آج کا کالم

زندہ ہیں ایک عمر سے دہشت کے سائے میں

ڈاکٹر سلیم خان

سارا ملک پریشان ہے کہ آخر مہاراشٹر کی سرکار نے حقوق انسانی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ کارکنان  کے گھروں پر چھاپہ مارنے کی اوٹ پٹانگ حرکت  کیوں کی ؟ حیرانی کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح اپنے پیر پر کوئی  کلہاڑی نہیں مارتا  اور پھر دیویندر فردنویسسے یہ حماقت کیسے سرزد ہوسکتی ہے  جن کی پرورش سنگھ کے گڑھ ناگپور میں  آر ایس ایس کے زیرسایہ ہوئی ہے۔ ممبئی میں بیٹھے دیویندر دہلی کے نریندر کو اعتماد میں لیے بغیر اتنا دلندراقدام نہیں کرسکتے اورنریندر مودی  تو عصر حاضرکے  آریہ بھٹ  ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ  میدانِ جنگ میں شکست وریخت  کی انتہا ہوتی ہےمگرآغاز کماندارکے قلب و ذہن سے ہوتا ہے۔خوف و عدم تحفظ کا احساس  حکمرانوں کو اندر ہی اندر کھوکھلاکردیتا  ہے۔ خود اعتمادی کے فقدان سےقوت فکر وعمل مفلوج ہوجاتی ہے ۔ دماغ کام کرنا بند کردیتا ہے  اورپھروہی سب سرزدہونے لگتا ہے جو بی جے پی کی مرکزی اور صوبائی حکومتیں کررہی ہے۔

بی جے پی نے اپنی  حالیہ  حرکت سے کانگریس کی پیشانی پر لگا ایمرجنسی کا کلنک دھودیا ہے۔ ہر دانشور یہ کہنے پرمجبور  ہے کہ ایمرجنسی جیسی بھی تھی کم از کم دستوری  فیصلہ تھا۔ لاکھ زیادتیاں کے باوجود  اس کے حدود و قیود تو طے تھے یعنی جبر و استبداد کی حد مقرر تھی۔ یہ بلا  اعلان ایمرجنسی تو شتربے مہار کی مانند جہاں چاہتی ہے جیسے چاہتی ہے منہ مارتی پھر تی  ہے۔ اس کانمونہ معروف  صحافی  گوتم نولکھا اور وکیل  سدھا بھاردواج کی  گرفتاری میں  دیکھیں۔  گوتم کے معاملے میں جس ایف آئی آرکی بنیاد پرگرفتاری کی  اجازت دی  وہ مراٹھی زبان میں تھی۔ اس کا ہندی یا انگریزی ترجمہ تک کرنے کی زحمت  بھی گوارہ نہیں کی گئی تھی۔ اس کے باوجوددہلی میٹر پولیٹن مجسٹریٹ منیش کھرانہ  نے بغیر پڑھے اور سمجھے اس پر مہر ثبت کردی اور نتیجے میں ہائی کورٹ کو ان کے کان اینٹھتے ہوئےکہا اس معاملے میں عقل سے کوئی کام نہیں لیا گیا۔ کھرانہ  نے وہ نہیں کیا جو ان کو کرنا چاہیے تھا۔  یہ بات درست ہے لیکن فی الحال اپنا کام کرکون رہا ہے۔ مودی جی ملک چلانے کے بجائے انتخابی مہم چلارہے اور امیت جی پارٹی چلانے کے بجائےاس کا خزانہ بھر رہے ہیں۔ میٹرو پولیٹن کورٹ تو خیر ادنیٰ عدالت ہے پرشانت بھوشن تو یہاں تک  کہہ چکے ہیں کہ  رافیل بدعنوانی معاملے میں عدالت عظمیٰ کے اندر جانے سے پہلے  سوچنا پڑتا ہے اس لیے کہ وہاں بھیبدعنوانی ہے۔ اس تبصرے سے مودی جی کی چوکیداری کے معیار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

