آج کا کالم

دیر لگی آنے میں ان کو شکر ہے پھر بھی آئے تو

وزیر اعظم  کو یہ بات جان لینا  چاہیے کہ اسلام کی تعلیمات صرف ریڈیو پر نشر کرنے کے لیے نہیں بلکہ  برتنے کے لیے ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر سلیم خان

مودی جی کا تازہ  من کی بات سن کر بے ساختہ  ۱۹۸۳ ؁ کی فلم وجئے پتھ کا نغمہ یاد آگیا لیکن غور کرنے پر پتہ  چلاعندلیب شادانی کی غزل کا ہر شعر  معمولی ترمیم کے بعد مودی جی اور ان تقریر پر صادق آتا ہے۔ اس ماہ مودی جی اپنی حالیہ مدتِ کار کا آخری سال شروع کرنے جارہے ہیں۔اس بات کا قوی امکان ہے کہ آئندہ سال رمضان کی آمد سے قبل وہ اپنی لٹیا کو ڈوبنے  سے بچانے میں اس طرح ہاتھ پیر ماررہے ہوں کہ انہوں ہوش ہی  نہ رہے کہ رمضان کب آرہا ہے؟ اور ایک بار الیکشن ہار گئے تو نہ من کی بات نہ دھن کی بات۔ ویسے مودی جی کے من کی بات پر سب سے اچھا تبصرہ راہل گاندھی نے دہلی کے جن آکروش ریلی میں کیا۔ وہ بولے جو لوگ من کی بات کرتے ہیں وہ کام کی بات نہیں کرتے۔ ویسےگزشتہ چار سالوں کے اندر  باتوں کے علاوہ ہوا بھی کیا ہے؟  کام کی بات بھی  بہت ہوئی لیکن کوئی  کام نہیں ہوا۔ راہل گاندھی ملک رائے دہندگان سے فی الحال یہ کہہ رہے ہیں ؎

نادانی اور مجبوری میں یارو کچھ تو فرق کرو 
اک بے بس انسان کرے کیا ووٹ اگر دے  آئے تو

مودی جی نے پچھلے سال بھی رمضان کا پیغام دیا تھا مگر ان سے  قدرے تاخیر ہوگئی تھی انہوں مئی کے اواخر میں ’من کی بات ‘ کے دوران  کہا تھا ’’آج جب میں آپ سے بات کر رہا ہوں تب، رمضان کا مقدس مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ رمضان کے مقدس مہینے کی آمد پر، میں ہندوستان اور دنیا بھر کے لوگوں کو، بالخصوص مسلم کمیونٹی کو، اس مقدس مہینے کی پرخلوص مبارکباد دیتا ہوں۔ رمضان میں عبادتوں، انکساری اور انسان دوستی کو بہت اہمیت دی جاتی ہے”۔ ویسے دین  اسلام میں  ان اقدار کا تعلق کسی ایک ماہ تک مخصوص  سےنہیں ہے لیکن رمضان میں اس کی یاددہانی ضرور کرائی جاتی ہے اور روزوں کے ذریعہ عملی تربیت کا اہتمام  بھی ہوجاتا ہے۔ وزیراعظم نے فخریہ انداز میں کہا تھا کہ ’’ہم ہندوستانی بہت خوش قسمت ہیں کہ ہمارے باپ دادا نے ایسی روایتیں قائم کی ہیں کہ آج ہندوستان اس بات کا فخر کر سکتا ہے، ہم سوا سو کروڑ باشندے اس بات پر فخر کر سکتے ہیں کہ دنیا کے تمام مذاہب کے لوگ ہندوستان میں موجود ہیں۔ تمام مذاہب، فرقے، نظریے اور روایتیں امن و سکون، اتحاد اور خیر سگالی کا پیغام دیتے ہیں ‘‘۔

