آج کا کالم

ساکشی سے داتی تک پاکھنڈ ہی پاکھنڈ

ڈاکٹر سلیم خان

کمبھ میلے کی آمد آمد ہے۔ سارے ملک میں پوسٹرس اور بینرس لگا کر  بھکتوں کواس میں شرکت کی دعوت دی جارہی ہے لیکن اس میں شریک ہونے والوں کو سب سے زیادہ خطرہ وہاں موجود  سادھو  سنتوں سے ہے۔ وہ کتنے خطرناک لوگ ہیں یہ جاننے کے لیے  گوگل پر ناگا سادھو لکھ کر کلک کرنا کافی ہے۔  ایسا کرتے وقت احتیاط نہ کیا جائے تو ان کی ایسی تصاویر بھی  منصۂ شہود پر آسکتی ہیں جس سےمحقق کی شخصیت مشکوک ہوجائے۔ کوئی محتاط انسان اگر یہ خطرہ نہیں  مول لینا چاہتا ہوتو  آسا رام باپو  یا داتی مہاراج  ٹائپ کردے۔   اس کو ایسی رونگٹے کرنے والے جرائم پڑھنے کو ملیں گے کہ  ریلوے اسٹیشن پر بکنے والی ساری سچی کہانیاں جھوٹی لگنے لگیں گی۔  ان حکایتوں میں اس کو اگر کسی کوسیاسی بوقلمونی دیکھنی  ہو تو بی جے پی کے رکن پارلیمان ساکشی مہاراج کی سوانح حیات پڑھ لے۔ سنگھ پریوار کے پاکھنڈ کا کچھا چھٹا  کھل جائے گا۔

سادھو تو ویسے ہی خطرناک مخلوق ہے لیکن اگر اس پر سنگھ کا سایہ پڑجائے  تو کریلا نیم چڑھا ہوجاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال یوگی جی ہیں لیکن اشتعال انگیز  بیان دینے میں  وہ اکیلے نہیں ہیں۔  پچھلے دنوں بی جے پی کے رکن پارلیمان ساکشی مہاراج نے یہ  متنازع بیان دے کر ساری دنیا کو چونکا دیا تھا کہ دہلی کی جامع مسجد کو  گرا کر  کھدائی کی جائے تو اندر  سے مندر نکل آئے گا۔  سوئے اتفاق سے تازہ انکشاف یہ  ہوا ہے کہ شمسان بھومی کو   ہڑپ  کرنے کی جانچ پڑتال  کی جائے تو اس کے پیچھے سے ایک  ساکشی مہارا ج نمودار ہوجائے گا۔ یہ رام جنم بھومی کی مانند  کوئی خیالی الزام نہیں ہے  بلکہ ایم پی-ایم ایل اے کورٹ کے خصوصی جج پون کمار تیواری کا فیصلہ ہے۔  تیواری جی نے بڑی حوصلہ مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے  اناؤ کے کمل چھاپ  رکن پارلیمان ساکشی مہاراج اور ان  کے پانچ  ساتھیوں  کے خلاف بھی غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیے ہیں۔ یوگی جی کے قہر  سے بے خوف جج  صاحب نے سبھی ملزمین کو گرفتار کر عدالت میں پیش کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔

ساکشی مہاراج کے خلاف یہ غیر ضمانتی وارنٹ تھانہ کوتوالی نگر ایٹہ میں  جبر سنگھ کی شکایت پر شمسان گھاٹ کی زمین دھوکے سے اپنے نام کرا نے کے مقدمہ میں جاری ہوا۔ اس شکایت کے مطابق ساکشی مہاراج، پریم سنگھ، مکیش کمار، جے پرکاش اور چوکھے لال نے سازش کے تحت شمسان کی زمین اپنے نام کرا لی ہے۔ ابتدائی جانچ کے بعد عدالت میںپولس کے ذریعہ جمع شدہ فرد جرم کو دیکھنے کے بعد اسپیشل جج پون کمار تیواری نے ساکشی  کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کردیا۔ ماہِ مارچ میں ساکشی مہاراج  ایک طرف پارلیمانی انتخاب  کی مہم چلارہے ہوں گے اور دوسری جانب سمشان گھاٹ گھوٹالے میں پولس ان کوتلاش کر رہی  ہوگی۔  ہزاروں لوگ ان کے بھاشن سن رہے ہوں گے مگر پولس کو وہ نظر نہیں آئیں گے کیونکہ زعفرانی عینک سے تو ہرا  ہرا   ہی دکھائی دیتا ہے کچھ اورنظر نہیں آتا۔  ساکشی مہاراج کو افسوس ہے کہ اترپردیش انتخاب سے قبل مودی جی نے بلاوجہ قبرستان کے ساتھ شمسان میں بجلی لگانے کا وعدہ کیا اور یوگی جی نے اس کو پورا کردیا۔  اگر ایسا نہ ہوتا بدعنوانی  کایہ کالا کرتوت  زعفرانی گھٹا ٹوپ اندھیرے میں چھپ جاتا۔