انسانی حقوق کی خاطر اپنی زندگی وقف کرنے والی آئی آئی ٹی کی سابق طالبہ سدھا بھاردواج ۲۹ سالوں تک چھتیس گڑھ مکتی مورچہ کے تحت  قبائلی مزدوروں کے حقوق کی خاطرلڑتی رہی ہیں۔ وہ ملک میں  انسانی حقوق کی سب سے بڑی تنظیم  پیپلس یونین فارسول لبرٹیز(پییوسیایل) کیجنرل سکریٹری  ہیں۔ بی جے پی کی صوبائی حکومت  میں انہیں ۲۰۱۴ ؁  کے اندر ہائی کورٹ نے صوبائی قانونی خدمات کمیٹی کا رکن مقرر کیا۔ انہوں نے مودی سرکار کے دوران  ۲۰۱۶ ؁ تک یہ ذمہ داری ادا کی۔ جگدلپور بستر کی زیادتی کے ایک معاملے میں قومی انسانی حقوق کے کمیشن نے گزشتہ سال سدھا بھاردواج کو معلومات جمع کرکے رپورٹ شائع کرنے کی ذمہ داری تفویض کی  اور اچانک  ایک سال کے  بعد وہ ملک کی غدار قرار دے دی گئیں۔ ان پر حکومت کا تختہ الٹنے کا الزام لگاکر انہیں  یو اے پی کے تحت گرفتار کرلیا گیا جبکہ اس کے استبدادی قانون کے  خلاف انہوں نے زندگی بھر جدوجہد کی۔ انہوں نے نہ جانے کتنے  بے قصور لوگوں کو اس کے چنگل سے چھڑایا اور بالآخر خود اس میں پھنس گئیں۔یہ نہایت سنگین صورتحال ہے کہ  کسی معاشرے میں اگر انسانی حقوق کے رکھوالوں کو ہی پابند و سلاسل کردیا جائے عام لوگوں کے حقوق کی حفاظت کون کرے گا؟ بقول جالب ؎

زندہ ہیں ایک عمر سے دہشت کے سائے میں

 لیتے ہیں سانس ظلم کی ظلمت کے سائے میں

بی جے پی کی مہاراشٹر سرکار اس حقیقت کو فراموش کردیاکہ ملک گیر سطح پر ان معروف ہستیوں  پر کمند ڈالنا شہد کی مکھی کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے جیسا تھا۔اس حرکت کا ردعمل ملک گیر پیمانے پر سامنے آیا اور پوری قوم حل گئی۔ اتنے کم عرصے میں ایسا شدید احتجاج کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ ممبئی پریس کلب کی احتجاجی پریس  کانفرنس میں شرکاء کا جوش و ولولہ قابل دید تھا۔ چار بجے سے قبل پورا ہال کھچا کھچ بھر گیا۔ اندرجتنے لوگ  تھے باہر اس سے زیادہ تھے۔ ایک ساتھ اتنے کیمرے پہلی بار جمع ہوگئے تھے۔ درمیان میں جب سپریم کورٹ سے خوشخبری آئی تو پورا ہال تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونج اٹھا۔ ایسا ماحول بھی کبھی دکھائی نہیں دیا کہ پریس کانفرنس کے بعد بھی تقریباً ایک گھنٹہ تک لوگ موجود ہوں ۔  اس حماقت  پر نہ صرف دہلی ہائی کورٹ کے سپریم کورٹ نے  بھی اختلاف کے سیفٹی والو کو بند کرنے پر پریشر کوکر کے پھٹ پڑنے سےسرکار کو خبردار کیا۔ قومی انسانی حقوق کے کمیشن نے مہاراشٹر سرکار کو نوٹس بھیجا۔ اس طرح سرکار نے اپنے خلاف ایک ساتھ کئی محاذ کھول لیے اور اب ہر محاذ پر شکست فاش  اس کا مقدر بن گئی ہے۔

