آج کا کالم

ریاستوں پر قرض معافی کا دباؤ، مرکز کا قرض معافی سے انکار!

رويش کمار

یہ بھی ایک فیشن بن گیا ہے، لون لیا تو لون وبھر کرو. یہ اس بیان کا حصہ ہے جو مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے ممبئی میں دیا ہے. کسانوں کی قرض معافی فیشن ہو گیا ہے. ممبئی میں یہ بیان دیا ہے کہ کہیں اس سے متاثر ہو کر ان کی پارٹی کے وزیر اعلی دیویدر پھڈنویس قرض معافی کا اپنا فیصلہ واپس نہ لے لیں. کسانوں کی قرض معافی کے لیے فیشن کہنے سے پہلے لگتا ہے کہ انہیں یوپی انتخابات کا دھیان نہیں رہا جب خود وزیر اعظم کہا کرتے تھے کہ ہماری حکومت بنی تو اس کابینہ کی پہلی میٹنگ میں کسانوں کی قرض معافی پر ہوگی اور یہ باقاعدہ بی جے پی کے منشور کا حصہ تھا.

وینکیا نائیڈو کو یہ مشورہ انتخابات سے پہلے دینا چاہئے تھا. یوپی اور مہاراشٹر کے وزیر اعلی کو وہ اب بھی کہہ سکتے ہیں کہ فیشن بند کیجیے. یوپی میں حکومت بنتے ہی قرض معافی سب سے بڑا فیصلہ تھا. مہاراشٹر انکار کرتا رہا لیکن کسان تحریکوں نے وزیر اعلی پھڈنویس کو مجبور کر دیا کہ قرض معاف کریں. پنجاب کو اعلان کرنا پڑا کیونکہ کانگریس نے وہاں انتخابات میں عوام سے وعدہ کیا تھا. پھر کرناٹک سے خبر آئی کہ وہاں بھی فصلي قرض معاف کرنے کا اعلان ہوا ہے. مدھیہ پردیش نے بھی قرض معافی کا ایک منصوبہ بنا کر 1000 کروڑ کا انتظام کیا ہے. 9 سال پہلے 2008 میں یو پی اے حکومت نے قرض معافی  کا اعلان کیا تھا لیکن دونوں میں فرق ہے. 2008 میں مرکزی حکومت نے قرض معافی کی تھی لیکن اس بار ریاستی حکومتیں کر رہی ہیں. وزیر خزانہ جیٹلی نے صاف صاف کہا ہے کہ قرض معافی نہیں کریں گے. ایک حساب سے دیکھتے ہیں کہ یو پی اے کے وقت کتنا اعلان ہوا تھا اور اس وقت کتنے کروڑ معاف ہونے کا اعلان ہو چکا ہے.

– اترپردیش نے 36،359 کروڑ کی قرض معافی  کا اعلان کیا ہے۔

– مہاراشٹر نے 30،000 کروڑ کی قرض معافی  کا اعلان کیا ہے۔

– کرناٹک نے 8،165 کروڑ کی کراپ قرض معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔

– پنجاب میں 21000 کروڑ کی قرض معافی کا اعلان ہوا ہے مگر رزق 1500 کروڑ کا ہی کیا۔

– تلنگانہ نے 17،000 کروڑ کی قرض معافی  کا اعلان کیا ہے

– آندھرا پردیش نے 22000 کروڑ کی قرض معافی  کا اعلان کیا ہے۔

– تمل ناڈو حکومت نے 5،780 کروڑ کے قرض معافی کا اعلان کیا۔

– سات ریاستوں کا مجموعی اسکور ہوتا ہے 140،304 کروڑ روپیہ۔

2008 میں یو پی اے نے 60،000 کروڑ کی قرض معافی کا اعلان کیا تھا. 2016 اور 2017 کی قرض معافی کا مجموعی رقم ہے قریب 1 لاکھ 40 ہزار کروڑ. کہیں بھی مکمل معافی نہیں ہوئی ہے. کہیں اعلان ہی ہوا ہے، کہیں اعلان ہونے کے بعد نصف کام ہوا ہے، کہیں کام چل ہی رہا ہے اور کہیں عمل اتنا پیچیدہ کر دیا گیا ہے کہ اس سے کچھ فائدہ نہیں. بزنس سٹینڈرڈ کی خبر کے مطابق تلنگانہ نے 17000 کروڑ کی قرض معافی کا وعدہ پورا کر دیا ہے. ادھر پردیش نے 22،000 کروڑ کی معافی کا وعدہ کیا تھا مگر فنانشل ایکسپریس کی خبر کے مطابق آدھا پیسہ ہی بینکوں کو دیا ہے. کیا آپ جانتے ہیں کہ کسانوں پر قرض کتنا ہے. ستمبر 2016 میں راجیہ سبھا میں زراعت وزیر مملکت نے بتایا تھا کہ بھارت کے کسانوں پر 30 ستمبر 2016 تک 12 لاکھ 60 ہزار کروڑ روپے کا قرض ہے. ان میں سے 9 لاکھ 57 ہزار کروڑ کا قرض کاروباری بینکوں نے کسانوں کو دیا ہے. 12 لاکھ 60 ہزار کروڑ میں سے 7 لاکھ 75 ہزار کروڑ قرض فصلوں کے لئے لیا گیا ہے. تب پرشوتم روپالا نے کہا تھا کہ حکومت قرض معاف نہیں کرے گی. ریزرو بینک نے کہا ہے کہ اس سے قرض وصولی پر منفی اثر پڑے گا.

