آج کا کالم

خیالی خوف اور ہمارے اندر کے ‘راون’

بھارت میں، بالخصوص شمالی ہندوستان کی ریاستوں  میں  انتخابی مہم ایک طرح سے مفت-اسٹائل کشتی کی طرز پر ہوتا ہے، جس میں  کوئی بھی قوانین یا ٹوپی ہوتی. بھلے ہی بھارت کا الیکشن کمیشن اپنے تمام احکامات سے انتخابی مہم کے بیانات، تبصرے اور تقریروں  کے لیے ہدایات کا تعین کرتا رہا ہو، لیکن لیڈر ہیں  کہ مانتے ہی نہیں . ان کے لئے تشہیر کا ایک ایک موقع اپنی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کہنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یہاں  تک کہ اگر اس سے کسی کو تکلیف کیوں  نہ پہنچتی ہو.

اتر پردیش اس معاملے میں  ہمیشہ مبالغہ کا اداهار رہا ہے. اگر صرف گزشتہ دو ہی انتخابات کی بات کی جائے تو ہر پارٹی کے ریاستی اور قومی سطح کے لیڈر تشہیر تقریروں  کے دوران ایسی باتیں  کہتے آئے ہیں  کہ سامنے والی بھیڑ کی تالیاں  تو مل ہی جاتی ہیں،  اگرچہ اس کا انتخابی فائدہ ان کی پارٹی کو ملے یا نہ ملے. یاد کریے 2014 کے لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران دیا گیا اترپردیش کے وزیر محمد اعظم خان کا کارگل جنگ میں  شامل فوجیوں  کے بارے میں  بیان، یا سہارنپور کے کانگریس کے لیڈر کا نریندر مودی کے بارے میں  پرتشدد بیان، یا 2009 کے لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران دیا گیا ورون گاندھی کا اقلیتوں  کے بارے میں  دیا گیا بیان – ان بیانات سے ان لیڈروں  کی پارٹیوں  کو کوئی انتخابی فائدہ ملا ہو یا نہیں،  لیکن ان کی تصویر اپنی پارٹی میں  ضرور چمک گئی. یہ بیان ان لیڈروں  کے لئے اپنی پارٹی میں  جگہ بنانے میں  مددگار ضرور ہوئے، اور ان کی وجہ سے ان رہنماؤں  کا مطالبہ اپنے علاقے کے خاص طبقے کے درمیان بڑھ گئی.

اس کا سیدھا اثر اتر پردیش میں  ہو رہے انتخابات مہم کے دوران نظر آنے لگا ہے. پہلے مرحلے کی پولنگ 11 فروری کو ہونا ہے جس مغربی اتر پردیش کے مظفرنگر، میرٹھ، باغپت، غازی آباد، نوئیڈا، بلند شہر، ہاپوڑ، متھرا، آگرہ، فیروزآباد، ایٹہ وغیرہ ضلع ہیں . پروموشن سے منسلک خبریں  بتاتی ہیں  کہ جہاں  ایک پارٹی کے رہنما وزیر اعظم نریندر مودی کو برا بھلا کہنے کی حد تک جا رہے ہیں،  وہیں  کوئی اور لیڈر کسی ایک سماجی طبقے کو ہی ساری مصیبتوں  کی جڑ قرار دیتے ہیں . حقیقی یا نیتیکتا واقعات کو اداهار بنا کر حملے کئے جا رہے ہیں . فسادات، فرار، ایک طبقے کے حقوق، نام نہاد طور پر ریزرویشن اور ووٹنگ کے حقوق کی خلاف ورزی، کشمیر کا ذکر اور پاکستان کا ذکر وغیرہ کچھ ایسی مثالیں  ہیں  جن کا استعمال خوب کیا جا رہا ہے. اور یہ کہنے کے دوران حصوں  کے درمیان جھگڑا زوروں  خوف اور بد اعتمادی کی روح کو بھڑکانے کے علاوہ ملک کے اتحاد جیسے حساس موضوع پر چوٹ پہنچانے کی کوشش بھی خوب ہو رہی ہے. یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ایسی تبصرہ کرنے والے لوگوں  میں  سیاسی جماعتوں  کے صرف چند لیڈروں  کے نام بار بار آ رہے ہیں .

