آج کا کالم

زورِ تقریر سے کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کی حماقت

عبدالعزیز

            عام طور پر جو لوگ انتہا پسند ہوتے ہیں ہر مسئلہ میں انتہا پسندی اپناتے ہیں۔ اس احمقانہ طریقہ کار سے مسئلہ حل ہونا تو دور کی بات ہے، مسئلہ میں پہلے سے بھی زیادہ خرابی پیدا ہوتی ہے۔ نریندر مودی یا ان کی فسطائی اور فرقہ پرست جماعت ہر مسئلہ کو فرقہ پرستانہ نقطہ نظر سے دیکھتی ہے اور فسطائیت اور انتہا پسندی کے ذریعہ مسئلہ کو حل کرنا چاہتی ہے۔ جارحیت کو وہ سیاسی حکمت عملی اور سیاسی تدبر سمجھتی ہے۔ جمہوریت کی خامیوں اور خرابیوں کی وجہ سے انتخاب جیت لینا الگ بات ہے مگر حکومت کرنا اور ا س کے تقاضے کو پورے کرنا بالکل الگ بات ہے۔ ایسے انتہا پسند لوگ جب اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہیں تو ان کا نشۂ اقتدار بڑھ جاتا ہے۔ اگر اخلاق اور کردار سے محرومی ہوتی ہے تو طاقت اور اقتدار ان کو جس قدر ملتا ہے اسی قدرت وہ خراب ہوتا جاتا ہے۔ کم ملتا ہے تو کم خراب ہوتا ہے۔ زیادہ ملتا ہے تو زیادہ خراب اور مکمل ملتا ہے تو مکمل خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس وقت سنگھ پریوار یا بی جے پی اقتدار کے نشہ میں چور ہے۔ کشمیر میں حکومت بنانے کا موقع ملنے سے کشمیر اور ہندستان میں رہنے والے دونوں کیلئے نقصان دہ ثابت ہورہا ہے۔ ہندستان بھر میں سنگھ پریوار کی شرپسندیوں اور جارحانہ رویوں سے انسانوں کے اندر تقسیم کا عمل جاری ہے۔ ہندو اور مسلمانوں میں ناخوشگواری، نفرت اور کدورت پیدا کی جارہی ہے۔ جانور سے پیار اور محبت کا ڈھونگ اور ڈرامہ دکھایا جارہا ہے اور انسانوں کی ناحق جان لی جارہی ہے۔ ظلم و جبر اور شیطنت عام ہوگئی ہے۔ قانون کو جب یہ شیطان صفت اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں یہ نہ ہی آئین کو مانتے ہیں نہ حکومت اور عدلیہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جنگل راج کے حامی ہوتے ہیں۔ ان کو حیوانوں سے محبت ہوتی ہے، انسانوں سے نفرت۔

            کشمیر کے سلسلے میں سنگھ پریوار کی انتہا پسندی جگ ظاہر ہے۔ سنگھ پریوار والے کشمیریوں کو نظر انداز کرکے کشمیر کا مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا، فوجی طاقت سے انھیں دبائے رکھنا، ان کی ہر آواز کو علاحدگی پسندی سے تعبیر کرنا، کشمیر کے لوگوں کے رہنماؤں کو علاحدگی پسند قرار دے کر ان سے ہر قسم کے تعلق کو ختم کرلینا، وہ جس سے بات کریں اس سے بھی بات چیت بند کردینا، ایسی انتہا پسندانہ پالیسی ہے جس سے چند مہینوں سے کشمیر کا مسئلہ خراب سے خراب تر ہوتا جارہا ہے۔ جو لوگ بھی احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ان کی انسانی مسئلہ کو غیر انسانی طریقہ سے حل کرنے کی حماقت پرانی ہے، کیونکہ ان کے دل سے ان کی بدبختی کی وجہ سے رحم اور محبت نام کی چیز نکال لی جاتی ہے۔ ان کا طریقہ کار یہودیوں اور صیہونیوں جیسا ہوتا ہے۔ کشمیر میں جس طرح سیکڑوں بے گناہ بچوں کو پیلٹ گن کی گولی سے آنکھوں سے محروم کر دیا گیا اسے یہودی اور اسرائیلی بھی کرنے سے شرماتے ہیں۔

