آج کا کالم

 سزا بڑھنے سے ٹریفک قوانین کی پاسداری کتنی بڑھے گی

رویش کمار

 2015  میں ہندوستانی سڑکوں پر حادثات میں 146000 سے زیادہ لوگ مارے گئے. یہ تعداد 2014 میں سڑک حادثوں میں ہلاک ہونے والوں سے زیادہ ہے. 2014 میں 139671 لوگ سڑک حادثات میں مارے گئے تھے. 2015 میں چار لاکھ افراد زخمی ہوئے. ہر دن چار سو لوگوں کی موت ہوتی ہے. مرکزی ٹرانسپورٹ وزیر نتن گڈکری نے موٹر گاڑی ترمیمی بل 2016 کا مسودہ تیار کیا ہے جس کے تحت سڑک پر نظم و ضبط توڑنے والوں کو اب پہلے سے زیادہ جرمانہ دینا ہوگا. تاہم اس بل میں پہلے ڈرافٹ کے مقابلے میں جرمانے کی رقم میں بے تحاشہ اضافہ نہیں کیا گیا ہے، پھر بھی کچھ معاملوں میں جرمانہ زیادہ لگتا ہے اور کچھ معاملوں میں ٹھیک ہی لگتا ہے. دوسری بار جرم کرنے پر لائسنس اب منسوخ کر دیا جائے گا. ڈرائیونگ ریفریشر کورس کرنے کے بعد ہی لائسنس واپس ملے گا.

ویلڈ ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے پر اب پانچ ہزار روپے کا فائن ہوگا جو ابھی ایک ہزار روپے ہے. بغیر ویلڈ انشورنس کے گاڑی چلانے پر ایک ہزار روپے کے بجائے دو ہزار روپے کا جرمانہ ہوگا. اوور اسپيڈنگ پر ہلکے مسافر گاڑیوں پر ایک ہزار روپے کا فائن، درمیانے درجے کے مسافر گاڑیوں پر دو ہزار روپے لگیں گے. ابھی اوور اسپيڈنگ پر چار سو روپے جرمانہ کا قانون ہے. شراب کے نشے میں گاڑی چلانے پر اب دس ہزار روپے کا فائن ہوگا جو ابھی دو ہزار روپے ہے.

شراب پر جب دو ہزار روپیہ فائن کیا گیا تھا تب بھی وہ رقم زیادہ تھی لیکن کیا اس سے شراب پی کر گاڑی چلانے میں کوئی کمی آئی. کیا اس قانون کو لاگو کرانے کے لئے کافی تعداد میں شاہراہ سے لے کر تمام شہروں میں ٹریفک پولیس فورس اور سامان موجود ہیں. حکومتیں شاہراہ پر شراب کی دکانیں کھول دیتی ہیں اور شراب پی کر گاڑی چلانے پر فائن بھی بڑھا دیتی ہے. کیا شاہراہ پر اسی طرح چیکنگ نہیں ہونی چاہئے جیسی 31 دسمبر کی رات دہلی یا ممبئی جیسے شہروں میں ہوتی ہے.

ہندوستان میں بہت سے لوگ لاپرواہی اور ڈھٹائی کی وجہ ہیلمیٹ نہیں پہنتے، مگر زیادہ تر لوگ بہترین کوالٹی کا ہیلمیٹ نہیں پہنتے ہیں. دنیا بھر میں دیکھا گیا ہے کہ جہاں غربت ہے یا کمزور طبقے کے لوگ زیادہ ہے، وہاں لوگ ہیلمیٹ پہننے سے بچتے ہیں. اس لئے آپ پورے ملک میں فٹ پاتھ پر گھٹیا قسم کا ہیلمیٹ بکتے دیکھتے ہیں، جو پہننے یا نہ پہننے کے برابر ہی ہے. ہیلمیٹ نہ پہننے پر پہلے سو روپے کا جرمانہ تھا جسے اب 1000 روپیہ کر دیا جائے گا. یہی نہیں تین ماہ کے لئے ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا. بڑی تعداد میں کمپنیاں ڈیلیوری بوائے اور گرلز کو موٹر سائیکل دیتی ہیں. ایسی کمپنیوں پر بھی جوابدہی ڈالی جا سکتی ہے کہ وہ بہترین قسم کا ہیلمیٹ اپنے ملازمین کو دیں ورنہ جرمانہ ان پر ہو جائے گا، ملازم پر نہیں. کیا ایسا قانون ہو سکتا تھا؟

