آج کا کالم

روزگار کے اعداد و شمار کا جشن

رويش کمار

جو لوگ پانچ سے سات کروڑ روزگار پیدا کرنے کا دعوی کر رہے تھے وہ چھ لاکھ فی مہینہ روزگار پیدا کرنے پر جشن منا رہے ہیں. IIM B کے مطالعہ کا حوالہ دے کر ٹویٹر پر ناچ رہے ہیں. جبکہ اس اسٹڈی کے پیمانے پر مہیش ویاس پہلے بھی سوال اٹھا چکے ہیں. اتنا ہی ہے تو حکومت میں جو ہیں وہ نوکریوں کے پتہ چلنے کا نظام بنا دیں. دوسرے کی اسٹڈی اٹھا کر وزیر اور ترجمان لوگ ٹویٹ کرنا بند کریں.

پانچ کروڑ روزگار مطلب مہینے میں چالیس لاکھ سے زیادہ نوکریاں. سات کروڑ کے حساب سے تو اور بھی زیادہ ہو جاتا ہے. حکومت نے اس جھوٹ کا دعوی کیا اور ڈرپوک میڈیا نے چھاپ دیا. ویسے کرنسی لون کے نام پر کئے جا رہے اس جھوٹے دعوے کو بھی ایكسپوز کیا جا چکا ہے. آپ خود بھی گوگل سرچ کر سکتے ہیں. آپ نے چالیس لاکھ ماہانہ روزگار پیدا کرنے کا جھوٹ بھول کر اب یہ چھ لاکھ فی مہینہ روزگار پیدا کرنے کے جھوٹ کا ٹویٹر پر جشن منا رہے ہیں.

آپ کو تھوڑی بھی ریاضی آتی ہو تو اس کھیل پر پاؤں پٹخنے لگ جائیں گے. جس IIM B کے مطالعہ پر لوگ ناچ رہے ہیں اس کے حساب سے بھی منظم علاقے میں چھ لاکھ فی مہینہ روزگار پیدا ہونے کے اعداد و شمار ملتے ہیں. وہ بھی بہت کم ہے. یہ اس وجہ سے دکھائی دے رہا ہے کیونکہ EPFO میں موجودہ ملازمین کو رجسٹرڈ کرایا گیا ہے. حکومت کی پالیسی ہے کہ پہلے دو تین سال تک کمپنیوں کا حصہ وہ جمع کرے گی. اس ڈیٹا میں دکھائی دے رہا ہے کہ پہلی نوکری حاصل کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جبکہ وہ پہلے ہی کام کر رہے ہیں. ٹوئٹر کے نوٹنکی کرنے کے بجائے وزیر اپنے محکمہ کا آنکڑا کیوں نہیں ٹویٹ کر دیتے ہیں کہ اتنی ویكینسي نکالی اور اتنے لوگوں کی جواننگ کرا دی.

ہر کوئی جھوٹ پر ناچ رہا ہے اور ہمارا نوجوان بھی، جس کے دماغ میں نظریے کے نام پر کچرا بھرا جا رہا ہے. جب نوجوان وزیر سے ٹوئٹر پر جواننگ کے بارے میں پوچھتے ہیں تو انہیں بلاک کر دیا جاتا ہے. آپ سمپل سوال کرو. پوچھو کہ وزیر جی! اپنے محکمہ کے آنکڑے ٹویٹ کیجیے نا. دوسرے کی اسٹڈی پر جشن منانا بند کیجیے. تمام حکومتوں کے منتخب کمیشن نوجوانوں کو الو بنا رہے ہیں. جنہیں میڈیا ہندو مسلم ٹاپک دکھا کر دن میں بھی جگائے رکھتا ہے.

ہر جگہ روزگار نکال کر کئی سالوں تک بھرتی کے عمل کو پورا نہیں کیا جا رہا ہے. یہ ہماری سیاست کا ایک کام یاب فارمولا بن گیا ہے. بے روزگار کو روزگار مت دو، روزگار کا خواب دو. آپ نوجوانوں کو الو بنائیں، نوجوان الو بنیں گے. بھارت کے نوجوانوں کا اگر یہی معیار ہے تو پھر آپ سیاست میں جائیے، ان کے دماغ میں زہر بھریے، کام کا جھوٹا خواب دکھائیے اور جھوٹے اعداد و شمار پر ڈانس کیجیے. جو بے روزگار ہے، وہ بھی تالی بجائے گا. حد ہے، کیا کسی کو ان نوجوانوں کے خوابوں سے لگاؤ نہیں ہے؟ کیا وہ مان کر چل رہے ہیں کہ یہ نوجوان جھوٹے سپنوں سے باہر آئیں گے ہی نہیں؟

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close