آج کا کالم

سرجیکل اسٹرائک پر سیاست ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی

رویش کمار

راجکمار کے تھکے ہوئے مکالموں سے لیس پوسٹر سرجیکل اسٹرائک کا جشن منا رہے هیں ،ایسے پوسٹر تمام شہروں میں لگائے گئے ہیں. جلد ہی انتخابی ریلیوں میں ان پوسٹروں کی زبان بولی جانے لگےگي۔ يہ سیاست نہیں تو کیا ہے؟ اڑی حملے کے بعد سے وزیر اعظم کی چوڑیوں اور سلوار والی تصاویر سے واٹس ایپ کی دنیا بھر دی گئی،اکثر و بیشترلوگ ایسی تصاویر اور لطیفوں کو شیئر کر رہے تھے، وہ سیاست نہیں تھی تو کیا تھی؟ جب حکومت ہند نے کہا کہ جواب دے دیا گیا ہے، دہشت گرد مارے گئے ہیں تب واٹس ایپ پر 56 اینچ کے سینہ والی تصاویر گھومنے لگي پھر سے مودی مودی ہونے لگا، كيا یہ سیاست نہیں ہے؟

 کیا کل جماعتی میٹنگ میں یہ طے ہوا تھا کہ اس پر سیاست نہیں ہو گی؟ کیا اپوزیشن نے ایسی کوئی تحریری یا زبانی یقین دہانی لی تھی؟ ایسا کمزور اور آوٹ  ڈیٹیڈ اپوزیشن ہندوستان کی تاریخ میں کبھی نہیں رہا ہوگا- جب قومی سلامتی پر متحد ہونے کا دعوی کیا جا رہا تھا، کیا اس وقت یہ بھی طے ہوا تھا کہ اس مسئلے پر پوسٹر صرف بی جے پی یا اس کے حامی لگائیں گے اور اپوزیشن کے رکن چپ رہیں گے؟ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی قبول نہیں کرنا چاہتا کہ وہ سیاست کر رہا هےمعاف کیجئے، اڑی کے حملے اور بعد کے جواب کو لے کر کوئی بھجن کیرتن نہیں کر رہا هےسب سیاست ہی کر رہے ہیں-

 اگر حکومت کے وزیر کسی کو یہ ہدایت دیتے ہیں کہ وہ اس معاملے پر سیاست نہ کریں تو پہلے خود بتائیں کہ وہ ایسا کیا کر رہے ہیں، جس سے لگے کہ حکومت یا بی جے پی کے لیڈر اس معاملے پر سیاست نہیں کر رہے ہیں. کیا اس پر عمل پارٹی سے لے کرپارٹی ترجمان کی سطح پر کیا جا رہا ہے؟ اپوزیشن بھی بتائے کہ وہ کس طرح اس معاملے پر سیاست نہیں کر رہی ہے. دونوں ہی فریق اس مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہئے، بول بول کر سیاست کے سوا کچھ اور نہیں کر رہے ہیں.

 اڑی فوج کیمپ پر جب حملہ ہوا تو مودی کے حامی اور مخالف دونوں ایک ہی زبان بولنے لگےدونو ہی حکومت اور سربراہ کا مذاق اڑانے لگےتب بھی پرائم ٹائم اور اپنے مضمون میں کہا تھا کہ یہ عجیب طریقے سے ماحول بنایا جا رہا ہے .کیا حزب اختلاف یہ چاہتی ہے کہ جنگ ہو جس کے لئے وہ وزیر اعظم کو للکار رہی هے، جیسے ہی حکومت نے جواب دیا مخالف اور حامی ایک بار پھر اپنے اپنے خیمے میں جا کر ایک دوسرے کو گالی دینے لگے هیں- سوشل میڈیا کو نازیبا زبان سے بھر دیا گیا- کیا یہ سیاست کا حصہ نہیں ہے؟ کون لوگ ہیں جو فوج کی کارروائی کے نام پر دوسرے تیسرے کو غدار بتا رہے ہیں؟

 اچھا ہے اس مسئلے پر وزیر اعظم چپ ہی رہے لیکن حامیوں اور مخالفین نے محاذ کھول لیا هےحامیوں کی طرف سے اتنے دعوے کئے گئے کہ اپوزیشن کو بھی کچھ دعوی کرنا ہی پڑا .2008 کے ممبئی حملے کے دوسرے ہی دن وزیر اعلی کے طور وزیر اعظم مودی ممبئی پہنچ گئے تھےگجرات حکومت کی جانب سے شہداء کے اہل خانہ کو ایک کروڑ کی رقم دینے کا اعلان کر دیا، اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے قوم کے نام پیغام کی تنقید کی تھي اسي طرح کانگریس کے تمام لیڈر بی جے پی کو ہر انتخابات میں گھیرتے رہے ہیں کہ دہشت گردوں کو گھر تک چھوڑنے والی پارٹی ہے یہ-

