آج کا کالم

دہلی اور مرکزی حکومت کی کھینچا تانی  بڑھی

رویش کمار

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے دو بڑے افسروں سمیت پانچ افراد کو سی بی آئی نے گرفتار کر لیا ہے. ان میں وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری راجیندر کمار اور ڈپٹی سیکرٹری ترون شرما شامل ہیں. سی بی آئی نے راجیندر کمار کو 50 کروڑ کے گھوٹالے کا سرغنہ بتایا ہے. راجیندر کمار پر الزام ہے کہ انہوں نے کئی فرنٹ کمپنیاں بنا کر بغیر ٹینڈر سرکاری کانٹریکٹ دیئے، جس سے دہلی حکومت کو کروڑوں کا نقصان ہوا.

اس پورے معاملے کی شروعات گزشتہ سال 15 دسمبر کو ہوئی جب سی بی آئی نے دہلی سیکریٹریٹ میں وزیر اعلی کے دفتر پر چھاپہ مارا تھا اور وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری راجیندر کمار سے متعلق فائلیں ضبط کر لی تھیں. چھاپوں کے بعد اروند کیجریوال نے کہا تھا کہ سی بی آئی نے DDCA سے متعلق فائل کو تلاش کرنے کے لئے ان کے دفتر پر چھاپہ مارا. کیجریوال نے کہا تھا کہ اس فائل کی بنیاد پر وزیر خزانہ ارون جیٹلی پھنس رہے تھے. لیکن بعد میں سی بی آئی نے راجیندر کمار پر بدعنوانی کا الزام لگایا. راجیندر کمار پر اپنے عہدے کے غلط استعمال اور 2007 سے 2014 کے درمیان ایک کمپنی کو ساڑھے نو کروڑ کے ٹینڈر دلوانے کے الزامات میں کیس درج ہوئے. سی بی آئی کے مطابق 2006 میں راجیندر کمار نے دہلی حکومت کو IT solutions اور software دینے کے لئے ایک کمپنی Endeavour Systems Private Ltd بنائی.

سی بی آئی کا الزام ہے کہ راجیندر کمار نے دہلی حکومت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق کاموں کے ٹھیکے Endeavour Systems کو دلوائے. اس کے لئے کمپنی کو کئی پبلک سیکٹر یونٹوں کے پینل میں بھی شامل کیا گیا، تاکہ اسے بغیر ٹینڈر کے سرکاری کام مل سکے.

دہلی کی سیاست میں کب کون سا واقعہ، خبر ہے اور کون سا واقعہ خبر کی آڑ میں پروپیگنڈا اور کھیل، سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے. دہلی میں ہر دوسرے دن دونوں فریقوں کی جانب سے کوئی نہ کوئی معاملہ اٹھتا ہے اور گھمسان مچتا ہے. کبھی رکن اسمبلی گرفتار ہوتا ہے، کبھی وزیر کے خلاف ایف آئی آر ہوتی ہے، کبھی صدر اسمبلی کے پاس کئے ہوئے قانون لوٹا دیتے ہیں، کبھی 21 ممبران اسمبلی کو لے کر آفس آف پرافٹ کا معاملہ آ جاتا ہے، کبھی افسروں کے تبادلے کو لے کر الزام تراشی چلنے لگتی ہے. لیفٹنینٹ گورنر اور وزیر اعلی کے درمیان حقوق کی جنگ اور افسروں کے تبادلے کی خبروں سے ابھی تک یہ یقینی نہیں ہوا ہے کہ یہ حکومت کس طرح چلتی ہے. اچانک دہلی کو کوئی شہر کہنے لگتا ہے کوئی میونسپل کہنے لگتا ہے، کوئی کچھ کہنے لگتا ہے. دونوں فریقوں کی جانب سے خوب دلائل دیے جاتے ہیں، خوب حملے ہوتے ہیں.