یہودی اور براہمن اپنے آپ کو بہت ذہین سمجھتے ہیں۔ دوسروں کو  مرعوب کرنے کے لیے اپنے متعلق طرح طرح کی  غلط فہمیاں  پھیلاتے ہیں۔ مہاراشٹر کا براہمن وزیر اعلیٰ ہے اگر تھوڑا بھی دماغ استعمال کرتا تو جھارکھنڈ کے اندر پاپولر فرنٹ کی  پابندی کے کالعدم ہونےکے اگلے ہی دن  یہ فاش غلطی نہیں کرتا۔ جھارکھنڈ کی صوبائی حکومت نے ۲۱ فروری ۲۰۱۸ ؁ کو پی ایف آئی پر یہ کہہ کر پابندی عائد کردی  تھی کہ یہ تنظیمداعش سے متاثر ہے۔ ہائی کورٹ  میں جسٹس رنگن مُکھوپادھیائے نے ۲۰ اگست ۲۰۱۸ ؁  کو ریاستی حکومت کی عائدکردہ پابندی کو  ختم کردیا۔عدالت  کے اس فیصلے سے بی جے پی  کے جھارکھنڈی دائیں گال پر طمانچہ پڑا لیکن مہاراشٹر کے بائیں گال نے اسے محسوس نہیں کیا اور ۲۱ اگست ۲۰۱۸ ؁ کو انسانی حقوق کے کارکنا ن کونکسلوادی دہشت گرد قرار دے کر گرفتار کرلیا گیا۔ ہائی کورٹ نے جس طرح غیر آئینی انداز میں  لگائی گئی  پابندی کو غلط ٹھہرایا  اسی طرح پر سپریم کورٹ نے گرفتاریوں پر روک لگادی۔ پاپولر فرنٹ جیسی علاقائی تنظیم پر اگر بے بنیاد الزامات کے تحت پابندی نہیں لگائی جاسکتی ہےتو بین الاقوامی شہرت یافتہ لوگوں کی آواز کو کیسے دبا یا جاسکتاہے ؟ اس معمولی سی بات کو سمجھنے کی عقل بھی  سنگھیوں کے اندر نہیں ہے۔

پرکاش امبیڈکر کے مطابق ان اقدامات کی وجہ سناتن سنستھا کی جانب سے توجہ ہٹانا اور  بھیماکورے گاوں تشدد میں ملوث ایکبوٹے اور بھیڈے کو بچانا ہے۔ یہ الزام  درست لگتاہے  اس لیے کہ مہاراشٹر کے وزیر مملکت برائے داخلہ دیپک کیسر کر ایوان میں اور باہردعویٰ ہےکہ صوبائی حکومت نے دو مرتبہ مرکز سےرابطہ کرکے  سناتن سنستھا پر پابندی کی راہ ہموار کردی ہے لیکن مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ ہنس راج اہیر صاف انکار کرتےہوئےکہتے ہیں مہاراشٹر حکومت سے سناتن پر پابندی کی تجویز  نہیں آئی۔گوری لنکیش قتل معاملہ میں  کرناٹک کی این آئی نے جب  عدالت سے سناتن کے کارکنان کوتفتیش کے لیے طلب کیا تو مہاراشٹر ایس آئی ٹی اپنی حراست کے بہانے انکار کردیا۔ اس سے شبہ ہوتا ہے کہ کہیں یہ گرفتاری مجرمین کو بنگلورو بھیجنے سے روکنے کے لیے نہ ہو۔بعیدنہیں اس کا مقصد گوری لنکیش کے قاتلوں کو قرارواقعی  سزا  سے بچانا ہو۔ موجودہ صورتحال تو یہ ہے کہ سناتن کے چہرے پر لعنت برس رہی ہےاور حقوق انسانی کے کارکنان ہنستے ہوئے گرفتاری دے رہے ہیں بقول حبیب جالب؎

