آج کا کالم

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا!

ڈاکٹر سلیم خان

’سحر‘عربی زبان میں اس عمل کوکہتےہیں جوخفیہ کاروائی یاہوشیاری اورچالاکی کے عوامل کانتیجہ ہو۔ اس تعریف کے لحاظ سے عصر حاضر کے سب سے بڑے  جادوگرجمہوریت نواز سیاستداں ہیں ۔ جادو کا ماخذلطیف  اور سبب مخفی ہوتا ہے۔اس کی ایک مثال دیکھیں ۔ ابھی حال میں 12 مقامات پر ضمنی انتخابات ہوئے۔ ابتداء میں  9 حلقوں کے نتائج ظاہر ہوے جن میں سے 5 میں بی جے پی نے جیت درج کرائی اور 4 پر ہار گئی اس  طرح یہ فریب دیا گیا کہ اترپردیش کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اسی کے ساتھ راجوری گارڈن میں عآپ کے 10 ہزار ووٹ سے یہ تاثر دیا گیا کہ دہلی کےلوگ کیجریوال سے نالاں ہیں ۔  اس کے بعد تریپورہ کے نتائج آئے جہاں بی جے پی کو صرف 342 ووٹ ملے لیکن وہ خبر  نہ جانےکہاں غائب ہوگئی ۔کیرالہ میں مسلم لیگ کے کنہالی کٹی نے ایک لاکھ 71 ووٹ کے فرق سے کامیابی درج کرائی اور بی جے پی کے ووٹ کا تناسب گھٹ گیا ۔ اس پر مسلمانوں کی سیاسی بے وزنی کا دعویٰ کرنے والوں نے آنکھیں موند لیں ۔ کشمیر میں بھی بی جے پی کی حلیف پی ڈی پی کو شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا لیکن وہ انتخاب بھی بحث کا موضوع نہیں بنا اس لیے کہ برسرِ اقتدار جماعت کی  نااہلی اور کمزوری ظاہر ہوتی  تھی ۔اسے کہتے ہیں ’’ہاتھ کی صفائی اور فریب کی کمائی ‘‘۔

کیرالہ اور کشمیر کے انتخابات الگ الگ معنیٰ میں اہمیت کے حامل ہیں ۔ آج کل سارے ہندوستان میں گائے کا بول بالا ہے ایسے میں انتخاب جیتنے کی خاطر ملاپورم سے بی جے پی کے امیدوار این سری پرکاش نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا کہ وہاپنے رائے دہندگان کو صاف ستھرے اور ایرکنڈیشنڈ مذبح خانوں سےبہترین معیار کا بیف مہیا کرائیں گے۔ وہ صرف غیر قانونی ذبیحہ کے خلاف ہیں ۔ بیف کے اندر چونکہ گائے بھی شامل ہے اس لیے اس بیان سے پارٹی میں ہنگامہ مچ گیا جس کے سبب انہیں صفائی دینی پڑی کہ  وہ گائے کشی کے خلاف پارٹی کی قومی پالیسی کے حامی ہیں ۔ خیر ملاپورم کے رائے دہندگان سمجھ گئے  سری پرکاش اپنے چندہ دہندگان مذبح خانوں کے مالکین کا مفاد بچانے کے لیے میدان میں اترے ہیں اس لیے بغیر پانی پلائے ہی  ان کی گردن پر سیاسی چھری پھیر دی  ۔

