آج کا کالم

رِتک کے دماغ میں زہر کون بھر رہا ہے؟

میں گورکھپور میں ہوتا تو گلاب جامن لے کر گھر آتا اور آپ کے ماں باپ سے کہتا کہ کچھ لوگ آپ کے رِتک کو فسادی بنانا چاہتے ہیں۔

رويش کمار

پیارے رِتک!

آپ نے جس زبان کا استعمال کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ اس زبان کے پیچھے جو سوچ ہے وہ آپ کو ایک دن جرم کی دنیا میں لے جائے گی۔ آپ نے اپنی عمر 18 سال بتائی ہے۔ گورکھپور میں آپ کا پتہ بھی دیا ہے۔ میں اسے پبلک میں ڈال رہا ہوں۔ کتنے لوگوں کے خلاف پولس میں شکایت کرتا رہوں گا۔ یہ ٹھیک نہیں۔ پتہ نہیں آپ نے کسی کے بہکاوے میں آکر ایسا بول دیا ہو۔ اس لیے میں نہیں مانتا کہ آپ کو سمجھانے کی کوشش سے زیادہ کچھ کیا جانا چاہیے۔

آپ بہکاوے میں آ گئے ہیں۔ اختلاف ہو سکتا ہے مگر بے حیائی تک مت جائیے۔ آپ کی باتوں میں زہر بھر گیا ہے۔ آپ ہندوستانی ہونا نہیں سمجھتے ہیں۔ میں گورکھپور میں ہوتا تو گلاب جامن لے کر گھر آتا اور آپ کے ماں باپ سے کہتا کہ کچھ لوگ آپ کے رِتک کو فسادی بنانا چاہتے ہیں۔ اسے بچا لیجیے۔ اسے محبت اور مٹھاس کی ضرورت ہے۔

کچھ دن پہلے نِشو پرتاپ سنگھ نے نازیبا زبان کا استعمال کیا تھا۔ میں نے اس کی پوسٹ اور نمبر کا اسکرین شاٹ لے کر اپنے فیس بک پیج پر ڈال دیا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد نِشو نے فون کیا۔ اس کی باتوں میں ایمانداری جھلک رہی تھی۔ وہ غیر مشروط معافی مانگتا رہا تھا۔ اس نے کہا کہا بھی کہ لگتا ہے کہ مجھے اچھے اخلاق نہیں ملے۔ آپ بس معاف کر دیجیے۔ میں نے غلطی کی ہے۔ نِشو کی باتوں سے لگا کہ اسے افسوس ہو رہا ہے۔ میں اس کے بارے میں سب بھول گیا۔ میں بس یہی دعا کروں گا کہ وہ مذہب کے نام پر چل رہے گروہوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہو۔

گریڈیہہ سے ایسے ہی ایک لڑکے نے دھمکی دی اور نازیبا زبان کا استعمال کیا۔ کشش نیوز کے صحافی سنتوش کمار سنگھ نے اپنے شاندار پروگرام میں اس لڑکے کے بارے میں بتایا کہ یہ کپڑے کی دکان پر ہیلپر کا کام کرتا ہے اور ایک تنظیم ’مسلم مکت‘ بھارت کا ضلعی نائب صدر ہے۔ دین دنیا سے انجان اس لڑکے کے دماغ میں زہر بھر دیا گیا تھا۔ سنتوش نے اپنے فیس بک پر لکھا ہے کہ ان کے پروگرام کے بعد دکاندار یونین نے اسے کام سے ہٹا دیا۔ مگر سنتوش جی کی پہل پر اسے پھر سے رکھ لیا۔ اس شرط پر کہ وہ تشدد کی بات کرنے والوں کا ساتھ نہیں دے گا۔

ہم یہی چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو اتنا پیار دیں کہ آپ نفرت کے راستے سے لوٹ آئیں۔ اگر آپ نے اپنی تصویر صحیح لگائی ہے تو یہ بہت افسوسناک ہے۔ کتنے بچے ہیں۔ ایسی زبان ضرور کسی کی شہ پر بول رہے ہیں۔ بھارت کے نوجوانوں کو کوئی بہکا رہا ہے، انہیں بھٹکنے سے بچا لیجیے۔ رِِتک نے فون پر گالیاں ریکارڈ کر کے بھیجی ہیں وہ بھی ڈالنے کی سوچ رہا ہوں۔

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close