نہ خوف زنداں نہ دار کاغم  یہ بات دوہرا رہے ہیں پھر ہم

 ہماری آزادیوں کے دشمن ہماری کیا رہبری کریں گے

۲۰۱۴ ؁ کے انتخاب  کا بگل بجنے سے قبل ہی کانگریس  اپنی شکست تسلیم کر کے ہاری ہوئی بازی کھیل رہی  تھی۔ گجرات کے وزیراعلیٰ کا منصوبہ واضح تھا۔ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ کے نعرے پر وہ مستعدی سے کاربند تھے۔ رام مندر جیسے اشتعال انگیز موضوعات کے بجائے  کانگریس کی بدعنوانیوں کو نشانہ بنارہے تھے۔ عوام کے بنیادی مسائل مثلاً مہنگائی، بیروزگاری  اور خواتین کی آبروریزی وغیرہ کو اچھال کر ان کو حل کرنے کا یقین دلا رہے تھے۔ اس میں شک نہیں کہ اس انتخابی مہم میں میڈیا کا بھرپور استعمال کیا گیا  لیکن اس غیر معمولی کامیابی کے پیچھے وزیراعلیٰ نریندر مودی کی واضح حکمت عملی، خوداعتمادی اورمحنت و مشقت کارفرما تھی جس  نے انہیں وزیراعظم  کے عہدے پر فائز کردیا۔  مودی لہر مہاراشٹر، ہریانہ اور جھارکھنڈکی انتخابی کامیابی تک جاری رہی   لیکن دہلی میں اس کو پہلا اور بہار میں دوسرا جھٹکا لگا۔ اترپردیش کی کامیابی نے سنبھالادیا مگر گجرات کی شکست خوردہ کامیابی نے پانی پھیر دیا۔ کرناٹک اعتماد بحال کرسکتا تھا لیکن حکومت سازی میں ناکامی نے انتخابی سال میں  مودی جی کو پانچ سال پرانی  کانگریسی تذبذب کا شکار کردیا۔

حکومت کی اس  حالت  کے پس پشت صرف سیاسی وجوہات نہیں  بلکہ معاشی اسباب بھی ہیں۔ نوٹ بندی سے عوام کو جو بے حدو حساب  پریشانی ہوئی  اس کی سب سے بڑی وجہ حکومت کی نااہلی تھی۔ پرانےنوٹ تو بند ہوگئے لیکن نئے چھپے نہیں۔ عوام نے اے ٹی ایم کی قطار میں دم توڑا۔ امیدتھی کہ سارا کالا دھن ڈوب جائے گا اور حکومت اس کی جگہ سفید روپیہ خزانے میں جمع کرلے گی لیکن ریزرو بنک نے بتایا کہ ۳ء۹۹ فیصد روپیہ بنکوں میں لوٹ  آیا۔ تو کیا ملک میں صرف ۷ء۰ فیصد کالا دھن تھا۔ اس بات پر دنیا کا احمق ترین انسان بھی یقین نہیں کرسکتا اس لیے کہ وہ  اپنے گھر دوکان کے لیے کم ازکم ۴۰ فیصد بلیک منی دے چکا ہے۔ رسید کے  نہ بننےپرجو کالادھن بنا  تو وہ آخر وہ کہاں گیا ؟ تو اس کا جواب یہ  ہے کہ مودی جی مہربانی سےکالا دھن   سفید ہوگیا۔

سابق وزیر خزانہ چدمبرم کے مطابق پرانے نوٹوں کےواپس  نہ آنے کی وجہ سے ریزرو بنک کا ۱۶ ہزار کروڈ کا فائدہ ہوا۔ اس کے جواب میں نئے  نوٹوں کی چھپائی پر ۲۱ ہزار کروڈ خرچ ہوگئے۔ چھپائی  کے بعد  پہنچانے میں بے شمار سرمایہ خرچ ہو ا  نیز جی ڈی پی کے گرنے سے جو نقصان ہوا اس کا تخمینہ لگایا جائے تو ۲۵ء۲لاکھ کروڈ ہو جاتا ہے۔ مودی جی کی ایک  حماقت خیز مہم جوئی کی یہ قیمت قوم نے  چکائی۔ اسکے علاوہ  پرانی نوٹوں کو کاٹ پیٹ کر برباد کرنے کے لیے جو محنت و مشقت کی گئی وہ مودی سرکار پر قرض ہے۔ اگر یہی سرمایہ  نئی صنعتوں کے قیام پر لگایا  جاتا تو نہ جانے کتنے بیروزگاروں کو ملازمت ملتی اور کتنے کسان خودکشی کرنے سے بچ جاتے۔ شرد پوار کو یہ کہنے کا موقع بھی نہیں ملتا کہ ہندوستانی تاریخ کی  یہ سب سے زیادہ کسان دشمن سرکار ہے۔