            افسوس ناک صورت حال تو یہ ہے کہ محبوبہ مفتی جو کشمیریوں سے محبت کا راگ الاپتی تھیں جس کی وجہ سے انھیں ووٹ ملا وہ بھی سنگھ پریوار کے چکر میں اپنی رہی سہی عزت کو ذلت میں بدل دینے پر آمادہ ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ وزارت اور حکومت چند دنوں کا کھیل ہے۔ اس کے بعد تو وہ یا ان کی پارٹی کبھی بھی اقتدار تک نہیں پہنچے گی کیونکہ انتہا پسند عناصر سے مل کر انھوں نے حکومت بنائی ہے جو کشمیر کی زمین کے طالب ہیں مگر کشمیریوں کے مخالف اور دشمن ہیں۔ وہ کشمیر کو ہندستان کا اٹوٹ حصہ ضرور کہتے ہیں لیکن کشمیریوں کو اپنا بھائی اور ہندستانی سمجھنے کے بجائے دشمن اس لئے سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں، کلمہ گو ہیں۔ گجرات کے دلتوں کا مسئلہ سامنے آیا تو نریندر مودی نے دلتوں کو بچانے کیلئے اپنے سینے کو پیش کر دیا کہ ان کے پریوار والے انھیں گولی مار دیں مگر دلت بھائیوں کو نہ ماریں۔ یہی نریندر مودی جب محمد اخلاق کو ان کے پریوار والے کو گولی سے اڑا دیئے تو ان کے منہ سے بولی نہیں نکلی۔ گجرات کا مسئلہ کتنا معمولی تھا مگر اس مسئلہ کو سمجھانے کیلئے زمین پر اتر آئے۔ کشمیر کا مسئلہ سلجھانے کیلئے انھیں بلوچستان کا ذکر کرکے پاکستانی حکمرانوں کو کشمیر کے مسئلہ میں مداخلت کا جواز دے دیا مگر مسلمانوں پرکیا بیت رہی ہے اس کا ذکر تک نہیں کیا۔ سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم کا کہنا بالکل درست ہے۔ مودی -مفتی کی کشمیر میں حکومت نے کشمیر کے مسئلہ کو سنگین کر دیا ہے۔ جب تک ان دونوں کی حکومت رہے گی مسئلہ کا حل ممکن نہیں ہوگا۔ مسئلہ بگاڑنے والے مسئلہ حل نہیں کرتے۔ سابق وزیر اعلیٰ جموں وکشمیر عمرعبداللہ کی بات میں بھی وزن ہے۔ ان کی یہ بات سچائی سے قریب ہے اور دل سے لگتی ہے کہ کشمیر میں جو حالات بگڑ گئے ہیں وہ پاکستان کی وجہ سے نہیں  بلکہ کشمیریوں کے غصہ اور رد عمل کی وجہ سے ہے۔ کشمیریوں کے غم و غصے کو زمین پر آکر ٹھنڈا کرنا ہوگا۔ آسمان پر بیٹھ کر حل کرنا مشکل ہے۔ میرے خیال سے پی چدمبرم اور عمر عبداللہ کے سجھاؤ کو اگر حکومت ذرا بھی عقل رکھتی ہے تو تسلیم کرلینا چاہئے اور دونوں کی اعتدال پسندانہ رائے پر فوری طور پر عمل کرنا چاہئے ورنہ حالات بگڑتے چلے جائیں گے۔ No Point of Return بھی ہوسکتا ہے جو ہندستان کیلئے کسی حال میں بہتر نہیں ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close