وزیر اعظم کایہ دعویٰ  اگر درست ہے تو این ڈی ٹی وی کے جائزے میں یہ بات کیوں سامنے آتی ہے گزشتہ پانچ سالوں کے اندر وطن عزیز میں نفرت انگیز تقاریر میں ۵۰۰ فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس  کارِ شرمیں بڑے پیمانے پر ان کی اپنی جماعت کے رہنما ملوث ہیں۔ کیا انہیں  امن و سکون اور خیر سگالی پر فخر کے بجائے ندامت ہے؟ وزیراعظم  کواگر اپنے پرکھوں کی قائم کردہ روایات کا اتنا پاس و لحاظ ہے تو وہ  اپنی جماعت کے لوگوں کی زبان پر لگام  کیوں نہیں لگاتے بالیان اور پراچی جیسے لوگوں کو عدالت چھڑانے کی کوشش کیوں کی جاتی ہے؟ مودی جی تریپورہ کے اندر اوٹ پٹانگ بیانات دینے والے وزیراعلیٰ بپلب داس کوکان اینٹھنے کی خاطر امپھال سے دہلی طلب کرتے ہیں مگر لکھنو میں بیٹھے یوگی  جی سے نہیں پوچھتے کہ تم نے  بچوں کے مسیحا ڈاکٹر کفیل کو کس جرم میں جیل کے  میں ڈال رکھا تھا؟ ۶۳ سالہ بی آرڈی کالج کے پرنسپل ڈاکٹرراجیو مشرا کو  جو سانحہ کے وقت دہلی میں تھے جیل میں کیوں ٹھونس دیا تھا۔ ان کی اہلیہ ڈاکٹر پورنیما شکلا کو جو کہ کالج کی ملازم بھی نہیں ہیں  کیوں پابند ِ سلاسل کیا گیا۔ ڈاکتر کفیل کو تو خیر ضمانت مل گئی  لیکن ان دونوں بزرگوں کو ضمانت سے بھی کیوں  محروم رکھا گیا۔  م مودی جی جو بھی کہیں لیکن حقیقت وہی ہے جو شاعر کہتا ہے؎

سنی سنائی بات نہیں یہ اپنے اوپر بیتی ہے

  بے بس ہوجاتی ہے عدالتنفرت  آگ لگائے تو

ایک طرف تو یہ ناانصافی ہورہی ہے اور دوسری جانب وزیراعظم ارشاد فرما رہے ہیں ’’پیغمبر صاحب علم اور ہمدردی میں یقین رکھتے تھے۔ انہیں کسی بات کا غرور نہیں تھا۔ وہ کہتے تھے کہ انا ہی علم کو شکست دیتا رہتا ہے‘‘۔ کیا انسانی ہمدردی کا یہ تقاضہ نہیں ہے کہ ڈاکٹر کفیل اور ڈاکٹرمشرا کو ظلم جبر سے نجات دلائی جائے۔ وہ اپنے وزیراعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ سے ہندوستان بھر میں تقریریں تو کرواتے ہیں لیکن ان سے یہ نہیں کہتے کہ اپنی انا کے نشے میں ظلم وستم کا جو بازار گرم رکھا ہے اس سے باز آجائیں۔ مودی جی نے اس موقع پر نبی کریم ؐ کی تعلیمات  کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’’ ان کی زندگی سے سبق لے کر مساوات اور بھائی چارے کے راستے پر چلنا تمام کی ذمہ داری بنتی ہے‘‘۔ کیا مساوات اور بھائی چارہ یہ ہے کہ اگر کوئی  اسکول بس ریل گاڑی کے حادثے کا شکار ہوجائے تو ٹرافک پولس اور ریلوے کراسنگ کے عملہ کو چھوڑ کر اسکول  کی پرنسپل پرناقابلِ ضمانت  دفعات کے تحت  مقدمات  ٹھونک دیئے جائیں اس لیے کہ  اس  خاتون کا نام جہان خان ہے۔