اس نوٹ بندی کے بہت سارے فوائد بتائے گئے تھے  مثلاًاس کے نتیجے میں نقدی کا چلن کم ہوجائے گا۔ آج کے اخبار کی خبر ہے کہ گزشتہ سات سالوں میں فی الحال لوگوں کے گھروں میں نقد سب سے زیادہ ہے اس لیے کہ بنکوں کے اوپر سےعوام کا اعتماد اٹھتا جارہا ہے۔ انہیں خوف ہے کہ نہ جانے کب کون سا بنک کسی نیرو مودی یا وجئے ملیاکی مہربانی سے دیوالیہ ہو جائے اور اس کی جمع پونجی  ڈوب جائے۔ یہ بھی بتایا گیاتھا کہ اس سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے گا۔ آج  بھی کشمیر میں حفاظتی دستوں کے چارجوانوں   کے تابوت کی تصویراخبار میں  ہے اور یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ بدعنوانی کے خاتمہ کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا لیکن سچ تو یہ ہے کہ نوٹ بندی کے دوران دھڑلے کے ساتھ ہزار کی نوٹ ۷۰۰ تا ۸۰۰  روپئے میں بکے۔کیا وہ  فرق  رشوت نہیں تھا اورکیا اس میں سے سیاسی چندہ دے دینے سے وہ پوتر ہوجاتا ہے۔ دیگر خیالی فائدے تو یاد نہیں لیکن ’ میری نیت صاف ہے  اگر  نوٹ بندی ناکام ہوجائے تو۵۰ دن بعد جس چوراہے پر چاہو سولی چڑھا دینا ‘ والا’جملہ ‘ ضرور یاد ہے۔ بھلا ہو امیت شاہ کا کہ انہوں نے سیاسی جملوں کو پرانی نوٹ بنادیا۔

نوٹ بندی نے ہندوستانی معیشت کی کمر توڑ دی اور پھر جی ایس ٹی نے قومی اقتصادیات کا سرپھوڑ دیا۔ اس کے نتیجے میں پٹرول کی قیمت  آسمان پر ہے اور ڈالر کے مقابلے روپیہ کی شرح پاتال میں ہے۔ بیروزگاری کے متعلق مرکزی وزیر نتن گڈکریاپنے من کی بات ریزرویشن مانگنے والو ں سے کہہ چکے ہیں کہ ’’یہ تو بتاو کہ آخر نوکری ہے کہاں؟‘‘  نتن گڈکری کی اس صاف گوئی سے یہ ثابت ہوگیا کہ سیاستدانوں کی زبان سے بھی  نادانستہ  سچ نکل ہی جاتا ہے۔ اس سچ کی پردہ پوشی کے لیے وزیراعظم کو انٹرویو کا ناٹک کرکے بہت سارے اعدادوشمار کی مدد سے یہ ثابت کرنا پڑا کہ ان کا وزیر جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ سیاسی ستم ظریفی ہے کہ یہاں نوٹ بندی کی کامیابی کے جھوٹ پر اصرار کیا جاتا ہے اور بیروزگاری کے  سچ کو جھٹلایا جاتا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہوسکتا انسانی حقوق پر شب خون مارنے کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کیا گیا جب نوٹ بندی سے متعلق ریزرو بنک کی رپورٹ شائع ہونے والی تھی۔ سدھا بھاردواج کی پولس کارروائی مکمل ہوجانے پر بھی ریپبلک ٹی وی کے کیمرہ مین کا انتطار اس بات کا بین ثبوت ہے اسگرفتاری  کا ایک مقصد نوٹ بندی کی ناکامی  سے توجہ ہٹانا بھی تھا۔ یہ گرفتاریاں اگر نہ ہوتیں تو ان میں سے کئی لوگ نوٹ بندی  کے مسئلہ پر مودی جی کی نیند حرام کردیتے۔

