سماجی کشیدگی کا سبب بنتے جا رہے ہیں نیوز چینلز!

0

رویش کمار

سرحد پار کرنے کا ایک اور مطلب ہوتا ہے. میں اس سرحد کی بات کر رہا ہوں جس کو پار کرتے ہی لوگ ذہنی عدم توازن کا شکار ہو جاتے ہیں- ہم نہ تو سرحد پہچانتے ہیں نہ اسے پار کرنے کے بعد ذہنی عدم توازن کی کیفیت کو جانتے ہیں- اسی لئے نفسیاتی مرض کے شکار لاکھوں کروڑوں لوگ نہ تو وقت پر ڈاکٹر کے پاس پہنچ پاتے ہیں —- اور پہنچ بھی جاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس بیماری کے لئے مناسب ڈاکٹر ہی نہیں ہیں- اسی دور میں جب ٹینک کو دیکھتے ہی زبانی گولے داغنے لگتے ہیں- چار اکتوبر سے لے کر 10 اکتوبر کے بیچ مینٹل ہیلتھ ویک منانے کی اطلاع آئی ہے- نفسیاتی مرض کی کئی وجوہات ہوں گی لیکن ایک وجہ میں بغیر تحقیق کے بتا دے رہا ہوں … نیوز چینل. پوری دنیا میں نیوز چینل سماجی کشیدگی کا سبب بنتے جا رہے ہیں-

سب کا امریکہ بھی پریشان ہے- ڈبیٹ دیکھتے دیکھتے کسی کو دبوچنے کی خواہش ہونے لگے تو قریب کے کسی ڈاکٹر سے رابطہ کر لیجیے گا. نیوز چینل ہمارے وقت کی سب سے بڑی بیماری ہیں- ہر دن آپ کو کسی نہ کسی اخبار میں، کسی ویب سائٹ پر چینلز کے فساد کا تجزیہ پڑھنے کے لئے مل جائے گا-

 ایک اندازے کے مطابق دنیا میں 45 کروڑ نفسیاتی مریض ہیں- ان کا 17 فیصد حصہ چین میں رہتا ہے اور 15 فیصد ہندوستان میں. یعنی 6 کروڑ 75 لاکھ نفسیاتی مریض ہندوستان میں ہیں. اعداد و شمار میں فرق رہتا ہے- ایک اعداد و شمار یہ بھی ہے کہ ہندوستان میں پانچ کروڑ لوگ ذہنی بیماری کے شکار ہیں. ممبئی جیسے شہری علاقے میں تو 100 میں سے تین نفسیاتی  مریض ہیں اور ان تین میں سے ایک  اعصاب کا شکار ہے- میڈیکل سائنس کی ایک مشہور میگزین ہے The Lancet and The Lancet  Psychiatry  اس کے ایک مضمون کے مطابق اگلے دس سال میں چین کے مقابلے ہندوستان میں نفسیاتی مریض کی تعداد بڑھنے والی ہے- ہندوستان اور چین میں دنیا کےتقریباً ایک تہائی نفسیاتی مریض رہتے ہیں. یہ تعداد دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کے نفسیاتی مریضوں سے زیادہ ہے- ہندوستان میں 10 میں سے ایک نفسیاتی  مریض کو ہی علاج مل جاتا ہے. حکومت کا ہی اندازہ ہے کہ ملک میں ہر پانچ میں سے ایک کو ماہر نفسیات سے مشورہ لینے کی ضرورت ہے-

 بڑی تعداد میں لوگ اپنی شناخت کو خفیہ رکھتے ہوئے ماہر نفسیات کے رابطے میں ہیں. دور کی بات چھوڑیئے، میں خود ہی یار-دوستوں کے درمیان دیکھتا سنتا رہتا ہوں کہ فلاں ڈپریشن کا شکار ہو چکا ہے- دراصل نفسیاتی مرض کسی ایک بیماری کا نام نہیں ہے. اس کے تحت کئی قسم کی ذہنی بیماریاں آتی ہیں- آج کل آپ کو فلموں کے ذریعے بھی بہت سے نفسیاتی مرض کے بارے میں جاننے کو ملتا ہے- دیپکا پڈوکون اور کرن جوہر جیسے اداکاروں کے ذریعے بھی- پھر بھی سمجھنا ضروری ہے کہ نفسیاتی مرض ایک بیماری کا نام نہیں ہے. یہ ایک زمرہ ہے … اس کے تحت کئی بیماریاں  آتی ہیں.

