آج کا کالمسیاست

رافیل کا سرجیکل اسٹرائیک

ڈاکٹر سلیم خان

انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر پرکاش جاوڈیکر نے پچھلے دنوں  تعلیم گاہوں  پر سرجیکل اسٹرائیک کرکے یو جی سی کے ذریعہ سرجیکل اسٹرائک ڈے منانے کا بم برسا دیا۔ اس پر حزب اختلاف نے احتجاج  کیا  توصفائی دی  کہ  یہ  محض مشورہ ہے دن کا منا نا لازمی نہیں ہے۔ دن منانےکا جواز پیش کیا کہ   لاکھوں طلبہ اور ادارے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جوان  کس طرح ملک کی حفاظت کرتے ہیں۔ پہلے تو یہ تصدیق طلب امر ہے کہ کیا واقعی طلباء یہ جاننا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو اس کے لیے عصرِ حاضر میں دن منانے کی کیا  ضرورت؟ سرجیکل اسٹرائیک پر ایک معلوماتی ویڈیو بناکر یو ٹیوب پر ڈال دیجیے طلباء اپنی سہولت سے اسے دیکھ کر سب جان جائیں گے۔آج کل  معلومات حاصل کرنے کا یہ سہل ، سستا  اور موثرطریقہ ہے۔ اس کا یہ فائدہ  بھی  بتایا گیا کہ فوج کا وقار بڑھے   ہوگا۔ ہماری  فوج سرجیکل اسٹرائیک سے قبل چین اور پاکستان سے کئی جنگیں لڑ چکی ہےاور  بنگلادیش آزاد کرایا ہے۔ ان سب  کا میابیوں کے دن کیوں نہیں منائے جاتے؟  کیا ایسا کرنے سے فوج کی عزت  نہیں بڑھے گی ؟

ہندوستانی فوج  توویسے ہی پروقار ہے۔ وہ  اپنا احترام  بڑھانے کے لیے جاویڈیکر کی محتاج نہیں ہےلیکن وزیرتعلیم نے پونے شہر میں  تعلیمی اداروں کے ذمہ داران  کے وقار کو جو ٹھیس پہنچائی ہے اس کو بحال کرنے کے لیے الفاظ واپس لینا کافی نہیں بلکہ اگر عزت نفس کا خیال  ہو تو  استعفیٰ دینا چاہیے۔ ایک اسکولی پروگرام میں پرکاش جاویڈکر نے کہا تھا کہ تعلیم گاہوں  کو حکومت کے سامنے  بھیک کا کٹورا لے کر مدد مانگنے کی بجائے سابق طلباء سے تعاون  لینا چاہیے۔ آگے چل کرانہوں نے  اپنا بھیک کا کٹورہ واپس تو لیا لیکن کمان سے نکلا ہو اتیر لوٹ کرنہیں آتا۔ اس  سے لہولہان  زخم آسانی سے نہیں بھرتا۔

سوال یہ ہے کہ حکومت عوام کے سامنے  ٹیکس کا کٹورہ لے کر کیوں آتی  ہے؟  کیا یہ وزراء کی عیش و عشرت کے لیے جمع کیا جانے والا لگان ہے؟  کیااس میں تعلیم کا خرچ نہیں ہے ؟ اگر ہے تو عوام کے غصب کردہ   دولت کے ایک چھوٹے سے حصے کو واپس کرنا بھیک کیسے ہوگیا؟ یہ مودی سرکار کے وزیروں کی رعونت بول رہی ہے۔  ویسے اب ان کے دن بھر گئے ہیں ، چند ماہ بعد جب یہ  بھیک کا کٹورہ لے کر عوام کے پاس  ووٹ مانگنے کے لیے آئیں گے اور وہ ان سے کٹورہ چھین کرانہیں کے سر پر دے ماریں گے تب جاکر  ان کے سروں سے اقتدار کا خمار اترے گا۔

سرجیکل اسٹرائیک کی  یہ پہلی نہیں بلکہ دوسری سالگرہ ہے۔ الیکشن دور ہونے کے سبب پچھلے سال  وزیر انسانی وسائل کو اس کی یاد تک نہیں آئی۔ جیسے جیسے قومی انتخابات  قریب آتے جارہے ہیں بی جے پی کو یہ کارنامہ یاد آرہاہے اور اسے انتخابی فائدے کے لیے بھنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ جاوڈیکر تو خیر وزیرتعلیم ہیں  وزیردفاع نرملا سیتا رامن نے گزشتہ سال سرجیکل اسٹرائیک کی پہلی سالگرہ پر جوانوں کی حوصلہ افزائی  کے لیےکشمیر کا دورہ کیا تھا  لیکن دن منانے کا خیال ان کو بھی نہیں آیا تھا۔ فی الحال وزیردفاع رافیل بدعنوانی میں حکومت کا دفاع اس شدو مد سے کررہی ہیں کہ انہیں وزیررافیل لے لقب سے یاد کیا جانے لگا ہے۔ ایسے میں غالباً رافیل گھوٹالے کی پردہ پوشی کے لیے انہوں نے سرجیکل اسٹرائیک کے تین دن منانے کا اعلان کردیا۔ گویا یہ سرجیکل اسٹرائیک  یوم آزادی، یوم جمہوریہ اور گاندھی جینتی کی مشترکہ اہمیت کا حامل ہوگیا۔ رافیل گھوٹالے سے بی جے پی سرکار اس قدر خوفزدہ ہو جائے گی اس کی امید کسی کو نہیں تھی۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ جس  وقت    اگستا ویسٹ لینڈ  ہیلی کاپٹر معاملے میں رشوت ستانی کا مقدمہ اطالوی عدالت نے خارج کرکے کانگریس پر لگائے جانے والے الزام کو بے بنیاد قرار دے دیا اسی وقت فرانس کے رافیل لڑاکا جہازوں  کا جن بوتل سے باہر  نکل آیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close