کیرالا میں ضمنی انتخاب کی ضرورت مسلم لیگ کے سابق صد رای احمد کے انتقال  کے سبب پیش آئی تھی مگر کشمیر میں انتخاب کی وجہ  بی جے پی تھی ۔ سرینگر حلقۂ انتخاب سے پی ڈی پی کے رکن پارلیمان  طارق حمید قرہ نے مظاہرین پر ہونے والےمظالم کے خلاف بطور احتجاج  استعفیٰ دے دیا تھا۔موجودہ سنگین صورتحال میں وہ  بی جے پی کے ساتھ محبوبہ مفتی کے الحاق سے ناراض ہیں  اس لیے  اس بارپی ڈی پی نےنذیر احمد خان کو اپنا امیدوار بنایا جنہیں فاروق عبداللہ نے 10 ہزار ووٹ سے شکست دے دی۔ سرینگر میں اصل مقابلہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کے درمیان نہیں بلکہ بی جے پی  اور  مظاہرین کے درمیان تھا جو الیکشن کا بائیکاٹ کررہے تھے۔ اس تناظر میں دیکھیں تو پہلے مرحلے میں صرف 7 فیصد پولنگ ہوئی یعنی 93 فیصد عوام نے بی جے پی اور اس کی حلیف کو دھتکار دیا۔ حفاظتی دستوں نے انتخاب کے دوران ۸ مظاہرین کو ہلاک کرکے اپنی دہشت قائم کی اور الیکشن کمیشن نے 38  پولنگ بوتھ پر پھر سے رائے شماری کا اعلان کیا۔ دوسری رائے دہندگی میں 2 فیصد لوگ بھی ووٹ دینے نہیں آئے ۔ 18 ایسے پولنگ بوتھ تھے جن میں ایک بھی ووٹر نہیں آیا اور چار مقامات پر صرف ایک ووٹ پڑا۔ یہ چھتیس گڈھ یا جھارکھنڈ کی دور افتاد ماؤزدہ  پہاڑیوں کا معاملہ نہیں بلکہ صوبے کے دارالخلافہ سرینگر کا ہے۔اسی لیے سابق وزیرداخلہ چدمبرم کو علی الاعلان کہنا پڑا کہ ہندوستان کشمیر کو گنوانے کے دہانے پر ہے۔غیرتمندی کا تقاضہ تھا کہ  چدمبرم پر غیر ذمہ داری کا الزام لگانے کے بجائےبی جے پی صوبائی حکومت سے استعفیٰ دیتی مگر کرسی پرستامیت شاہ سےایسی توقع محال ہے۔

کشمیر کی بگڑتی صورتحال پر مرکزی سرکار تو ٹس سے مس نہیں ہوئی لیکن ہندوتوا نواز چینل سدرشن فرقہ پرستی پھیلاتے ہوئے ’’سنبھل کو کشمیر بنانے کی سازش ، سنبھل کا راون راج اور ہری مندر کا سچ و جامع مسجد کا جھوٹ ‘‘ جیسے عنوانات کے تحت فضا مکدرّ کرنے لگااور بلآخر اس کے مالک سریش چوہانکے کو گرفتار کرکے عدالت میں حاضر کردیا گیا ۔ سریش کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں اس لیے کہ نومبر2016 میں اس پر اپنے عملے کیایک سابق خاتون کی عصمت دری کا مقدمہ عدالت میں درج ہے۔ اکھلیش یادو جس چوہانکے کا بال بیکا نہ کرسکے اس کو گرفتار کرکے یوگی نے سب کو چونکا دیا لیکن سریش پر یہ سنگین الزام لگانے والی  خاتون کے حق میں ہمدردی  کےدو بول نہیں نکالے ۔  اس کے بعد نوئیڈا کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وزیراعلیٰ کی قائم کردہ ہندو یوا واہنی کے انکت چوہان نے اپنی گاڑی سے امرناتھ جھا کی موٹر سائیکل کو روند دیا اور دور تک گھسیٹتی چلی گئی ۔

واہنی کے  گرفتار جنرل سکریڑی انکت  سے پلہ جھاڑتے ہوئے مقامی صدرللت سنگھ چوہان نے اعلان کردیا کہ انکت کا واہنی سے کوئی تعلق نہیں ہےجبکہ اس دعویٰ کے خلاف دستاویز موجود ہے گاڑی پر جلی حرفوں میں یووا واہنی کا نام لکھا ہے۔میرٹھ میں نیرج شرما پنچالی نے اپنی تصویر سمیت پوسٹر لگا دیئے کہ یوپی میں رہنا ہے تو یوگی یوگی کہنا ہوگا۔  اس پر یوا واہنی کے صوبائی صدرنے دعویٰ کیا کہ پنچالی کو غبن کے الزام میں ایک ماہ قبل ضلعی ذمہ داری سے ہٹا دیا گیا اس لیے وہ تنظیم کو بدنام کرنے کے لیے یہ حرکتیں کررہا ہے۔ ان واقعات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے ہندوتوا کے نام کیسے غیرسماجی، بدکردار اور بدعنوان لوگ ہنگامہ مچائے ہوئے ہیں لیکن وہ سب وزیراعلیٰ کو نظر نہیں آتے ان پر بیان دینے کے بجائے وہ مسلم خواتین سے ہمدردی کا ڈھونگ رچا رہے ہیں ۔

