آج کا کالم

سلامتی اجنسیوں کا سیاسی استعمال ملک کی داخلی سلامتی کےلئے خطرہ

9 ستمبر 2008 کو مالیگاوں مسجد کے باہر ہوے بم دھماکوں کے ملزمین سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، کرنل پروہت اورسوامی اسیمانند جیسے لوگوں پر سے این آئی اے نے مکوکا کے الزامات واپس لے لیے ہیں، حالانکہ اس سے قبل سپریم کورٹ کے حکم پر ہی یہ الزامات عائد کیے گئے تھے کہ اورانھیں کے تحت تحقیقات کی جارہی تھی لیکن اس سال فروری کے مہینے میں ہی این آئی اے نے یہ واضح کردیا تھا کہ وہ ان ملزمین کے خلاف مکوکا کے الزامات کو ثابت نہیں کرسکی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ گزشتہ سرکار میں سوامی اسیمانند جیسے لوگوں کے اقبالی بیانات اورزائد از 19 گواہان کے بیانات کی روشنی میں مکوکوکے الزام عائد کیے گئے تھے لیکن سرکار کے بدلتے ہی پہلی خبر یہ سننے کو ملی کہ این ڈی اے حکومت پبلک پروسکیوٹر کو ہدایت دے رہی ہے کہ اس معاملے میں وہ نرم رویہ اختیار کرے جس پر اس وقت کے پبلک پروسکیوٹرروہنی سالیان نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے یہ کیس لڑنے سے انکار کردیاتھا۔مئی 2014 میں مکل روہتگی کو این ڈی اے گورنمنٹ نے اٹارنی جنرل مقررکردیاتھا، انھوں نے بھی چارج لیتے ہی یہ بیان دیاتھاکہ ان ملزمان کے خلاف مکوکا نہیں لگایاجاسکتا۔ یہ واضح رہے کہ سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد کے ساتھ وابستہ رہے ہیں اورگزشتہ آٹھ سال سے مالیگاوں بم بلاسٹ کے سلسلے میں جیل رسید ہیں۔ ان بیانات کے نتیجے میں این آئی اے کے حالیہ موقف کے بعد سادھوی پرگیہ ٹھاکر اورکرنل پروہت کو ضمانت ملنے کے آثار پیداہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ 9 دیگر ملزمان کی بھی ضمانت کی راہ ہموار ہوگئی ہے، حالانکہ ان ملزمان پر یواے پی اے (انسداد غیر قانونی حرکات ایکٹ لگارہے گااورمقدمے کی اگلی پیروی اسی ایکٹ کے تحت ہوگی، لیکن یہ ایکٹ مکوکاکے مقابلے کافی نرم ہے)۔ این آئی اے نے اپنے اس موقف کے اظہار کے بعد این آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل شرد کمار نے ان الزامات کو خارج کردیاکہ وہ این ڈی اے سرکار کے دباو میں یہ فیصلہ لے رہی ہے۔ جب ان سے یہ پوچھاگیاکہ ماضی میں انھوںنے ان ملزمین کو ضمانت دیے جانے کی مدافعت کیوں کی تھی، تو انھوںنے کہاکہ ہماری تفتیش اس وقت تک مکمل نہیں ہوئی تھی اورہم ممبئی اے ٹی ایس کی طرف سے فراہم کردہ شواہد کے مطابق کام کررہے تھے اوراب ہماری تفتیش مکمل ہوچکی ہے تو ہم نئے شواہد کی بنیاد پر مکوکا ہٹانے کی سفارش کررہے ہیں۔ لیکن قابل ذکر امر یہ ہے کہ روہنی سالیان کے استعفے کے بعد مقررکیے گئے پبلک پراسکیوٹراویناش رسل نے بھی اپنی شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ اس معاملے میں این آئی اے نے انھیں کسی موقعے پر بھی باخبر نہیں رکھا اوربالاہی بالافیصلہ لیتے ہوئے چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ چنانچہ وہ بھی اس کیس سے احتجاجا اپنا ہاتھ کھینچ رہے ہیں۔