12 لاکھ 60،000 کروڑ کا قرض ہے اور سات ریاستوں میں معافی کا اعلان ہوا ہے ایک لاکھ 40 ہزار کروڑ. یہ کتنا ہوا، صرف 12 فیصد. کیا 12 فیصد قرض معافی کا اعلان فیشن ہے.

وینکیا نائیڈو کے بیان میں چار نکات ہیں. پہلی کہ قرض معافی  فیشن ہوتا جا رہا ہے. دوسرا کہ قرض معافی حتمی حل نہیں ہے، یہ کوئی نہیں کہتا کہ قرض معافی آخری حل ہے. تیسری نقطہ یہ ہے کہ کسان کے ہاتھ میں پیسہ کس طرح پہنچے اس کے لئے کیا قدم اٹھایا جائے تو اس کا جائزہ انہیں ہی کرنا چاہئے کہ کیونکہ حکومت ان کی ہے اور حکومت نے قدم تو اٹھائے ہی ہوں گے. چوتھا نقطہ یہ ہے کہ قرض معافی انتہائی سچویشن میں ہونا چاہئے. یہ ایكسٹريم سچویشن یعنی انتہائی حالات یعنی آخری حالت کیا ہے. 22 جون کو مدھیہ پردیش کے دو کسانوں نے خود کشی کر لی.

ساگر کے بساري گاؤں کے کسان گلي كرمي پر 8 لاکھ روپے کا قرض تھا. 11 ایکڑ زمین کے اس کسان کے پاس قرض کی وجہ سے خودکشی کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہونا چاہئے تھی. لیکن قرض چکاتے چکاتے گلي کرمی کے 5 ایکڑ زمین فروخت بھی ہوگئی. جس میں 7 ایکڑ زمین بچی تھی اس پر بھی مهانج کی نظر پڑ گئی تھی. ظاہر ہے کسان قرض سے دبا ہوا تھا اور اپنی زمین نہیں بچا پا رہا تھا. اس پر مرکزی بینک سے ٹریکٹر لون لیا تھا جس کی قسط نہیں دے پا رہا تھا. گلي کی جیب سے ایک سوسائڈ نوٹ بھی ملا ہے. اس خط کو سن کر آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کسانوں کی جان کون لوگ لے رہے ہیں. 3 بچوں کے باپ گلي لکھتے ہیں کہ شنکر بودینيا مہاراج نے دھوکہ دہی سے بےناما کرا لیو. زمین گروی رکھی تھی، سود کی طرف سے رکھی. ہم ان کا سود دیتے رہے، ہمیشہ کرتے رہے، ان کی نیت خراب ہونے لگی. ہمیں جے دھمکی دینے لگے. ہم زمین پر قبضہ کر لیں گے. ایک لاکھ روپے لئے جس سے لکھا پڑھی پیسے کاٹے، ایک لاکھ میں سے کاٹے، باقی 2 لاکھ 50000 روپیہ بچے. ان کا ہمارا حساب ہو چکا تھا پھر بھی جے ہم اور پیسہ مانگ رہے ہیں. جان سے مارنے کی دھمکی دینے کو تیار ہیں. شنکر پتا پرسرام شنکر نے اپنی بیوی کے نام سے لکھا-پڑھی کری تھی، شنکر مہاراج بیوی کا نام كملاباي ہے. دھننالال جان سے مارنے کی دھمکی دینے کو تیار ہے. ہمیں کسی بھی طرح سے پھنسا دیں گے.

