آج کا کالم

سرکار ہےکہ بگ بازارہے؟

رویش کمار

جب ملک کے لئے منصوبے بنانے والاادارہ نتی آیوگ کے اہم ایگزیکٹو لکی ڈرا اور بمپر ڈرا بنانے لگیں تو اس بات کا یقین کر لینا چاہئے کہ ایک دن حکومت اپنے منصوبوں کے ساتھ مفت میں ایک کٹوری اور ایک بنیان بھی دے سکتی ہے۔

 نتی آیوگ کا کام ہے کہ سرکاری منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لئے بنیادی خاکہ تیار کرنا، نہ کہ لکی ڈرا کا منصوبہ بنانا۔ میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ نتی آیوگ کے سی ای او اور فلپ كارٹ کے سی ای او ایک ہی زبان اور ایک ہی ٹوٹکا استعمال کرنے لگیں گے۔ بازار اپنی طرف سے یہ سب ٹوٹکے تو کرتا ہی رہتا ہے لیکن اب حکومت بھی کرنے لگی ہے۔ اخباروں کے پہلے صفحے پر فلپ كارٹ ، بگ بازار اور ایمیزون کے لکی ڈرا کے ساتھ ساتھ اب حکومت ہند کے لکی ڈرا کے بھی اشتہارات شائع ہوں گے۔ بنیان کے ساتھچڈی مفت، چھ گلاس کے ساتھ ویم بار مفت، پانچ ہزار کی خریداری کے ساتھ ایک كیسرول، تین ہزار کی خریداری کے ساتھ سو روپے کا گفٹ واؤچر جیسی انعامی اسکیمیں جنرل اسٹور میں جھولتي رہتی ہیں۔ اب وہیں پر حکومت کی بمپر انعامی اسکیموں کے پوسٹر بھی لٹکا کریں گے۔ کوئی کسٹمر کسی سپر مارکیٹ میں كنفيوز ہو سکتا ہے کہ یہ حکومت ہے کہ بگ بازار ہے۔

 حکومت ہند کے نتی آیوگ کے ایگزیکٹو سربراہ نے جمعرات کو کئی قسم کے لکی ڈرا اور بمپر منصوبوں کا اعلان کیا تاکہ کیش لیسلین دین کے لئے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو۔ امیتابھ کانت نے ہی بتایا کہ آٹھ نومبر سے 7 دسمبر کے درمیان ایک ماہ میں پی او ایس یعنی سوائپ مشین سے لین دین میں 95 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ روپے کارڈ سے ادائیگی میں 36 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ای-والٹ سے 271 فیصد، يوپي آئی اور یو ایس ایس ڈی دونوں نے 1200 فیصد کی اچھال درج کی ہے۔ جب عوام خود سے 200 فیصد سے لے کر 1200 فیصد کی شرح سے ان طریقوں کو اپنا رہی ہے تو حکومت انعامی رقم کیوں دے رہی ہے۔ کیا عوام کے سوالوں کو لاٹری کے خواب میں الجھا دینے کے لئے یہ سب ہو رہا ہے۔ جب لین دین کے سارے آپشن بند کر دیے گئے تو یہ سب بڑھنا ہی تھا. اس کے لئے انعامی رقم کی کیا ضرورت تھی؟

 امیتابھ کانت کو بتانا چاہئے کہ 1200 فیصد تک کی پیش رفت کے پیچھے لکی ڈرا کا ہاتھ تھا یا اشتہارات کا۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پرائیویٹ کمپنیوں اور بینکوں کے پروڈکٹ کے اشتہارات چھپے یا سرکاری بینکوں یا سرکاری پروڈکٹ کے؟ کیا ان کی لاٹری اسکیم میں ای والٹ پرائیویٹ کمپنیوں کے پروڈکٹ سے ہوئے لین دین کو بھی شامل کیا گیا ہے؟ کیا پرائیویٹ بینکوں کے پروڈکٹ سے لین دین کو بھی شامل کیا گیا ہے یا صرف سرکاری بینکوں یا حکومت کے پروڈکٹ سے لین- دین کرنے پر ہی ہزاروں لاکھوں نچھاور کئے جائیں گے؟ پالیسی کمیشن کو بتانا چاہئے کہ وہ عوام کے پیسے سے پرائیویٹ کمپنیوں کے پروڈکٹ کی کیوں تشہیر کر رہی ہے؟ پرائیویٹ کمپنیاں اپنے پروڈکٹ کو مقبول بنانے کے لئے انعامی رقم کے منصوبے وقت وقت پر لانچ کرتی ہی رہتی ہیں۔ لاٹری کی ایک شرط ہوتی ہے۔ شررطیں لاگو جلدی جلدی بولے بغیر کسی لاٹری یا انعامی مقابلہ کی تشہیر نہیں ہوتی ہے۔ میڈیا میں سرکاری بمپر ڈرا کے ساتھ شرطیں لاگو کی رپورٹنگ نہیں ہوئی ہے۔ مگر یہ سب کے لئے جاننا ضروری ہے۔ اگر منصوبہ حوصلہ افزائی کرنے کے لئے ہے تو انعام اسے ملے گا جو نوٹ بندی کے بعد پہلی بار کیش لیس لین دین کرے گا یا وہ بھی اس میں شامل ہیں جو زمانے سے کر ہی رہے تھے؟