اس سے قبل روہنی سالیان نے این آئی اے کے ایک سپرنٹنڈنٹ پر یہ الزام لگایاتھاکہ وہ ان پر دباو بنارہے ہیں کہ دہشت گردوں کے معاملات میں نرم رخ اختیار کرے، لیکن انھوں نے ان افسر کا نام نہیں لیاتھا۔ حال ہی میں انھوں نے عدالت میں ایک حلف نامہ داخل کرتے ہوئے اس افسر کا نام بھی واضح کردیاہے۔ روہنی سالیان نے اپنے حلف نامے میں کہاہے کہ ممبئی خطے کے این آئی اے کے سپرنٹنڈنٹ سہاس وارکے نے انھیں ایک دن فون کرکے کہاکہ وہ کچھ خاص بات کرنے کے لیے ان سے ملناچاہتے ہیں اوروہ فون پر بات نہیں کرسکتے۔ اس افسر سے ملاقات کے دوران سہاس وارکے نے ان سے کہاکہ سنیئر افسران کی یہ خواہش ہے کہ اس معاملے میں زیادہ تندہی سے کیس نہ لڑاجائے۔ روہنی سالیان کا یہ حلف نامہ ممبئی کے ایک شہری ڈاکٹر سنجے لاکھے پاٹل کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل کیاگیاہے۔اس سے قبل پاٹل صاحب نے این آئی اے پر ممبئی ہائی کورٹ میں توہین عدالت کا مقدمہ بھی داخل کیاتھالیکن پاٹل کے وکیل چراغ ایم شروف نے شکایت کی کہ ہائی کورٹ اس معاملے میں غیر معمولی تاخیر سے کام لے رہاہے۔ چنانچہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں لایاگیا۔ واضح رہے کہ روہنی سالیان پر یہ دباو جون 2014 میں ڈالاگیاتھا۔ روہنی سالیان کے استعفے کے بعد اویناش وسل کو یہ معاملہ سونپ دیاگیاتھا۔ 13مئی 2106 کو دوپہر دوبجے کے قریب اویناش بہت غصے میں عدالت کے کمرہ نمبر 26 باہر نکلے۔ یہ وہی کمرہ ہے جس میں جسٹس ایس ڈی تکالے مالیگاوں بم بلاسٹ کیس کی سنوائی کرتے ہیں۔ صبح ۱۱بجے سے موجود انھیں این آئی اے کے نئے موقف کی کوئی اطلاع نہیں تھی اوروہ یہ سمجھ رہے تھے کہ این آئی اے کو اضافی چارج شیٹ داخل نہیں کرے گی۔ این آئی اے کے افسران بھی عدالت میں موجود نہیں تھے۔ بہت بعد مین این آئی اے کے کچھ افسران ایک جونیئر وکیل کے ساتھ عدالت میں حاضر ہوئے اورسیدھے سیدھے جونیئر وکیل کے ذریعے عدالت کو مطلع کیاکہ اضافی چارج شیٹ داخل کررہے ہیں۔ پبلک پراسیکوٹر کو یکسر نظر انداز کردیاگیا۔ ایک سنیئر وکیل ہونے کے ناطے اویناش کو اس حرکت سے سخت جھٹکالگا۔ اویناش وسل ممبئی کے ایک سنیئر وکیل ہیں جن کے پاس کافی بڑے بڑے اہم کیسیز بھی موجود ہیں اوروہ اپنی ذاتی پریکٹس بھی کرتے ہیں۔ اس صورت حال کے بعد انھوں نے خود کو کافی بے عزت محسوس کیا اوراین آئی اے کے افسران سے واضح لفظوں میں کہہ دیاکہ یہ ہتک برداشت کرنے سے بہتر ہے کہ میں استعفیٰ دے دوں۔ روہنی سالیان کے معاملے میں شرمندگی اٹھاچکے این آئی اے کے افسران نے چارج شیٹ پیش کرنے کے بعد اویناش سے کافی معافی تلافی کی۔ واضح رہے کہ اس معاملے میں سالیان یہ الزام بھی لگاچکے ہیں کہ اس کیس کی فائل سے کچھ اہم کاغذات بھی غائب کیے جاچکے ہیں۔ یہ حالات صاف بتاتے ہیں کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد یہ بھرپور کوشش کی جارہی ہے کہ کسی صورت آرایس ایس اوراس سے وابستہ تنظیموں کے افراد کو ان معاملات سے بچالیاجائے اوراس غرض سے حکومت کسی حدتک بھی جانے کو تیار ہے۔ معاملہ یہاں تک پہنچ گیاہے کہ اس پورے معاملے کو سامنے لانے والے مہاراشٹراے ٹی ایس کے سابق سربراہ شہید ہمینت کرکرے پر بھی الزامات عائد کردیے گئے ہیں کہ انھوں نے جان بوجھ کرنل پروہت کے گھر میں آرڈی ایکس رکھاتھا۔ ہمینت کرکرے کو 26 نومبر کو ممبئی حملوں کے دوران شہید کردیاگیاتھاجس کے بعد انھیں 26 جنوری 2009 کو اشوک چکر دیاگیاتھا۔ اپنی بہادری کے لیے مشہور انعام یافتہ اس جانباز افسر پر ایسے رکیک الزامات لگانا این آئی اے کی مجبوری بن چکاہے۔ حد تو اس وقت ہوگئی جب وزیر مملکت براے داخلہ کرن ریجیجونے بھی واضح الفاظ میں یہ کہہ دیاکہ ہم جانتے ہیں کہ سابقہ یوپی اے سرکار نے سیاسی مقاصد کی خاطر کچھ افسران پر دباو ڈال کے ہندوٹیرر اورزعفران ٹیرر جیسی اصطلاحیں استعمال کرنے کی غرض سے آرایس ایس سے وابستہ لوگوں کو پھنسایاہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس یرقانی دہشت گردی کو طشت از بام کرنے والے ہیمنت کرکرے کی شہادت پر بھی سوالیہ نشانات لگتے رہے ہیں۔ مثلالوک سبھامیں دیے گئے اپنے ایک بیان میں عبدالرحمن انتولے نے یہ الزام لگایاتھاکہ کچھ لوگوں نے جان بوجھ کر کرکرے کو اوبراے ہوٹل یاتاج ہوٹل کی طرف جانے سے روکاتھااورانھیں کاما ہاسپیٹل کی طرف جانے کا مشورہ دیاتھا اوریہ مشورہ دینے والے شخص کا آج تک کوئی پتہ نہیں چلا۔ اسی طرح جو بلٹ پروف جیکٹ کرکرے کو اس وقت مہیاکرائی گئی وہ بھی ناقص تھی اورناقص جیکٹیں خریدنے کے الزام میں تین کلرکوں پر کارروائی کی گئی تھی لیکن ان تینوں کی شناخت بھی آج تک خفیہ رکھی گئی ہے۔ ان تمام حالات کے مدنظر جب ہیمنت کرکرکے کی بیوہ نے آرٹی آئی کے ذریعے اس سلسلے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو پراسرار حالات میں ان کی بھی موت واقع ہوگئی۔ یہ تمام حالات بتاتے ہیں کہ بی جے پی کی قیادت والی یہ سرکار ملک میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں آرایس ایس اوراس کی حلیف تنظیموں کو کے واضح رول کو مٹانے کی ہرممکن کوشش کررہی ہے اورپورے ملک کو یہ تاثر دیناچاہتی ہے کہ دہشت گردی کے واقعات سے آرایس ایس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے لیے عدلیہ کا، پولس کا، دیگر سراغ رساں ایجنسیوں اورمیڈیاکا سہارابھی لیاجارہاہے۔ ملک میں اس وقت تین بڑی سراغ رساں ایجنسیاں ہیں۔ سی بی آئی، این آئی اے اورآئی بی۔ اس کے علاوہ انسداد دہشت گردی اسکواد، ریاستی سطحوں پر الگ بنے ہوئے ہیں۔ یہ سب تنظیمیں اپنے اپنے طور پر اپنے اپنے دائرہ کار میں دہشت گردانہ واقعات کی تفتیش بھی کرتے ہیں اوراپنے جاسوسی نظام کے ذریعے اس قسم کے واقعات کی پیشگی اطلاع بھی رکھتے ہیں اوریہ اطلاعات دوسری ایجنسیوں اورریاستی سرکاروں کو بھی فراہم کرتے ہیں۔ ایسے میں ایک ہی کیس میں تینوں ایجنسیوں کا الگ الگ موقف اختیار کرنا حیرت کے ساتھ ساتھ تشویش کا باعث بھی ہے۔ کیوںکہ یہ معاملہ داخلی سلامتی کا ہے جسے سیاست سے بالاتر ہوناچاہیے۔ لیکن تفتیشی ایجنسیوں کے سیاسی استعمال کی وجہ سے داخلی سلامتی سے متعلق اہم مجرمین کی پشت پناہی کی جارہی ہے۔ اتناسب کچھ کرنے کے باوجود بھی حقائق عوام سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ ممبئی کے ایک سابق ڈی آئی جی کے ایم مشرف نے اپنی کتاب ’کرکرے کا قاتل کون‘ میں بہت سے معاملات کی نشاندہی کردی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کی مختلف ریاستوں میں بجرنگ دل اوروشوہندوپریشد جیسی تنظیموں کی جانب سے اپنے اراکین کے لیے فوجی تربیتی کیمپوں کا انعقاد مسلسل جاری ہے۔ آندھراپردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان، اترپردیش اورکیرل سے یہ خبریں وقفے وقفے سے موصول ہوتی رہتی ہیں اوراخبارات میں ان پر تبصرے کیے جاتے رہتے ہیں۔ پروین توگڑیاکا یہ بیان بھی ابھی بھلایا نہیں گیاہوگاکہ وہ ملک میں پانچ لاکھ منڈل سمیتیاں بناکر وہاں ترشول تقسیم کریں گے۔ یہ بھی پیش نظر رہناچاہیے کہ اب سے چند سال قبل ہنومان جی کو دودھ پلانے کی افواہ محض دوگھنٹوں میں پورے ملک بلکہ بیرون ملک تک پھیل گئی تھی اورہزاروں لوگ مندروں کے باہر کھڑے ہوکر بھگوان ہنومان کو دودھ پلانے کی کوشش میں مصروف ہوگئے تھے۔ اسی طرح جب شنکر دیال شرما جب صدر جمہوریہ تھے، تب بھی ان کے انتقال کی افواہ بھی اسی سرعت کے ساتھ پھیل گئی تھی۔ یہ افواہیں محض ایک تجربہ تھاکہ آرایس ایس کی مشینری ایک جھوٹی افواہ کو کتنی دیر میں ملک کے طول وعرض تک پہنچاسکتی ہے۔ اب غور کیاجاسکتاہے کہ ایک طرف افواہیں پھیلانے کی مشینری دوسری طرف جنگ کے لیے ایک پرائیوٹ فوج کی تیاری، جسے باقاعدہ افواہوں کی تربیت بھی دی جارہی ہے اورترشول بھی بانٹے جارہے ہیں آخر یہ سارے انتظام کس لیے کیے جارہے ہیں۔ آرایس ایس اگر سماجی بہبود کی تنظیم ہے تو ہتھیار چلانے کی یہ تربیت کون سی بہبود کا حصہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ملک کے اندر خانہ جنگی بپاکرکے اپنے ہی عوام کے خلاف جنگ تھوپنے کی سازش محسوس ہوتی ہے اوریہ سازش ہندوراشٹر کے قیام کے نام پر بپاکی جارہی ہے۔ جب کہ سچ یہ ہے کہ ملک کے ایک عام ہندوکا آرایس ایس سے کوئی زیادہ الحاق نہیں ہے۔ ملک کے 100 کروڑ ہندووں میں سے محض 16 کروڑ ہندووں نے بی جے پی کو ووٹ دیے ہیں۔ وہ بھی اتنی مہنگی اوراتنی بڑی انتخابی مہم اوراس میں کیے گئے جھوٹے وعدوں کے بعد۔ اس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ آرایس ایس کی تحریک کسی فلاح وبہبود کی تحریک کسی فلاح کی تحریک نہیں بلکہ ملک دشمنی کی تحریک ہے جو خطرناک عزائم رکھتی ہے اوراس ملک کے لیے ایک روز افزوں خطرہ ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس تنظیم کو اتنی طاقت ملک میں سیکولرزم کی سب سے بڑی دعویدار کانگریس پارٹی نے فراہم کیاہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

تسلیم احمد رحمانی

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی معروف قلم کار اور مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں۔

متعلقہ

Close