سود خور 20 سے 24 فیصد تک سود وصول کرتے ہیں. کسانوں کو ضرورت کا سارا پیسہ بینک سے حاصل نہیں ہو پاتا ہے. مدھیہ پردیش میں 15 دن میں 20 کسانوں نے خودکشی کی ہے. 13 جون کو مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ گزشتہ ایک سال میں صرف چار کسانوں نے قرض کی وجہ سے خود کشی کی ہے. یہ وہی وزیر ہیں جنہوں نے کہا کہ پولیس کی گولی سے کسان نہیں مرے ہیں پھر تین دن کے بعد مانا کہ پولیس کی گولی سے مرے ہیں. 3 مئی کو سپریم کورٹ میں سینٹر نے جو حلف نامہ دیا ہے اس میں بتایا ہے کہ 2015 میں مدھیہ پردیش میں 581 کسانوں نے خود کشی کی تھی. اس میں کہیں نہیں کہا ہے کہ ان کسانوں نے قرض کی وجہ سے خود کشی نہیں کی ہے بلکہ یہی کہا ہے کہ کاشت میں نقصان کی وجہ کی  ہے اور حکومت ان کی آمدنی بڑھانے کی کوشش بھی کر رہی ہے. ہم نے منگل کے پرائم ٹائم میں مدھیہ پردیش کے اپنے اتحادی انوراگ دواري سے پوچھا تھا کہ ان مہاجنوں کے پیچھے ضرور سیاسی طاقت ہوتی ہوگی. اس کی مناسب طریقے سے جانچ ہونی چاہیے کہ کسان کن مہاجنوں سے 20 سے 24 فیصد پر سود لے اور وہ کون لوگ ہیں. کسان بینک سے پریشان ہے یا ان مہاجنوں کے چنگل سے. وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کے سهور ضلع کی تحصیل کا نام ہے، یہاں 22 جون کی صبح 55 سال کے شتروگھن مینا نے سیل پاس کھا کر خود کشی کر لی۔ خاندان کے لوگ ہوشنگ آباد کے نجی ہسپتال بھی لے گئے مگر شتروگھن نے دم توڑ دیا. گھر والوں کے مطابق شتروگھن پر دس لاکھ کا قرض تھا. اپنے کھیت میں بجلی کا مستقل کنکشن لینے کے لئے وہ 22 جون کو تحصیل آفس گئے. وہاں پتہ چلا کہ جس سات ایکڑ زمین کو وہ اپنا مان رہے ہیں وہ ان کے نام نہیں ہے. بس وہاں سے لوٹ کر سیل پاس کھا لی اور خود کشی کر لی. بیٹے کا الزام ہے کہ بی جے پی کے مقامی رہنما ارجن مالویہ نے ان کی زمین ہڑپ لی ہے. بی جے پی کے ترجمان نے تسلیم کیا ہے کہ ارجن مالویہ پارٹی کے لیڈر ہیں مگر الزام کی جانچ پڑتال کرنا چاہئے. ویسے ہمارے ساتھی انوراگ دواري نے ارجن مالویہ سے بھی ان کا بیان لیا ہے.

وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان اگر چاہیں گے تو آسانی سے معلوم کر سکتے ہیں کہ شتروگھن مینا کی زمین کسی نے اپنے نام کی ہے یا نہیں، اگر ہے تو تحصیل آفس میں کون کون لوگ شامل ہیں. ترجمان کا یہ بیان عجیب ہے کہ ارجن مالویہ بی جے پی کے لیڈر ہیں لیکن ان کے بھائی کانگریسی ہیں.

پنجاب کے ترتار میں بھی دو کسانوں نے 22 جون کو خودکشی ہے. ترتار کوٹ سويا کے کسان جوگندر سنگھ اور كھڈور صاحب کے پڑتے گاؤں الول کے کسان دلبیر سنگھ نے خود کشی کر لی. جوگندر سنگھ پر سات لاکھ کا قرض تھا. اس میں پانچ لاکھ قرض بینک کا تھا، دو لاکھ اڑھتي سے لئے تھے اور ڈھائی ایکڑ زمین تھی. دلبیر سنگھ نے بھی رات کو سوتے وقت زہر پی لیا. دلبیر سنگھ نے 4 لاکھ اڑھتي سے لئے تھے. دو لاکھ جالندھر کے دوسرے آڑھتیوں سے لئے تھے. ایک لاکھ بینک کا قرض تھا اور چار ایکڑ زمین تھی. ساٹھ سال کی عمر میں کوئی کسان خودکشی کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کسان انتہائی سچویشن میں ہے.