اب اگر سیٹ بیلٹ کے بغیر گاڑی چلاتے پکڑے گئے تو سو روپے کی جگہ ایک ہزار جرمانہ بھرنا ہوگا. یہی نہیں ایمبولینس، فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو جگہ نہ دینے پر دس ہزار کا غراما لگے گا. ٹریفک جام میں ایمبولینس پھنس جائے تو اس کی جوابدہی اس کے آگے پھنسی گاڑی یا جیپ کی ہوگی یا ٹریفک دیکھنے والے انتظامیہ کی ہوگی. دس ہزار روپے کا جرمانہ کم نہیں ہوتا ہے. ویسے عام طور پر لوگ اب ایمبولینس کو لے کر حساس ہونے لگے ہیں. اگلا قانون ہے 18 سال سے کم عمر کا بچہ گاڑی لے کر سڑک پر نکلا تو ماں باپ بھی ذمہ دار ہوں گے. تین سال کی جیل اور 25 ہزار روپے تک کا جرمانہ. گاڑی کا رجسٹریشن بھی منسوخ کیا جا سکتا ہے.

ٹریفک پولیس کی بات نہ مانی تو دو ہزار روپے کا جرمانہ دینا ہوگا. ہمارے ملک میں اسکول وین میں ٹھونس ٹھونس کر بچوں کو لے جایا جاتا ہے. اس سے تحفظ سے سمجھوتہ تو ہوتا ہی ہے مگر اس کا بھی تعلق ہمارے شہریوں کی کمزور اقتصادی صورت حال سے ہے. ایک گاڑی میں زیادہ بچے اس لئے بٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ اس سے ان کا خرچہ کم ہوتا ہے. نئے قانون سے ہو سکتا ہے ایسے طبقے پر بوجھ بڑھ جائے. لیکن تحفظ سے بھی کیسے سمجھوتہ کیا جائے. یہ چیلنج بھی تو ہے.

مسافر گاڑیوں کی اوور لوڈنگ پر فی اضافی مسافر ایک ہزار روپے کا جرمانہ لگے گا. ٹووہيلرس کی اوور لوڈنگ پر 2000 روپے کا جرمانہ لگے گا اور تین ماہ کے لئے لائسنس منسوخ ہو جائے گا. ابھی اگر آپ ایک موٹر سائیکل پر تین مسافروں کو بٹھاتے ہیں تو سو روپے ہی جرمانہ لگتا ہے. ہٹ اینڈ رن کے معاملات میں معاوضے کو 25 ہزار روپے سے بڑھا کر دو لاکھ روپے کرنے کا قانون بنایا گیا ہے. سڑک حادثات میں موت ہونے پر 10 لاکھ روپے تک معاوضے کی فراہمی. نئی ترمیم میں تھرڈ پارٹی انشورنس کے دعوی اور سیٹلمنٹ کے عمل کو آسان بنا دیا گیا ہے. کیا واقعی لوگوں کو دس لاکھ کا معاوضہ ملتا ہے، کتنوں کو ملتا ہے. حکومت کی نیت ٹھیک ہے، بات پالیسیوں میں ہر اقتصادی طبقے کی جگہ ہے.

جرمانہ میں اضافوں سے حادثے کم ہوتے ہیں یا سڑکوں پر ٹریفک پولیس کی موجودگی بڑھانے سے. دہلی میں ہی تقریبا پانچ ہزار ٹریفک پولیس اہلکار ہیں جبکہ ضرورت 10 سے 11 ہزار ٹریفک پولیس اہلکاروں کی ہے. 2100 گاڑیوں پر ایک پولیس والا ہے جو کہ کافی نہیں ہے. اگر دہلی میں ہی کافی تعداد میں ٹریفک پولیس فورس نہیں ہیں تو باقی شہروں کا کیا حال ہوگا.

کیا سڑک حادثے میں ہلاک شدگان لاپرواہ ڈرائیونگ کی وجہ سے ہی مارے جاتے ہیں. مئی کے مہینے میں مرکزی وزیر نتن گڈکری نے شاہراہ سیکٹر کے حصہ داروں کے ساتھ ایک میٹنگ کی تھی. اس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیشہ ڈرائیور کی غلطی نہیں ہوتی ہے. بہت سے حادثوں کے لئے غلط انجینئرنگ بھی ذمہ دار ہوتی ہے. اسی مئی میں شاہراہ سیکٹر کے حصہ داروں کے اجلاس میں مرکزی وزیر گڈکری نے کہا تھا، میں ہدایات دے رہا ہوں کہ جن سڑکوں پر مسلسل حادثے ہوتے ہیں، ان سڑکوں کا ڈی پی آر یعنی پروجیکٹ رپورٹ جن لوگوں نے بنایا ہے انہیں بھی ملزم بنایا جانا چاہئے. میں اسے قانون میں لاؤں گا. کیا مرکزی وزیر نے اپنے نئے قانون میں اسے شامل کیا ہے، کیونکہ اسی تناظر میں منگل کو ‘ہندو’ اخبار میں شائع سجی چیرین کے ایک مضمون کا ذکر کرنا چاہوں گا. چیرین سیو لائیو فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ہیں.

