آج کا کالم

حکومت کی ناک کے نیچے گھوٹالہ کیسے ہوا؟

رويش کمار

کسی ایک بینک سے، اس بینک کی ایک شاخ سے، اس شاخ سے کسی ایک آدمی کو، اس آدمی کی دو تین کمپنیوں کو300 11، کروڑ کا لیٹر آف ایٹینٹ مل جائے، چار پانچ سال بعد فراڈ ہو جانے کے بعد بینک کو ہی پتہ چلتا ہے300 11، کروڑ کا فراڈ ہوا ہے ایسا معجزہ جمبو ديپے بھرتكھنڈے آرياورتے دیشانترگتے میں ہی ہو سکتا ہے. بینکاری کی دنیا میں کچھ نہیں بہت کچھ گڑبڑ ہے. یہاں، لاکھوں ملازم سے پوچھئے جو اپنی سیلری کے بڑھنے کا انتظار کر رہے ہیں، جو گھنٹوں گھنٹوں کام کر رہے ہیں، مگر ڈر کی وجہ سے بول نہیں پا رہے ہیں. ان کی سیلری بڑھ نہیں پا رہی ہے، کام کے بوجھ سے بیماری بڑھتی جا رہی ہے. وہ ایک ایسے ٹاپو پر بیٹھے ہیں جہاں ہر کوئی ڈرا ہوا ہے. ان سب چرمراتے انتظامات کے درمیان آخر وہ لوگ کہاں سے یہ حوصلہ لاتے ہیں جو بینکوں سے مل کر300 11، کروڑ کا گھوٹالہ کر جاتے ہیں. یہی نہیں وہ گناہ کرنے کے بعد بھی وزیر اعظم کے پیچھے جاکر کھڑے ہو جاتے ہیں.نہ پولیس کا ڈر نہ ایس پی کا۔ تو ڈر ڈکیتی اور ڈاووس نام کی اس فلم کی کہانی کا پلاٹ ابھی پوری طرح صاف نہیں ہوا ہے. کہانی کھل رہی ہے، اس لیے الزام اور مبینہ طور پر ہی کرداروں کا نام لیا جائے گا.

ڈاووس میں نیرَو مودی کی اس تصویر نے میڈیا میں سنسنی پھیلا دی ہے. ڈاووس میں وزیر اعظم کے ساتھ صنعت کاروں کے ریوڑ میں نیرَو مودی بھی ہیں. انہی کی کمپنی پر غبن کا الزام ہے. فرہنگ بدلنے لگی ہے.300 11، کروڑ کی چپت کو چونا کہا جا رہا ہے، فراڈ کہا جا رہا ہے، گھوٹالہ نہیں کہا جا رہا ہے. ایک شخص اس فریم میں کھڑے سب کو مشتبہ بنا دیتا ہے. کیا وزیر اعظم کی صحبت پانے کا راستہ اتنا آسان ہے. ہر بلیک كسوٹ، بلیک منی سے نہیں آتا ہے، مگر بلیک منی سے اچھا والا بلیک سوٹ ضرور آجاتا ہے. سوال تو پوچھا ہی جانا چاہیے کہ وزیر اعظم کے پاس پہنچنے سے پہلے بیک گراؤنڈ چیک ہوتا ہے یا نہیں. یہ جس کی بھی ذمہ داری ہو اسے بتانا چاہئے کہ کس طرح300 11، کروڑ کا مبینہ طور پر گھوٹالے باز وزیر اعظم کے فریم میں پہنچ جاتا ہے.

آپ گیان چند کو نہیں جانتے ہیں. یوپی کے محمودآباد کے کسان گیان چند نے ٹریکٹر خریدنے کے لیے ایک فائنانس کمپنی سے قرض لیا. ساری قسطیں جمع کر دیں، 90 ہزار باقی رہ گیا. کمپنی کے لوگ آئے، گیان چند کا ٹریکٹر چھیننے لگے. کسان اپنے ٹریکٹر کو جاتا دیکھ برداشت نہیں کر سکا، مگر کمپنی کے لوگوں نے اس ٹریکٹر سے گیان چند کو کچل کر مار دیا. دے كلڈ گیان چند یو نو اینڈ نتھنگ ہیپنڈ بكوز گیان چند ہی ناٹ نیرَو  مودی. ہندی میں یہ ہوا کہ000 90، کے قرض نہ چکا پانے کی وجہ سے فائنانس کمپنی کے لوگوں نے گیان چند کو مار دیا، کیونکہ گیان چند نیرَو مودی نہیں تھا.

