آج کا کالم

ریلوے میں سبھی خالی عہدے نہیں بھرے جائیں گے!

رويش کمار

ریلوے پر پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی کو ریلوے کی وزارت نے کہا ہے کہ اس کا ارادہ سبھی خالی عہدوں کو بھرنے کا نہیں ہے. وہ اپنے اہم کاموں کے لئے عہدوں کو بھرے گي مگر باقی کے کام کے لئے آؤٹ سورسنگ جیسا متبادل دیکھ رہی ہے. یعنی بہت سے عہدے ٹھیکے پر دیے جانے ہیں جن کا کچھ اتہ پتہ نہیں ہوتا ہے. آپ بھی مستقل کمیٹی کی رپورٹ کے صفحہ نمبر 15 پر یہ جواب پڑھ سکتے ہیں.

ریلوے کے وزیر گوئل کو یہ بات طالب علموں سے کہہ دینی چاہئے کہ ہماری پالیسی سارے خالی عہدوں کو بھرنے کی نہیں ہے. ویسے اب سرکاری نوکری بھی معاہدوں کی نوکری جیسی ہو گئی ہے. پنشن نہیں ہے. کم تنخواہ میں کام کے انتہائی گھنٹے یہاں بھی ہیں. تبھی تو منگل کو ریلوے ملازم پرانی پنشن نظام کی بحالی کی مانگ کو لے دھرنا دینے لگے تھے.

لوک سبھا کے موجودہ سیشن میں ہی ریلوے کے وزیر نے تحریری جواب میں کہا ہے کہ ریلوے میں 2 لاکھ 22 ہزار سے زیادہ عہدے خالی ہیں.  کمیٹی کی رپورٹ میں بھی یہی اعداد و شمار ہیں. نوے ہزار عہدوں کی بھرتیاں نکلی ہیں مگر ریلوے میں بھرتيوں کو پورا کرنے کا اوسط وقت دو سے تین سال ہے. اس لیے کب کس وجہ سے یہ پھنس جائے اور پھر سے مجھے 2022 میں بیوقوف بن چکے نوجوانوں پر نوکری سیریز کرنی پڑ سکتی ہے۔ 000 90، بھرتیاں نکلی ہیں مگر خالی عہدوں کی تعداد تو 2 لاکھ 22 ہزار ہیں. باقی کا ایک لاکھ 30 ہزار کب بھریں گے؟ جب 2014 کی طرف سے 2019 کے درمیان کے بوڑھے ہو جائیں گے تب؟ آنے والے وقت میں ہندو مسلم کے نئے نئے ورزن لانچ کئے جانے والے ہیں تاکہ بے روزگاری کا سوال چھوڑ دیں اور مندر کی تعمیر کے خواب میں کھو جائیں.

بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور بے روزگاروں کے غصے سے اپوزیشن کی زبان لپلپا رہی ہے. میری رائے میں غصے کا فائدہ نہ تو حکومت کو ملنا چاہئے اور نہ اپوزیشن کو. غصے میں دیا گیا ووٹ زیرو نتیجہ لا رہا ہے. جسے آپ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں. آپ نوجوانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ آپ کی نوکری جب نہیں نکل رہی تھی تب اپوزیشن نے سوال اٹھایا؟ اس کے لیڈر سڑکوں پر تھے؟ جب حکومت لوک سبھا میں لکھ کر دے رہی تھی کہ پانچ سال سے خالی پڑے عہدے ختم کئے جائیں گے تب اپوزیشن نے پوچھا کہ یہ عہدے خالی کیسے رہ گئے، کیا ان عہدوں کے لئے بھرتیاں نکالی گئیں تھیں؟ حکومت اور اپوزیشن دونوں نوجوانوں کو الو سمجھتے ہیں. کئی بار نوجوان ان کے جھانسے میں آکر اسے صحیح ثابت کر دیتے ہیں.

سست اپوزیشن بھی ایسے سوالات پر ہنگامہ نہیں کرتا کیونکہ ایسی پالیسیاں تو اسی کے دور کی ہیں اور اس کے آنے پر بھی جاری رهیں گي۔ كيا اپوزیشن ان پالیسیوں سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار ہے؟ آپ ایک سوال خود سے پوچھیں؟ کیا آپ کے غصے کا فائدہ انہیں ملنا چاہئے؟ جو ناراضگی آپ کے لئے مواقع پیدا نہ کر سکے، وہ دوسروں کے لئے کیوں کرے؟