قرض کی ڈٹیل  بتادی تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ کسان کہاں کہاں سے قرض لے رہا ہے. معافی کتنے کی ہو رہی ہے ایک لاکھ یا دو لاکھ. وہ بھی اعلان ہی ہوا ہے. 22 جون کو چار کسانوں نے خود کشی کی ہے. شیوسینا نے وینکیا نائیڈو کے بیان پر تنقید کی ہے.

نکھل پادھي ہمارے ساتھی ہیں. انہوں نے پنجاب کے فتح گڑھ صاحب کے ریلو گاؤں کے ایک کسان سے بات کی. 35 سال سے کاشت کر رہے ہیں. کہتے ہیں کہ ہر سال قرض بڑھتا ہی جا رہا ہے. کاشتکاری کے اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں. جو قیمت ہے اس کے حساب سے قیمت نہیں مل رہی ہے. خاندان میں پانچ لوگ ہیں. دو بیٹیاں اور ایک بیٹا. سب کی شادی ہونی ہے لیکن شادی کرنے کے پیسے نہیں ہیں. اب وہ کھیتی چھوڑنے کے کے تعلق سے غور کر رہے ہیں. کہتے ہیں کہ اب کاشت کروں گا تو کھیتی ہی کسان کو کھا جائے گی، کسان کیا کھیتی سے کھاتا. 6 بیگھہ کے جوتدار کنول سنگھ پر 4 لاکھ کا قرض ہے.

گزشتہ سال لدھیانہ کے صاحبان گاؤں کے جسوندر سنگھ نے اپنے پانچ سال کے بیٹے کو سینے سے لگایا اور نہر میں کود کر جان دے دی. جسودر پر دس لاکھ کا بینک لون تھا. ڈیڑھ ایکڑ کی زمین تھی. کیا یہ انتہائی سچویشن نہیں ہے. کیا ایسے ایكسٹريم سچویشن والے کسانوں کے دس لاکھ لون معاف کرے گی حکومت؟ کہیں بھی ایک لاکھ یا دو لاکھ سے زیادہ کا لون معاف نہیں ہو رہا ہے. پھر یہ فیشن کیسے ہو گیا.

کئی سال پہلے میں نے رويش کی رپورٹ میں بھیوانی سے ایک رپورٹ کی تھی وہاں کئی ہسپتال ملے جن باہر لکھا تھا زہر کھائے مریضوں کا ہسپتال. آج میں نے بھیوانی سے اپنے ساتھی سے ان ہسپتالوں کی تصویر منگوایی ہے. یہ استپال آج بھی موجود ہیں. ایک ہسپتال کے باہر تو اسپرے بھی لکھا ہے، زہر بھی لکھا ہے. کیا آپ نے سیل پاس کھائے مریضوں کے علاج کے استپال کے بورڈ دہلی ممبئی میں دیکھے ہیں. سیل پاس کھانے کے مختلف وجوہات ہیں مگر ان میں سے ایک کاشت کے اندر اقتصادی بحران کا ہونا بھی ہے. ہندوستان کا کسان جان بھی دیتا ہے اور لاج بھی بچا لینا چاہتا ہے. 2015 کے نیشنل کرائم برانچ بیورو کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ہریانہ میں زراعت کے سیکٹر سے منسلک 162 لوگوں نے خود کشی کی اور 28 کسانوں نے خود کشی کی.

ٹھیک ہے کہ بھارت کی سیاست کو بھروسہ ہے کہ وہ کسانوں کو مذہب اور ذات پات کی سیاست میں بانٹ دے گی اور الیکشن کے وقت کسان خوشی خوشی بٹ بھی جاتے ہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خود کشیاں ہو رہی ہیں. تلنگانہ میں ہر روز چھ کسان خودکشی کرتے ہیں. اسی سال 3 مئی کو مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دیا ہے کہ زراعت کے سیکٹر میں ہر سال 12000 کسان خودکشی کرتے ہیں. ایک سال میں 12،000 کسانوں کا خودکشی کرنا کیا ایكسٹريم سچویشن نہیں ہے. ابھی آتے ہیں راجستھان کی ایک خبر پر. غریب کے ساتھ حکومت ہی اچھا مذاق کرتی ہے.