سابق وزیراعظم  پر شائع ہونے والی کتاب’’ دوٹوک‘‘ کا اجراء کرتے ہوئے یوگی جی نے کہا ’’ دروپدی کی بے لباسی کے وقت سارے لوگ خاموش   تماشائی بنے رہے۔ جو لوگ خاموش تھے وہ بھی اس جرم میں برابر کے شریک تھے ۔ اسی طرح جو تین طلاق پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں وہ بھی برابر کے مجرم ہیں ۔ یوگی نے مہابھارت کی تاریخ یاددلا کر سارا مسئلہ حل کردیا ۔  بیچاریدروپدی کے پانچ شوہر تھے اور وہ سب اسے جوے میں ہار گئے ۔ یہ ہارنے والے کورو نہیں پانڈو تھے جن کا بڑا احترام کیا جاتا ہے۔ اس سے ظاہر  ہوتاہے کہ ہندو مذہب عورت کا کیا مقام ہے؟ اتفاق سے اس تنازع میں کوئی مسلمان نہیں تھا بلکہ دونوں فریق ہندو تھے اور خاموش رہنے والوں میں گرو درونا چاریہ بھی شامل  تھے جسے ہندوتوادی  پرم پوجیہ کے لقب سے یاد کرتے ہیں ۔ یوگی جی کو اپنے اباواجداد کے نقش قدم پر چلنے والے سیاستدانوں کی خاموشی پر تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ اس پراچین  پرمپرا سے بغاوت کا پاپ دوسروں سے نہیں  خود ان سے ہورہا ہے۔

یوگی جی نے یکساں سول کوڈ پر چندرشیکھر کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اگر جرم اور سزا سب کے لیے ایک سے ہیں تو نکاح اور دیگر سماجی امور  کے قوانین و ضابطوں میں بھی یکسانیت ہونی چاہیے۔ یوگی جی کو شاید نہیں معلوم کہ نکاح و طلاق تو دور اس ملک میں ان کی چہیتی گئو ماتا کے تعلق سے بھی یکساں قانون نہیں ہے ۔ کہیں پر  اس کی پوجا کی جاتی ہے اور کہیں بی جے پی کی صوبائی حکومت کے باوجود  اس کے  ذبیحہ کی اجازت  ہے۔ کسی صوبے گئوکشی کی سزا پانچ سال تو کہیں عمر قید ہے۔  کوئی گوشت رکھنے والے کو قابل گردن زدنی قراردیتا ہے تو کوئی دیگر صوبوں سے بیف برآمد کرکے اپنے رائے دہندگان کی خوشنودی حاصل  کرتا ہے ۔ سنگھ  چالک موہن بھاگوت خود تسلیم کرچکے ہیں کہ قومی سطح پر گئوکشی پر مکمل پابندی مشکل ہے۔

مسلم خواتین کی حالتِ زار پر مگر مچھ کےآنسو بہانے والے وزیراعلیٰ کو پہلے ان خواتین کی فکر کرنی چاہیے جنہوں نے اپنا قیمتی ووٹ دے کر ان کی پارٹی کو کامیاب کیا ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے جائزہ شاہد ہے کہ ہندوستان میں مسلم خواتین کی حالت دیگر مذاہب کی عورتوں سے بہتر ہے۔  شادی شدہ مسلم خواتین کا تناسب ہندو اور دیگر  خواتین سے اچھا ہے۔ بیوہ خواتین کا تناسب بھی کم ہے۔ مسلم بیواوں کو منحوس سمجھ کر ورنداون کے دھرم شالاوں میں نہیں چھوڑا جاتا بلکہ  نکاح ثانی کی ترغیب دی جاتی ہے۔  طلاق کی شرح مسلمانوں میں ہندووں کی بہ نسبت زیادہ ضرور ہے مگر چونکہ ہندووں کے بالمقابل مسلمانوں کی آبادی کم ہے اس لیے 9 لاکھ دس ہزار طلاق شدہ خواتین میں جہاں دولاکھ دس ہزار مسلم ہیں وہیں 5 لاکھ ہندو خواتین ہیں یعنی تقریباً ڈھائی گنا ۔ اسلام میں جہاں مردوں کو طلاق کا حق حاصل ہے وہیں خواتین کو خلع کے حق سے بھی سرفراز کیا گیا ۔ دارالقضاء کے ایک قاضی نے جو پچھلے 15 سالوں سے نکاح و طلاق کے تنازعات چکارہے ہیں معروف امریکی دانشور ابوصالح شریف کو بتایا کہ اس عرصے میں انہوں نے169 معاملات طے کئے جن میں 130 خلع کے تھے21 معمول کے مطابق طلاق تھی اور صرف 9  مرتبہ تین  طلاق کے معاملہ پیش آیا  تھا جس پر لوگوں نے آسمان سرپر اٹھایا ہوا ہے ۔