27 دنوں تک مسلسل نوکری پر سیریز کرنے کے بعد بھی کسی بھی پارٹی کے مرکزی رہنما نے منتخب کمیشن کی حالت پر کچھ نہیں کہا. کسی کو نوکری نہیں دینی ہے سب  کو بے روزگاری پر غصے کا فائدہ اٹھانا ہے. حکومت اور اپوزیشن کے لیڈروں کا غرور بہت بڑھ گیا ہے. جس کے پاس ہزار ہزار کروڑ معمولی انتخابات میں پھونک دینے کے لئے ہوں ایسے دو کوڑی کے نیتا آپ کی بے روزگاری کے سوال پر رو رہے ہوں گے، مجھے نہیں لگتا. مگر آپ ہی ان کے پھینکے ہوئے ٹکڑے پر سر پر پٹی باندھ کر زندہ باد کرتے ہیں.

لہذا بے روزگاری کے سوال کا جواب تبھی ملے گا جب آپ اپنے سوالات کے تئیں وفادار رہیں گے. اس سوال کو کام کرنے کے بہتر حالات اور سوشل سیکورٹی سے جوڑیں. ہر طرح کی غلامی چل رہی ہے. یہ جن پالیسیوں کی وجہ سے ہے ان میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کا یکساں نظریہ ہے. ان کی ہمدردی آپ کے خواب اور آپ کی بھوک میں نہیں ہے.

آپ نوجوانوں نے دیکھا کہ بینکروں کی کتنی حالت خراب ہے. وہ غلامی کی زندگی جی رہے ہیں. ان کی کمر اور گردن ٹوٹ چکی ہے. وہ فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں کہ بولیں یا روئیں. وہ فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں کہ صرف سیلری زیادہ چاہئے یا اس جھوٹ اور دھوکے سے نجات جو ان پر دباؤ ڈال کر کسانوں اور گاہکوں سے کروایا جا رہا ہے. وہ فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں کہ مر جانے کی حد تک بینک میں کام کرتے رہیں یا سیلري کے ساتھ اس سوال کو بھی اہم بنا دیں.

ان کی حالت پر کئی دنوں سے رپورٹ کر رہا ہوں. کسی اہم رہنما نے نہیں کہا. کیونکہ اصل مسئلہ کے بہانے وہ چاہتے تو ہیں کہ ان کے حق میں ہوا بن جائے لیکن آپ کا بھلا ہو اس کے لئے بولتے نہیں ہیں. اپنی پالیسیاں بدلتے نہیں ہیں. کیونکہ صنعت کاروں کے لئے بینک لوٹے جانے کی چھوٹ سے مستفید وہ بھی رہے ہیں. نتیجہ آج تیرہ لاکھ بینکر غلامی کی زندگی جی رہے ہیں. بینکوں میں لاکھوں عہدے خالی ہیں مگر بحالی نہیں ہو رہی ہے. اس کے لئے کون لیڈر سڑکوں پر آیا ہے؟ انہیں نیتا خریدنے اور ٹکٹ بیچنے کے روزگار سے فرصت نہیں ہے.

گورکھپور اور پھول پور میں کوئی ووٹ دینے نہیں گیا. لوگوں نے گھر بیٹھ کر ٹھیک کیا. بینچ اور اپوزیشن کی فالتو ہوتی جا رہی سیاست کے لئے آپ کب تک لائن میں لگیں گے اور بیوقوف بنیں گے. حکومت بدلتی ہے. سسٹم تبدیل نہیں ہوتا.

کسی نے یونیورسٹی سیریز کی حالت پر نہیں بولا. سب یہی دعا کرتے رہے کہ اسی سے جوان بھڑک جائیں اور اقتدار کی گیند ان پالے میں آ جائے. حالت تو انہوں نے بھی بگاڑي اور نیت اب بھی پرانی والی ہے. حکومت آپ کو غلام سمجھتی ہے کہ آپ جائیں گے بھی تو کہاں جائیں گے. کیا آپ غلام سمجھے جانے سے خوش ہیں؟جیسے آپ کو بیوقوف بنا دیا گیا۔ اسی طرح 18 سال کے پہلے ووٹروں کو تلاش کیا جا رہا ہے تاکہ نئے لوگوں کو الو بنایا جائے.

نوجوانوں کو یہ پانچ سال یاد رکھنا چاہئے. جیسے نیتاؤں نے انہیں گھر بٹھا دیا ویسے ہی پولنگ آنے پر وہ ایک اور دن گھر بیٹھ لیں. نوٹا تو ہے ہی. آپ اپنے مسئلے اور غصے کے تئیں ایماندار رہیں ورنہ پھر کوئی دوسرا بےبایمان آپ کو لوٹ لے جائے گا.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close