بنگلور میں سڑک کے گڑھے کی وجہ سے ایک بچے کی موٹر سائیکل سے گر کر موت ہو گئی. پولیس نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے انجینئر کے خلاف بھی مقدمہ درج کر دیا. بعد میں این ایچ اے آئی نے اپنے قانون کے سیکشن 28 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس افسر نے اچھی نیت سے کام کیا ہے تو اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکتی ہے. افسر کے خلاف مقدمہ دائر نہیں ہو سکا.

کیا گڈکری این ایچ اے آئی کو ملی اس چھوٹ کو ختم کر دیں گے. کیا انہوں نے خراب روڈ کی وجہ سے انجینئروں پر معاملہ درج کرنے کا قانون درج کیا ہے، بہت دنوں سے سڑک ٹوٹی رہتی ہے، حادثات ہوتے رہتے ہیں، کیا اس کے لئے حکومت یا وزیر کو بک کیا جا سکتا ہے، کیا پتہ اس نے ہی سڑک بننے کی منظوری نہ دی ہو. پولیس کے لئے آسان ہے، ڈرائیور کو مجرم بنا دینا. کئی بار وہ بھیڑ کے دباؤ میں کام کرتا ہے، اس سے پہلے بھیڑ اپنا فیصلہ کر لیتی ہے. اس قانون میں حادثے کے وقت ایسی بھیڑ کے بارے میں کیوں نہیں کچھ ہے، جس کے خوف سے لوگ فرار ہیں اور جس کی جان بچ سکتی تھی وہ مر جاتا ہے. یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ زیادہ فائن سے حادثات کم ہوتے ہیں یا نہیں، شاید ہوتی بھی ہوں گی لیکن اس کا ایک اقتصادی پہلو بھی ہے. گزشتہ سال ستمبر میں جب اس مسئلے پر پرائم ٹائم کیا تھا تب ‘واشنگٹن پوسٹ’ کے حوالے سے امریکہ کی ایک کہانی سنائی تھی. پھر سنانا چاہتا ہوں. یہ کہانی کریمنل جسٹس پر بلاگنگ کرنے والے ریڈلے بالكو نے لکھی تھی.

نکول بولڈن نام کی 32 سالہ  سیاہ فام خاتون ایک دن کار سے کہیں جا رہی تھیں. تبھی سامنے والی کار نے غلط طریقے سے یو ٹرن کیا اور بریک لگانے کے بعد بھی بولڈن کی کار ٹکرا گئی. بولڈن کی کار میں اس کے دو چھوٹے بچے تھے لیکن سامنے کی کار والے نے پولیس بلائی اور بولڈن گرفتار ہو گئیں. بولڈن کے خلاف پہلے ہی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے معاملے میں تین تین وارنٹ جاری ہو چکے تھے کیونکہ معاشی تنگی کی وجہ سے بولڈن جرمانہ نہیں بھر پائی تھیں. ایک وکیل نے بتایا ہے کہ اسے ہم پاورٹی وايلیشن کہتے ہیں یعنی غریبی کے سبب لوگ جرمانہ نہیں دے پاتے. انشورنس کا پریمیم نہیں بھر پائے تو جرمانہ، جرمانہ نہیں دے پائے تو گرفتاری کا وارنٹ. بولڈن نے ایک عدالت میں کسی طرح ضمانت کی رقم تو بھر دی مگر دوسرے وارنٹ میں گرفتار ہو گئیں. ایسے لوگوں کی مدد کرنے والے وکلاء کی تنظیم نے جرمانہ رقم کو 1700 امریکی ڈالر سے کم کرنے کی خوب کوششیں کیں. 1700 امریکی ڈالر مطلب بھارتی روپے میں ایک لاکھ روپے سے بھی زیادہ کی فائن. کسی طرح یہ کم ہو کر 700 ڈالر ہوا یعنی 42 ہزار سے کچھ زیادہ. اس دوران انھیں 1 ماہ سے زیادہ جیل میں رہنا پڑا. وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ جرم نہیں ہے، غلطی ہے.

‘واشنگٹن پوسٹ’ کی رپورٹ کہتی ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ وکیل تک نہیں رکھ پاتے ہیں. سینٹ لوئی کاؤنٹی کی کمائی کا 40 فیصد حصہ جرمانے سے آتا ہے. امریکہ میں حالت یہ ہو گئی ہے کہ بیل بانڈ بھروانے کے لئے کمپنیاں کھل گئی ہیں. باقاعدہ یہ بزنس ہو گیا ہے. ضروری نہیں کہ ہندوستان میں بھی ایسا ہو ہی جائے لیکن فائن کی رقم زیادہ ہونے پر دوسرے مسائل کو درکنار نہیں کر سکتے. کئی جگہوں پر فائن سے بہتری بھی آئی ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close