وطن عزیز میں طلاق شدہ خواتین سے زیادہ سنگین مسئلہ بغیر طلاق کے بے یارومددگارمعلق چھوڑ دی جانے والی عورتوں کا ہے کہ وہ دوسری شادی کے حق محروم انہیں جسودھا بین کی ماننداپنے شوہر نامدار سے ملنے کیلئے 43 سالوں سے ایک فون کی منتظر رہنا پڑتا ہے ۔ مردم شماری کے مطابق ملک میں ایسی خواتین کی تعداد 23 لاکھ یعنی طلاق شدہ خواتین سے دوگنا  ہے۔ ان میں سے 20 لاکھ کا تعلق ہندو سماج سے ہےجبکہ 8ء2  لاکھ مسلمان اور 90 ہزار عیسائی ہیں ۔ ہندو معاشرے میں چونکہ شادی کے وقت  خواتین کو پرایا دھن سمجھ کررخصت کردیا جاتا ہے اس لیے وہ نہایت کسمپرسی کی زندگی گذارتی ہیں ۔  ان کی حالت زار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جسودھا بین نے جب پاسپورٹ کے لیے درخواست دی تو اسے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ ان کے پاس شادی کا حلف نامہ نہیں ہے۔ اس طرح اپنی اہلیہ کو پاسپورٹ  سے محروم رکھنے کاجرم  خود وزیراعظم سے سرزد ہوگیا۔ دیکھنا یہ ہے کیا یوگی جی اپنے رہنما  کے خلاف لب کشائی کی ہمت جٹائیں گے  یا   اپنے پروچن کو بھول کرگرودروناچاریہ کی پرمپرا نبھائیں گے؟

ملک میں خواتین پر ہونے والے مظالم کاا ندازہ لگانے کے لیے راجدھانی دہلی کا ایک چونکانے والا واقعہ ملاحظہ فرمائیں ۔ دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے دس سالہ بچی پر جنسی دست درازی کے الزام میں خاتون تفتیشی پولس افسر کے خلاف  شکایت درج کرنے کا حکم دیا۔ یہ اندوہناک حرکت  جھوٹا ثبوت مہیا کرنے کی غرض سے کی گئی تھی۔  دہلی کے امروہار علاقہ میں سرکاری اسکول  کی طالبہ نے شکایت کی اس کے استاد اس کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ آگے چل کربارسوخ  استاد کو ضمانت پر رہا کردیا  گیااور خاتون افسر نےلڑکی کو مارپیٹ کراس سے کورے کاغذ پر دستخط لے لیےجس میں لڑکی اور اس کی والدہ کی جانب  یہ جھوٹا الزام لگا دیا گیا کہ لڑکی  والد نے ہی  اس پر دست درازی کی ۔  اس کے لیے بیجا شواہد جمع کرنے کی غرض سے سفاک پولس افسر نے بچی کے ساتھ جو رویہ  اختیار کیا وہ ناقابلِ بیان ہے۔ عدالت نے استاد کی ضمانت منسوخ کردی اور پولس افسر کو ماخوذ کیا۔