 کچھ جماعتوں  کے کچھ ممبران اسمبلی یا عہدیدار تو جیسے یہ اس کی شناخت بنا چکے ہیں  کہ انہیں  تو اشتعال انگیز باتیں  کہنی ہی ہیں،  چاہے الیکشن کمیشن یا ان ہی جماعتوں  کے سینئر لیڈر ہی انہیں  تحمل برتنے کی صلاح کیوں  نہ دیتے ہوں . واضح ہے کہ ایسے بیانات کے پیچھے کہیں  نہ کہیں  سیاسی جماعتوں  کی خاموشی اور غیر تحریر شدہ رضامندی ہوتی ہوگی، ورنہ کوئی بھی عوامی زندگی میں  رہنے والا شخص ایسی خطرناک باتیں  عام جلسوں  میں  کس طرح اور کیوں  کہے گا؟

جہاں  ایک طرف شرافت اور آداب کے حامی لوگ ایسے لوگوں  پر روک لگانے کا مشورہ دیتے ہیں،  وہیں  دوسری طرف سیاسی جماعتوں  کا کہنا ہے کہ جب دوسری پارٹی کے لیڈر ایسا بیان دیتے ہیں  تو کیا اس کا جواب بھی نہ دیا جائے؟ ایسی تبصرہ کرنے والے لوگوں  کے خلاف رپورٹ بھی درج ہوتی ہے، مقدمہ بھی چلتا ہے اور آخری فیصلہ آتے آتے کئی سال گزر جاتے ہیں  اور لوگ مکمل واقعات بھول بھی جاتے ہیں . پھر آتا ہے اگلا انتخابات، اور ایسے ہی یہ سائیکل چلتا رہتا ہے. ایسا نہیں  ہے کہ دوسرے سے لے کر ساتویں  مرحلے کی پولنگ کے سابق کی تشہیر میں  ایسی زبان اور تبصرے کا استعمال نہیں  کرے گا، بلکہ فرق صرف یہ ہوگا کہ نام، مقام اور واقعات کے اداهار مختلف ہوں  گے. اور کوشش ایک ہی ہو گی – مذہبی اور ثقافتی تصورات کو نام نہاد خطرہ بتاتے ہوئے کسی ایک پارٹی کے خلاف یا حق میں  ووٹ ڈالنے کی اپیل کی جائے گی.

الیکشن کمیشن کی ہدایات، یا سماجی مکالمے کو آرام دہ-سادہ برقرار رکھنے کے لئے کوئی دیگر تجاویز کبھی بھی یک طرفہ مؤثر نہیں  ہو سکتے، جیسے کوئی بھی قانون یا ہدایات سماجی برائیوں  کو مکمل طور پر روکنے میں  کامیاب نہیں  ہو سکتی. آخر میں  لوگوں  کو ہی یہ فیصلہ لینا پڑتا ہے کہ انہیں  اپنے رویے میں  کیا تبدیلی لانا ہے. چاہے وہ خواتین کے تئیں  نقطہ نظر ہو، سیاسی حریفوں  کے تئیں  احترام کا جذبہ ہو، یا ایک بنیادی آداب، تہذیب یا شرافت کی سطح ہو، صرف قانون یا تجاویز کسی کو اپنا طرز عمل تبدیل کرنے کے لئے پابند نہیں  کر سکتے. ماہرین کہتے ہیں  کہ ہم میں  سے سب کے شخصیت میں  مہذب اور سوچھد عناصر ہیں،  جن کے درمیان ہمیشہ ثنویت چلتا رہتا ہے، اور ہمارے پس منظر، تعلیم اور سوچ ہی یہ طے کرتی ہے کہ کس عنصر کو ہم پنپنے دیں . راون کہیں  باہر نہیں  ہیں،  بلکہ ہمارے اندر ہی ہے، کسی اور کو راون کہہ دینے سے ہم اپنے اندر کے راون کو اور مضبوط ہی کرتے ہیں .

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close