میں غریب خاندان سے ہوں اور قومی کھانے کی حفاظت ایکٹ یعنی این ایف ایس کے تحت راشن لیتا ہوں. لابارتی راجباي، بیٹے، پربھديال، بی پی ایل نمبر 641941. سرکار کہتی ہے کہ بہت سے لوگ ایسے اس منصوبہ میں شامل ہو گئے تھے جو بی پی ایل کے حقدار نہیں تھے لہذا لکھا گیا ہے. دوسہ ضلع کے اس گاؤں میں اگر آپ آئیں اور کچھ گھروں پر ایسا لکھا دیکھیں تو کیا آپ کے دل کو ٹھیس نہیں پہنچے گی. ٹھیک ہے کہ آپ دہلی ممبئی میں رہنے لگے ہیں لیکن چند عشرے پہلے تک آپ کے گھر میں بھی تو راشن کا سامان آتا تھا، سوچیں کہ حکومت باہر لکھوا دیتی تو آپ کو کیسا لگتا. حکومت اپنے ریکارڈ میں حساب رکھے، غریب کے گھر کے باہر کیوں لکھا گیا ہے کہ میں غریب خاندان سے ہوں اور راشن لیتا ہوں. ہماری ساتھی هرشا کماری سنگھ نے بتایا ہے کہ دوسہ ضلع میں 52،164 خاندان بی پی ایل ہیں یعنی خط افلاس سے نیچے کے لوگ ہیں. حکومت نے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ گھروں کے باہر دیوار پر میں غریب خاندان سے ہوں لکھوا دیا ہے.

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ایسا لکھنا ‘دیوار’ فلم کے اس سین کی طرح ہے جس میں فتح کے ہاتھ پر لکھ دیا گیا تھا کہ میرا باپ چور ہے. اس طرح کا معاملہ تو نہیں ہے، پھر بھی غریب کے گھر کے باہر غریب لکھتے وقت اتنا تو سوچنا چاہئے کہ اس کی بھی کچھ  عزت ہے. غریب کی بھی عزت نفس ہوتی ہے. ایک چیز سمجھ لینی چاہئے کہ سبسڈی خیرات نہیں ہے، نہ ہی بھیک ہے بلکہ یہ حق ہے جسے دیتے وقت حکومتیں پارلیمنٹ میں قانون بناتی ہے، کابینہ میں فیصلہ ہوتا ہے. راجستھان میں راشن کارڈ ہولڈرز کو جب بیس سے شامل کیا گیا ہے تب دیوار پر لکھنے کی کیا ضرورت تھی کہ میں غریب ہوں. پھر آدھار کو بند کروا دیوار پر ہی لکھنا چاہیے کہ میں غریب ہوں اور راشن لیتا ہوں.

یہ رپورٹ 201 ہے ہماری سابق ساتھی روبینہ خان شاپو نے کی تھی. دیوار ہے مدھیہ پردیش کی. یہاں کے گوپال گنج کے گاؤں میں خاندان والوں کی منظوری کے بغیر دیوار پر غریب لکھ دیا گیا ہے. تب بھيكم نے روبينا خان شاپو سے کہا تھا کہ آپ کے گھر کے باہر اس طرح سے لکھا دیکھ تکلیف ہوتی ہے. اب سب کو پتہ چل گیا کہ ہم غریب ہیں. بیٹی کی شادی ہونے میں مشکل آئے گی. جب میڈیا میں یہ بات آئی تو انتظامیہ نے اسے مٹا دیا. مگر سینٹ کے لوگ اس بات سے کافی ناراض ہوئے تھے کیونکہ ان کے ساتھ پہلی بار ایسا نہیں ہوا تھا. 2009 کے سال میں قومی انسانی حقوق کمیشن میں شکایت بھی کی تھی کہ اس طرح کی نشاندہی سے ان کی توہین ہوتی ہے.

راجستھان اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حکومت ہے مگر 2008 میں ہریانہ میں جب کانگریس کی حکومت تھی اس وقت بھی ریاستی حکومت نے فیصلہ لیا تھا کہ بی پی ایل خاندانوں کی دیواروں پر بی پی ایل نمبر پینٹ کرے گی. اس وقت بھی خوب تنازعہ ہوا تھا. راجستھان کے پنچایتی راج کے وزیر نے کہا کہ پچھلی کانگریس حکومت کا 2009 آرڈر تھا اسی کے تحت لکھا گیا ہے. حیرت انگیز 2013 سے راجستھان میں بی جے پی کی حکومت ہے. یہ چوتھا سال ہے اور 2009 کے حکم لاگو ہو رہے ہیں. غنیمت ہے وزیر جی اسے صحیح نہیں مانتے ہیں اور ہٹوانے کی بات کہہ رہے ہیں. ویسے بھی حکومت کے پاس اگر یہی دلیل ہے کہ امیر یا جو غریب نہیں ہیں وہ بی پی ایل کی منصوبہ بندی کا فائدہ لے لیتے ہیں تو ان کے گھروں کی دیوار پر لکھا ہونا چاہئے کہ میں امیر ہوں اور بی پی ایل کی منصوبہ بندی کا فائدہ لیتا ہوں.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close