آج کا کالم

راہل کا استعفیٰ: وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہیں

دانشور صحافیوں کے نزدیک فی الحال ملک کا سب سے سلگتا ہوا مسئلہ کانگریس کے صدر راہل گاندھی کا استعفیٰ ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

 راہل گاندھی  اپنے استعفیٰ میں رقمطراز ہیں :‘‘ کانگریس پارٹی کی خدمت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ کانگریس وہ پارٹی ہے جس کے اصول اور اقدار ہمارے ملک کی رگوں میں خون کی طرح شامل ہے۔ مجھے جو پیار اور عزت ملی ہے، اس کے لیے میں اپنی پارٹی اور ملک کا قرض دار ہوں۔ کانگریس صدر کے ناطے 2019 کے انتخابات میں شکست کی ذمہ داری میری ہے۔ پارٹی کی ترقی اور مستقبل کے لیے جواب دہی بہت اہم ہے۔ اور یہی سبب ہے کہ میں نے صدر کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔پارٹی کو دوبارہ مضبوط کرنے کے لیے سخت فیصلے لینے ہوں گے اور کئی لوگوں کو 2019 کی ناکامی کے لیے جواب دہ ہونا ہوگا۔ اس ناکامی کے لیے صرف دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانا اور بطور صدر اپنی ذمہ داری قبول نہ کرنا، مناسب نہیں ہوگا’’۔ اس خط میں تو کوئی گلہ ہے اور شکوہ ہے۔ شکست کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مایوسی کا اس میں شائبہ تک نہیں ہے بلکہ امید کا اظہار  ہے کہ ‘‘جو بھی پارٹی کا صدر بنے گا وہ ہمت، محبت اور مضبوطی کے ساتھ پارٹی کی قیادت کرے گا’’۔

دانشور صحافیوں کے نزدیک فی الحال ملک کا سب سے سلگتا ہوا مسئلہ کانگریس کے صدر راہل گاندھی کا استعفیٰ ہے۔ ان میں سے ہر کوئی کانگریس کی تعزیت میں مگر مچھ کے آنسو بہا رہا ہے۔ بی جے پی سے درپردہ محبت رکھنے والوں کو یہ معمولی سی بات سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ کوئی قومی مسئلہ نہیں ہے۔ راہل گاندھی اب بھی ایوان پارلیمان کے رکن ہیں۔ یہ تو  ایک سیاسی پارٹی کا داخلی معاملہ ہے جسے بحران کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد اگرکانگریس پارٹی  کے اندر  اپنے صدر کے خلاف بغاوت ہوجاتی اور وہ اس کو قابو میں کرنے کے لیے کچھ لوگوں کو پارٹی سے نکال دیتا۔ وہ لوگ نکل کر نئی پارٹی بنالیتے جیسا کہ بلراج مدھوک نے جن سنگھ سے نکالے جانے کر بعد یاپروین توگڑیا نے وشوہندو پریشد کی صدارت سے ہٹائے جانے کے بعد کیا تھاتب تو معاملہ سنگین ہوتا۔ اس کے علاوہ اگرپارٹی دودھڑوں میں تقسیم ہوجاتی جیسا کہ جنتا پریوار میں کئی بار ہوا  بلکہ نوزائیدہ عآپ میں بھی ہوچکا ہے  تو بھی  بات اور تھی  لیکن یہاں تو کانگریس یک زبان ہوکر اپنے رہنما  سے استعفیٰ واپس  لینے کی درخواست کررہی ہےایسے میں  آخر بحران کہاں ہے؟

