ماں ہاجرہ کی گود ہی میں تھے کہ حضرت ابراہیمؑ کو ایک اور آزمائش سے گزرنا پڑا۔حکم ہوا کہ اپنی بیوی اور بچے کو، بڑھاپے کی اس اولاد کوجس کے لیے دعائیں کی تھیں ،مکہ کی سرزمین میں ، جہاں اس وقت صفا و مروہ کی پہاڑیاں ہیں ،چھوڑ آئو۔اس پرحضرت ابراہیمؑ نے یہ نہیں کہا کہ اے اللہ! وہاں کیسے اپنے بیوی بچوں کو چھوڑدوں جہاں نہ تو گھاس ہے نہ پانی اور نہ رہنے کا کوئی سامان؟ کوئی پرندہ تک نظر نہیں آرہا ہے۔قرآن نے حضرت ابراہیم ؑکے متعلق کہا کہ اللہ نے انہیں جو حکم دیا انہوں نے اس پر فوراًسر تسلیم خم کیا۔

اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗٓ اَسْلِمْ۰ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (البقرۃ:131)

( جب تمہارے رب نے اس سے کہا کہ میرے حکم کے سامنے جھک جائو تو اس نے کہا :میں رب العالمین کے لیے جھک گیا)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کے حکم کے سامنے سرجھکانے میں کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی ترددیا پس و پیش نہیں ہوا، بلکہ وہ فوراً اس کے سامنے جھک گئے اور اس پر عمل کے لیے تیار ہو گئے ۔ روایات میں آتاہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی ہاجرہ کو بچے سمیت بے آب و گیاہ پہاڑیوں کے بیچ میں چھوڑ کر واپس ہوئے تو ہاجرہ نے ان سے پوچھا: اس بے آب و گیاہ میدان میں چھوڑ کر آپ کہاں جارہے ہیں ؟ حضرت ابراہیم  علیہ السلام نے کچھ جواب نہیں دیا۔ شاید زبان نہ کھل رہی ہو۔ حضرت ہاجرہ نے پھر کہا: آپ  اللہ کے پیغمبر ہیں ، کیا یہ اللہ کا حکم ہے ؟ تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا: ہاں میں اللہ کے حکم سے تمہیں یہاں چھوڑ رہا ہوں ۔ حضرت ہاجرہ نے کہا: اگر یہ اللہ کا حکم ہے تو وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ یہ حضرت ابراہیم  علیہ السلام کی ایسی قربانی تھی  جسے دنیا آج تک یاد کر رہی ہے۔انہوں نے اپنی بیوی اور بڑھاپے کی اولاد کو ایک سنگلاخ زمین اور وادی غیر ذی زرع، میں اللہ کے حوالہ کر دیا اور اپنے سفر پر روانہ ہوگئے۔

اب دیکھئے، اس سے بڑے امتحان اور اس سے بھی بڑی قربانی کا وقت آگیا۔ قرآن کہتا ہے کہ جب اسماعیلؑ ذرا چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو حضرت ابراہیمؑ نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذ بح کر رہے ہیں ۔ روایتوں میں آتا ہے: ایک مرتبہ دیکھا،دو مرتبہ دیکھا، تین مرتبہ دیکھا۔ انہیں خیال ہوا کہ خواب جھوٹا نہیں ہوسکتا، اللہ کی مرضی یہی ہے کہ میں اللہ کے نام پر اس بچے کو ذبح کردوں ۔ آپ قر با نی کا جو بھی تصور کرسکتے ہوں ، اس سے بڑی قربانی کا تصور نہیں کرسکتے۔ قرآن کہتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل ؑسے کہا:

اِنِّىْٓ اَرٰى فِي الْمَنَامِ اَنِّىْٓ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰى (الصافات:102)

(بیٹے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں ،بتائو تمہارا کیا خیال ہے ؟)

یہ معصوم بچہ ،ذراسوچیے، اس کی کیسی تربیت ہوئی تھی کہ فورا بول پڑا:  ابا جان! آپ کو جو کچھ حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کیجئے:

سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللہُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ۔(الصافات: 102)

( آپ دیکھیں گے کہ میں گھبرائوں گا نہیں ۔آپ کے اس اقدام پر میں ثابت قدم رہوں گا۔)

