آج کا کالم

ریلوے امتحان کی عمر 30 سال سے کم کرکے 28 سال کیوں؟

رويش کمار

لاکھوں کی تعداد میں ریلوے کے امتحان دینے والے نوجوانوں کا ہفتہ اور اتوار کا دن اس انتظار میں گزرا کہ کب پیر آئے گا اور کب پرائم ٹائم کی نوکریوں پر چل رہی سیریز میں عمر کا مسئلہ اٹھے گا. طالب علموں کا کہنا ہے کہ اتنے سال کے بعد ریلوے کی ویكینسي آئی اور عمر کی حد 30 سے گھٹا کر 28 کر دی گئی. اس سے تین سے چار سال سے تیاری کر رہے طالب علموں کی نیند اڑ گئی ہے. وہ بہت پریشان ہیں. ان کی تعداد ہزاروں میں ہے. یہ تمام امتحان نہیں دے پائیں گے. ریلوے کے وزیر ان سے ایک بار مل لیں تو پتہ چل جائے گا کہ ان نوجوانوں کا درد کتنا گہرا ہے. 3 فروری 2018 کو سینٹرلائزڈ امپلائيمینٹ نوٹیفکیشن نکلا کیا ہے. اسسٹنٹ لوکو پائلٹ اور اور ٹیکنیشین كیٹگري کے لئے.502 26، عہدوں کی ویكینسي آئی ہے. اس بار فارم بھرنے کی عمر کی حد 30 سے گھٹا کر 28 کر دی گئی ہے. 2014 میں اسی عہدے کے لئے جب بھرتی نکلی تھی تب زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 30 سال تھی.

یہی نہیں، اس بار فارم بھرنے کی فیس 500 روپے رکھی گئی ہے. 2014 میں جب ویكینسي آئی تھی تب فارم بھرنے کی فیس 40 روپے تھی. 40 روپے کا فارم 460 روپے مہنگا ہو گیا جبکہ فارم آن لائن بھرا جا رہا ہے. آن لائن میں تو سستا ہونا چاہئے مگر ہو گیا مہنگا. ہر بار فارم میں لکھا ہوتا ہے کہ سیٹ کی تعداد کم یا بڑھائی جا سکتی ہے، سو اس بار بھی لکھا ہوا ہے. 2015 کے ٹیسٹ میں آخری مرحلے کے بعد 4000 سیٹیں کم کر دی گئی تھیں. ریلوے کے وزیر کو دیکھنا چاہئے کہ عمر کی حد میں دو سال کی کمی کرنے سے نوجوانوں پر کیا اثر پڑتا ہے. یہ مسئلہ تمام ممبران پارلیمنٹ کو بھی ریلوے کے وزیر کے پاس رکھنا چاہئے.

دہلی کے مکھرجی شہر میں مختلف امتحانات کی تیاری کے لئے یہاں کنجی والوں، کتابوں کی دنیا، اخبار اور نیوز چینلز کی دنیا سے مختلف ہے. ریلوے کی امتحان سے متعلق کئی کتابیں ہیں، فارم بک رہے ہیں. یہاں آئیں گے تو ہزاروں کی تعداد میں نوجوان سرکاری ملازمتوں کی تیاری میں لگے ملیں گے. ان کے چہرے پر تیاری کے تئیں ایک جذبہ نظر آتا ہے. کوچنگ چلانے والے بھی کہہ رہے ہیں کہ ریلوے کی جو بھرتی نکلی ہے اس میں زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 30 سال ہونی چاہیے تھی، اسے گھٹا کر  28 سال نہیں کرنا چاہئے تھی. اس سے ہزاروں کی تعداد میں وہ طالب علم باہر ہو گئے ہیں جو کئی سال سے تیاری کر رہے تھے.

ریلوے کی نوکری کے لئے ملک میں کتنے لاکھ نوجوان تیاری کرتے ہیں، ہم اور آپ نہیں جان سکتے ہیں. بکواس ترجمانوں سے ٹی وی کا اسپیس نہ بھرا ہوتا تو آج بھارت کا یہی چہرہ آپ کو ٹی وی پر دیھکنے کو ملتا. ہم نے بہار انتخابات کے دوران آرا شہر میں دیکھا تھا کہ نوجوان کس طرح درخت کے نیچے بیٹھ کر ریلوے کی امتحان کی تیاری کرتے ہیں.