راہل نے جب پارٹی کی صدارت سے ہٹنے کا ارادہ ظاہر کیاتو ان دانشوروں نے تمسخر آمیز انداز میں کہا‘راہل نے اپنا استعفیٰ خود اپنی ہی خدمت میں پیش کیا ہے’۔ انہیں امید تھی کہ اپنے وفاداروں کے اصرار پر وہ جلد ہی اسے واپس لے لیں گے  لیکن ایسا نہیں ہوا تو کہا گیا کہ راہل گاندھی اپنی اہمیت بڑھانے کے لیے نوٹنکی کررہے ہیں ۔اس سے بھی کام نہیں چلا تو یہ تہمت باندھی گئی کہ راہل اپنے کسی کٹھ پتلی  کا تقرر کرکے اس کے ذریعہ اپنی مرضی چلائیں گے لیکن جب   وہ توقع بھی غلط نکلی اور راہل نے یہ ذمہ داری  کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کو سونپ دی  تو کہا جانے لگاراہل بزدل ہیں۔ وہ  منجدھارکے اندر  کشتی سے  کود  کر بھاگ رہے ہیں  حالانکہ انہوں نے پارٹی سے نہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔ پارٹی کی خدمت کے لیے وہ ہمہ وقت موجود ہیں۔  کانگریس  پر بی جے پی کا سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ وہ عوام کی نہیں بلکہ ایک خاندان کی جماعت ہے ۔ اب وہ خاندان اپنے آپ کو قیادت سے الگ کر کےپارٹی  کی باگ ڈور کسی اور  کو سونپنا چاہتا ہے تو اس کا خیر مقدم ہونا چاہیےکیونکہ اس سے ایک قومی سیاسی جماعت موروثیت سے پاک  ہورہی  ہے لیکن ردعمل اس کے مخالف ہے۔  اصل مسئلہ یہ ہے کہ بی جے پی چاہتی ہے کہ راہل ہی کانگریس کے صدر نشین رہیں تاکہ اس کی آڑ میں بی جے پی کے اندرتیزی سےپیر پسارتے ‘پریوار واد’  کو چھپایا جاسکے۔ آج کل بی جے پی کا شاید ہی کوئی مشہور رہنما ہو جس کا لائق و فائق بیٹا یا بیٹی رکن پارلیمان یا اسمبلی نہ ہو  اس لیے موروثیت کامرض  تو گھوم کر سنگھ پریوار میں بھی  بڑے پیمانے پرسرائیت کرگیا ہے۔

جن سنگھ کے بعد نئے اوتار بھارتیہ جنتا پارٹی میں جملہ ۱۰  صدور گزرے ہیں۔ لال کرشن اڈوانی کو ۳ مرتبہ اور راجناتھ سنگھ کو ۲ بار  یہ عہدہ سنبھالنے کا موقع دیا گیا۔  ان  ۱۰ لوگوں میں سے ۶ لوگوں نے مختلف وجوہات سے اپنے عہدے  سے استعفیٰ دیا تھا۔  دو حضرات بنگارو لکشمن اور نتن گڈکری کو بدعنوانی کے الزامات کے سبب صدارت چھوڑنی پڑی ۔ بنگارو لکشمن  پر یہ الزام ثابت ہوگیا۔ ان  کو چار سال کی سزا  سنائی گئی اور ایک لاکھ جرمانہ عائد کیا گیا۔ نتن گڈکری نے دوسری مرتبہ صدارت سنبھالنے کے لیے دستور میں ترمیم تک کروالی تھی مگر پورتی گھوٹالہ کے سامنےآنے پرانہیں اپنا ارادہ ترک کرنا پڑا۔  جین ڈائری  معاملہ  میں بدعنوانی کا الزام تو اڈوانی پر بھی لگا مگر وہ پارٹی صدارت سے چپکے رہےصرف ایوان کی رکنیت سے استعفیٰ دیا۔  آگے چل کرپاکستان میں بابری مسجد کی شہادت پر افسوس جتانے اور قائد اعظم محمد علی جناح کی  تعریف کرنے کے سبب انہیں ذلیل کرکے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا۔ بدعنوانی کی روایت کو موجودہ صدر امیت شاہ  کےبیٹے جے شاہ نے آگے بڑھایا۔ اس کی کمپنی مختصر سے عرصے میں پچاس لاکھ سے اسیّ  کروڈ پر پہنچ گئی لیکن اس سے شاہ جی  ٹس سے مس نہیں ہوئے  بلکہ الٹا  بھانڈا پھوڑنے والے ادارے دی وائر  پرہتک عزت کا دعویٰ ٹھونک دیا۔