ہمارے ساتھی اشیس بھارگو کے مطابق دہلی ہائی کورٹ میں اس وقت دس عرضیاں ہیں. دہلی حکومت نے 2002 کے سی این جی فٹنس گھوٹالے کی جانچ کے لئے ریٹائرڈ جسٹس ایس این اگروال کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیشن بنایا. جسٹس اگروال نے لیفٹنینٹ گورنر کو خط لکھ کر کہا ہے کہ آپ نے اپنے آفس کے عہدے کا وقار گرایا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ آپ مرکزی وزارت داخلہ کے احکامات کے پابند ہیں. جسٹس اگروال کے اس خط کے مطابق لیفٹنینٹ گورنر نے ان کی صدارت میں بنے کمیشن کا تعاون کرنے سے انکار کر دیا. وزارت داخلہ نے دہلی حکومت کے بنائے کمیشن کو قانونی طور پر غیر قانونی قرار دیا تھا. اس طرح کی محاذ آرائی کا واقعہ دہلی، مرکز اور لیفٹنینٹ گورنر کے درمیان عام ہو گیا ہے. دہلی ہائی کورٹ میں دہلی اور لیفٹنینٹ گورنر کے درمیان حقوق کی واضح طور پر لے کر بھی عرضیاں چل رہی ہیں. جمعہ کو دہلی حکومت نے ایسی وضاحت کے لئے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ اس معاملے کو جلد سنا جائے. پیر کو سماعت ہونی تھی مگر جسٹس جے ایس كھیہر نے سماعت سے خود کو الگ کر لیا. اب معاملے کو دوسری بنچ کے پاس بھیجا جائے گا. دہلی حکومت چاہتی ہے کہ ہائی کورٹ کی جگہ سپریم کورٹ میں سماعت ہو کیونکہ وہاں یہ معاملہ کئی ماہ سے زیر التوا ہے جس سے دہلی حکومت کا کام کاج متاثر ہو رہا ہے. آئین کے مطابق جب مرکز اور ریاست کے درمیان تنازع ہوتا ہے تو اس کے تصفیہ کا حق سپریم کورٹ کو ہے نہ کہ ہائی كورٹ کو.

اس ٹکراو پر بے شمار مباحثے میڈیا میں بھی ہو چکے ہیں. عام آدمی پارٹی کے مخالف، سوراج مہم کے کنوینر یوگیندر یادو نے بھی کہا ہے کہ ڈیڑھ سال ہو گئے اس معاملے کو عدالت میں. کچھ بھی نہیں نکلا ہے. کسی نہ کسی کو اسے ختم کرنا ہی ہوگا. امید ہے سپریم کورٹ واضح فیصلہ دے گا جس سے دہلی کے عوام کو پیغام جائے کہ قومی دارالحکومت پر کس کا راج چلتا ہے. کم از کم دونوں کے درمیان اس جنگ کا اختتام ہونا ہی چاہئے.

گزشتہ سال اگست میں دہلی حکومت نے زراعتی زمین کا سرکل ریٹ بڑھا دیا. لیفٹنینٹ گورنر نے دہلی حکومت کو اس پر جوں کا توں رکھنے کا حکم دے دیا. اس فیصلے کے خلاف دو عرضیاں عدالت میں دائر ہو گئیں. تب ہائی کورٹ نے کہا کہ انہیں اس بات کی جانچ کرنی ہوگی کہ اپنے نام سے جاری نوٹیفکیشن پر لیفٹنینٹ گورنر کو دستخط کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں. پھر وزارت داخلہ نے حکم جاری کر دیا کہ دارالحکومت میں نوکرشاہوں کی تقرری کا حق اس کے پاس محفوظ ہے. آئے دن تصادم کی خبریں آ رہی ہیں. ان سب کی جڑ میں اس فیصلہ کا انتظار ہے کہ دہلی میں لیفٹنینٹ گورنر کے حقوق کیا ہیں اور دہلی حکومت کے کیا. کتابوں میں تو لکھا ہے مگر جب ڈیڑھ سال سے اختلافات ہو رہے ہیں تو اس پر وضاحت ضروری ہے. یہی نہیں دہلی اسمبلی کے پاس کئے گئے تین قوانین کے بھی صدر کے یہاں سے بھیج دیئے جانے کی خبر آئی تھی. ظاہر ہے کہ اس بحث میں جو جیتے گا وہ آخری دلیل ہوگی یا جو آئین کی تشریح ہوگی. آئین کی حتمی تشریح کون کرے گا. ترجمان یا پریس کانفرنس سے ہوگی یا ٹی وی کے اینکر سے ہوگی. دونوں طرف سے حملوں میں کوئی کمی نہیں رکھی جا رہی ہے. عام آدمی پارٹی کی جانب سے کبھی وزیر اعظم کی ڈگری کا مسئلہ اچھالا جاتا ہے تو کبھی ان کے وزراء کی ڈگریوں کو لے کر سوال اٹھنے لگتے ہیں.

