آج کا کالم

رويش کمار کو جان سے مارنے کی دھمکی

مجھے اپنی فکر کم اور آپ کے بچوں کی فکر زیادہ ہے۔

رویش کمار

بھارت کے انفارمیشن اور نشریات کے وزیر اگرچہ پُش اَپس کرنے میں دنیا میں نمبر ون ہو جائیں مگر پِریس کی آزادی کے معاملے میں بھارت کا مقام بہت نیچے ہے۔ 180 ملکوں میں 138 واں نمبرہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال دو قدم اور نیچے آ گیا ہے۔ دنیا بھر میں نفرت کی زبان اور سوچ کو لے کر فکر ظاہر کی جارہی ہیں، تحقیقات ہو رہی ہیں اور اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بھارت میں ہم ابھی تک یہی کہتے رہتے ہیں کہ ان پر توجہ نہیں دینی چاہیے۔ اس دوران ہماری توجہ نہ دینے کا فائدہ اٹھا کر ان کی پوری فوج تیار ہو گئی ہے۔ جن ٹرول کو ہم انجان سمجھتے تھے، کمپیوٹر پر نقلی آئی ڈی سے بنی فوج سمجھتے تھے وہ اب اپنا ماسک اتار چکی ہے۔ وہ طرح طرح کی ایسے تنظیموں کے رکن کے طور پر سامنے آرہے ہیں جن کے آگے کبھی ہندو تو کبھی گؤ رکشا تو کبھی سناتن لکھا ہے۔

ان کا مقصد مذہب کی خدمت کم اور مذہب کے نام پر فتنہ پھیلانا زیادہ ہے۔ ابھی حال ہی میں پٹنہ میں کشش نیوز چینل کے صحافی سنتوش سنگھ نے پانچ گھنٹے کے طویل پروگرام میں  دکھایا تھا کہ بہار میں ایسی 80 سے زائد تنظیمیں ہیں، جن میں نوجوانوں کو شامل کرکے صدر، نائب صدر کا عہدہ دیا جاتا ہے تاکہ وہ اس بھاؤ میں رہیں کہ کوئی بڑا کام کر رہے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو صحافیوں کو ٹرول کرتے ہیں، دھمکی دیتے ہیں، مارنے کی دھمکی اور عصمت دری کی دھمکی۔ پھر تہواروں کے موقع پر ہاتھوں میں تلوار لے کر حالات بگاڑتے ہیں۔

کئی بار ماں باپ کو پتہ نہیں ہوتا کہ ان کا بچہ ایسی تنظیموں میں جاکر فسادی ہو گیا ہے۔ حالت یہ ہے کہ ہم جیسے صحافیوں کے وہاٹس اپ نمبر پر گالیاں چھوڑیے مارنے اور عصمت دری کی دھمکی دیتے ہیں۔ اپنے نام سے لکھتے ہیں۔ آزاد صحافی رعنا ایوب کے ساتھ گزشتہ دنوں جو ہوا وہ خوفناک ہے۔ رعنا ایوب کی تصویر کو ایک فحش ویڈیو پر چسپاں کرکے گھمایا گیا تاکہ لوگوں کی نظر میں بدنام کیا جا سکے۔ ایسا کیا گناہ کر دیا اس صحافی نے کہ اتنے بڑے ملک کو اتنا خطرہ ہو گیا کہ ایک سیاسی نظریات سے وابستہ لوگ اس کے ساتھ ایسا کرنے لگیں۔

ان لوگوں کی زبان ایسی ہے کہ ہم اسے نہیں دکھا سکتے۔ ایسا کوئی جملہ نہیں ہے کہ ہم اس کو اسکرین پر ڈال سکیں۔ فون کرتے ہیں تو دس دس منٹ تک نان سٹاپ گالیاں دیتے ہیں۔ میری ماں کے بارے میں جو کہا گیا اس کو رہنے دیتا ہوں۔ ویسے بھی مجھے ماں کی تصویر کا سہارا لے کر نوٹ بندی کی طرح ہمدردی نہیں بٹورنی ہے۔ یہ بات میں اس لیے بول رہا ہوں کہ گالی دینے والوں کی جماعت کا تعلق ان سے بھی ہے۔ بہت سے ایسے لوگوں کو خود وزیر اعظم فالو کرتے ہیں۔

حال ہی میں یو ٹیوب پر حکومت کے جھوٹ کی پول کھولنے والے نوجوان دُھرُو راٹھی کو کافی دھمکیاں ملیں۔ دُھرو راٹھی نے ریلوے کے وزیر پیوش گوئل کو ٹویٹ کیا تھا کہ آپ ہر اس آدمی کو آپ فالو کرتے ہیں جس نے مجھے ٹویٹر پر گالی دی ہے، دھمکی دی ہے۔ کم از کم پچاس ایسے لوگوں کو فالو کرتے ہیں۔

ادھر، ٹرینوں کی حالت خراب ہے، دیری سے چل رہی ہیں، ہردوئی اسٹیشن پر پانی نہیں ہے اور ریلوے کے وزیر ایسے لوگوں کو فالو کر رہے ہیں جو دھمکیاں دیتے ہیں تو سمجھئے ملک کہاں جا رہا ہے۔ 3287 نوجوان دس ماہ سے اپوئنٹ منٹ لیٹر کا انتظار کر رہے ہیں اور وزیر پیوش گوئل گالی اور دھمکی دینے والوں کو فالو کر رہے ہیں تو سمجھئے ملک کہاں پہنچ گیا ہے۔ آپ ان وزراء سے ضرور پوچھیے کہ کیا آپ ایسے لوگوں کو فالو کرتے ہیں جو troll کرتے ہیں؟ میرے ساتھ اب یہ عام ہو چکا ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ان سے پریشان نہیں ہوں، اپنا کام کرتا رہتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔ گودی میڈیا آپ کی جمہوریت کو برباد کر رہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آج ہی اور جن کے سامنے برباد ہو رہا ہے ان کے سامنے ہی بولا جائے۔ مگر مجھے اپنی فکر کم اور آپ کے بچوں کی فکر زیادہ ہے۔

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close