  جانا کرشنامورتی اور راجناتھ سنگھ  نے مرکز میں وزارت سنبھالنے کے بعد پارٹی کی صدارت سے سبکدوش ہونے کا اعلان کردیا۔ یہ حسنِ اتفاق ہے کہ راجناتھ کے بعد جس  امیت شاہ  نے پارٹی کی کمان سنبھالی وہ وزیر بننے کے باوجود پارٹی کی صدارت کو چھوڑنے  کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ کانگریسی روایات  کی پیروی کرتے ہوئے وہ   جے پی نڈاّ کو محض  کارگذار کٹھ پتلی صدر بناکر کام چلا رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم  کا امیت شاہ کے علاوہ کسی اور پر بھروسہ نہیں  ہے۔ ۲۰۰۴ ؁ میں جب کانگریس نے بی جے پی کوشکست فاش سے دوچار کردیا تو اس وقت وینکیا نائیڈو پارٹی کے صدر تھے۔ انہوں نے شکست کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے نجی وجوہات کی بناء پر  استعفیٰ دیا تھا ۔ یہ سوچ کر ہنسی آتی ہے کہ راہل پر نہ توبنگارو کی طرح  بدعنوانی کا الزام ہے اور نہ ہی اڈوانی جیسا  اندرونی دباو ہے۔ ان کے اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دینے سے کانگریس پارٹی کیونکر تباہ ہوجائے گی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ جہاں ۲۰۱۴ کی بہ نسبت بی جے پی کی حالت میں بہتری آئی ہے وہیں کانگریس کے ارکان پارلیمان میں اضافہ ہوا ہے نیز این ڈی اے کا رکن پہلے کے مقابلےایک  کم ہوا ہے جبکہ یوپی اے کے ارکان کی تعداد تقریباً ڈیڑھ گنا ہوگئی ہے۔

ایک زمانے میں اپنی  پارٹی کو کامیاب کرنے کے باوجود سونیا گاندھی وزیراعظم نہیں بن سکی تھیں لیکن اب حالات بد گئے ہیں ۔ راہل گاندھی کو پتہ ہے کہ اگر مستقبل میں کانگریس کو  اکثریت مل جائے تو  بالاتفاق   وزیر اعظم وہی بنیں گےچاہےکا صدر جو بھی ہو ۔وزیراعظم  نریندر مودی میں   اس طرح کی خود اعتمادی کا فقدان پایا جاتا ہے۔ اسی لیے ۲۰۱۴ کے بعد لال کرشن اڈوانی کو مارگ درشک منڈل کا راستہ دکھایا گیا اور ۲۰۱۹ کے بعد راجناتھ سنگھ کو   ان کا درجہ گھٹا نے کے لیے وزارت داخلہ سے محروم کرکے وزیر دفاع بنایا گیا  ۔راہل گاندھی کے ساتھ جس عقیدت اور یکجہتی کا اظہار کانگریس پارٹی نے کیا ہے اس پر بھی بی جے پی کے رہنماوں  کو رشک آرہا ہوگا ۔ زعفرانی جماعت کے اندر ایسا نہیں ہوتا۔ بی جے پی کے قیام کے وقت اٹل بہاری واجپائی کو پارٹی کا صدر بنایا گیا تھا اور گاندھیائی سوشلزم کی بنیاد پر پارٹی کی تعمیر کرنا چاہتے تھے ۔  اندرا گاندھی کی موت کے بعد جب بی جے پی دو نشستوں پر سمٹ گئی  اور اٹل و اڈوانی دونوں ہار گئے تو اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھا کر اٹل بہاری واجپائی کو پارٹی کے اندر حاشیے پر لگا دیا گیا۔