یہ تصویر نیرَو مودی کی نہیں ہے، جسونت سنگھ کی ہے. 36 سال کا ایک گبرو جوان. پنجاب کے صاحبان گاؤں کا رہنے والا. ایک روز اپنے پانچ سالہ بیٹے جسكرن کو لے کر موٹر سائیکل پر نکلا. اگلے دن نہر سے دونوں کی لاش ملي۔ چشمديدوں نے بتایا کہ جسونت بیٹے کو سینے سے لگا کر نہر میں کود گیا. پانچ سال کے بیٹے کو سینے سے لگا کر جسونت نہر میں کود گیا. اگر جسونت کو نیرَو مودی کا پتہ ہوتا تو ان کے ساتھ وہ بھی ڈاووس چلا جاتا اور وزیر اعظم کے پیچھے کھڑا ہوجاتا اور اس کی جان بچ جاتی ڈیڑھ ایکڑ کے جوتدار کسان جسونت پر 10 لاکھ کا لون تھا. واقعہ 5 اکتوبر 2016 کا ہے.

اس بات کو کس طرح سمجھا جائے کہ کوئی ہزاروں کروڑوں کا گھوٹالہ کرکے ودیش گھومتا ہے، بھاگ جاتا ہے، وزیر اعظم کے ساتھ فوٹو کھچوا لیتا ہے، کوئی پانچ دس لاکھ کا لون لینے والا کسان نہ شہر سے بھاگ پاتا ہے نہ موت سے. وہ نہر میں کود کر مر جاتا ہے.300 11،  کروڑ کا یہ فراڈ اُس بینک میں ہوا ہے، جس نے مئی 2016 میں370 5، کروڑ کا نقصان دکھایا تھا. یہ خسارہ بینکاری تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ تھا. اس کی دگنی رقم کا گھوٹالہ ایک برانچ سے ہوا. پنجاب نیشنل بینک کے سربراہ سنیل مہتا نے پریس کانفرنس کی ہے. گھٹالے سے زیادہ بینک کی تاریخ کا گیان دیا. آج کل ہر پریس کانفرنس میں ہسٹری پر لیکچر ضرور ہوتا ہے. پریسینٹ کے کرتوت پر کچھ نہیں ہوتا۔ سنیل مہتا نے فراڈ کے آغاز کا سال 2011 تو بتادیا مگر یہ نہیں بتایا کہ یہ 2017 تک چل رہا تھا۔ یہ کیوں نہیں بتایا کہ300 11،  کروڑ کا غبن کب کب ہوا. اس کے لئے لیٹر آف انڈرسسٹینڈنگ کب کب نکلا.

پنجاب نیشنل بینک کے سنیل مہتا میڈیا سے تعاون چاہتے ہیں کہ زیادہ باتیں نہ کریں تاکہ جانچ ایجنسی کے کام میں رکاوٹ نہ آئے. وہ کیوں چاہتے ہیں؟ آپ پرائم ٹائم دیکھنے کے بعد کسی سے اس کے بارے میں بات نہیں کیجئے گا، اسے پرائم ٹائم دیکھیے دیجئے گا. یہ سب سوال ابھی ہے کہ300 11، کروڑ میں کون کون سے حصہ دار ہیں. ان کا پیسہ کہاں کہاں پہنچا، کس کس کے پاس پہنچا.

