آج کا کالم

دل کو روؤں یا جگر کو میں!

حفیظ نعمانی

کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ہمیں نہیں جانتے لیکن ہم انہیں جانتے ہیں اور کروڑوں آدمی انہیں جانتے ہیں ۔ انہوں نے بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی بہت کوشش کی لیکن  مرحوم مفتی صاحب کامیاب ہوگئے۔ اب ان کی دختر محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ ہیں اور عمر عبداللہ انہیں اس پر مجبور کررہے ہیں کہ وہ چھوڑچھاڑ کر بھاگ جائیں ۔

ہم نہیں جانتے کہ وہ کیوں ان کی حمایت کررہے ہیں جو خودکشی کو دعوت دے رہے ہیں اور انہیں پوری دنیامیں پتھر باز کہا جارہا ہے۔ کشمیر میں حکومت ِ ہند کے ایک بڑے عہدہ پر میرے بھتیجے برسوں رہ کر اب دہلی آئے ہیں وہ جب جب لکھنؤ آتے تھے تو گھنٹوں کشمیر کی سیاست اور مستقبل پر گفتگو ہوتی تھی اور ان کے ذریعہ معلوم ہوتا تھا کہ آزادی آزادی آزادی نوجوانوں کا وہ نعرہ ہے جس کا جنون ہوگیا ہے۔ کل کے مضمون سے عمرعبداللہ نے یہ اشارے دے دیئے ہیں کہ وہ ان جنونیوں کے پیچھے کھڑے ہیں اور اب اپنے گھر کی عصمت و عزت کو بھی انہوں نے سڑک پر لاکر کھڑا کردیا ہے۔

یہ بات بوڑھے لوگ جانتے ہیں کہ ان کے والد فاروق عبداللہ کی بے راہ روی سے دلبرداشتہ ہوکر ان کی دادی اور کشمیر کی مادرِ مہربان نے فرمایا تھا کہ تم اگر اسی طرح آوارہ گردی کرتے رہو گے تو میں شیخ کا جانشین اپنے پوتے عمرعبداللہ کو بنا دوں گی۔ اور ان بوڑھے لوگوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ عمرعبداللہ نے بھی ان کے خواب پورے نہیں کئے۔

جس آزادی کے لئے کشمیر کے بیٹے اور بیٹیاں ہاتھوں میں پتھر لے کر ہندوستان جیسے بڑے ملک کی فوج کے جوانوں کو گولی چلانے پر مجبور کررہے ہیں اسی آزادی کو تو عمرعبداللہ کے دادا نے راجہ کے ساتھ جاکر دہلی میں اپنے دوست پنڈت جواہر لال نہرو کے پاس رکھ دیا تھا۔ لیکن پھر جو ہوا اس کی تاریخ سے کیا عمرعبداللہ واقف نہیں کہ ان کے دادا اور شیر کشمیر بارہ برس اس لئے جیل میں رہے کہ وہ نہرو سے اپنی وہ آزادی مانگ رہے تھے جو انہوں نے ان کے پاس رکھوا دی تھی اور جب پنڈت جی کا آخری وقت آیا تو ان ہی نے انہیں بلایا اور جو بات بھی ہوئی یہ کسی کو نہیں معلوم بس یہ معلوم ہے کہ شیر کشمیر نے انہیں معاف کردیا اور ان کے سفیر بن کر پاکستان گئے لیکن موت کے فرشتہ کے پاس مزید وقت نہیں تھا۔

شیخ صاحب واپس آئے اور ان کا دل کشمیر میں نہیں لگا وہ چین چلے گئے۔ اسی زمانہ میں سعودی عرب کے شاہ فیصل نے مکہ میں موتمر عالم اسلامی بلائی اور پوری دنیا سے سرکاری وفد بلائے اور شیرکشمیر کو بھی دعوت دی۔ اس وقت ہندوستان میں اندرا گاندھی حکومت پر قابض ہوچکی تھیں اور انہوں نے شیرکشمیر کے بیانات پر اپنی ناگواری کا اظہار کردیا تھا۔

مکہ معظمہ میں شیخ چین سے آئے اور رابطہ عالم اسلامی کے مستقل رُکن ہمارے والد مولانا منظور نعمانی سے ملے جن کی کتاب معارف الحدیث وہ جیل میں پابندی سے پڑھتے رہتے تھے اور یہ طے ہوا کہ موتمر کے بعد سکون سے باتیں ہوں گی۔ یہ بات پوری دنیا میں اس وقت گونجی تھی کہ موتمر کے اجلاس میں پہلی صف میں مسلمان سربراہ مملکت تھے اور شاہ فیصل نے شیخ عبداللہ کو ان کے ساتھ بٹھایا تھا۔ اس خبر سے اندرا گاندھی اور گھبراگئی تھیں ۔

