آج کا کالم

ریل گاڑی کی بندوق سے انتخابی جنگ

ڈاکٹر سلیم خان

2019 کا قومی انتخاب جیسے جیسے قریب آتا جارہا ہے بی جے پی  کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے خاص طور پر معاشی میدان کا ہر جائزہ روح فرساں ہے۔ یہ لوگ اس قدر حواس باختہ ہو گئے ہیں کہ برکلے میں راہل گاندھی کی  ایک معمولی سی تقریر  کوبی جے پی  کے29 رہنماوں کے ردعمل نے غیر معمولی بنادیا۔ وہ اگر اس کو نظر انداز کرکےاپنے زرخرید میڈیا کو بھی یہی حکم دیتے تو ان کے حق میں بہتر تھا  لیکن ان کی مخالفت نےا سے  سپر ہٹ کردیا۔  اس  طرح  راہل  باباکی قسمت کھل گئی کیونکہ زعفرانی  لفافے کے ساتھ آنے والی ہر خبر کا مقدر شائع یا نشر ہونا تو ہوتا ہی ہے۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنے الزام راہل پر لگائے وہ سب کے سب من و عن  مودی جی پر چسپاں ہوتے ہیں مثلاً جن کے پاس ملک کے اندر کوئی کام نہیں ہے وہ غیرملکی دورہ کرتے ہیں۔  اس میں شک نہیں کہ جب کسی صوبے میں انتخاب ہوتا ہے مودی جی مصروف ہوجاتے ہیں لیکن اگر ایسا نہ ہو تو ان کے پاس دنیا کی سیر کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوتا۔

راہل گاندھی کی تقریر پر دوسرا تبصرہ یہ تھا کہ  جن کی ملک میں کوئی نہیں سنتا وہ باہر لوگوں کو بلا بلا کر سناتے ہیں ۔ یہ تماشہ تو مودی جی کی اپنی ایجاد ہے۔  وہ تو میانمار جیسے شورش زدہ ملک  میں بھی اس ڈرامہ بازی سے باز نہیں آئے اور بہادر شاہ ظفر کی قبر پر ازخود پھول چڑھانے پہنچ گئے۔ سب سے بڑھ کر  الزام یہ لگایا گیا  کہ راہل گاندھی  نے ملک کے باہر قوم کو بدنام کیا ہے۔ یہ الزام لگانے والے بھول گئے مودی جی نے فرانس میں کوئلہ بدعنوانی کا ذکر کرکے اپنے چہرے پر کالک پوت لی تھی ۔ یہ تو وہ بارہا کہہ چکے ہیں  گزشتہ 70 سالوں میں  کچھ نہیں ہوا ۔ مودی جی کایہ جملہ  پہلے ہندوستانی اپنا تعارف کرتے ہوئے شرم محسوس کرتے تھے اور اب (ان کے برسرِ اقتدار  آنے کے بعد) فخر کرنے لگے ہیں تاریخ کا حصہ بن چکا ہے کیونکہ  اس سے بڑی کوئی اور بدنامی نہیں  ہوسکتی ؟

وزیراعظم نریندر مودی کوفی الحال اپنے صوبے گجرات کا غم ستا رہا ہے جہاں انہوں نے یکے بعد دیگرے تین انتخابات میں کامیابی درج کرائی لیکن اس وقت ان کی مخالفت کے لیے مرکزکی کانگریسی حکومت موجود تھی اب وہ نہیں ہے ۔ بی جے پی کی  سب سے وفادار ووٹر پٹیل برادری کسی صورت قابو میں نہیں آرہی ہے  ۔ پچھلے ایک ہفتے میں ان لوگوں نے بی جے پی کے خلاف تین مرتبہ اپنے غم غصے کا اظہار کیا  اور امیت شاہ کا پتلا بھی جلایا ۔  امیت شاہ کی حالت یہ ہے کہ عدالتی سمن سے وہ  بھاگا بھاگا پھر رہا ہے ۔ اپنی ہی  پارٹی کی  سابقہ وزیرمایا کوندانی کو بچانے کے لیے عدالت میں گواہی دینے کی جرأت نہیں کرپارہا ہے ۔مودی جی کے لیے یہ شرم کا مقام ہے کہ 12 سال حکومت کرنے کے بعد وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوجانے کے باوجود انہیں   خود اپنے صوبے میں انتخاب جیتنے کی خاطر جاپانی صدر کی مدد لینے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

 ویسے مودی جی کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتے ۔ دہلی کے صوبائی  انتخاب سے قبل انہوں نے اوبامہ کو بلایا اور بری طرح  ناکام رہے۔ پنجاب میں انتخاب پر اثر انداز ہونے کے لیے فرانس کے صدر ہولنڈی کے ساتھ چنڈی گڑھ میں مارے مارے پھرے وہاں بھی منہ کی کھائی اب احمدآباد میں جاپان کے شنزو آبے کے ساتھ روڈ شو کرتے پھررہے ہیں ۔ اس بار مودی جی خود اپنے ہی شہر میں تنقید و لطائف کا شکار بنے ہوئے ہیں ۔۸ کلومیٹر کے اس تماشے کی بابت  سماجی رابطے کی سائٹ پر کسی نے لکھا ۔ ایک فرد کے استقبال کی خاطر کروڈوں روپئے اور عام آدمی کے لیے سڑک کے گڈھے۔ دوسرے نے طنز کیا احمد آباد تہہ دل سے وزیراعظم آبے کاخیر مقدم  کرتا ہےاور بارش کے باوجود احمدآباد کی سڑکوں کے راتوں رات سدھار میں ان خدمات کا اعتراف کرتا ہے۔