دو ملازمین نے لیٹر آف انڈر ٹیكنگ جاری کر دیا، جس کے سہارے نیرَو مودی کی کمپنی کو رقم ادھار پر مل جاتی ہے. اس لیٹر آف انٹیٹ کا ذکر بینک سسٹم میں نہیں کیا. بینک نے یہ نہیں بتایا کہ کسی چیز کو گروی رکھنے کے بعد لیٹر آف انڈرٹیكنگ دی گئی یا ایسے ہی دے دیا گیا. لیٹر آف انڈرٹیكنگ کے ذریعہ ایک بینک دوسرے بینکوں کو بھروسہ دیتا ہے کہ صارفین کا قرض وہ چکا دے گا. اس کا استعمال بین الاقوامی بینکاری لین دین میں ہوتا ہے. جب آپ کے نام سے لیٹر آف انڈراسٹیڈنگ جاری ہوگا تو بینک یہ سويفٹ کے ذریعہ دنیا کے بینکوں کو بتائے گا. سويفٹ کا مطلب ہوا سوسائٹی فار ورلڈوائٹ انٹربینک فنانشيل ٹیلي كميونكیشن. دنیا میں اس نظام کا بڑا بھروسہ ہے. ابھی تک کہیں سے اس میں فراڈ کرنے کی جانکاری نہیں آئی ہے.

16 جنوری 2018 کو جب پنجاب نیشنل بینک سے متنازعہ کمپنی نے لیٹر آف انڈراسٹینڈنگ لینے کی گزارش کی تو افسر نے پایا کہ پہلے کے لیٹر کی بینک کے حساب کتاب میں انٹری ہی نہیں ہے. یہ بھی ہو سکتا ہے. امید ہے دوسرے بینکوں میں ایسا نہ ہوا ہو. نیرَو مودی بیرونِ ملک ہیں. 31 جنوری کو نیرَو مودی کے گھر میں اور دیگر ٹھکانے پر محکمہ انکم ٹیکس کے چھاپے پڑے تھے. آج 15 فروری ہے. اس کے بعد بھی نیرَو مودی بھارت نہیں آئے ہیں. نیرَو مودی کسی کسان کا نام ہوتا تو بینک والے گھر سے کھٹیا تک کھینچ کر لے گئے ہوتے.

‘بزنس سٹینڈرڈ’ کے پوَن لال کی رپورٹ ہے کہ ہفتہ بھر پہلے نیرَو مودی نے مکاؤ میں اپنا ایک شو روم کھولا ہے. محکمہ انکم ٹیکس کے چھاپے پڑنے کے بعد مودی بے فکر ہوکر باہر شو روم کھول رہے ہیں یعنی بھارت میں نہیں ہیں. پوَن لال نے لکھا ہے کہ کوالالمپور میں بھی ایک نیا شو روم کھلنے والا ہے. اخبار نے تو لکھا ہے کہ پنجاب نیشنل بینک نے نیرَو مودی کو ای میل کیا ہے، فون کیا ہے مگر جواب نہیں آیا. مگر نیرَو مودی نے پیسہ لوٹانے کی بات کی چٹھی تو لکھی ہے. اس کے بارے میں پنجاب نیشنل بینک کے سربراہ نے کہا کہ اس چٹھی میں پیسہ لوٹانے کا کوئی ٹھوس پلان نہیں بتایا ہے.

ابھی آتے ہیں کانگریس اور بی جے پی پر. کیا دونوں اس معاملے میں صحیح سوال کر رہے ہیں؟ صحیح سوال کے جواب دے رہے ہیں یا آگے پیچھے کی باتیں ہو رہی ہیں. کانگریس کے ترجمان رنديپ سرجے والا نے کہا کہ 9 فروری 2017 سے 14 فروری 2017 کے درمیان 8 فرضی لیٹر آف انڈراسٹیڈنگ جاری ہوئے. کیا یہ بات صحیح ہے؟ کیا یہ بات درست نہیں ہے کہ ہر سال لیٹر آف انڈراسٹیڈنگ کو رنيو کیا جاتا ہے اور یہ چیئرمین کی سطح سے ہوتا ہے، جسے شاخ پرمکھ جاری کرتا ہے. 7 سال تک رنيو ہوتا رہا مگر کسی کی نظر نہ پڑی. یہ بات پکی ہے کہ اتنی بڑی رقم کا لیٹر آف انڈراسٹینڈنگ کسی چیئرمین یا اگزیكيوٹو ڈائریکٹر کے ہی سطح پر ہوتا ہے اور اسے برانچ ہیڈ ہی جاری کرتا ہے. تو کیا اس صورت میں کبھی کسی چیئرمین کی جوابدہی طے ہوگی. بینکوں کا ہر ماہ آڈٹ ہوتا ہے. سہ ماہی پر آڈٹ ہوتا ہے اور سال گزرنے پر ہوتا ہے. تب بھی نہیں پکڑ آیا.