اس وقت کے نریندر مودی  یعنی  لال کرشن اڈوانی نے اپنے یار غار کو پارٹی میں بے وقعت تو کردیا لیکن قدرت کا کرنا یہ ہوا کہ۱۹۹۶ میں  بی جے پی کو واضح اکثریت نہیں مل سکی اور بابری مسجد کے خلاف اڈوانی کی شدت پسندی نے انہیں دیگر حامی جماعتوں کے ناقابلِ قبول بنادیا ورنہ اٹل جی کو بھی مارگ درشک منڈل کا راستہ دکھانے کام اڈوانی جی کے ذریعہ کیا جاتا۔ اس کے باوجود اڈوانی جی چین سے نہیں بیٹھے  پارٹی کے اندر وزیراعظم  اٹل بہاری واجپائی کا اثررسوخ ختم کرنے کی خاطر ان کے منظور نظر صدر نشین  بنگارولکشمن  کو پھنسانے کی سازش میں شک کی سوئی اڈوانی  کی جانب گھومتی ہے بلکہ اس وقت کے وزیر دفاع  جارج فرناڈیس کی رسوائی کے لیے بھی انہیں کو ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ وہ ایسا زمانہ تھا کہ مودی کی مانند ان کا ہر داوں چل جاتا تھا۔ پارٹی کے طاقتور جنرل سکریٹری گوونداچاریہ نے اپنے وقت کے وزیراعظم کو مکھوٹا کہنے کی جرأت بھی اڈوانی جی کے آشیرواد سے ہی  کی تھی ۔ یہ اور بات ہے کہ اس کی بہت قیمت گوونداچاریہ کو چکانی پڑی اور ان کا سورج ایسا ڈوبا کہ پھر ابھر نہ سکا۔

اٹل اور اڈوانی کی باہمی چپقلش کا  سب سے بڑافائدہ  اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو ملا۔ ایل کے اڈوانی نے خود اپنی تحریر میں اس کا اعتراف اس طرح کیا ہے کہ ‘‘فروری 2002 میں جب  گجرات فرقہ وارانہ فساد کی آگ میں جل رہا تھا تب مخالف پارٹیوں کے ساتھ ساتھ بی جے پی کی معاون جماعتیں بھی  اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کا استعفیٰ نامہ طلب کر رہی تھیں۔ اس دباو کی وجہ سے بی جے پی اور برسراقتدار این ڈی اے کے کئی رہنماوں کا خیال  تھا کہ مودی کو عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ گجرات میں جاری فسادات کے متعلق اٹل جی کے ذہن پر بھی کافی بوجھ تھا اور مودی کے استعفیٰ کے لیے ان پر لگاتار دباو ڈالا جانے لگا تھامگر اس معاملے پر میرا نظریہ بالکل الگ تھا۔ میری رائے میں مودی مجرم نہیں تھے۔ ایک سال سے بھی کم وقت پہلے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے والے نریندر مودی  کوریاست میں پیدا ہونے والے مشکل فرقہ وارانہ ماحول کا شکار بنانا ناانصافی تھا۔”

اپنے مضمون میں اڈوانی نے آگےلکھا کہ اسی دوران گوا میں بی جے پی کی قومی مجلس عاملہ  کی نشست  میں جسونت سنگھ کے پوچھنے پراٹل جی نے کہا کہ مودی کو کم از کم استعفیٰ کی تجویز تو دینی ہی چاہیے۔ اس پر اڈوانی نے کہا کہ اگر مودی کے عہدہ چھوڑنے سے حالات میں بہتری ہوتی ہو تو میں چاہوں گا کہ انھیں استعفیٰ دینے کو کہا جائے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس سے کوئی فائدہ ہوگا۔ اس بابت  انھوں نے مودی سے بات کر کے کہا کہ وہ  استعفیٰ کی تجویز رکھیں  اور وہ  مان گئے۔ لیکن جب مودی نے استعفیٰ کی بات کہی تب اس کی مخالفت کی گئی اور اس طرح اس مسئلہ پر پارٹی کے اندر بحث کا خاتمہ ہو گیا۔ وقت پہیہ گھومتے گھومتے۱۱ سال بعد پھرسے گوا میں پہنچ گیا  جہاں نریندر مودی کو تشہیری کمیٹی کا سربراہ بناکر بلا واسطہ اگلا وزیر اعظم کا امیدوار نامزدکردیا گیا ۔ لال کرشن اڈوانی کی شاگردہ سشما سوراج  نے(جنہیں وہ پارٹی صدر بنانے چاہتے تھے) اس کی سخت مخالفت کی لیکن ان کی ایک نہ چلی اس لیے کہ پارٹی کے صدر راجناتھ سنگھ نے مودی کی حمایت کردی تھی۔