 لہذا کسی کو حیران نہیں ہونا چاہئے کہ اس مسئلے پر سیاست کیوں ہو رہی ہے- ہر انتخابات میں دہشت گردی اور قومی سلامتی انتخابی مسئلہ رہا هےظاهر ہے جو اقتدار میں ہیں ان کو جواب تو دینا ہوگا وہ جتنا دیںگے اتنا یا اس سے زیادہ بھی بولیں گے. کانگریس نے اپنے وقت میں سرجیکل اسٹرائک کی تو اسے کس نے روکا تھا کہ تشہیر نہ كرے؟ كيا دنیا کی کسی کتاب میں لکھا ہے کہ تشہیر نہیں کی جا سکتی؟ کیا یو پی اے کے رہنما سی این این بند کر دیتے تھے جب امریکی صدر عراق کو تباہ کرنے والے ہر حملے پر پریس کانفرنس کر جشن منایا کرتے تھے؟ پراني روایت ٹوٹ رہی ہے- یہ نیا دور هے، حزب اختلاف کو نئے دور کے حساب سے سیاست کرنی چاہئے. اگرحزب اختلاف سے سیاست نہیں ہو پا رہی ہے تو اسے کہنا چاہیے کہ وہ نہیں کر پا رہی هے۔ سركار اور بی جے پی کے حامیوں کو بھی کہنا چاہئے کہ وہ سیاست کر رہے ہیں اور اس میں کچھ بھی غلط نہیں هے۔ ورنہ جہاں جہاں راجکمار کے ڈائیلاگ والے پوسٹر لگائے گئے ہیں، اس بی جے پی کے لوگ میونسپل میں شکایت کر ہٹوا دیں۔ پوسٹر ہی لگانا ہے تو وزیر اعظم اور آپ پارٹی صدر کے کسی بیان کا لگا دیں. کیا وزیر اعظم کے ڈائیلاگ کم پڑ گئے کہ بی جے پی حامیوں کو سطحی قوم پرست فلموں سے ڈائیلاگ چرانے پڑ رہے ہیں؟

 تشویش کی بات ہے کہ اس کھیل میں میڈیا قوم پرستی اور فوجیوں کے اعزاز کا سہارا لے کر سیاست کر رہا ہے. جب جنتر منتر پر ہمارے فوجی ایک رینک ایک پنشن کی مانگ کو لے کر کئی دنوں تک دھرنے پر بیٹھے تھے تب یہی وہ میڈیا تھا جو فوجیوں کو ان کے حال پر چھوڑ آیا تھا پولس نے فوجیوں کے میڈل تک پھاڑ ڈالے تھےسب نے تصویریں دیکھی تھیں .اب یہی میڈیا فوجیوں کے اعزاز کے نام پر سوالوں کو کچل رہا هے۔ فوج کی کارروائی پر تمام سوالات کرتے رہے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کیا فوجیوں کی زیادہ تنخواہ کا مطالبہ کرنے کا سوال بھی غداری پر مبنی سوال ہو گا؟ میڈیا جس طرح کا پروپیگنڈہ کر رہا  ہے، لوگوں کو لوگوں سے لڑا رہا ہے، یہ انتہائی تشویشناک هےناظرین اور قارئین اپنے اندر آ رہی اس تبدیلی کو دہائیوں تک نہیں سمجھ پائیں گے کہ چینل انہیں اپنے مفاد کے لئے نفسیاتی بنا رہے ہیں. بدحواسی پیدا کر بتا رہے ہیں کہ آپ کو قوم پرست بنا رہے ہیں۔ روز رات کو ٹی وی چینلز کے ذریعہ شہریوں کو آدم خور بنانے کی لیبارٹری چلنے لگ جاتی هے۔ تماشہ کی بھی حد ہوتی ہے-

 سیاست بری چیز نہیں ہے.کوئی یہ کہے کہ اس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہئے، اس کا مطلب ہے کہ وہ یہ کہہ رہا ہے کہ اس مسئلے پر صرف وہی سیاست کرے گا، باقی تمام تالی بجائیں گے۔ تمام کامیاب قومی لمحوں میں بھی اختلاف رہنا چاہئے۔ ميڈيا کا بڑا حصہ ان اختلافات کو کچلنے کی کوشش کر رہا هےوو خود ایک سیاسی ڈیزائن کا حصہ بن گیا ہے اور وہی زبان بولنے لگا ہے کہ سیاست نہیں ہونی چاہئے- جب بھی حکومت اور میڈیا کی زبان ایک ہو جائے، یہ سیاست کے علاوہ کچھ اور نہیں هے، بلكہ اس سے خطرناک سیاست کچھ اور نہیں ہو سکتی هے۔ عام لوگوں کو اس سے ڈرنا چاہئے- حکومت کی کامیابی عوام کے لئے ہوتی ہے- عوام میں اعتماد بڑھانے کا ذریعہ ميڈيا ہوتا هے۔ میڈیا اس کامیابی کے نام پر حکومت کے تئیں اپنا اعتماد بڑھا رہا ہے. عوام کو آگاہ ہو جانا چاہئے-

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close