آج کا کالمعالم اسلام

دہشت گردی، امریکہ اوراسرائیل کامثلث

وہی قتل بھی کرے ہے، وہی لے ثواب اُلٹا!

تحریر:عبدالستارقاسم (فلسطینی صحافی و تجزیہ کار)

ترجمانی :نایاب حسن

      امریکہ کے عام شہریوں اور حکومتی اداروں سمیت عام طورپروہاں کے مفکرین و دانشوران کے مابین بھی اس قسم کا مضبوط تاثرپایاجاتاہے کہ عرب ممالک کے لوگ اور مسلمان دہشت گردہوتے ہیں اوردنیابھرمیں جہاں کہیں بھی دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دی جارہی ہیں ، سب کے پیچھے ان کا رول ہوتا ہے؛ لیکن انھوں نے کبھی بھی اس سلسلے میں غورنہیں کیاکہ دہشت گردی کوجنم دینے، اس کی حوصلہ افزائی اوراس کے فروغ کے لیے سرمایہ کاری میں خود امریکہ کا کتنا بڑارول رہاہے، امریکی مفکرین ودانشوران نے کبھی اس حقیقت کی کھوج نہیں لگائی کہ آج جودنیابھرکے مختلف خطوں ، علاقوں اور ملکوں میں بے گناہوں کاخون بہانے اورمعصوم شہریوں پربم و بارودانڈیلنے کااندوہناک سلسلہ جاری ہے، اس میں خودامریکی حکومت اورامریکی سرکاری اداروں کا کتنا اہم کردار ہے۔

     حال ہی میں امریکہ -اسرائیل کے مابین ایک عسکری معاہدہ ہواہے، جس کے تحت امریکہ صہیونی حکومت کی سالانہ تین بلین، آٹھ سوملین ڈالرکے حساب سے کل38؍بلین ڈالرکی عسکری امدادکرے گا، یہ معاہدہ مالی وعسکری تعاون کے سلسلے میں امریکہ و اسرائیل کے مابین قائم سابقہ معاہدات کاہی تسلسل ہے۔ یاد رہے کہ 1948ء میں اُس وقت کے امریکی صدرٹرومان نے فلسطین میں صہیونیوں کوبسانے اور وہاں کے اصل شہریوں کوبے دخل کرنے کے لیے 145؍ ملین ڈالر کی مدد پیش کی تھی، اسی طرح روزولٹ، جانسن اورنیکسن  وغیرہ دیگر امریکی صدورنے بھی یہ سلسلہ جاری رکھا۔ 1979ء میں کیمپ ڈیوڈمعاہدے کے بعدامریکہ نے مصراوراسرائیل دونوں کومالی مددپیش کی؛چنانچہ اسرائیل کوسالانہ3.2بلین ڈالراورمصرکو1.2بلین ڈالرحاصل ہوئے۔ پھر1998میں امریکہ و اسرائیل کے مابین مالی امدادکے حوالے سے ایک دس سالہ معاہدہ طے پایا، جس کے تحت امریکہ نے اسرائیل کواقتصادی و عسکری شعبوں میں کل 21.3بلین ڈالرکی امدادپیش کی، دوسرادس سالہ معاہدہ2007میں ہوا، جس کے تحت اسرائیل کوکل30بلین ڈالرحاصل ہوئے۔ حالیہ معاہدہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، البتہ اس میں امریکہ کی جانب سے اسرائیل کوصرف عسکری امدادکی پیش کش کی گئی ہے، حالاں کہ اِس وقت اسرائیل کی معاشی حالت بہت اچھی نہیں ہے اوروہاں مہنگائی، افراطِ زرمیں کافی اضافہ ہواہے؛لیکن اس کے باوجودخودصہیونی حکومت نے امریکہ سے عسکری امدادلینے پرزوردیاہے، کیوں کہ اس کاجنگی جنون ہی لائقِ ترجیح ہے۔ اس معاہدے کے مطابق سالانہ طے شدہ رقم مالی سال کے پہلے مہینے میں اداکردی جائے گی، اس کے بعداسرائیل امریکہ سے قسط وارہتھیاروں کی خرید کرے گا، جن کی قیمت بھی اسے پہلے اداکرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

