آج کا کالم

سعودی عرب دباؤ میں

سعودی عرب میں کافی عرصہ سے مخالفوں کی زبان بندی کا سلسلہ جاری ہے اس میں ہر طبقہ کے لوگ ہیں۔

قاسم سید

سعودی حکومت کے ناقد مانے جانے والے معروف صحافی جمال خاشقجی گزشتہ دو اکتوبر کو استنبول میں واقع سعودی قونصل گئے تھے اور پھر وہاں سے واپس نہیں آئے اب تک کوئی سراغ ہاتھ نہیں لگا سعودی حکام کا دعوی ہے کہ وہ باہر چلے گئے تھے جبکہ ان کی ہونے والی ترکی اہلیہ پانچ گھنٹہ تک سفارت خانہ کےباہر ان کی واپسی کا انتظار کرتی رہیں کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے معلوم ہو کہ واقعی اپنے کام سے فارغ ہونے کے بعد وہ چلے گئے تھے۔ اس معاملہ نے اتنا طول پکڑاکہ بین الاقوامی سطح پر چھا گیا۔ دنیا نے اس واقعہ کی سخت مذمت کی ہے امریکہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر ثابت ہوگیا کہ ان کے قتل کئے جانے کی خبر درست ہے اور سعودی حکام کا ہاتھ ہے تو اس کی سخت سزا دی جائے۔ بہر حال اس معاملہ کی پرتیں دھیرے دھیرے کھل رہی ہیں۔ ٹرمپ نے جو سعودی عرب کےبہت ہی محترم اور قابل اعتماد دوست ہیں تیل کی سپلائی کے حوالہ سے دھمکی دے چکے ہیں کہ ہمارے بغیر دو ہفتے تک سرکار میں نہیں رہ سکتے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی محل نظر رہے کہ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کےبعد پہلے غیر ملکی دورہ کے طور پر سعودی عرب کو منتخب کیاتھاجہاں ان کی زبردست پذیرائی ہوئی تھی۔

خاشقجی کے ایشو پر اب دھول نہیں ڈالی جاسکتی ہے چونکہ مبینہ طور پر ان کی گمشدگی ترکی میں ہوئی اس لئے ترکی سرکار بھی تفتیش میں سرگرم ہے اس نے حال ہی میں سعودی سفارتخانہ میں آکر چھان بین کی تھی ان کو شبہ ہے کہ سفارت خانہ کےاندر ان کو قتل کرکے لاش کو ٹھکانے لگا دیا گیا ہے حالانکہ وہ اس الزام کی تردید کررہا ہے، ٹرمپ اپنے خارجہ سکریٹری کو سعودی عرب اور ترکی کے دورے پربھیجا وہ صورت حال کی اصلیت تک پہنچنا چاہتی ہیں لیکن یہ سب اتنا آسان نہیں ہے جو کچھ بھی ہوا ہے وہ پوری منصوبہ بندی اور احتیاط کےساتھ کیا گیا ہے۔ حتی الامکان سراغ مٹادیے گئے ہیں قتل کادعوی اس وقت تک صحیح نہیں مانا جائے گا جب تک ان کی لاش برآمد نہ ہوجائے۔ امریکہ کاکہنا ہے کہ شاہ سلمان اس تعلق سے بے خبرہیں وہ ان کا دماغ نہیں پڑھ سکتے ممکن ہے یہ درست ہو۔ امریکی میڈیا میں ایسی خبریں ہیں پر سعودی عرب نے یہ اعتراف کر لیا ہے کہ تفیش کے دوران جمال کی موت ہو گئی جبکہ ان کو اغوا کئے جانے کا منصوبہ تھا۔ ترکی کے حکام نے گرچہ سفارت خانہ کی چھا ن بین کی ہے لیکن یہ بھی کہاگیا ہے کہ ان کی آمد سے کافی پہلے صفائی ملازمین کو عمارت کے اندر جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ یوروپی یونین کی پالیسی امور کے سربراہ فیڈریکا موگھیرنی نےمطالبہ کیا ہے کہ ہمیں اپنے سوالوں کا جواب چاہئے ہمیں شفافیت کی امیدہے تمام ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ سعودی عرب اور ترکی مل کر پورے معاملے کی تفتیش کریں۔

اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک صحافی کی پر اسرار گمشدگی یا قتل کئے جانے کے شبہ نے معاملہ کو کتنا نازک بنادیا ہے۔ سعودی عرب میں کافی عرصہ سے مخالفوں کی زبان بندی کا سلسلہ جاری ہے اس میں ہر طبقہ کے لوگ ہیں۔ خاص طور سے شہزادہ محمد بن سلمان کےکمان سنبھالنے کے بعد سے ایسےواقعات میں اضافہ ہوگیا۔ اب جبکہ انسانی حقوق کامعاملہ حد درجہ حساس ہوگیا ہے سعودی عرب کی جانب سے ایسے کسی قدم کی امید نہیں کی جاتی مگر اسے کیا کہئے کہ بیشتر اسلامی ممالک میں جمہوریت کا فقدان تو ہے ہی انسانی حقوق کی پامالی عام بات ہے حتی کہ اظہار رائےکی آزادی عملاجرم ہے۔ وہاں جلسہ جلوس کے بارے میں تو سوچابھی نہیں جاسکتا۔ سعودی عرب بھی ان میں شامل ہے۔ نئے ولی عہد نے سابق تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ان کے دور میں جید علما پر بھی ہاتھ ڈالا گیاہے لیکن یہ معاملہ بہت ہی بھاری پڑنے والا ہے۔ یہ گھریلو مسئلہ نہیں ایک صحافی کے ناطے جمال خاشقجی کی اپنی شناخت تھی۔ ان پر آسانی سے پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

قاسم سید

معروف صحافی اور روز نامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر

متعلقہ

Close