اس واقعہ میں معصوم طالبہ کی عمر دیکھیں ۔ ایک زانی کو بچانے کے لیے اس کے باپ  پر لگائے جانے والے بیجا الزام پر نظر ڈالیں  اور شواہد حاصل کرنے کے لئے اختیار کیا جانے والے طر یقے پر غور کریں ۔ حیرت کی بات ہے کہ ملک کی راجدھانی کے اندر  اس ظلم کا ارتکاب  ایک ایسے پولس افسر سے سرزد ہورہا ہے جو خود عورت ہے ۔ افسوس کہ ہمارے سیاستداں خواتین پر ہونے والے مظالم کو ختم کرنے  کے بجائے اس پر سیاسی روٹیاں سینکتے نظر آتے ہیں ۔ زر خرید ذرائع ابلاغ اپنے آقاوں کے اشارے پر نت نئے تماشے لگاتا ہے اور اپنے جادو کے زور سے عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹانے میں مصروفِ عمل  رہتا ہے۔ خواتین کی بابت مہارشٹر کا شمار ملک کی ترقی یافتہ ریاستوں میں ہوتا تھالیکن جب سے ہندوتواوادیوں کا زور بڑھا ہے حالت بدل گئی ہے۔ حالیہ جائزے کے مطابق  صوبے میں مردوں کے مقابلے خواتین کاتناسب ہزار کے مقابلے 899 پر پہنچ گیا ہے جو قابل تشویش ہے۔

آبادی کے تناسب میں دس فیصد سے زیادہ کےاس فرق کا بنیادی سبب مادرِ حمل کے اندر لڑکیوں کا بے مہار قتل   ہے۔خواتین کی فلاح بہبود کا کام کرنے والی ایڈوکیٹ ورشا دیشپانڈے کے مطابق موجودہ حکومت لڑکیوں کی جانب توجہ نہیں دیتی۔ سیاسی رہنما صرف ’’ بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو ‘‘ کے بلند بانگ نعرے لگانے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔  حکومتی ادارے سونوگرافی کی مشینوں کی کمی کا شکوہ کرکےمشین بنانے والے صنعتکاروں اور نجی ڈاکٹروں کی مدد کررہے ہیں ۔ دوسال قبل صرف ۸ ضلعوں میں جنسی آبادی کا توازن بگڑا ہواتھا اب یہ وباء 16 ضلعوں تک پھیل گئی ہے۔ حکومت نے ان ضلعوں کیلئے ’’بیٹی بچاو اور بیٹی پڑھاو‘‘ اسکیم کے تحت 16 کروڈ کی رقم مختص تو کی لیکن اس عرصہ میں نگرانی کرنے والی کمیٹی ایک میٹنگ بھی نہیں بلائی  جو اس کی عدم سنجیدگی کا غماز ہے۔ گزشتہ ماہ خرداپور میں وقوع پذیر ہونے والے سانحہ کے بعد محترمہ دیشپانڈے نے وزیر اعلیٰ دیویندر فردنویس سے ملاقات کرکے غیر سرکاری اداروں اور سماجی کارکنان کو طاقتور بنانے کا مطالبہ کیا مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

ورشادیشپانڈے کے مطابق اگر حکومت سنجیدگی اختیار نہیں کرے گی تو’’ بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو‘‘  نعرہ صدا بہ صحرا ثابت ہوگا لیکن  بدقسمتی سے دہلی سے لے کر اترپردیش تک اور آسام سے لے کر مہاراشٹر تک رہنماوں کو سیاسی بازی گری کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے اس لیے یہ لوگ اٹھتے بیٹھتے تین طلاق کا رونا روتے رہتے ہیں ۔ اپنی اس جادوگری سے وہ خود اپنے سماج کی خواتین کے مسائل سے توجہ ہٹاکران کے جائز حقوق سلب کرنے کا جرم بھی کرتے ہیں اور ذرائع ابلاغ  سونو نگم جیسوں کے بیانات اچھال کر ان کی مدد کرتا ہے۔ معروف لغت المنجدکے اندر سحرکے مفہوم میں جھوٹ کوسچ بنا کر دکھانا، حیلہ سازی کرنا، فساد کرنا،دھوکا دینا ، فریفتہ کرنا، کسی کا دل لبھانا،چاندی پر سونے کی ملمع سازی  کرنا بھی شامل ہے۔ ان جامع   صفات کے تناظر میں  قومی  ذرائع  ابلاغ  کوسیاستدانوں پر سبقت حاصل ہے۔  وہ مذکورہ بالا کارستانیاں اس  ڈھٹائی اور صفائی سے انجام دیتا ہےکہ ٹیلیویژن کےناظرین   یا اخبارات کے قارئین کو پتہ ہی نہیں چلتا ؎

ہیں کواکب کچھ نظر آتےہیں کچھ

  دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. سچائی وصداقت پر مبنی یہ کالم ہے اسطرح کے تحقیقاتی و تجزیاتی مضامین کی بے حد پذیرائی ھونی چاھئے

متعلقہ

Close