     کیاکسی امریکی صحافی، لکھاری، تجزیہ کاراور مفکرودانشورنے یہ سوال اٹھایاکہ آخراسرائیل کواتنی بڑی امدادپیش کرنے میں امریکی حکومت کے سامنے مقصد کیا ہے؟یایہ کہ جوہتھیاراسرائیل خریدے گا، اسے کن لوگوں پراستعمال کرے گا؟اولاً توکسی نے سوال کیانہیں اوراگرکسی نے ہولے سے یہ سوال کیابھی ہو، تواس بے چارے کوامریکہ میں موجودصہیونی اداروں اور صہیونی کاژکے لیے سرگرم لوگوں کے انتقام کاخطرہ بھی ضرورہوگا؛یہی وجہ ہے کہ امریکی میڈیابھی سوال کی جرأت نہیں کرتا، سیاسی لوگ بھی بزدل ہیں یامصلحتاً خاموش رہتے ہیں ، جولوگ اکیڈمک زندگی گزاررہے ہیں اوروہ اس قسم کے ایشوپرلکھ اوربول سکتے ہیں ، وہ اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ امریکی یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے بھی صہیونی دست رس سے باہرنہیں ہیں ؛بلکہ یہاں بھی وہ کلیدی رول میں ہیں ۔ سو کسی کی ہمت نہیں ہوتی کہ امریکی حکومت کے ذریعے صہیونی مظالم و دہشت گردی کی کھلے عام تاییدواعانت کی مخالفت میں زبان یاقلم کوجنبش دے سکے۔ اس پس منظرمیں اگر ہم عالمِ عرب یامسلم ملکوں پرنظردوڑاتے ہیں ، توفی الجملہ وہاں کے حالات اس اعتبارسے قدرے بہترہیں کہ ان ملکوں میں حکومتوں کی آناکانی اوربے اعتدالی و سفاکیت کے خلاف لکھنے اوربولنے والوں کی ایک بڑی تعدادپائی جاتی ہے۔

مالی امدادمیں اضافے کے اسباب:

     کوئی بھی ملک ہتھیارکی خریدیاہتھیارسازی اسے جمع کرکے رکھنے کے لیے نہیں کرتاہے؛بلکہ لڑائی میں استعمال کے لیے ہی ہتھیارخریدے یابنائے جاتے ہیں ، البتہ کچھ ممالک ایسے ہیں جوہتھیاراس لیے خریدرہے یابنارہے کہ وہ اپنادفاع کرناچاہتے ہیں ، جبکہ کچھ ملکوں کامطمحِ نظریہ ہے کہ وہ ان ہتھیاروں کو دوسروں پرمظالم ڈھانے کے لیے استعمال کریں گے، صہیونی حکومت کا دعوی ہے کہ وہ اپنے چاروں طرف موجوددشمنوں سے مدافعت کے لیے ہتھیارخریدتی ہے، حالاں کہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی وجودکے قیام سے پہلے بھی انھوں نے زہرناکی پھیلانے کاہی کام کیاہے اورجب سے فلسطین پر ان کا غاصبانہ تسلط ہواہے، تب سے ان کے انسانیت کش مظالم توجگ ظاہر ہیں ۔

    ان صہیونیوں نے مغربی ملکوں ، خاص طورسے برطانیہ کی مددسے فلسطینیوں کے خلاف جنگ کی، یہی لوگ دنیابھرسے کھنچ کھنچاکرفلسطین میں یہودی آبادی قائم کرنے اور وہاں کے اصل شہریوں کودربدرکرنے کے لیے آئے، انھوں نے برطانوی مددسے فلسطینی سرزمین پر قبضے کیے، برطا نیہ نے نہ صرف صہیونیوں کودنیاکے مختلف خطوں سے آآکرفلسطین میں آبادہونے کاپرمٹ دیا؛بلکہ اس نے ان کی عسکری تربیت کرنے کے ساتھ انھیں مسلح بھی کیا، جبکہ دوسری جانب اس نے فلسطینیوں کوکمزورکرنے اورانھیں نہتاکرنے کی ہرممکن کوشش کی، حتی کہ جب برطانیہ فلسطین کوچھوڑکرنکلا، تواس وقت تک صہیونیوں کی شکل میں ایک ایسی طاقت وجودمیں آچکی تھی، جس نے آج تک فلسطین، فلسطینی شہریوں پرظلم و جورکے نہ معلوم کتنے اورکیسے کیسے تجربے کیے اورکررہی ہے۔

اسرائیل کواتنی بڑی امریکی عسکری امدادکوجوازفراہم کرنے کے لیے باقاعدہ توکوئی حتمی دلیل نہیں پیش کی جاتی، البتہ اخباری قیاس آرائیاں کچھ یوں ہیں کہ:

