آج کا کالم

دگوجئے سنگھ کے سر پر کمل ناتھ کا مودی ہاتھ

ڈاکٹر سلیم خان

زمانہ بد ل چکا ہے۔ بادشاہت کی جگہ جمہوریت نے لے لی ہے۔ اسلام پسند اورنگ زیب کے بجائے ہندو توا وادی نریندر مودی تخت نشین ہوگئے ہیں  اس کے باوجود سیاست کے پیچ و خم  نہیں بدلے۔ اورنگ زیب کوجس ضرورت نے   مجبور کیا  تھا کہ وہ شاہجہاں کو نظر بند کردیں اسی  اندیشے کے تحت   نریندر مودی نے ایل کے اڈوانی کو سیاسی چائے سے مکھی کی مانند نکال کر پھینک دیا۔ سیاست کی بساط پر کا میابی کا دارومدار اپنی کارکردگی سے زیادہ  حریف کی پسپائی پر ہوتا ہے۔ ملوکیت کے دور میں یہ حر یف  اپنے دربار اور میدان کارزار میں ہوتے تھے۔ جمہوریت کے اندر یہ اپنی جماعت اورحزب  مخالف میں  ہوتے  ہیں۔ ایسےمیں جبکہ  بی جے پی کے اپنے بل بوتے پر اکثریت کا امکان مفقود ہوچکا ہے   مودی کو راہل سے زیادہ خطرہ اڈوانی سے ہے۔ اس لیے  مآثر محمد کے ۹۱ سال کی عمر میں وزیراعظم بن جانے سے اڈوانی جی نے جو  امید کا دیا روشن کیا تھا اس کو شاہ جی نے گاندھی نگر میں ایک پھونک  سے بجھا دیا ہے۔

شاہ جی کے مدھیہ پردیش میں دست راست وجئے ورگیہ کا یہ دیکھ کر حوصلہ بلند ہوا تو انہوں نے اندور سے ۷ مرتبہ لگاتا ر کامیاب ہونے والی سمترا مہاجن کا پتہ کاٹ دیا۔ ایم پی کے اندر تائی کہلانے والی سمترا اور بھائی کہلانے  والے وجئے ورگیہ کی لڑائی بہت پرانی ہے۔ ورگیہ نے اس بار اندور کے امیدوار کا اعلان کرنے میں ایسی تاخیر کی کہ تنگ آکر سمترانےازخود  مارگ درشک منڈل کی راہ اختیار کرلی ۔ یہ کھیل صرف بی جے پی میں ہی نہیں  ہوتا ہے  بلکہ  کانگریس کے اندر اس جیتا جاگتا نمونہ دگوجئے سنگھ ہیں۔ دگوجئے سنگھ کا تعلق ہولکر سلطنت کے راج گھرانے سے ہے۔ ان کے والد بال بھدرا سنگھ نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے ۱۹۵۱ ؁ کے اندر  مدھیہ پردیش کی  اسمبلی انتخاب میں   کامیابی درج کرائی  تھی۔

 ۱۹۷۷ ؁ میں دگوجئے سنگھ نے کانگریس کے ٹکٹ پر اپنی خاندانی وارثت راگھو گڈھ سے کامیابی حاصل کی  اور ۱۹۸۰ ؁ میں اپنے مربی  ارجن سنگھ کے وزیر بن گئے۔ وہ ارجن سنگھ کو اسی طرح اپنا گرو مانتے تھے جیسے نریندر مودی ایل کے اڈوانی کو مانتے ہیں۔ ۱۹۹۲ ؁ کے اندر بابری مسجد کو شہید کرنے کے بعد جب اڈوانی جی  اپنے داخلی حریف اٹل جی کو ٹھکانے لگا کر وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہے تھے تو اس وقت  مودی  جی کی طرح سابق وزیراعظم نرسمھا راو اپنی کرسی  کومضبوط کرنے کا منصوبہ بنارہے تھے۔ انہوں نے بابری مسجد کی شہادت  کا بہانہ کر بی جے پی  کی چار ریاستی  سرکاروں کو برخواست کردیا تھا۔ ان میں سے راجستھان میں تو خیر بھیروں سنگھ شیخاوت پھر سے جیت گئے لیکن تین صوبوں میں بی جے پی اقتدار سے محروم ہوگئی۔ اس سیاسی چالبازی کے تحت  جن دو صوبوں میں کانگریس کو کامیابی ملی ان میں سے ایک مدھیہ پردیش تھا۔