کیا رنديپ سرجے والا کی بات صحیح ہے کہ 29 جنوری 2018 کی ایف آئی آر میں بینک نے کہا ہے کہ نیرَو مودی اور مے ہل چوکسی کے خلاف لك آؤٹ نوٹس جاری کیا جائے تاکہ وہ ملک چھوڑ کر نہیں بھاگیں. کیا لك آؤٹ نوٹس جاری ہو چکا ہے؟ رنديپ سرجے والا اپنی پریس کانفرنس میں گيتانجلي جیمس لمیٹیڈ کا بھی ذکر کرتے ہیں جس کے بارے میں وزیر قانون روی شنکر پرساد اپنی پریس کانفرنس میں کہتے ہیں کہ گيتانجلي جیمس لمیٹیڈ کے مے هل چوکسی کے ساتھ کانگریسی لیڈروں کی اترنگ تصويریں ہیں. مگر وہ جاری نہیں کریں گے، کیونکہ یہ ان کا لیول نہیں ہے. ہم وزیر قانون کے بیان کا یہ حصہ سنیں گے، لیکن اب رنديپ سرجے والا کی پریس کانفرنس کے سوال دیکھ لیتے ہیں. رنديپ سرجے والا نے کہا کہ خط آف انڈراسٹینڈنگ کی بنیاد پر جو پیسہ لیا جاتا ہے، اس کا ادائیگی 90 دن کے اندر اندر کر دینا ہوتا ہے. بینک کو اس کا جواب دینا چاہئے کہ 90 دنوں کے اندر ادا نہیں ہوا تو جس بینک سے نیرَو مودي اور چوکسی نے قرضے لئے، اس بینک نے کس سطح کے حکام کو مطلع کیا. کیا اس کی اطلاع بینک کے چیف کو پہنچتی ہے یا اسی برانچ میں پہنچتی ہے. یہ میرا سوال ہے؟ اگر رنديپ سرجے والا کا سوال صحیح ہے تو پھر دوسرے بینکوں نے ہلہ کیوں نہیں کیا، کیا اس کھیل میں دوسرے بینک کے لوگ بھی شامل ہیں؟

پہلا سوال

فرضی لیٹر آف انڈراسٹینڈنگ کی بنیاد پر نیرَو مودی اور مے هل چوکسی اس ملک کے بینکاری نظام کے ساتھ کس طرح کھیل رہے تھے؟ اس ملک کے ستر سال کے سب سے بڑے بینک کے مال کے لئے جو مودی حکومت کے ناک کے نیچے ہوا اس کے لئے کون ذمہ دار ہے؟

دوسرا سوال

وزیر اعظم کو اس کی معلومات 2016 کو دے دی گئی تھی. وزیر اعظم کے دفتر نے اس کا نوٹس لیا، اس کے باوجود بھی ہے وزیر اعظم کے دفتر سے لے کر فائنانس منسٹری سے لے کر فائنانشیل انٹیلی جینس یونٹ سے لے کر تمام اتھا رٹيز اور مودی حکومت سوئی پڑی تھی اور کیوں؟

تیسرا سوال

29 جنوری 2018 کو پنجاب نیشنل بینک کے جوائنٹ جے ایم نے خط لکھ کر کہا کہ ملک چھوڑ کر بھاگ جانے والے ہے اس کے لئے کاروائی کیجیے، اس کے باوجود نیرَو  مودی جی ملک کا پیسہ لوٹ کر ملک چھوڑ کر کیوں بھاگ گئے، اس کے لئے کون ذمہ دار ہے؟