1-اسرائیل کولبنان و فلسطین میں موجودمزاحمتی تحریکوں سے خطرہ ہے اور 2006ء میں لبنان کے ساتھ وہ ایک بڑی جنگ میں ہزیمت کاسامنا بھی کرچکاہے، اسی طرح غزہ میں جاری مسلسل لڑائیوں میں بھی اسے شکست ہی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے امریکہ و اسرائیل کویہ احساس ہوچکاہے کہ عرب مزاحمت کاری شدیدہوچکی ہے اورصہیونیوں کے خلاف لڑنے کے لیے مزاحمت کاروں کے اندر نئے اسالیب، تکنیک اور فکری، دینی و عسکری قوت بڑھ گئی ہے، جس کی وجہ سے عرب مزاحمت کاری صہیونی افواج پربالادست ثابت ہورہی ہے اوراس نے عربوں پراسرائیلی فتوحات کے سلسلے کوروک دیاہے۔

     صہیونی حکومت کے لیے نہ صرف جنوبی لبنان اورغزہ میں مخالفین پرکامیابی حاصل کرنامشکل ہوگیاہے؛بلکہ صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب اسرائیلی افواج کوشمالی فلسطین سے حزب اللہ کے سپاہیوں کوباہرکرنے کی ٹریننگ دینی پڑرہی ہے، اسی طرح اس علاقے میں بسنے والے یہودیوں کویہ تربیت دی جارہی ہے کہ اگر حزب اللہ نے اچانک دھاوابول دیاتووہ آبادی کوکیسے خالی کرسکتے ہیں ، صہیونی حکومت کایہ دعویٰ ہے کہ اس کے عسکری ماہرین اورمیڈیااہلکاروں کے تجزیے کے مطابق یہودی آبادی کاداخلی حصہ لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، جواس کے لیے پریشان کن ہے۔ اسی وجہ سے امریکیوں اورصہیونیوں کاایساخیال ہے کہ اسرائیل کواپنی دفاعی قوت مضبوط کرنے، عسکری منصوبہ بندی، ممکنہ پیش آنے والی جنگوں میں بارودی سرنگوں اوردشمنوں کے لڑاکامیزائلوں کاجواب دینے کی صلاحیت پیداکرنے کے لیے مزید مالی مددکی ضرورت ہے۔

2-صہیونی مبصرین کامانناہے کہ امریکہ کے ساتھ حالیہ ایرانی نیوکلیئرمعاہدے نے صہیونی حکومت کے سیکورٹی خطرات کوبڑھادیاہے، ایران کے ساتھ معاہدے کی مدت صرف دس سال ہے اور ممکن ہے کہ ایران معاہدے کی مدت ختم ہوتے ہی یورینیم کی افزائش کاسابقہ پروگرام شروع کردے، اسی طرح حالیہ معاہدے کی وجہ سے ایران عرب مزاحمتی تحریکوں کومالی، اسلحہ جاتی اور عسکری مددبھی دے سکتاہے، سابقہ پابندیاں ختم ہوجانے کی وجہ سے ایران کی آمدنی بہتر ہونے لگی ہے اور وہ مزاحمت کاروں کی معاونت اوراس کے میزائل سسٹم کوفروغ دینے میں مصروف ہے، جس سے صہیونی حکومت کوکافی خطرہ لاحق ہوگیاہے۔

3-امریکہ اور بہت سے عرب ملکوں کے مابین ہتھیاروں کاکاروبارہے، یہ بھی صحیح ہے کہ ان ملکوں میں سے بعض صہیونی حکومت کے حلیف اور اتحادی بھی ہیں ؛لیکن چوں کہ ان ملکوں کاسیاسی ڈھانچہ مضبوط نہیں ہے؛اس لیے وہ کسی بھی وقت موقف بدل سکتے ہیں اورکوئی بعیدنہیں کہ وہ امریکی ہتھیارایسے نئے لوگوں کے ہاتھ لگ جائیں ، جو صہیونی حکومت کے لیے خطرہ ثابت ہوں اوروہاں کے سیاسی نظام پرحاوی ہوجائیں ۔

     یہ وہ لچردلیلیں اورخیالی استدلالات ہیں ، جن سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اسرائیل کواپناوجودبچائے رکھنے کے لیے مالی اور عسکری امدادکی ضرورت ہے اوراسی وجہ سے امریکہ اسے سالانہ اربوں ڈالراورجدیدترین ہتھیارسپلائی کرتاہے۔