 عوام کے اندر غم غصے کا یہ عالم ہے کہ انہوں نےجگہ جگہ مودی اور آبے کے مشترکہ ہورڈنگ کو مسخ کردیا۔  ایک اور مزاحیہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ کہیں سفر کا منصوبہ بنارہے ہیں تو اسٹیٹ ٹرانسپورٹ میں فون کرکے بسوں کے بارے میں پتہ لگالیں ممکن ہے انہیں  مودی جی کی وکاس برات میں بھیجنے کے لیے منسوخ کر دیا گیا ہو۔  کسی نے لکھا کہ پٹرول کا بھاو 74 روپئے ہوجانے کے بعد وکاس یاترا بولیٹ ٹرین میں سوار ہو گئی ہے۔  بولیٹ ٹرین کے لالی پاپ سے بھی عوام متاثر نہیں ہورہے ہیں ان کا سوال ہے کہ اس میں تو امیر لوگ سفر کریں گے غریب کو کیا ملے گا؟  ویسے انڈین ریلوے آج کل آئے دن پٹری سے اتر رہی ہے۔ پربھو کے بعد گوئل آئے اس کے باوجود دوہفتوں میں 7 حادثات ہوگئے ایسے میں اگر بولیٹ ٹرین پٹری سے اتر گئی تو کیا تباہی مچائے گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اس لیے کہ گولی تو آخر گولی ہی ہے بندوق سے چلے یا انجن سے۔ کچھ لوگوں نے لکھا وکاس کا یہ عالم ہے کہ پہلے مہمانان کی آمد  پرٹھیلے والوں کو ہٹایا جاتا تھا اب دوکانوں تک کو بند کروادیاجاتا ہے۔ ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے اچانک راتوں رات احمدآباد کی سڑکوں سے مویشیوں کے غائب ہوجانے پر تعجب کا اظہار کیا لگتا ہے۔  کوئی بعید نہیں کہ اس بار بی جے پی کے رائے دہندگان بھی ان لاوارث مویشیوں کی مانند یا گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوجائیں ۔

گجرات کے دارالخلافہ احمدآباد میں جب بولیٹ ٹرین پروجیکٹ کی سنگ بنیاد رکھی جارہی تھی اس  وقت گجرات اور مہاراشٹر کی سرحد پر غریب ادیباسی اس کے خلاف اپنی زمین چھن جانے کے خوف سے  سیاہ جھنڈوں کے ساتھ احتجاج کررہے تھے ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں بچوں کو آکسیجن دینے کے لیے سرمایہ مہیا نہیں ہوتا یہ ایک لاکھ کروڈ کے خرچ سے بنائی جانے والی ریلوے سراسر حماقت ہے۔آئی آئی ایم احمدآباد کے مطابق  یہ پروجیکٹ پہلے دن سے خسارے میں چلا جائیگا اس لیے کہ اس کی معاشی کامیابی کے لیے اسے کم ازکم دس چکر لگانے ہوں گے ۔ اتنی مہنگی ٹکٹ  لے کرسال بھر اتنے سارے مسافر کہاں سے آئیں  گے ؟ بولیٹ ٹرین کی تکنیک امریکہ  کو بیچنے  کی ساری جاپانی کوششیں ناکام ہوگئیں لیکن ہائے افسوس کہ انہیں ہندوستان کی شکل میں ایک احمق گاہک مل گیا ۔ مودی جی شاید نہیں جانتے کہ بولیٹ ٹرین کا منصوبہ کوئی چائے کی دوکان نہیں ہے کہ اگر نہیں چلی تو  اسے بند کرکے پان کا باکڑہ لگالیا۔ سرکاری خزانے سے ایک لاکھ کروڈ روپیہ خرچ کرنےکے بعد مودی جی تو جھولا اٹھائیں گے اور چلے جائیں لیکن یہ سفید ہاتھی نہ جانے کب تک ملک کے غریب  عوام کو روندتا رہے گا ۔

مودی بھکت یہ کہتے ہیں کہ وزیراعظم نے بہت کم سود پر قرض لے لیا ہے لیکن وہ بیچارے نہیں جانتے کہ جاپان میں ہر ایرا غیرا نتھو خیرا اسی شرح پر قرض لیتا ہے۔ وہاں کے بیوپاری مال میں منافع کماتے ہیں اور مودی جی جو 24 گاڑیاں جاپان سے منہ مانگی قیمت پر  خرید رہے ہیں جاپانیوں کے تو اسی میں وارے نیارے ہوگئے ہیں ۔ مودی جی کا وعدہ تھا کہ وہ باہر سے سرمایہ ملک کے اندر لائیں گے جس سے یہاں کی آبادی کو روزگار ملے گا لیکن اب ان کی گاڑی مخالف سمت میں دوڑ رہی ہے۔ وہ ہندوستان کا سرمایہ دوسرے ملکوں کو بھیج رہے ہیں ۔ یہ ایک لاکھ کروڈ پچاس سال میں صحیح ملک سے باہر جائیں گے ۔ اس پروجیکٹ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں سارا کام جاپانی کریں گے اس لیے ہندوستانیوں کو روزگار بھی نہیں ملے گا۔  اس کے باوجود مودی جی یہ ریل کی گولی سے گجرات کے رائے دیندگان کو اغواء کرنے میں کامیاب ہوجائیں  تو ماننا پڑے گا جیسا مالک ویسا گھوڑا کچھ نہیں تو تھوڑا تھوڑا۔ آئندہ انتخاب دراصل گجرات کی عوام کی عقل امتحان ہے کہ وہ کتنی مرتبہ اس بازیگر کے جھانسے میں آتے ہیں اور ایک سوراخ سے ڈسے جاتے ہیں ؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close