اڈوانی جی نے اس فیصلے سے بددل ہوکر جون  ۲۰۱۳ میں پارٹی کے سارے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کے راضی نامہ پر ایک نظر ڈال لی جائے ۔اپنی پارٹی کے صدر کو مخاطب کرکے  اڈوانی  نے لکھا ‘‘ڈیئر شری راجناتھ سنگھ جی ، میں نے اپنی تمام زندگی جن سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے کام کرتے ہوئے نہایت فخر اور بے شمار سکون حاصل کیا ہے۔  کچھ عرصے سے پارٹی کے موجودہ طریقۂ کار یااس کے غالب رحجان  سے مصالحت کرنا میرے لیے مشکل ہوگیا ہے۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ اب یہ وہ  مثالی جماعت نہیں رہی جس کی تخلیق میں ڈاکٹر مکرجی ، دین دیال پادھیائے، ناناجیاور واجپائی جی کا ہاتھ رہا ہے اور جن کے پیش نظر صرف ملک اور باشندگان وطن (کی خدمت)  کا لازوال جذبہ تھا ۔  ہمارے بیشتر موجودہ قائدین کے نزدیک اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل ہی واحد مقصد ہوگیا ہے۔ لہٰذا میں نے فیصلہ کیا ہے کہ پارٹی کے تین اہم عہدوں بنام قومی  مجلس عاملہ، پارلیمانی بورڈ اور الیکشن کمیٹی سے مستعفی ہوجاوں۔ اس خط کو میرا استعفیٰ نامہ تصور کیا جائے۔ آپ کا مخلص ایل کے اڈوانی’’۔

پارٹی کے صدر راجناتھ سنگھ کے استعفیٰ  تو مسترد کردیا لیکن اس کے ذرائع ابلاغ میں آنے سے جو نقصان ہونا تھا سو ہوگیا۔    اس خط کی روح یہ اعتراف  ہے کہ اب بی جے پی اپنے مقصد  ونصب العین سے منحرف ہوچکی ہے۔ ذاتی مفاد نے قومی خدمت کی جگہ لے لی ہے یعنی بہ الفاظ دیگر بی جے پی اب مو جی پی بن چکی ہے۔   وقت نے یہ ثابت کردیا کہ اڈوانی جی کے  اندیشے صد فیصد  درست تھے۔ بی جے پی کے اس  نئے اوتار  میں  مودی کی حیثیت رہنما کی نہیں بلکہ دیوتا کی ہوگئی ۔ مودی  کے فائدے نے قومی مفاد پر سبقت حاصل کرلی ہے ۔  اس فیصلے کے دو بڑے مخالف سشما سوراج اور اڈوانی تھے جبکہ اہم ترین حامیوں میں راجناتھ سنگھ اور ارون جیٹلی شامل تھے ۔ ۲۰۱۴ ؁ میں بی جے پی انتخاب جیت گئی۔راجناتھ کو وزیرداخلہ ، ارون جیٹلی کو وزیر خزانہ  اور سشما سوراج کو وزیر خارجہ بنایا گیا  مگر  اڈوانی جی کو دودھ سے مکھی کی مانند نکال کر مارگ درشک منڈل میں روانہ کردیا گیا۔ اڈوانی جی کو توقع تھی کہ پرلوک سدھارنے  سے قبل کچھ نہیں تو صدر مملکت ہی بنادیا جائے گا لیکن مودی جی نے اس خواب کو بھی چکنا چور کردیا۔