وزیر اعظم  کو یہ بات جان لینا  چاہیے کہ اسلام کی تعلیمات صرف ریڈیو پر نشر کرنے کے لیے نہیں بلکہ  برتنے کے لیے ہوتی ہیں۔ انہوں یہ تو یاد دلا دیا کہ ’’ایک بار پیغمبر ؐصاحب سے  کسی نے پوچھا اسلام میں کون سا کام سب سے بہتر ہے؟پیغمبر محمد ؐنے جواب دیا’’ کسی غریب اور ضرورت مند کو کھانا کھلانا اور سبھی سے محبت و شفقت سے ملنا، چاہے آپ انہیں جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں‘‘۔ کاش کہ یوگی جی کشی نگر کے حادثے کا شکار ہونے والے بچوں کے والدین کے آنسو پونچھتے مگر وہ تو وہاں جاکر زخموں پر نمک چھڑک آئے۔ وزیراعظم نے مزید فرمایا’’پیغمبر محمدؐ صاحب کا خیال تھا کہ اگر آپ کے پاس کوئی بھی چیز ضرورت سے زیادہ ہے تو آپ اسے کسی ضرورت مند شخص کو دے دیں، لہذا رمضان میں عطیات  (صدقات )کی بھی بہت اہمیت ہے‘‘۔ اس تعلیم کا اطلاق سیاسی جماعتوں اور سرکاری خزانوں پر بھی ہوتا ہے کہ وہ تو دولت سے ابلے پڑتے ہیں اور عوام نانِ جوئیں کے محتاج ہوگئے ہیں۔

پردھان سیوک نے کہا، ’’میں تمام ہم وطنوں کو رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی مبارکباد دیتا ہوں ‘‘۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جس طرح شراون کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اسی طرح غیر مسلمین کا رمضان مبارک سے کیا سروکار؟ کسی اور کے تہوار کا احترام تو کیا جاسکتا ہے لیکن اس پرمبارکباد قبول کرنا کچھ عجیب سالگتا ہے۔ ویسے وزیراعظم کی یہ خواہش قابلِ ستائش ہے کہ ’’ مجھے امید ہے کہ یہ موقع لوگوں کو امن اور خیر سگالی کے ان (پیغمبر محمد ؐکے ) پیغامات پر چلنے کی ترغیب دے گا‘‘۔ عوام کے لیے تو ترغیب ہے لیکن حکمراں کو امن و خیر سگالی قائم کرنے کے لیے عملی اقدام کرنا پڑتے ہیں۔ اسی کے ساتھ جو عناصر امن عامہ کو غارت کرنے پر تلے ہوئے ہوں ان پر لگام کسنی ہوتی ہے۔ حاکم وقت اگر اس ذمہ داری کو کماحقہ ادا نہ کرے تو اس کی زبان سے ادا ہونے والے  یہ الفاظ بے معنیٰ ہوکر رہ جاتے  ہیں۔  بقول شاعر؎

کیوں یہ مہرانگیز تبسم مد نظر جب کچھ بھی نہیں

 ہائے کوئی انجان اگر اس دھوکے میں آ جائے تو

ایک زمانہ وہ بھی تھا جب   مسلمانوں کے تہوار آتے اور گزر جاتے تھے لیکن وزیراعظم کے دفتر اور ٹوئٹر پر سناٹا  چھایا رہتا تھااخبار نویس جب انتظار کے بعد تھک کر مایوس ہوجاتے تو یہ  توجیہ  کرتے کہ مودی جی پاکھنڈی نہیں بلکہ  من کے سچے آدمی ہیں۔ ان کا ظاہر اور باطن ایک جیسا ہے۔ مسلمانوں سے اگر ہمدردی نہیں ہے تو بلاوجہ اس کا اظہار کرنے سے کیا حاصل؟ سیاسی مبصرین یہ کہتے کہ انہیں مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہے تومسلمانوں کی دلجوئی کرکے  بلاوجہ اپنے بھکتوں کی ناراضگی کیوں مول لیں۔ ماہرین نفسیات یہ بتاتےچونکہ ان کی تربیت سنگھ کی شاکھا میں ہوئی ہے۔ سنگھ  کے سنسکار  انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ اسلام یا مسلمانوں کے حق میں کوئی کلمۂ خیر اپنی زبان پر لائیں۔ وقت کے ساتھ مودی جی  موقف میں نرم پڑتے گئے یہاں تک ماہ رمضان سے  دو ہفتہ قبل اپنے ۴۳ ویں  ’من کی بات ‘ میں انہوں نے دل کھول کے اسلام کی تعریف کی  جس پر عندلیب شادانی کا یہ شعر  معمولی ترمیم کے ساتھ چسپاں ہوگیا  ؎

دیر لگی آنے میں ان کو شکر ہے پھر بھی آئے تو 

کمل  نے دل کا ساتھ نہ پکڑا ویسے وہ گھبرائے تو

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

ایک تبصرہ

Close