نرسمھاراو کے تین حریفوں میں سے ایک ارجن سنگھ ہوا کرتے تھے جنہیں کمزور کرنے کے لیے راو نے دگوجئے سنگھ کو وزیراعلیٰ بناکر ان کی وفاداری اپنے حق میں کرلی۔ یہ حسنِ اتفاق ہے  کہ  سیاسی افق پر ایل کے اڈوانی اور دگوجئے سنگھ کا عروج ایک ساتھ ہوا۔ اس زمانے میں  اڈوانی جی کومودی جی اپنے ہاتھ سے چائے پلایا کرتے تھے اور کمل ناتھ کی دگوجئے کے سامنے کوئی حیثیت نہیں تھی۔ دگوجئے سنگھ نے دس سالوں تک مدھیہ پردیش میں راج کیا  اس دوران اڈوانی جی وزیراداخلہ سے نائب وزیراعلیٰ  کے عہدے تک پہنچ گئے۔ وزارت سے محرومی  کے بعد دونوں  رہنماوں  نےپارٹی کے لیے نے اپنی زندگی وقف کردی۔ ۱۵ سال کے بعد جب دوبارہ کانگریس نے بی جے پی سے  مدھیہ پردیش میں اقتدار  واپس   چھین لیا تو متوقع وزرائے اعلیٰ کی فہرست میں دگوجئے سنگھ کا نام بھی تھا  لیکن کمل ناتھ  نے بازی مارلی۔ انہوں نے بھی اپنے سینئر کے ساتھ وہی سلوک کیا جو مودی نے اپنے استاد  اڈوانی  کے ساتھ  کیا  مگرذرا مختلف انداز تھا۔ ایسےجمہوری   کمل زعفرانی تالاب میں کھلے یا ترنگی میں اس کا رنگ ڈھنگ  یکساں ہوتا ہے۔

مدھیہ پردیش میں حکومت گنوانے کے بعد دگوجئے سنگھ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اب طویل عرصہ  تک کانگریس کو صوبے میں کامیابی نہیں نصیب  ہو گی اس لیے انہوں نےاپنے آپ پر دس سال تک انتخاب نہیں لڑنے کی پابندی لگا دی۔ کانگریس نے ان کی اس خواہش کا احترام کرتے ہوئے ان کو ایوان بالا کا رکن بنادیا۔  ۲۰۱۴ ؁ میں  یہ خود ساختہ حد ختم ہوگئی اس کے باوجود  وہ الیکشن سے دور رہے اور ۲۰۱۹ ؁ کا اسمبلی الیکشن بھی نہیں لڑاحالانکہ اس دوران انہوں نے  ۳۳۰۰ کلومیٹر طویل نرمدا یاترا کے تحت تقریباً پوری ریاست کا دورہ کیا۔ گوا میں وہ کانگریس پارٹی کے نگراں تھے مگر بی جے پی  کو ہرانے کے باوجود علاقائی جماعتوں کو ساتھ لے کر وہ حکومت سازی میں ناکام رہے۔ اس طرح وہ  مدھیہ پردیش کی دوڑ سے  بھی باہر ہوگئے۔۔ یعنی جس گوا سے مودی کی صورت میں  اڈوانی کی سیاسی موت کا پیغام آیا  اسی گوا نے  دگوجئے سنگھ کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ٹھونک  دی۔

کمل ناتھ نے دگوجئے سنگھ کو اپنی راہ  سے نکالنے کے لیے ایک ایسی چال چلی کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ کمل ناتھ  اگر دگوجئے سنگھ کے تئیں مخلص ہوتےتو ان کو راج گڑھ سے ٹکٹ دیتے جہاں سے وہ دوبار منتخب ہوچکے ہیں  لیکن کمل ناتھ نے انہیں عار دلانے کے لیے کہہ دیا کہ دگوجئےجیسے  بڑے رہنما کو مشکل نشست سے انتخاب لڑنا چاہیے۔ جوش میں آکر دگوجئے سنگھ نے  اس چیلنج کو قبول کرلیا تو کمل ناتھ نے انہیں بھوپال کی ایک ایک ایسی سیٹ پکڑا دی جہاں پچھلے ۳۰ سال سے بی جے پی نے ۸ بار لگاتار جیت درج کرائی ہے۔ صرف  ۱۹۸۴ ؁ میں اندراگاندھی کی موت کے بعد ہمدردی کی  لہر نے کانگریس کے امیدوار پردھان کو وہاں سے کامیاب کیا تھا۔ اس کے باوجود بی جے پی دگوجئے سنگھ کی آمد سے گھبرا گئی اور ایک مہینے سے اسے مناسب امیدوار نہیں مل رہا ہے جس کا ذکر راہل گاندھی نے بھی اپنے طنز میں کردیا۔

اس پارلیمانی حلقہ میں جملہ ۸ اسمبلی نشستیں ہیں۔ پچھلے سال  ان میں سے تین پر کانگریس اور ۵ پر بی جے پی نے کامیابی درج کرائی تھی  لیکن ووٹ کا فرق بہت زیادہ نہیں تھا۔ اس لیے یہ محفوظ سیٹ تو نہیں لیکن ایسی مشکل بھی نہیں ہے۔ کمل ناتھ حکومت  کی کارکردگی اس توازن  کو بگاڑ سکتی ہے۔  ۱۸ لاکھ رائے دہندگان کے اس حلقہ ٔ انتخاب میں ۴ لاکھ مسلم رائے دہندگان بھی ہیں اس  کے باوجود معروف کرکٹ کھلاڑی نواب منصور علی خان پٹودی بھوپال سے ناکام ہوچکے ہیں۔ دگوجئے سنگھ کو آر ایس ایس    کی دشمنی ا  وربٹلا ہاوس کے انکاونٹر کو فرضی قرار دیئے جانے کے سبب مسلمانوں میں مقبول سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اسامہ بن لادن کی  اسلام کے مطابق آخری رسومات کی حمایت کی تھی جس کے سبب  بی جے پی والوں نے ان کو خوب آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ اس لیے امید کی جاتی ہے کہ مسلمان ان کو ووٹ دیں گے۔