اس کے بعد آئے وزیر قانون روی شنکر پرساد. انہوں نے اعتراض جتایا کہ نیرَو مودی کے نام میں چونکہ مودی ہے اس وجہ سے ‘چھوٹا مودی’ کہہ کر وزیر اعظم مودی سے ملنے کی سیاست ڈمننگ اور ڈیروگیٹري ہے. دوسرا اعتراض تھا کہ تصویر میں کوئی بھی ہو سکتا ہے، تصویر کو دکھا کر تعلقات قائم کرنا ٹھیک نہیں ہے. روی شنکر پرساد کی یہ بات ٹھیک ہے کہ تصویر میں کوئی موجود ہے اسے لے کر آپ کو فوری طور کسی نتیجے پر نہ پہنچے اور نہ ہی سنگین الزام تلاش کریں. پر کیا روی شنکر پرساد کی پارٹی نے کبھی ایسا نہیں کیا ہوگا، کسی تصویر کو لے کر یہ نتیجہ نہیں نکالا یا الزام نہیں لگایا؟

امید ہے کہ روی شنکر پرساد گيتانجلي لمیٹیڈ کے چوکسی جی کے ساتھ کانگریسی لیڈروں کی تصاویر کو جاری کر دینا چاہئے ورنہ یہ اشارہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ ایک طرح سے خاموش رہنے کو کہہ رہے ہیں کہ زیادہ اجاگر نہ کریں ورنہ ہم یہ دکھا دیں گے. یہ اچھا نہیں ہو گا. روی شنکر پرساد نے دو بار کسی مےهل چوکسی جی کا نام لیا. انہیں نام ٹھیک سے یاد نہیں آ رہا تھا، لیکن وزیر اعظم مودی کو مےهل بھائی کا نام ٹھیک سے یاد ہے. یو ٹیوب پر 5 نومبر 2015 کی ایک ویڈیو ملی. اس روز سونے کا سککا جاری ہوا تھا. تقریب میں ہیرے جواهارات کے كاروباري تھے، تب کے گورنر رگھو رام راجن بھی تھے. پہلے آپ روی شنکر پرساد کو سنئے کہ وہ مےهل چوکسی کا نام کیسے لیتے ہیں، اور پھر وزیر اعظم کو سنیے کہ وہ کس طرح لیتے ہیں. رام کا نام لیجئے کہ دونوں الگ الگ مےهل کی بات کر رہے ہیں، نہ کہ اس مےهل چوکسی کی، جنہوں نے نیرَو مودی کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر پنجاب نیشنل بینک کے ساتھ ساتھ کئی بینکوں کو چپت لگا دی ہے. رام کا نام لیجیے گا.

مےهل بھائی یہاں بیٹھے ہیں، مےهل بھائی ڈاووس میں بھلے نہیں ہیں مگر سرکاری پروگرام میں تو ہیں. ڈاووس میں نیرَو مودی کی تصویر ہے، جن کے بارے میں روی شنکر پرساد کا کہنا ہے کہ سی آئی آئی لے کر گئی. ویسے بھی جب وزیر اعظم کو یہ پتہ ہے کہ کتنا بھی بڑا جوہری کیوں نہ ہو، سونا خریدنے پر لوگ اپنے گاؤں کے سنار سے چیک کراتے ہیں تو کیا ڈاووس میں تصویر كھيچانے کے پہلے اسی طرح کی چیکنگ وزیر اعظم کو نہیں کروانی چاہئے تھی. یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فوٹو کھنچوا  لینے سے نیرَو مودی کو چھوٹ نہیں ملی. 29 جنوری اور 5 فروری کو ان کے خلاف ایف آئی آر ہوئی. اب یہ الگ بات ہے کہ ایف آئی آر ہونے کے بعد بھی وہ 15 دنوں سے بیرون ملک میں اپنا شو روم کھولنے میں مصروف ہیں.