ساکشی مہاراج وہی مہان رکن پارلیمان ہیں جنھوں نے سچا سودہ کے پاکھنڈی بابا رام رحیم کی حمایت میں بیان دیا تھا  اورسیتا پور جیل میں جاکر بانگر مئو کےزانی  بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کی مزاج پرسی کی تھی۔  ان کا اصلی نام سوامی سچدانند ہری ہے۔   ۱۹۹۰ ؁ سے وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر دومرتبہ رکن پارلیمان منتخب ہوئے۔ اس کے بعد  سماجوادی پارٹی میں گئے اور پھر کلیان سنگھ کے راشٹریہ کرانتی پارٹی سے ہوکراپنی مادرِ تنظیم بی جے پی میں لوٹ آئے۔  ۲۰۰۰ ؁ میں ایک کالج کی پرنسپل نے ان پر  دو بھتیجوں کی مدد سے اجتماعی آبروریزی کا الزام لگایا۔  اس جرم کی پاداش میں انہوں نے تہاڑ جیل میں ایک ماہ  قیدوبند کی صعوبت اٹھائی مگر اڈوانی جی نے چھڑا لیا۔

 دس سال قبل ان کی ایک شاگردہ نے ساکشی مہاراج کے خلاف عصمت در کی شکایت کی لیکن یوگی پولس کا کہنا ہے کہ ایسا  کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں  حالانکہ آگے چل کر اس مقدمہ میں بھی ان کے خلاف  وارنٹ جاری ہوا۔ساکشی مہاراج کا نام ۱۹۹۷ ؁ کے  اندر بی جے پی رکن پارلیمان برہم دت دویدی کے قتل معاملہ میں بھی آیا لیکن پارٹی نے انہیں سزا دلانے کے بعد اپنی پارٹی کا ٹکٹ تھما دیا۔  ۲۰۱۳ ؁ میں ان کے بھائی پر اترپردیش  وومن(خواتین) کمیشن کی رکن سجاتا ورما کے قتل کا الزام لگا۔ بدقسمت  سجاتا کو ساکشی نے اپنی بیٹی بنایا تھا لیکن جب اس نے آشرم کے ایک خطہ زمین پر اپنا دعویٰ پیش کیا تو دو ماہ بعد اس کا قتل ہوگیا۔  ساکشی کے بعد آج کل  داتی مہاراج کا چرچہ ہے۔  داتی کے خلاف ان کی ایک شاگردہ نے ۷ جون کو پولس میں شکایت درج کرائی تھی کہ مہاراج نے اپنے تین بھائیوں کے ساتھ نہ صرف عصمت دری کی بلکہ غیر فطری جنسی رشتہ بھی بنایا۔  متاثرہ کے مطابق داتی مہاراج اور اس کے بھائیوں نے دو سال قبل میں یہ گھناؤنا فعل کیا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ  نے پہلے اس معاملے میں سی بی آئی  کو تفتیش کا حکم دیااورسی بی آئی نے سیل بند لفافے میں اپنی اسٹیٹس رپورٹ عدالت کے سپرد کر دی ہے۔ اب چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ پوجا تلوار کی عدالت نے سی بی آئی سے پہلے معاملے کی جانچ کر رہیدہلی کرائم برانچ کی چارج شیٹ کی بنیاد پر داتی مہاراج کے علاوہ ان کے تین بھائیوں اشوک، ارجن اور انل کے خلاف وارنٹ جاری کرکےگرفتاری کی ہدایت جاری کردی ۔    اب داتی کے بچنے کی یہی صورت ہے کہ کچھ دے دلا کر شاہ جی سے ٹکٹ حاصل کرلے۔ ایک بار اس کے ہاتھ میں کمل آگیا تو ساکشی کی طرح  وہ بھی سورکشا کووچ میں آجائیگا اور کوئی اس کا بال بیکا نہیں کرسکے گا۔ ساکشی سے لے کر داتی تک پاکھنڈ ہی پاکھنڈ  کی کہانیاں  آشرم سے لے کر شمسان تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کے ہر موڑ پر ہندو خواتین کا مستحضر ہے لیکن مرکزی حکومت  ان سے آنکھ موند کر طلاق ثلاثہ کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close