دہشت گردکون ہے؟

    1948ء میں صہیونیوں نے جو فلسطینی شہریوں کوان کے آبائی وطن سے نکالا، اس میں مغربی ممالک خاص طورسے امریکہ کاکلیدی رول رہا؛کیوں کہ اسی نے1947میں اقوام متحدہ کے ممبرممالک کوفلسطین کی تقسیم کے حق میں ووٹ کرنے پردباؤڈالاتھا، حالیہ یواین جنرل اسمبلی میں امریکی صدرباراک اوباما میں یہ کہتے سنے گئے کہ اسرائیل فلسطین کوہمیشہ اپنے قبضے میں نہیں رکھ سکتااوروہائٹ ہاؤس سے ایک بیان یہ جاری کیاگیاکہ عنقریب امریکی صدراسرائیلی وزیراعظم نتن یاہوسے مل کرفلسطین کے مسئلے پرکھل کربات کریں گے، مگرفی الحقیقت یہ سب بکواس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے، عالمِ اسلام اورعالمی برادری کوالوبنانے کاایک سلسلہ ہے اوربس!ماضی میں امریکہ نے ہی فلسطینی مہاجرین کی ان کے گھروں اوروطن واپسی کے تعلق سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے قراردادنمبر194کوبے اثرکرنے میں اہم کرداراداکیااوراسے صہیونیوں کے اختیاروارادہ پر معلق کردیا گیا۔ انہی مغربی ملکوں (امریکہ، برطانیہ، فرانس وغیرہ)نے 1948ء کی عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کاپلڑابھاری دیکھ کرانھیں ایک ماہ کے لیے جنگ بندی پرمجبورکیا اورپھراس معاہدے کاغلط استعمال کرتے ہوئے صہیونیوں کے لیے ماحول سازگاربنادیا، نتیجتاً دوبارہ جنگ شروع ہوتے ہی عربی فوجیں پست ہوگئیں اورانھیں شرمناسک شکست سے دوچارہوناپڑا۔ 1956میں اسرائیل نے برطانیہ وفرانس کواتحادی بناکرمصرپرچڑھائی کردی، حالاں کہ بظاہر ا س کی کوئی وجہ نہیں تھی، مصر صرف نہرِ سوئس پراپناقبضہ برقراررکھناچاہتاتھا، جواس کا حق تھا؛لیکن صہیونیوں نے اس پر ہلہ بولااورجزیرہ نمائے سیناپرقبضہ کرلیا۔ 1948ء سے1967ء کے دوران صہیونی فوج نے سیزفائرکی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلسل مصر، اردن، شام اور لبنان کی سرحدوں پرگولی باری کی، کبھی بھی ان ملکوں کی افواج نے اقدام نہیں کیا؛ بلکہ اقدام ہمیشہ اسرائیلی فوج کی طرف سے ہوا۔ اس پورے عرصے میں فرانس نے اسرائیل کوایٹمی ری ایکٹرسے مالامال کردیا، جسے اس نے جوہری بم بنانے میں استعمال کیا، آج اسرائیل عالمِ اسلامی و عربی کے سینے پرایک ناسورکی شکل اختیارکرچکاہے۔

     1967ء میں اسرائیل نے عربوں کونہایت ہی شرمناک اور دوررس شکست دی، جس کے نتیجے میں پوراخطہ تاہنوزبدامنی اورجنگوں کے تھپیڑوں کے بیچ ہچکولے کھارہاہے، اس جنگ میں اسرائیل نے مغربی ملکوں بطورخاص فرانس کی عسکری مددسے بھرپورفائدہ اٹھایا، اس وقت اسرائیل کوہتھیارسپلائی کرنے والا دوسراملک امریکہ تھااورآج بھی وہ اسے اپنے نئے نئے ہتھیاروں سے لیس کررہاہے تاکہ وہ عربوں پرظلم وجورکی نئی تاریخیں رقم کرے۔

     جب سے فلسطین کی سرزمین پراسرائیل کاقیام عمل میں آیاہے، تب سے ہمیشہ عربوں پرجنگ تھوپنے اور معصوم شہریوں کوخاک و خون میں تڑپانے، انھیں بے گھر اورجلاوطن کرنے کاکام اسرائیل نے کیاہے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ1973ء میں اسرائیل پرعربوں نے حملہ کیاتھا، یہ صحیح ہے؛لیکن یہ حملہ اسرائیل پر زیادتی کرنے کے لیے نہیں ؛بلکہ اس کے ذریعے سے1967ء میں ناحق قبضہ کی گئی فلسطینی سرزمین کوواگذارکرانے کے لیے تھا۔ صہیونیوں نے اس موقع پر فلسطین، لبنان، اردن، مصراورشام کے معصوم شہریوں کوقتل کیا، سویلین طیاروں کومارگرایا، پانی کے چشمے اورکنویں تباہ کیے، کارخانے اوربجلی اسٹیشنوں کو برباد کیا، وہاں کی فصلوں اور کھیتیوں کوجلاڈالا، مقاماتِ مقدسہ کی بے حرمتی کی اوردلدوزوہلاکت ناک کارروائیاں انجام دیں ۔