دگوجئے سنگھ کے لیے بھوپال سے کامیاب ہونا آسان نہیں ہے اس کے باوجود ان کے دنگل میں اترنے سے بی جے پی قیادت فکر مندہوگئی ہے۔ دگوجئے سے قبل مقامی  رہنماوں نے شہر کے میئر آلوک شرما  اورریاستی شاخ کے سکریٹری وی ڈی  شرما کا نام بھیجا تھا لیکن اب وہ اس پر وچار منتھن میں غرق ہیں ۔ اس نشست پر پہلے تو مالیگاوں دھماکے کی ملزمہ سادھوی پرگیہ ٹھاکر نے اپنا دعویٰ پیش کرتے ہوئے دگ وجے سنگھ کو ملک  دشمن قرار دیا۔ سادھوی کا کہنا ہے کہ بی جے پی میرے نظریہ کی پارٹی ہے اور سیاست میں آنے کا یہ صحیح وقت ہے۔ "راشٹرواد” (قوم پرستی ) کو لے کر میں عام لوگوں تک جاوں گی۔ میں ملک کے دشمنوں کے خلاف جدوجہد کرنے کیلئے تیار ہوں۔ میرے جیسے راشٹر بھکت  ملک کے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیں گے‘‘۔ بی جے پی  سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ  ہیما مالنی، جیا پردا اور سمرتی ایرانی  کی طرح سادھوی  پرگیہ کے بارے میں فوراً فیصلہ ہوجائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس پیشکش کو ایک محتاط خاموشی اختیارکے ذریعہ نظر انداز کردیا گیا  اور پھر سابق وزیراعلیٰ  شیوراج سنگھ چوہان کا نام زیر بحث آگیا۔

نریندر مودی کے لیےشیوراج سنگھ چوہان  اسی طرح کی مصیبت ہیں جیسے  کمل ناتھ کے لیے دگوجئے سنگھ ہیں۔ مودی اور شاہ کی جوڑی کو بھوپال کی سیٹ جیتنے کی مسرت کے مقابلے  شیوراج سنگھ چوہان کی ہا ر نےکی خوشی  زیادہ   ہوگا۔ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ان کا تجربہ مودی سے زیادہ ہے اور اڈوانی سے ان کی قربت جگ ظاہر ہے۔ اوما بھارتی کو نائب صدر بنانے کے پیچھے بغض شیوراج کا بھی دخل ہے ورنہ چوہان ہی  اس عہدے کے مستحق تھے۔ اوما بھارتی ایک شکست خوردہ سیاستداں  ہیں۔ ان کی وزارت سنگھ  کے مرہون منت تھی۔ اس لیے اوما  نے ازخود  اعلان کردیا کہ اب وہ انتخاب کی جھنجھٹ میں پڑنا نہیں چاہتیں۔ سشما  سوراج اور ارون جیٹلی نے بھی پہلے ہی کنارہ کشی اختیار کرلی۔ انہیں پتہ ہے اگر بی جے پی کی حکومت بن جاتی ہے اور مودی جی چاہتے ہیں تو ایوان بالا کا رکن بناکر وزارت تھمائی جاسکتی ہے ورنہ ایوان زیریں میں بڑی  سے بڑی  کامیابی بے سود ہے۔

اڈوانی جی  اور مرلی جی کے ان چیلوں نے تو اپنے آپ کو رسوائی سے بچالیا لیکن دونوں بزرگوں کو یہ عقل  نہیں آئی۔ وہ بھی اگر ازخود اپنے آپ کو دور کرلیتے تو ذلت و رسوائی سے بچ جاتے لیکن مقدر کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے؟اقتدار کے حصول کی خاطر بابری مسجد کو شہید کرنے والوں کو عذاب کی پہلی قسط اس دنیا میں ہی مل رہی ہے لیکن توبہ کا دروازہ ہنوز بند نہیں ہوا ہے بصورت دیگر انہیں  عذاب  الیم سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ ارشاد خداوندی ہے ۔ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر کونظالم ہوگا جواللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کا ذکر کیے جانے سے روک دے اور انہیں ویران کرنے کی کوشش کرے!انہیں ایسا کرنا مناسب نہ تھا کہ مسجدوں میں داخل ہوتے مگر ڈرتے ہوئے،ان کے لئے دنیا میں (بھی) ذلّت ہے اوران کے لئے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے(البقرہ ۱۱۴)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close