آج کا کالم

راہل گاندھی کی کانگریس صدر کے عہدہ پر ہونے والی تاجپوشی کے معنی!

سدھیر جین

راہل گاندھی کے کانگریس صدر بننے کا دن آ گیا. طویل انتظار کے بعد آیا. اس کے پہلے جب جب ان صدر بننے کی راہ بنی، کوئی نہ کوئی رکاوٹ آتی رہی. کبھی اپوزیشن کی جانب سے ان کی تصویر پر حملے تو کبھی راہل اور پرینکا کے درمیان بہتری کی باتیں اٹھایي جاتی رہیں. بہرحال ہمیشہ ہی ان کے کانگریس کے سربراہ بننے کا کام ٹلتا رہا. جس طرح ہر تاخیر کے نفع نقصان ہوتے ہیں اس طرح اس تاخیر کے بھی نفع نقصان کی باتیں ضرور ہونی چاہئے.

کیا کسی کو کوئی شک تھا

پارٹی کے اندر شک کا تو کبھی سوال نہیں رہا. ان کی موجودہ حیثیت اپنی پارٹی کے صدر سے کبھی کم نہیں رہی. اس کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ دہائی میں جتنے بھی انتخابات میں کانگریس کی ہار جیت ہوئی، اس کی جیت کا سہرا بھی انہی کو ملتا رہا اور ہار کا ٹھیکرا انہی کے سر پھوڑا جاتا رہا. انہیں کانگریس کا سربراہ بتانے میں خود بی جے پی نے کوئی کسر نہیں چھوڑی. سو، اب بی جے پی کے پاس فی الحال راہل گاندھی کی حیثیت کے خلاف کوئی دلیل نہیں بچی. اس بار تو پرینکا کو لے کر بھی کہیں سے آواز اٹھائے جانے میں بھی کامیابی نہیں مل پا رہیں ہے.

موقع کی تلاش میں اتنا انتظار

موقع گزشتہ سے گزشتہ لوک سبھا انتخابات یعنی 2009 کے عام انتخابات کے وقت بھی تھا. کانگریس دوبارہ اقتدار میں آ گئی تھی. لیکن پارٹی میں جمود برقرار رکھی گئی. ابھی تک اس صورت حال کا تجزیہ نہیں ہے کہ اس وقت راہل کے صدر بننے میں رکاوٹ کیا تھی؟ کیا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس وقت کانگریس کو راہل گاندھی کو صدر بنانے کی ضرورت ہی کہاں تھی. موجودہ صدر سونیا گاندھی کی صحت بھی تب ٹھیک ٹھاک تھی. کچھ اور یاد کریں تو راہل گاندھی کی عمر کے لحاظ سے کچھ چھوٹا بتا کر عوام کے درمیان پروپیگنڈہ کروائے جانے کا خطرہ بھی تھا. یہ اندیشہ بعد میں 2014 کے انتخابات میں صحیح نکلا. ان کی تصویر پر ‘اپو-پپو ٹائپ’ حملے ہوئے. یعنی وہ وقت بھی ان کی تصویر کے اور بہتر ہونے کے انتظار کا وقت تھا.

راہل پر زیادہ حملوں نے کیا ان کو اور نکھارا؟

موجودہ سیاست نمائش کا کھیل ہے. تب اپوزیشن یعنی بی جے پی نے راہل گاندھی کے مسلسل نظر آتے رہنے میں بڑا کردار ادا کیا. کانگریس کو نپٹانے کے لئے کمزور کڑی راہل کو سمجھا گیا ہوگا. لیکن راہل گاندھی کو اس کا معجزانہ فائدہ یہ ہوا کہ انہیں چوبیس گھنٹے، ساتوں دن بی جے پی کے حملوں کا جواب دینے کے موقع ملتے رہے. قومی سطح کی سیاست کے لئے 40 سے 50 کی عمر تربیت کی مانی جاتی ہے. بہت پست لیڈر ہوئے ہیں جنہیں حملے جھیل کر دن پر دن مضبوط ہونے اور مضبوط ہونے کے موقع ملے ہوں.

الزام، جو نعمت بن گئے!

مودی حکومت کے آنے کے فورا بعد کانگریس پر الزام لگائے جانے لگے تھے کہ وہ اپوزیشن کا کردار اچھے طریقے سے ادا نہیں کر رہا ہے. اس کی ذمہ داری بھی راہل گاندھی پر ڈالی جا رہی تھی. لیکن وہ ‘ٹھڈے پن’ کے ساتھ مودی حکومت کے وعدوں کی یاد عوام کو دلاتے رہے. دو سال پہلے زيادا حملہ آور نہ ہونا ان کی کمزوری سمجھا جاتا تھا. لیکن حکومت پر حملے سے جو صورتحال بنائی جاتی ہے وہ صورتحال بغیر حملے کے بن گئی. حکومت اپنے وعدے بھلانے کی جتنی کوشش کرتی گئی، عوام اتنی ہی بے چین ہوتی گئی. اب تک کی دو قطبی سیاست میں ماحول کانگریس کے حق میں نہ بنتا تو اور کیا صورت بنتی؟ آخر میں راہل گاندھی کی طرف دیکھنے کے علاوہ اوپشن ہی کیا تھا.

کانگریس میں جمہوری انتخابات کا پہلو

راہل کے والد راجیو گاندھی سے لے کر خود راہل گاندھی تک پارٹی جمہوری ڈھانچے کی حامی رہی ہے. اگرچہ یہ الزامات لگتے ہوں کہ یہ دکھاوا ہے، لیکن کانگریس میں اندرونی جمہوریت کی نمائش کو کوئی انکار نہیں کر سکتا. اس کی تو تاریخ ایسی ہے کہ اندرا گاندھی کو پارٹی کی ٹوٹ سے جوجھكر کانگریس کو پھر کھڑا کرنا پڑا تھا. اتنا ہی نہیں، کیس یہاں تک ہے کہ کانگریس کے اقتدار میں ہونے کے دوران اپوزیشن کی جانب سے میڈیا کے ذریعہ ہمیشہ ہی کانگریس میں اندرونی اختلافات کی بحث کروائی جاتی رہی. اتنے زیادہ حملے کروائے جاتے رہے کہ یہ اکیلی پارٹی ہی نظر آتی رہی جس میں کوئی صدر ناقابل تردید طور پر صدر نہیں بنا. آج بھی راہل کے لئے جس طرح شہزاد پونا والا بول رہے ہیں، اس سے صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پارٹی میں راہل گاندھی کی ہونے والی تاجپوشی بھی ناقابل تردید طور پر نہیں ہو پا رہی ہے. سیاست اپنی فطرت میں کرکٹ یا فٹ بال کی طرح صرف اسی دن کا واقعہ نہیں ہوتی. آج بھلے ہی کچھ لوگ اسے پارٹی میں کچھ کہہ کر اس کی کمزوری کی تشہیر کر لیں لیکن کیا آگے چل کر یہ بات بھی راہل گاندھی کے حق میں نہیں جائے گی؟

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سدھیر جین

سدھیر جین معروف سینیئر صحافی ہیں اور انڈین ایکسپریس گروپ- جن ستا کے چیف سب ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

Close