یہ نوجوان کوچنگ کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے تو درخت کے نیچے جمع ہوکر تیاری کرتے ہیں. میں نے اپنی زندگی میں ایسا منظر نہیں دیکھا تھا. آرا کے ایک کالج کی عمارت میں نوجوان سر جھکائے تیاری کر رہے تھے. ہمیں دہلی میں بیٹھ کر پتہ بھی نہیں چلتا ہے کہ ملازمتوں کے لئے بھارت کا نوجوان کس ذہنی، اقتصادی اور سماجی و معاشرتی حالات کا سامنا کرتا ہے. طالب علموں کا کہنا ہے کہ اتنے سال بعد بحالی آئی ہے. ہم سب اس بھرتی کی امید میں کئی ماہ سے تیاری کر رہے ہیں اور اب عمر کی وجہ سے امتحان سے پہلے ہی باہر ہو گئے. ہماری تیاری بیکار ہو گئی. یہ منظر بتاتا ہے کہ نوجوان نوکری کی آس میں اپنی ہڈیاں گلا رہے ہیں. ان کے ساتھ ان کے ماں باپ بھی اپنی کمائی گلا رہے ہیں. آپ جب ان نوجوانوں کے نزدیک جائیں گے تو پتہ چلے گا کہ اس وقت وہ کیا سننا چاہتے ہیں. 2 مارچ 2017 کو میں نے ایک بلاگ لکھا تھا. بلاگ کی بنیاد تھی ٹائمز آف انڈیا میں شائع پردیپ ٹھاکر کی رپورٹ. خبر تھی کہ ریلوے میں دو لاکھ نوکریاں کم کر دی گئی ہیں. اگر دو لاکھ نوکریاں کم ہوں گی تو ان نوجوانوں پر کیا بيتے گی، کیا انہیں بتایا گیا ہے کہ آپ اپنی تیاری نہ کریں، کیوں کہ حکومت نوکریاں کم کرنے والی ہے. میری رائے میں انہیں بتا دینا چاہئے.

2 مارچ 2017 کو میں نے ریلوے کی بحالی پر ایک بلاگ لکھا تھا. تب بہت سے لوگ میرا بلاگ پڑھنے سے پہلے ہی ناراض ہو گئے تھے مگر اب تین چار سال بعد اپنے لکھے کا بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جو لکھا وہ وقت کے مطابق تھا یا نہیں، کتنا درست تھا کتنا غلط تھا. اس بلاگ کی بنیاد تھی اس روز ٹائمز آف انڈیا کے آخری صفحات پر چپکے سے شائع  ہوئی پردیپ ٹھاکر کی رپورٹ. پردیپ نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ 2015 سے 2018 تک ریلوے کی افرادی قوت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی. کیا واقعی ایسا ہوا؟ اس کے لئے ہم نے بجٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کو ہی بنیاد مانا ہے. آپ بھی چاہیں تو بجٹ کا لنک کلک کرکے  یہ اعداد و شمار چیک کر سکتے ہیں. ایكسپینڈچر پروفائل میں حصہ 4- اسٹیبلشمینٹ اینڈ پبلک انٹرپرائزز کے پہلے سیکشن میں جانا ہوگا. ہم نے 2014 کے بجٹ سے چیک کیا ہے. ریلوے میں ملازمتوں کی تعداد 13 سے ہی کم ہوتی جا رہی ہے. 2014 سے لے کر 2018 تک وہی برقرار ہے. ریلوے کی افرادی قوت کی تعداد میں کوئی چینج نہیں ہے.

2014-15 کے بجٹ میں 1 مارچ 2013 تک افرادی قوت تھی-07,109 13

2015-16 کے بجٹ میں 1 مارچ 2014 تک افرادی قوت تھی-,33,966 13

2016-17 کے بجٹ میں 1 مارچ 2015 تک افرادی قوت تھی-13,08,472

2017-18 کے بجٹ میں 1 مارچ 2016 تک افرادی قوت تھی- 13,08,472

2018-19 کے بجٹ میں 1 مارچ 2017 تک افرادی قوت ہے- 13,08,472

تین سال سے ریلوے کی افرادی قوت میں کوئی اضافہ نہیں ہے. ملازمتوں میں کمی یو پی اے کے وقت سے ہی ہونے لگی تھی. 1 جنوری 2014 کو منظور صلاحیت یعنی sanctioned strength تھی 15 لاکھ 57 ہزار. تب بھی 13 لاکھ سات ہزار لوگ ہی کام کر رہے تھے. اس طرح گزشتہ کچھ سالوں میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ ریلوے میں دو لاکھ نوکریاں کم ہوئی ہیں. اعداد و شمار کی بات ہے لہذا بھول چوك کی گنجائش رہنی چاہئے. ریلوے کی ملازمتوں کی تیاری کر رہے طالب علموں کو رہنما ہی جاکر بتا سکتے ہیں کہ آپ تیاری نہ کریں. ریلوے میں دو لاکھ نوکریاں کم کر دی گئیں ہیں. ویسے بھی شفافیت کا زمانہ ہے، رہنما کے منہ سے سن کر کہ دو لاکھ نوکریاں کم ہوئی ہیں، بھارت کا کوئی بھی نوجوان ملک کے مفاد میں کچھ نہیں بولے گا. تالی بجاے گا.