 پنج سالہ منصوبہ بنانے والے پلاننگ کمیشن کی جگہ نتی آیوگ کو لایا گیا ہے۔ ابھی تک پریس کانفرنس سے لگ رہا تھا کہ کیش لیس چلن کی حوصلہ افزائی کرنا وزارت خزانہ کا کام ہے۔ وزیر خزانہ یا آمدنی سیکرٹری ہی تمام طرح کی چھوٹ کا اعلان کر رہے تھے۔ کب سے کارڈ پر لگنے والی سروس کی فیس کم ہو جائے گی، کب سے آن لائن انشورنس کا پریمیم دینے پر کتنی چھوٹ ملے گی۔ ایسا لگتا ہے حکومت ہند کے پاس چھوٹ کے اعلان کے لئے الگ وزارت ہے اور میگا بمپر ڈرا کے اعلان کے لئے الگ۔ ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ منصوبہ بنانے والی نتی آیوگ کے ذمہ لاٹری اور ڈرا کی ذمہ داری کب آ گئی۔ نوٹ بندی کی وجہ سے ہم سب عام صحافی بزنس صحافت کے میدان میں دھکیل دیے گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہمیں ٹھیک سے نہ معلوم ہو، تو پوچھنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔

 نتی آیوگ کے ایگزیکٹو سربراہ نے 100 دن کے لئے لاٹری اسکیم کا اعلان کیا ہے۔  امیتابھ کانت نے بتایا ہے کہ لکی کلائنٹ منصوبہ کے تحت روزانہ اور ہفتہ وار ڈرا سےانعام جیت سکتے ہیں۔ انہیں ایک کروڑ کا انعام جیتنے کا بھی موقع ملے گا۔ 15000 صارفین ہر روز ایک ہزار کی انعامی رقم جیت سکتے ہیں۔ 25 دسمبر سے لے کر اگلے سو دن تک انہیں ہر دن یہ موقع ملے گا۔ کیا انعامی رقم ٹیکس فری ہوگی؟ عوام کے کئی سو کروڑ روپے انعامی رقم پر خرچ کئے جا رہے ہیں، پھر کئی کروڑ ان کے اشتہارات پر بھی خرچ ہوں گے۔ کمپنی جب ایسا کرتی ہے تو اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ حکومت کو کیا فائدہ ہونے والا ہے؟ اس کی منصوبہ بندی صرف سرکاری پروڈکٹ کا استعمال کرنے والے صارفین کے لئے تو ہے نہیں۔

 سرکاری لکی اور میگا ڈرا منصوبہ کے تحت 7000 صارفین ویکلی ڈرا بھی جیت سکیں گے۔ ویکلی ڈرا میں 1 لاکھ، دس ہزار اور پانچ ہزار کی انعامی رقم رکھی گئی ہے۔ تاجروں کے لئے بھی ہفتہ وار ڈرا ہے۔ 7000 لکی تاجر 50000، 5000 اور 25000 کی انعام ہر ہفتے جیت سکیں گے۔ نوٹ بندی سے ناخوش چل رہے تاجروں کے درمیان ایک لکی تاجر کی نئی قسم پیدا کر دی گئی ہے. یہ لکی تاجر صارفین کے مقابلے میں تھوڑے انلكي ہیں یعنی کم قسمت والے ہیں کیونکہ صارفین کی ہفتہ وار انعامی رقم زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ کی ہے اور کم از کم 5000 روپے کی۔ لکی تاجروں کے لئے زیادہ سے زیادہ ہفتہ وار انعامی رقم آدھی کیوں رکھی گئی ہے یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے؟ کم از کم رقم ڈھائی ہزار ہی ہے۔ تاجروں کے لئے لکی منصوبے کا نام  ڈجی دھن منصوبہ ہے۔ نام مجھے بہت پسند آیا۔ گودھن، استری دھن، جن دھن، کالادھن والے ملک میں ڈجي دھن ایک نئی اصطلاح ہے۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close