بیشتر محاذ پر حکومت کی ناکامی  نے عوام کے اندر زبردست بے چینی پیدا کردی ہے۔ حکومت کو شدید احساس ہے کہ پانچ سال قبل  کانگریس  پرلگائے جانے والے  سارے الزامات  اب لوٹ کر اس پر آگئے ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں گذرتا کہ جب کوئی نئی بدعنوانی سامنے نہ آتی ہو۔ رافیل کے معاملے میں خود وزیراعظم پر ۳۴ہزار کروڈ کے گھپلے کا الزام ہے۔ یہ سودہ نہ تو وزیردفاع نے کیا اور وزیر خارجہ اس میں ملوث تھیں۔ وزیر خزانہ کو اس سے بے خبرتھے۔ جس وقت یہ سودہ طے پایا مودی جی بذاتِ خود انل امبانی کے ساتھ جائے واردات پر موجود تھے  اس لیے وہ اپنا دامن نہیں بچا سکتے۔ خواتین کی حالت جس قدر ابتر آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ عدالتوں میں ایک زلزلہ آیا ہوا ہے۔ کوئی ہفتہ ایسا نہیں گذرتا جبکہ عدلیہ کی جانب سے سرکار کو پھٹکار نہیں لگائی جاتی ہو۔ اسی کے ساتھ شمالی ہندکےتین بڑے صوبوں میں  ریاستی انتخابات منہ کھولے کھڑے ہیں۔ ایک کے بعد ایک جائزہ کانگریسی کامیابی کی پیشنگوئی کررہا ہے۔ ایسے میں اگر مودی جی اور شاہ جی کے اوپر ذہنی دباو نہ آئے تو یہ تعجب کی بات ہوگی۔ انسان جب بہت زیادہ پریشان ہو تو بدحواسی کے عالم وہی سب کرتا ہے جو  فی الحال حکومت کررہی  ہیں۔

مودی جی کے سامنے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیےوہ تمام  حربے موجود ہیں جن کا استعمال وہ گاہے بہ گاہے گجرات کے اندر انتخاب جیتنے کے لیے کرتے رہے ہیں۔ انہوں کبھی مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر اپناالو سیدھا کیا  تو کبھی اپنی جان کو لاحق خطرے کا جھانسہ دے کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کیں۔ کبھی لوگوں کو چمکتا دمکتا گجرات بتا کر ان کے ووٹ خالی کیے تو کبھی  خوشحالی کے  کھوکھلے خواب بیچ کر اپنا کام نکالا۔ اس بارگھبراہٹ کے عالم میں  ان کی سمجھ میں یہ  نہیں آرہا کہ ان میں سے کس کا استعمال  کیا جائے؟  اس لیے کبھی تعمیر ترقی کی بات ہوتی ہے تو  کبھی یوگی جی کے ذریعہ رام مندر کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے؟کبھی مظفر نگر کے فسادیوں کو چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہےتو کبھی بے قصور لوگوں کو ملک گیر پیمانے پر گرفتار کرلیا جاتا ہے اور ان پربغاوت و دہشت گردی سے لے کر مودی جی کے قتل تک کا الزام  جڑ دیا جاتاہے۔ ان گرفتار شدگان میں اتفاق سے کوئی مسلمان نہیں ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ سارے بے قصور لوگ ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اپنے سائے سے خوفزدہ مودی سرکار  ۲۰۱۹ ؁ تک یہ طے نہیں کرپائےگی  کہ اسے  کس بنیاد پر الیکشن لڑنا ہے یہاں تک کہ عوام اس کو سبکدوش کرنے کا فیصلہ سنا دے گی۔ مودی جی کے تذبذب کی اس کیفیت پر    کسی نامعلوم  شاعر کا  یہ شعر(مع ترمیم)  صادق آتاہےکہ ؎

قوت فکر و عمل پہلے فنا ہو تی ہے

 پھرکہیں جاکےحکومت کو زوال آتا ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close