سریش پربھو جب ریلوے کے وزیر تھے تب انہوں نے 12 دسمبر 2014 کو راجیہ سبھا میں ایک بیان دیا تھا کہ ریلوے میں حفاظت سے منسلک 1 لاکھ 2 ہزار عہدے خالی ہیں. مجھے نہیں لگتا کہ اس کے بعد سے لے کر اب تک 1 لاکھ ویكینسي آئی ہیں. ریلوے کے وزیر چاہیں تو دس منٹ میں ٹویٹ کر بتا سکتے ہیں. پھر اس ٹویٹ کو تمام رہنما اپنے علاقے کے نوجوانوں کو پڑھا سکتے ہیں. ریلوے کی ملازمتوں پر مارچ 2017 کے بعد اکتوبر 2017 میں ایک اور بلاگ لکھا. اس وقت تک ریل میں وزیر بدل گئے تھے. سریش پربھو کی جگہ پیوش گوئل آ چکے تھے. ہم نے دیکھا کہ 30 ستمبر کو وزیر ریل بننے کے بعد پیوش گوئل نے روزگار کو لے کر ابھی تک کیا کیا بیان دیے ہیں اور اسے کس طرح چھاپا گیا ہے. کئی بار ہوتا ہے کہ وہی والے ٹاپک کی وجہ ایسے بیانات پر مناسب طریقے سے بحث نہیں ہوپاتی. ایسی خبریں شائع ہوتے ہوتے سنگل کالم سے بھی چھوٹی ہو جاتی ہیں.

29 اکتوبر 2017 کو بیان چھپتا ہے کہ ریلوے پانچ سال میں 150 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گا اور 10 لاکھ اضافی روزگار پیدا کرے گا. یہ اضافی روزگار کیا ہے، کسی کو ٹھوس طریقے سے نہیں پتہ. جب 2013-2018 کے درمیان ریلوے کے افرادی قوت میں کوئی اضافہ نہیں ہے تو کس حساب سے 13 لاکھ افرادی قوت والے ریلوے میں دس لاکھ لوگ اور جڑ جائیں گے. کیا یہ سوچ سمجھ کر دیا گیا بیان تھا یا یوں ہی کہہ دیا گیا اور ہیڈلان چھپ گئی.

1 اکتوبر 2017 کو ریلوے کے وزیر پیوش گوئل کا یہ دوسرا بیان ملا جس میں وہ دعوی کر رہے ہیں کہ ایک سال کے اندر اندر دس لاکھ روزگار پیدا ہو سکتے ہیں. ریلوے کے وزیر ریلوے کی جگہ ریل اكوسسٹم کہتے ہیں. یہ سیدھے سیدھے ریلوے میں جاب نہیں ہوگی مگر ریلوے کے ایکو سسٹم کے اندر اندر ایک سال کے اندر اندر کم از کم 10 لاکھ روزگار پیدا کر سکتے ہیں. پیوش گوئل کو ریلوے کے وزیر بنے ہوئے 5 ماہ ہو گئے ہیں، تو کیا ریلوے کے اكوسسٹم میں 4 لاکھ سے زائد روزگار پیدا ہوئے ہیں؟ اگر 12 ماہ سے کم میں 10 لاکھ روزگار پیدا ہو سکتے ہیں تو 5 مہینے میں تقریبا چار لاکھ 20 ہزار روزگار پیدا ہوا یا نہیں. یا یہ بھی ہیڈلائن بھر کے لئے تھا. ہیڈلائن چھپی، گڈ پھيلگ آئی اور اس کے بعد خبر غائب. یہ خبر سارے اہم اخبارات میں چھپی تھی۔

دس لاکھ روزگار پیدا کرنے کی بات کرتے کرتے ریلوے کے وزیر پیوش گوئل کا یہ بیان بھی عجیب ہے. 7 اکتوبر کے اكونومك ٹائمز اور وائر میں وزیر جی کا بیان چھپا ہے. عالمی اقتصادی فورم میں ایئر ٹیل کے سنیل متل نے کہا تھا کہ بھارت کی 200 بڑی کمپنیاں ہر سال روزگار کم کر رہی ہیں. اگر یہ 200 بڑی کمپنیاں نوکری نہیں دیں گی تو پورے معاشرے کو ساتھ لے کر چلنا مشکل سے مشکل ہوتا جائے گا. تب اس پر پیوش گوئل نے کہا کہ جو سنیل متل نے کہا ہے کہ روزگار کم ہو رہے ہیں وہ ایک بہت اچھا اشارہ ہے. سچائی یہ ہے کہ کل کا نوجوان نوکری تلاش کرنے والا نہیں ہوگا، وہ نوکری دینے والا بننا چاہتا ہے. ملک زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو کاروباری کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے.