     فلسطین پرناحق قبضہ بذاتِ خودایک دہشت گردانہ عمل ہے اوریہ دہشت گردی کی متعینہ تعریف کا مصداق بھی ہے؛کیوں کہ اسرائیل اپنے سیاسی مقاصدکے حصول کے لیے خطے کے معصوم وبے گناہ شہریوں پرمشقِ ستم کرتاہے، دہشت پھیلاتاہے، لوگوں کے گھروں کواجاڑتاہے، گاؤں کوتباہ و برباد کرتا اور شہریوں کوپابندِ سلاسل کرتاہے اور اس کی یہ سب وحشیانہ سرگرمیاں امریکی ہتھیاروں کے بل بوتے انجام پارہی ہیں ، اگرامریکی ہتھیاروں کے ذریعے اس کی مسلسل امدادواعانت نہ کی جاتی، تواسرائیل کبروغرور، ظلم و جبراوروحشت و درندگی کی اس حدتک جانے کی جرأت نہ کرتا۔ لہذابالواسطہ طورپراس دہشت گردی میں امریکہ بھی برابرکاشریک ہے۔

امریکی دہشت گردی:

     امریکیوں کواچھی طرح معلوم ہے کہ اسرائیل فلسطین میں کس طرح ظلم، قتل و غارت گری اور وہاں کے اصل شہریوں کوبے خانماں کررہاہے، اس کے باوجودوہ اسرائیل کواس لیے ہتھیارفراہم کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے خونیں جرائم میں اورزیادہ بے باک ہوجائے اورعربوں کے لیے ایک دائمی خطرہ بنارہے۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکی ڈالراورہتھیاروں نے عربوں کی گردنیں اسرائیل کے ہاتھ میں دے دی ہیں ، جس کی وجہ سے وہ انھیں ذلیل و رسوا کرتاہے اورمسلسل احساسِ ذلت و شکست خوردگی سے دوچارکرکے رکھاہواہے۔ یہ سب کرنے کے بعدبھی پوری بے شرمی اور بے حسی کے ساتھ امریکہ دنیامیں دہشت گردی کے خاتمہ کاڈھنڈوڑاپیٹتاہے اورعالمی اسٹیج پرمنافقانہ رویہ اختیارکرتے ہوئے فلسطین کے حق میں بولنے کاناٹک کرتاہے۔

   ہم صرف گزشتہ پندرہ سولہ سالوں کاجائزہ لیں تومعلوم ہوگاکہ خودامریکہ دنیاکاسب سے بڑادہشت گردملک ہے، اسی نے عراق کوتباہ برباد کیا، افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی، شام، لیبیا، مصر اوریمن میں وغیرہ میں فسادبرپاکیایاکروایااورعرب دنیاکے طول و عرض میں اپنے خونیں پنجے گاڑنے کی کوشش کرتارہاہے۔ جب امریکی سیاست داں ، دانشوران یامیڈیادوسروں کے خلاف زبان وقلم کااستعمال کرتے ہیں ، توانھیں خوداپنے اعمال پربھی غور و فکر کرنا چاہیے، آخروہ عربوں سے بھلائی وخیرخواہی کی امید بھی کیسے کرسکتے ہیں ، جبکہ انھوں نے ہمیشہ یاتوراست طریقے پریاصہیونیوں کے واسطے سے عربوں پرظلم ہی کیاہے؟

      امریکہ کے ذریعے اسرائیل کی مالی وعسکری فنڈنگ باشعورعربوں کے سامنے اس عظیم تاریخی حقیقت کوالم نشرح کررہی ہے اوروہ یہ مان رہے ہیں (جوحقیقت ہے) کہ اگراسرائیل کواس حد تک امریکی سپورٹ حاصل نہ ہوتا، تووہ کبھی  فلسطینیوں پراس حدتک مظالم نہیں ڈھاسکتاتھااوریہ بھی حقیقت ہے کہ ہر عمل کاردعمل ہوتا ہے؛ لہذاامریکیوں کوکسی ایسے انقلاب سے خبرداررہناچاہیے، جوان کی منافقتوں کوبے نقاب کرکے رہے گا، انھیں یہ سوچناچاہیے کہ اگروہ اوران کاملک امن و سلامتی کی فضامیں ترقیات کے منازل طے کرناچاہتے ہیں ، توکیادوسرے ملک اوروہاں کے شہریوں کایہ حق نہیں ہے کہ وہ مامون و پرسکون زندگی جی سکیں؟

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close