عام آدمی پارٹی دلیل دیتی ہے کہ پنجاب اور گوا میں اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے. یہ دلیل سیاسی ہے. جب سے مرکز اور دہلی کے درمیان تصادم شروع ہوا ہے تب پنجاب اور گوا انتخابات کی بات بھی نہیں تھی. حقیقت یہ ہے کہ دونوں کے درمیان تصادم ہے. کس وجہ سے اور کس خوف سے ہے یہ سیاق کی بات ہے. اروند کیجریوال پنجاب کے دورے پر ہیں. عام آدمی پارٹی کا دعوی ہے کہ وہاں اسے کامیابی ملنے والی ہے. ان کے جلسوں میں بھیڑ آ رہی ہے اور کوئی سروے ہے جس کی وجہ سے وہ الیکشن جیت سے گئے ہیں. گوا میں بھی سروے نے جتا دیا ہے. بی جے پی کہتی ہے کہ انتخابات ہوئے تو نہیں تو سروے کی کیا معنویت. بی جے پی کا کہنا ہے کہ آئی اے ایس افسر راجیندر کمار کے خلاف کئی سارے معاملات ہیں. کیجریوال بتائیں کہ وہ ایک بدعنوان افسر کو بچانے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں.

دہلی میں مبینہ طور پر اتنے گھوٹالے نکل آئے ہیں کہ وقت کا تقاضا کہتا ہے کہ دہلی کے لئے صحیح لوک پال کی تقرری ہو جانی چاہئے جس کے بارے میں سب بھول گئے ہیں. لوک پال ہوتا تو بدعنوانی کے ان معاملات کی آزادانہ طور پر جاچ کر رہا ہوتا. جب اینٹی کرپشن بیورو سے ہی کام چلانا تھا تو ملک کا اتنا وقت کیوں خراب کیا گیا اور پارلیمنٹ کے پاس قانون کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے.

پیر کو اینٹی کرپشن بیورو نے دہلی کے وزیر برائے آبی وسائل کپل مشرا سے پوچھ گچھ کی. اے سی بی کا کہنا ہے کہ مشرا نے تحقیقات میں تعاون نہیں کیا. کپل مشرا کا کہنا ہے کہ اے سی بی انہیں پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے. کپل مشرا بھی پورے لاؤ لشکر کے ساتھ اے سی بی پہنچے جیسے جنتر منتر گئے ہوں. اس مبینہ ٹینکر گھوٹالے کی جانچ گزشتہ سال کپل مشرا نے ہی کرائی تھی. 400 کروڑ کے مبینہ نقصان کے لئے شیلا دکشت حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا. لیکن تحقیقات کے بعد کارروائی میں تاخیر ہوئی. ٹینکر کمپنی کو بھی نہیں روکا گیا. اے سی بی جاننا چاہتی ہے کہ جانچ کی رپورٹ آنے کے بعد کیوں دبائی گئی. کپل مشرا کا الزام ہے کہ ان سے شیلا دکشت کے کردار کو لے کر ایک بھی سوال نہیں کیا گیا. مشرا نے ٹویٹ کیا کہ ان سے اے سی بی کے چھ افسر پوچھ گچھ کر رہے ہیں. ان کا مقصد مجھے اور اروند کیجریوال کو پھنسانا ہے.

سارے تنازعات سڑک پر نپٹائے جا رہے ہیں. کون صحیح ہے اس کا کوئی مطلب نہیں ہے. بات جب عدالت میں پہنچے گی اور جب فیصلہ آئے گا تبھی پتا چلے گا. ڈیڑھ سال سے یہی فیصلہ آ رہا ہے کہ لیفٹنینٹ گورنر اور دہلی حکومت کے حقوق کیا ہیں. گھمسان شدید ہے دونوں کے درمیان. بی جے پی بمقابلہ عام آدمی پارٹی کے درمیان بنیادی جنگ چلتی ہے. نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے پیر کو کہا کہ دوپہر میں حکم ملا کہ دہلی حکومت کے 9 افسروں کا تبادلہ کر دیا گیا ہے. دو دن میں گیارہ افسروں کا تبادلہ کیا گیا ہے. 18 مئی کو دہلی حکومت نے بھی 11 بیوروکریٹس کے تبادلے کئے تھے، جن میں چھ آئی اے ایس افسر ہیں اور پانچ اہلکار دہلی انڈومان نکوبار جزیرہ سول سروسز کے افسر ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close