نوجوانوں کو ہی سوچنا چاہیے کہ کہیں ان کی سوچ اور حکومت کی سوچ میں فرق تو نہیں آ گیا ہے. حکومت آپ کو کاروباری کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے اور آپ ہیں کہ اس سے کام مانگنے میں ٹائم خراب کر رہے ہیں. ریلوے میں روزگار آ نہیں رہے ہیں اور نوجوان ملازمتوں کی تیاری میں لگے ہیں. حکومت کو بھی ان نوجوانوں کو ای میل بھیج دینا چاہئے کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ نوکری دینے والے بنیں، نوکری مانگنے والے نہیں. ہم سے نوکری نہ مانگیں. ویسے حکومت اپنی یہ بات ہر محاذ پر کہہ رہی ہے کہ ہم نوجوانوں کو جاب سیکر نہیں، جاب گِور بنانا چاہتے ہیں. سیکر یعنی راجستھان والا سیکر نہیں، انگریزی والا سیکر یعنی نوکری مانگنے والا نہیں، نوکری دینے والا بنا رہے ہیں.

امت شاہ اس بار سيرييس ہیں. انہوں نے اس بار وزیر اعظم کے بیان کو جملہ نہیں کہا. انتخابات میں جب ہر ہندوستانی کو 15 لاکھ دینے کی بات پر کشور اجواني نے سوال کیا تو امت شاہ نے کہا کہ وہ جملہ تھا. وزیر اعظم نے جب زی نیوز کے سدھیر چودھری سے کہا کہ پکوڑے تل کر جو 200 روپے کماتا ہے وہ بھی تو روزگار ہے. پتہ نہیں کچھ لوگ کیوں توقع کر رہے تھے کہ امت شاہ اس بار بھی بول دیں گے کہ وہ جملہ تھا. مگر امت شاہ نے اس بار جملہ نہیں بولا. اس کا مطلب ہے کہ پکوڑا تلنے یا تلوانے کو لے کر وہ بہت سنجیدہ ہیں.

لکھنؤ کے کچھ نوجوان نوکری دینے کے لیے نہیں، مانگنے کے لئے لکھنؤ میں جمع ہوئے. ہمارے ساتھی کمال خان کی رپورٹ ہے کہ اکھلیش حکومت کے دوران000 40، لوگوں کے انٹرویو یا تو ہو گئے تھے یا ہونے والے تھے لیکن یوگی حکومت نے آتے ہی خرابی کا الزام لگا کر روک لگا دی. حکومت کو آئے 11 ماہ گزر گئے ہیں، لیکن نہ تو اس کی جانچ ہوئی ہے نہ ہی انہیں نوکری ملی ہے. سیاست نے تین سال تک نیوز چینلز پر ترنگے کو لے کر اتنی بحث کرائی کہ اب نوجوان بھی سمجھ گئے ہیں اس کی طاقت. ان کے ہاتھوں میں ترنگا تھا اور مطالبہ تھا کہ 9 ماہ تک کسی کو ماتحت انتخاب سروس کمیشن کا صدر نہیں بنایا. کورٹ کی پھٹکار بھی لگی.اتنی تاخیر سے ہماری زندگی برباد ہو رہی ہے. یہ وہ کارکردگیاں ہیں جو کبھی میڈیا کی سکرین پر نہیں پہنچ پاتیں، پہنچتی بھی ہیں تو کسی کنارے لگا دی جاتی ہیں.