نیرَو کا مطلب ہوتا ہے سناٹا. اتنی خاموشی سے300 11، کروڑ کا گھوٹالہ ہو گیا کسی کو پتہ ہی نہیں چلا. کانگریس نے کہا کہ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 9 فروری 2017 سے 14 فروری 2017 کے درمیان آٹھ فرضی لیٹر آف انڈراسٹینڈنگ جاری کیا گیا. کیا روی شنکر پرساد نے اس کا جواب دیا؟

روی شنکر پرساد نے کہا کہ اگر وہ بیرون ملک ہے تو بیرون ملک بھی کارروائی ہوئی ہے. ایف آئی آر یہاں ہوئی ہے تو وہاں کیا كارراوي ہو رہی ہے. کیا ایف آئی آر کے بعد شو روم کا افتتاح بھی کارروائی ہے؟ انہیں بتانا چاہئے تھا کہ کیا نیرَو مودی کے خلاف لك آؤٹ نوٹس جاری ہوا ہے؟ پنجاب نیشنل بینک کا اسٹاک 11 فیصد گر چکا ہے. اس سرمایہ کاروں کو 3000 کروڑ کا نقصان ہو چکا ہے. یہ سب واپس تو نہیں آئے گا مگر بینکنگ سیکٹر اور ہیرے کے کاروبار کے اس کارنامے کو آپ تصاویر پر مت جائیں. کس کی تصویر کس کے ساتھ ہے. کون کس کا کرایہ دار ہے، یہ سب ہلکے سوالات ہیں، سوال ایک ہی ہے کہ300 11، کروڑ کا گھوٹالہ فراڈ کیسے ہو گیا؟ بینکنگ سیکٹر سپر نظر رکھیے، جس کی حالت پہلے سے خراب ہے. پنجاب نیشنل بینک کے اسکینڈل سے متعلق دو خبروں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں. جو مدھیہ پردیش کے اخبار نئی دنیا میں شائع ہوا ہے.

19 جنوری 2018 کی خبر ہے کہ بھوپال کے کوئلہ تاجر کے یہاں سی بی آئی نے چھاپے مارے. جن پر پنجاب نیشنل بینک کے حکام سے مل کر 80 کروڑ کا گھوٹالہ کیا ہے. 2011 سے 2016 کے درمیان گھوٹالہ ہوا ہے. 30 مارچ 2016 کی خبر ہے کہ پنجاب نیشنل بینک نے اندور کے 27 تاجروں کو ولفل ڈیفالٹر قرار دیا ہے، جن پر 217 کروڑ کا لون تھا. کیا آپ جانتے ہیں کہ بھارتی اسٹیٹ بینک کو تیسری سہ ماہی میں 2416 کروڑ کا نقصان ہوا. 17 سال میں پہلی بار اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو اتنا زیادہ نقصان ہوا ہے. گزشتہ سال اسی سہ ماہی میں بینک کو 1820 کروڑ کا فائدہ ہوا تھا، اس سال کی تیسری سہ ماہی میں 2416 کروڑ کا نقصان ہوا.

کیا آپ کو پتہ ہے کہ بھارتیہ اسٹیٹ بینک نے ریزرو بینک کو 31 مارچ 2017 کو ختم ہونے والے مالی سال کا حساب سونپا تو اس میں کتنی خرابی تھی. ایک سال بعد ایس بی آئی نے ریزرو بینک کو بتایا کہ منافع 36 فیصد زیادہ بتا دیا اور این پی اے کا حصہ 21 فیصد کم بتا دیا. کیا اتنے بڑے بینک میں کوئی منافع 100 کی جگہ 136 روپے یوں ہی بتا سکتا ہے. کیا پانی لگا کر انگلیوں سے نوٹ گنے جا رہے ہیں. کیا اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں اتنی بڑی غلطی کی وجہ سے کسی بڑے افسر کے خلاف کارروائی ہوئی؟

نیرَو مودی کی کرتوت کا سوال کا جواب ادھر ادھر کی باتوں سے کم، کرتوت کی جانچ سے دیا جانا چاہئے نہ کہ کبھی این پی اے تو کبھی یہ گھوٹالہ کبھی وہ گھوٹالے کی بات ہو. 2 جی گھوٹالے کی اتنی بات ہوئی، مگر سارے ملزم بری ہو گئے. یاد رکھنا چاہئے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close