۲۰۱۹ کے انتخاب آتے آتے پارٹی پر مودی جی نے اپنی پکڑ اتنی مضبوط کرلی کہ سشما انتخاب کے میدان سے بھاگ کھڑی ہوئیں۔ ارون جیٹلی صحت کا بہانہ بناکر کنارے ہوگئے ۔ گاندھی نگر سے اڈوانی کا ٹکٹ کاٹ کر امیت شاہ کو تھما دیا گیا لیکن ابھی ترُپ کی چال پوشیدہ تھی۔ نتائج کے بعد مودی جی نے اپنے محسنِ اعظم   راجناتھ سنگھ کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر وزیرداخلہ  کاقلمدان دست راست امیت شاہ کے حوالے کردیا اور راجناتھ کو وزیر دفاع بنا دیا گیا۔  ان کے  پرکترنے کے لیے دو کابینائی کمیٹیوں کے علاوہ باقی تمام سے ان کا پتہ کاٹ دیا گیا ۔ مودی جی  فی الحال اپنی اس  کوشش  میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے کیونکہ راجناتھ  سنگھ کے اندر گہار لگاکر اپنا اثر و رسوخ  استعمال کیا نیز سنا ہے استعفیٰ کی دھمکی بھی دے دی۔ اس  کے بعد انہیں مزید چار کمیٹیوں میں شامل کیا گیا مگر وہ امیت شاہ کی طرح تمام ۸ کمیٹیوں کا حصہ نہیں بن سکے۔ بدقسمتی سے ذرائع ابلاغ کو کمل  کےداغ دکھائی ہی نہیں دیتے اس لیے وہ پنجہ جھاڑ کر پنجے کے پیچھے پڑا رہتا ہے۔

عمرعزیز پارٹی کی خدمت میں کھپا دینے والے ایل کے اڈوانی کے مایوس کن خط  کا موازنہ اگر راہل گاندھی کے استعفیٰ  سے کیا جائے تو دونوں جماعتوں کے ظرف کا فرق واضح ہوجاتا ہے ۔سنگھ کے ساتھ اپنے نظریاتی اختلاف کا اظہار راہل گاندھی  کھل کر کرتے رہے ہیں۔ اس خط میں بھی وہ  مخالفت ان الفاظ میں موجود ہے‘‘میری لڑائی کبھی بھی صرف سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی نہیں رہی۔ مجھے بی جے پی سے کوئی نفرت یا غصہ نہیں ہے، لیکن ہندوستان کو لے کر ان کے نظریہ کا میں سخت مخالف ہوں۔ میری مخالفت اس لیے ہے کیونکہ ہندوستان کے تئیں ان کا نظریہ اور میرے نظریہ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ کوئی نئی لڑائی نہیں ہے بلکہ ہزاروں سال سے ہماری زمین پر لڑی جا رہی ہے۔ انھیں اس میں نااتفاقی اور فرق نظر آتا ہے، مجھے برابری نظر آتی ہے۔ جہاں انھیں نفرت نظر آتی ہے، مجھے محبت دکھائی دیتی ہے۔ انھیں جس سے خوف محسوس ہوتا ہے، میں اسے گلے لگاتا ہوں۔ہندوستان کا اصل نظریہ ملک کے کروڑوں کروڑوں لوگوں کے دل میں دھڑکتا ہے اور اسی نظریہ کی حفاظت اب ہمیں مضبوطی کے ساتھ کرنی ہے’’۔ ایک  طویل خط کا خاتمہ اس  طرح  کیا گیا ہے کہ ‘‘جب تک ہم اقتدار کی خواہش قربان کرکے  اصولوں کی لڑائی نہیں لڑیں گے، مخالفین کو نہیں ہرا پائیں گے۔ میں پیدائشی کانگریسی ہوں، پارٹی ہمیشہ میرے ساتھ رہی ہے اور یہ میرے خون میں ہے، اور ہمیشہ رہے گی’’۔ اس استعفیٰ میں یاس و پژ مردگی نہیں بلکہ  بی جے پی کو شکست فاش  دینےکا عزم و حوصلہ موجود ہے ۔ اس کے ساتھ مناسب حکمت عملی اور محنت   و مشقت جلد یا بہ دیر کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Back to top button
Close