اگر یہ نوجوان پکوڑے بیچ رہے ہوتے تو آج ان کا پورا دن ایک معمولی کام کے لئے مظاہرہ کرنے میں خراب نہیں ہوتا. ویسے ہمارا فوکس پکوڑے پر نہیں ہے، اس پر ہے ، جس کے لئے انتخاب کمیشن میں لوگ کام کر رہے ہیں، ایک بڑے عملے کے ساتھ وزیر موج کرتا ہے، ان سب کا کیا نتیجہ ہے. پرائم ٹائم کی نوکری سیریز 8 میں ہم نے راجستھان کا حال بتایا تھا. راجستھان میں413 77، بھرتياں کورٹ کی وجہ سے اٹکی پڑی ہیں. بہت سے معاملات میں کورٹ نے تقرری کا حکم دے دیا ہے مگر وہ بھی پوری نہیں ہو رہی ہیں. 2013 سے 2018 کا جنوری گزر گیا. راجستھان پبلک سروس کمیشن نے سینئر ٹیچر ثانوی کے لئے 13 جولائی 2016 کو اشتہار نکالا. بتایا گیا کہ 20 سے 25 نومبر 2016 کے درمیان امتحان لیے جائیں گے لیکن چار چار بار امتحان کی تاریخ بدلی گئی. آخر میں جاکر یہ امتحان ہوتے ہیں جولائی 2017 میں. اشتہار چھپنے کے ایک سال بعد تحریری امتحان ہوتے ہیں. اس کے چھ ماہ بعد نتیجے آتے ہیں مگر وہ بھی دو موضوعات کے. سائنس کے لئے 306 امیدواروں کو کامیاب قرار دے دیا گیا ہے. پنجابی زبان کے لئے 27 امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا ہے. ہندی کے 1269، انگریزی کے 626، سماجی سائنس کے 1531 عہدوں کے نتائج آنے باقی ہیں.

ہر نتیجہ کے بعد کچھ نہ کچھ تنازعہ ہوتا ہے. اس کی وجہ بھی امتحانات لٹکتے ہیں مگر یہ دقت تو یو پی ایس سی کے ساتھ بھی ہے. تو پھر یو پی ایس سی کا کوئی امتحان تین سال کے لئے اٹكتا ہے، کبھی آپ نے سنا ہے. ہم نے پرائم ٹائم کی سیریز آٹھ میں بتایا تھا کہ راجستھان میں413 77، عہدوں کی بھرتیاں کورٹ میں اٹکی پڑی ہیں.800 61، بھرتیاں کانگریس حکومت کے وقت کی ہیں،15613 بھرتیاں بی جے پی حکومت کے وقت کی ہیں. 2013 سے اسکول اسسٹنٹ کے لئے000 33،بھرتیاں نکلی تھیں، ابھی تک تقرری نہیں ہوئی ہے.

اس صورت میں ہم انتظار کر رہے ہیں کہ حکومت فوری کچھ کرے گی. سینئر ٹیچر ثانوی تعلیم کے دو موضوعات کا جو رزلٹ آیا ہے، طالب علموں کو لگتا ہے کہ ہماری سیریز کے وجہ سے کچھ تیزی آتی نظر آرہی ہے.

یہ بہت حوصلہ افزا بات ہے کہ بڑی تعداد میں نوجوانوں نے مجھے حلف نامہ بھیجا ہے کہ وہ ہندو مسلم ڈبیٹ نہیں کریں گے، نہ ہی اس ٹاپک پر کوئی ٹی وی ڈبیٹ دیکھیں گے. امید ہے وہ اپنے حلف پر قائم رہیں گے. کبھی کبھی کوئی بحث ضروری ہو جاتی ہے مگر آئے دن ڈھونڈ ڈھونڈ کر اس پر بحث کرنا ہمارے سماج کے لئے شرمناک بات ہے. اب ہم چند نام لیں گے تاکہ طالب علموں کو اعتماد ہو جائے کہ ان کی شکایات پہنچ گئی ہیں. ایس ایس سی کے کئی محکموں سے بھی ابھی تقرری کا بھروسہ نہیں مل رہا ہے. ٹیکسٹائل کی وزارت کے افسر ذرا ہینڈی كرافٹ محکمہ کے لئے منتخب نوجوانوں کو فوری لیٹر بھیج دیں. کئی جگہ سے پتہ چل رہا ہے کہ لیٹر میں گول مول باتیں ہیں تاکہ معاملہ ٹل جائے. اگر معاملہ ٹلے گا تو ہم نوکری  سیریز اپریل تک کریں گے. ہم نہیں ٹلنے والے ہیں.

نوکریوں پر پر ہماری 12 ویں سیریز ہو گئی ہے. اتنے میل آ گئے ہیں اب ہمیں بھی پوسٹل آفیسر بحال کرنا پڑے گا. بہت سے لوگ تبادلے کو لے کر بھی لکھ رہے ہیں یا ملازمتوں کے تنازعات کو، پلیز ایسا نہ کریں. ہم کوشش کریں گے کہ سب کی بات آ جائے، دیکھتے ہیں.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close