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا یا تو آسمان سے آواز آئی : بس خواب پورا ہوگیا ۔ تم امتحان میں کام یاب ہوگئے۔ پھر ایک مینڈھا لایا گیا اور حکم دیا گیا کہ اس بچہ کی جگہ اس کو  ذبح کرو،یہ اس جان کا فدیہ ہے۔ یہ ہے وہ قربانی جس کو ہم یاد کرتے ہیں ۔ اس طرح حضرت ابراہیم  علیہ السلام نے اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ اے اللہ! تیرا حکم ہو تو یہ چھری ہر تعلق پر چل سکتی ہے ۔ اللہ تعالی نے اس عمل کو قیامت تک کے لیے نمونہ بنادیا۔ حضرت ابراہیم  علیہ السلام کے بعد ان کی بہت سی تعلیمات ختم ہوگئی تھیں ،لیکن قربانی کی یہ رسم باقی تھی ۔ لوگ قربانی کرتے تھے۔ اسلام نے بھی اسے باقی رکھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابراہیم علیہ السلام کے دین اور ان ہی کے راستے پر چلنے کی ہدایت کی گئی۔ قرآن مجید نے کہا :

قُلْ اِنَّنِيْ ہَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍۥۚ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰہِيْمَ حَنِيْفًاوَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ(الانعام:162)

( اے پیغمبر (دنیا والوں ) کو بتا د یجئے، میر ے رب نے مجھے سیدھا سچا راستہ دکھایا ہے ۔دین قیم،جو ابراہیم کا طریقہ ہے۔ وہ ہر طرف سے کٹ کر اللہ کےلیے یکسو ہوگیا تھا ۔ وہ مشرکوں میں نہیں تھا۔)

اس کے بعد ارشاد ہوا:

قلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ لَا شَرِيْكَ لَہ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِـمِيْنَ (الانعام:163)

(بے شک میری نماز،  میری قربانی(میری تمام عبادات) میرا جینا، میرا مرنا ،سب اللہ ر ب العالمین کے لیے ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں ۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔ اورمیں سب سے پہلے اسلام لانے والاہوں )

مطلب یہ ہے کہ یہ ہر گز نہ ہوگا کہ میں دنیا والوں سے توکہوں کہ اللہ کی راہ میں اپنی ز ند گی لگا دو اور خود دوسری طرف چل پڑوں۔ نہیں بلکہ سب سے پہلے میں خود اس پر عمل کرنے والا ہو ں ۔

یہ ہے وہ راستہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام  اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےذریعے اس امت کو دکھایا گیا ہے ۔ اسی پر چل کر وہ آخرت میں سرخ رو ہوگی اور دنیا کی راہ نمائی کا مقام اسے حاصل ہوگا۔



⋆ سید جلال الدین عمری

سید جلال الدین عمری

مولانا سید جلال الدین عمری امیر جماعت اسلامی ہند ہیں۔ آپ صاحب طرز ادیب اور معروف دانش ور ہیں۔ موصوف نے کم و بیش ساٹھ کتابیں تصنیف کی ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

قلب اور کیفیاتِ قلب

جو لوگ دل و دماغ سے کام نہیں لیتے، دیکھنے میں تو جانوروں سے وہ مختلف نظر آتے ہیں۔ ان کا قد سیدھا ہے، چار پیر کی جگہ دو پیر سے چلتے ہیں، ہاتھوں سے چیزوں کو پکڑتے اور استعمال کرتے ہیں۔ بے زبان نہیں، منہ میں زبان رکھتے ہیں، لیکن ذہن و مزاج اور رویہ کے لحاظ سے جانور ہی ہیں۔ جانور کو زندہ رہنے، کھانے پینے اور جنسی خواہش کی تکمیل اور نسل کَشی سے آگے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ یہ بھی ان ہی امور کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا: بل ہم اضل، (بلکہ وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں )۔ اس لیے کہ جانور کوعقل نہیں ہے، لیکن یہ باعقل و باخرد جانور ہیں۔ جانور سے قیامت میں باز پرس نہ ہوگی کہ اس نے کیا دیکھا، کیا نہیں دیکھا، قلب و دماغ سے کام لیا یا نہیں لیا، لیکن انسان کو ان سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس وجہ سے کہا گیا کہ یہ غفلت کی زندگی گزار رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے