آج کا کالم

خوش حالیوں کے شہر میں، غربت کی تیز آگ

ڈاکٹر سلیم خان

 ہندوستان کے اندر سیاسی جماعتوں کی ویسے بھی کمی نہیں ہے اور الیکشن کے زمانے میں تو  مری ہوئی پارٹیاں  بھی  ککر متا کی طرح  زندہ ہوجاتی ہیں لیکن اس فرسودہ انتخابی نظام کی  اصلاح  کی جانب شاذو نادر ہی  کوئی توجہ دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے ہر کوئی چاہتا ہے کہ یہ  نظام زیادہ سے زیادہ کمزور ہو جائے تاکہ  اس کو بہ آسانی توڑ مروڑ کر  اپنی مرضی کے مطابق استعمال کیا جاسکے۔ ایسے میں ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارم(اے ڈی آئی) نامی غیر سرکاری تنظیم  قابلِ مبارکباد  ہے جو وقتاً فوقتاً  عوام و خواص آئینہ دکھاتی رہتی ہے۔ اس نے اپنی  تازہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا کہ ارکان پارلیمان  میں سے ۸۳  فیصدی کروڑ پتی ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں کثیر آبادی غریبی کے خط سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے ان کے نمائندوں کااتنی بڑی تعداد میں  کروڈ پتی ہونا  حیرت انگیز  ہے؟اس سفید دولت علاوہ جس کو پوشیدہ رکھنا ممکن نہیں ہے ان لوگوں نے بے شمار کالادھن سوئزرلینڈ اور دبئی وغیرہ میں چھپا  کر رکھا گیا  ہے اور اپنے رشتے داروں کے نام پر  نہ جانے کتنی بے نامی  جائداد بنا رکھی ہے۔

یہ معاملہ کسی ایک سیاسی جماعت کی تک محدود نہیں ہے۔ اس حمام میں سب برہنہ ہیں   لیکن اپنے آپ کو مختلف کہلانے والی بی جے پی سے عوام کی توقعات  مختلف تھیں۔ ایک طرف سنگھ کے سنسکار اور تربیت اور دوسری طرف دیش بھکتی  کے بلند بانگ نعرہ لگانے والوں کا  معاملہ دیگر موقع پرست جماعتوں سے مختلف ہونا چاہیے تھا لیکن جمہوریت نے سب کو اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے۔ ویسے  بی جے پی کو براہمن بنیا پارٹی کہا جاتا تھا اور بنیا چونکہ تاجر پیشہ ہوتے ہیں اس لیے ان کے پاس دھن دولت کی ریل پیل توقع کے عین مطابق ہے۔ مودی  جی  کا مذاق اڑانے کے لیے  راہل گاندھی اس کو  سوٹ بوٹ والی سرکار  کہتے تھےلیکن اگر کروڈ پتی ارکان  پارلیمان پر نظر ڈالی جائے تو  کانگریس کی حالت بھی مختلف  نہیں نظر آتی ہے۔  بی جے پی کے ۲۷۱ میں سے جہاں ۲۲۷ ارکان  ’ کون بنے گا کروڈپتی‘   کھیلے بغیر  کروڈ پتی بن چکے ہیں تو وہیں کانگریس بھی پیچھے نہیں ہے۔ اس کے ۴۷ میں سے۳۷  ارکان ایک کروڈ سے زیادہ مالامال ہیں۔ ان دونوں کے اندر تناسب میں  صرف ۴ فیصد کا فرق ہے  بعید نہیں کہ  جب کانگریس اقتدار میں آجائے تو  اس کے کروڈ پتی ارکان  ۴ فیصد زیادہ ہو جائیں۔

  یہ کروڈ پتی حضرات جن لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں  ان کی حالت زار پر ایک نظر ڈال لینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ۲۰۱۴ ؁ میں پلاننگ کمیشن نے یہ تجویز پیش کی کہ دیہی علاقوں میں جن لوگوں کی آمدنی یومیہ ۲۲ روپئے سے کم ہے وہی غریب کہلانے کے حقدار ہیں۔ غربت کی اس  نامعقول تعریف پر ہنگامہ برپا ہواتو حکومت نے اس کی  درستگی  کے لیے وزیراعظم کے دفتر سے منسلک سابق ماہر معاشیات رنگاراجن کی قیادت میں ایک کمیشن تشکیل دیا۔  اس کمیشن نے مہنگائی کو پیش نظر رکھ کر یہ طے کیا کہ دیہی علاقوں میں ۳۲ روپئے یومیہ سے کم  کمانے والا غریب ہے اور شہروں میں چونکہ معیار زندگی نسبتاً بلند تر ہوتا ہے اس لیے ۴۷ روپئے سے زیادہ کمانے والے کو ہی غربت کے خط سے اوپر سمجھا جائے گا۔ اس نئی تعریف نے  بیٹھے بٹھائے ۹ کروڈ ۳۷ لاکھ غریب آبادی کا اضافہ کردیا۔  اس کے بعد مودی سرکار نے غربت کے اعدادوشمار شائع کرنا بند کردیئے۔ سوال یہ ہے کہ جس ملک کے ۳۰ فیصد لوگوں  کے پاس   دن بھر کے لیے ۳۲ روپئے سے زیادہ  میسرنہیں ان کے نمائندوں کی ۹۹ فیصد تعداد کروڈ پتی کیسے ہوگئی ؟

ہندوستان  جیسے غریب ملک میں ارکان پارلیمان کی اوسط آمدنی ۱۴ کروڈ ۷۲ لاکھ ہے۔ ان ارکان میں سے ۳۲ کے پاس ۵۰ کروڈ سے زیادہ کی جائیداد ہے جبکہ ۵۴۲ میں سے صرف دو ایسے ہیں جن کا اثاثہ ۵  لاکھ سے کم ہے۔ ان  کے علاوہ غریب ووٹر کے دکھ سکھ کو یہ دھنا سیٹھ کیسے سمجھ سکتے ہیں؟   جہاں تک عام لوگوں کا تعلق ہے دیہات کے ایک بہت بڑی تعداد اپنا پیٹ پالنے کے لیے منریگا نامی اسکیم پرانحصارکرتی ہیے۔ منریگا کے تحت  اس سال ان کی اجرت  میں صرف ۱۶ء۲ فیصد اضافہ ہوا۔ . ۱۵ ریاستوں میں مزدوروں کی اجرت میں محض ایک سے پانچ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے باقی ۶ صوبوں اور  یونین ٹیریٹری میں یہ اضافہ  ایک روپے  سے بھی کم تھا۔ اس کا موازنہ اگر مہنگائی سے کیا جائے تو گویا ان غریبوں  کی آمدنی کم ہوگئی  اور ان کا جینا دوبھر ہوگیا۔کرناٹک، کیرل اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں یومیہ مزدوری میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے، جبکہ ہماچل پردیش اور پنجاب میں یہ ایک روپے اور مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں دو روپے بڑھائی گئی۔ ایک طرٖ ف جہاں عوام کے نمائندے کروڈوں میں کھیل رہے ہیں وہیں مزدوروں کے لیے گزشتہ دو سالوں ۳ فیصد سے کم اور پچھلے سال صرف ایک فیصد  بڑھوتری  ہوئی۔ ان اعدادو شمار سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انتخابات سے کس کے اچھے دن آتے ہیں اور کس کے نہیں آتے؟

منریگا کے تحت جھارکھنڈ و بہار میں ایک  مزدور کو ۱۷۱ روپیہ یومیہ اور  مدھیہ پردیش و چھتیس گڑھ میں ۱۷۶  روپیہ یومیہ مزدوری ملتی ہے جبکہ اسی مزدور کو ہریانہ میں ہر روز ۲۸۴ اور کیرل میں ۲۷۱روپے ملتے ہیں۔ اس اسکیم کے  تحت یہ  روزگار ویسے تو  صرف ۱۰۰ دنوں تک ملتا ہے لیکن  قحط  یا سیلاب کے وقت میں  اس  کی تعداد کو بڑھا کر ۱۵۰ کردیا جا تا ہے۔ جمہوریت کے اندر عوام اور حکمرانوں کے درمیان یہ  معاشی تفاوت اس نظام کے چہرے سے ریشمی  نقاب نوچ کر پھینک دیتا ہے۔ملوکیت میں نیا حکمراں اپنے پیش رو بادشاہ کا جانشین ہوتا ہے اس لیے اس کی شان وشوکت توقع کے عین مطابق ہے لیکن جمہوریت میں تو حکمراں عوام  کا نمائندہ ہوتا ہے اس لیے اس کو عوامی سطح پر ہونا چاہیے لیکن کیا ایسا  کیوں نہیں ہوتا؟ یہ افراد کا قصور ہے یا نظام کی خرابی ہے؟ اس سوال کے جواب میں  عوام کے اچھے دنوں کا راز پنہاں ہے۔ ورنہ اچھے دن کا خواب دیکھنے والے غریبوں پر یہ شعر صادق آتارہے گا؎

غربت کی تیز آگ پہ اکثر پکائی بھوک

خوش حالیوں کے شہر میں کیا کچھ نہیں کیا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close