اجلاس کے بعد شیخ صاحب والد سے ملے اور کہا کہ مشورہ دیجئے کہ میں چین میں جلاوطن حکومت قائم کرکے وہاں رہوں یا ہندوستان واپس جائوں جہاں اندرا گاندھی مجھے جیل بھیج دے گی؟ حضرت مولانا علی میاں اور والد کا ہروقت ساتھ رہتا تھا۔ دونوں نے ایک ہی بات کہی کہ کچھ بھی ہو کشمیر نہ چھوڑیئے۔ شیخ نے والد صاحب سے کہا کہ آپ میرے لئے مراقبہ کیجئے کہ مجھے کیا کرنا چاہئے؟ والد صاحب نے پہلے تو اس پر اصرار کیا کہ مراقبہ آپ خود کریں لیکن شیخ کا اصرار تھا کہ میری خاطر آپ ہی کریں والد نے تین دن کے بعد ان سے کہا کہ دہلی ہی آتا ہے۔ آپ دہلی چلے جائیں اور شیرکشمیر دہلی آتے ہی ایک کوٹھی میں نظربند کردیئے گئے۔ بعد کی کہانی اگر عمر کو نہیں تو فاروق صاحب کو یاد ہوگی۔

جب آزادی کے سب سے بڑے علمبردار اور ابتدا میں وزیر اعظم رہتے ہوئے شیخ عبداللہ نے وزیر اعلیٰ بن کر رہنا گوارہ کرلیا تو اب آزادی آزادی اور پتھر بازی وہ بھی اس حد تک کہ ہزاروں کو قبروں میں سلا چکے ہزاروں اسپتال میں پڑے ہیں لیکن پاگل پن ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا؟ اگر کوئی تحریک چھیڑنا تھی تو شیخ عبداللہ چھیڑتے۔ جب وہ بھی وزیر اعلیٰ رہے بخشی غلام محمد بھی وزیر اعلیٰ رہے مولانا مسعودی جیسا ساتھی شہید کردیا گیا فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ بھی وزیر اعلیٰ رہ چکے تو اب آزادی آزادی کی گنجائش کہاں رہ گئی؟

مفتی صاحب نے کشمیر کے دستور کی حلف برداری اور کشمیر کے پرچم کو ترنگے کے برابر لہراکر جو کچھ کشمیر کو دلا دیا اسی کو دانت سے پکڑکر رکھنا چاہئے اور دماغ سے یہ خیال نکال دینا چاہئے کہ ہندوستان ان پتھروں سے ڈرکر کشمیر کو آزاد کردے گا۔ کشمیر کے بھائیوں اور بیٹوں کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ جب 6  سال عمر عبداللہ وزیر اعلیٰ رہے تو نہ انہیں آزادی یاد آئی اور نہ انہوں نے پتھر بازوں کی حمایت کی اب محبوبہ وزیر اعلیٰ ہیں تو وہ ان کی حکومت کو ہر طرح فیل کردینا چاہتے ہیں ۔میجر گوگوئی نے جس صورت حال کو قابو میں کرنے کے لئے بغیر گولی چلائے ایک لڑکے کو جیپ پر بٹھاکر گھما دیا وہ برا ہونے کے باوجود اس لئے قابل برداشت ہے کہ وہاں سے جنازے اٹھتے۔ عمرعبداللہ نے پردہ توڑکر اپنی سکھ بیگم کی طرح جیسے دخترانِ کشمیر کو سڑک پر اتارا ہے وہ قابل معافی نہیں ہے۔

دنیا کا کون مسلمان ہے جو فلسطین اور کشمیر سے محبت نہ کرتا ہو؟ اور یہ دیکھ کر اس کا دل خون نہ ہوتا ہو کہ مسلمان نوجوان پتھر باز بن گئے ہیں اور یہودی اور ہندو فوجی پتھر کا جواب گولی سے دے رہے ہیں اور مفتیانِ کرام حیران ہیں کہ ان کو شہید کہیں یا کچھ اور؟ کشمیر کے بیٹے بیٹیاں جس پاکستان کا پرچم لہراتے ہیں اس سے بڑا مسلمانوں کا دشمن کوئی نہیں ہے۔ کیا کشمیر کے مسلمانوں کو نظر نہیں آتا کہ ہندوستان کے جن مسلمانوں نے پاکستان بنوایا تھا وہی پاکستان میں بھیک کی کٹوری لئے گھوم رہے ہیں اور آج بھی مہاجر ہیں ۔ سب کچھ ختم ہوگیا مگر ان کی ہجرت ختم نہیں ہوئی اور اگر وہ پاکستان جائیں گے تو کیا وہ دوسرے کشمیر سے زیادہ اچھے ہوں گے جہاں روز لاٹھی ڈنڈے اور گولی چلتی ہے؟

دو دن پہلے ہی عظمیٰ نام کی لڑکی پاکستان سے اسے موت کا کنواں کہتی ہوئی آئی ہے اور ہندوستان سے جو اپنے عزیزوں سے ملنے کے لئے گیا وہ قسم کھاکر آیا کہ اب یہ گناہ نہیں کریں گے۔ اب ہندوستان میں کتنے رہ گئے ہیں جو کہیں گے کہ ہم نے وہ جلوس دیکھے ہیں جو رات دن نکلتے تھے کہ پاکستان کے معنیٰ کیا۔ لاالہ الااللہ؟ اور ہر سڑک پر بینر لگا تھا کہ اللہ کی رسّی کو مضبوط پکڑو اور افتراق نہ کرو۔ یہ سب ایک شیطان نے کیا تھا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان پہلے دن سے اب تک شیطانوں کے ہی ہاتھ میں ہے۔ ہمارے کشمیری بھائی ہندوستان سے جیسا بھی تعلق رکھیں مگر شیطان کے پرچم کو تو اپنی پیاری زمین پر نہ لہرائیں ۔ اور میری جان پاکستان کہہ کر اپنے منھ کوناپاک نہ کریں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close