 اسكجوپھرنيا، پولر ڈس آرڈر، ڈپریشن، ڈمینشيا، اینگذائٹي، الذائمر، پھريكوئنٹ مینٹل ڈسٹریس، انسومنيا، هائپرایكٹوٹی ڈس آرڈر، پینك اٹیک، كلیپٹومینيا، اسٹریس، ریج یعنی غصہ جس کی گرفت میں آکر آپ  کسی کی جان تک لے لیتے ہیں- عمر کے حساب سے بیماریوں میں فرق آتا رہتا ہے. بچوں میں اس کی مختلف اقسام  ہوتی ہیں اور بوڑھوں میں الگ- اسكجوپھرنيا اور بائی پولر ڈس آرڈر کو شدید نفسیاتی مرض سمجھا جاتا ہے- اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہندوستان میں اس کے ایک سے دو کروڑ مریض ہیں. جو عام نفسیاتی مرض ہیں ان کے پانچ کروڑ لوگ شکار ہیں-

 اسکول کا طالب علم غصے میں اپنے استاد کو چاقو مار دیتا ہے- کار کے بمپر پر خروںچ آ جاتی ہے تو کار والا اتر کر سامنے والے کو مار دیتا ہے- کوٹہ میں آئے دن خبر آتی رہتی ہے کہ امتحان کی کشیدگی کی وجہ سے کسی طالب علم نے خود کشی کر لی- ہم ان خبروں کو لے کر اب عام ہونے لگے ہیں- یہی ثبوت ہے کہ نفسیاتی مریض کی تعداد بڑھتے بڑھتے عام لگنے لگی ہے-

 اس سال مئی میں جب ہندوستان کے وزیر صحت جے پی نڈڈا لوک سبھا میں بتا رہے تھے تو انہوں نے نیشنل کمیشن آن مائكرو اكونومكس اینڈ ہیلتھ 2005 کے اعداد و شمار پیش کئے- کیا ہمارے ملک میں باقاعدہ سروے بھی ہوتے ہیں یا یہ سب اندازے کی بنیاد پر ہی کہا جا رہا ہے- حکومت ہند نے بنگلور کے نمهاس کو قومی مینٹل ہیلتھ سروے کا کام سونپا ہے تاکہ صحیح صحیح پتہ چل سکے کہ ہندوستان میں کتنے نفسیاتی مریض ہیں- وزیر صحت جے پی نڈڈا نے لوک سبھا میں بتایا تھا کہ یہ سروے ایک جون 2015 کو شروع ہوا تھا اور پانچ اپریل 2016 تک 27000لوگوں کا سروے ہوا ہے-

 ہندوستان میں ذہنی بیماری کا علاج کرنے والے پیشہ ور افراد کی تعداد بھی بہت کم ہے- بڑے شہروں میں تو آپ کو مدد مل جاتی ہے لیکن اضلاع اور قصبوں کی سطح پر حالت خراب ہے. لوک سبھا میں وزیر صحت نے بتایا ہے کہ 3800 ماہر نفسیات ہیں، 898 طبی سائكلاجسٹ ہیں- مطلب 10 لاکھ لوگوں میں تین ماہر نفسیات ہیں- چین میں 10 لاکھ پر 17 ماہر نفسیات ہیں- ہندوستان میں 66200 ماہر نفسیات کی ضرورت ہے- 269750 سائكیٹرك نرسوں کی ضرورت ہے- انڈین ایکسپریس میں یہ سب چھپا تھا. آئے دن اخبارات میں نفسیاتی مرض پر خبریں چھپتی رہتی ہیں. ٹی وی میں کم دیکھنے کو ملتا  ہے کیونکہ ہم تو آپ کو نفسیاتی مریض بنانے میں لگے ہیں- جس طرح کی زبان کا استعمال ہو رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے آپ کے معمول پر رہنے کا امکان کم ہی ہے. کم از کم بلڈ پریشر یعنی بی پی تو بڑھ ہی جاتا ہوگا. آج کل غربت اور بے روزگاری سے بڑے سوال پر بحث ہو رہی ہے کہ پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہئے- ہندوستان میں 443 سرکاری مینٹل هاسپٹل ہیں. چھ ریاستوں میں تو ایک بھی مینٹل هاسپٹل نہیں ہے- ان کی کیا حالت ہے یہ ایک الگ موضوع ہو سکتا ہے-

 اسی اگست میں مینٹل ہیلتھ کیئر بل 2013 پاس ہوا ہے. اس کے مطابق ذہنی طور پر بیمار لوگوں کے غیر انسانی طریقے سے علاج کو جرم تصور کیا جائے گا- طفل مریضوں کو شاک تھیریپي دینے پر روک لگ جائے گی- بڑوں پر بھی اس کا استعمال تب ہی ہو گا جب ڈسٹرکٹ میڈیکل بورڈ اس کی اجازت دے اور وہ بھی اینستھيسيا دینے کے بعد ہی- اس قانون کے تحت نفسیاتی مرض کا شکار لوگ علاج کا طریقہ خود ہی طے کر پائیں گے-

 نئے قانون کے مطابق اگر کوئی شخص سخت ذہنی دباؤ کے درمیان خودکشی کی کوشش کرے تو اسے جرم نہیں مانا جائے گا —– اسے انڈین پينل کوڈ کے سیکشن 309 کے تحت ایک سال تک کیلئےجیل میں نہیں بھیجا جا سکے گا- صاف ہے، ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار خودکشی کی کوشش کو جرم کے زمرے سے باہر کیا گیا ہے- ابھی تک خود کشی کو جرم ماننے کی برطانوی قالین قانونی روایت چلی آ رہی تھی. اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہندوستان کی حکومت نے خود کشی کو نفسیاتی مرض کے طور پر قبول کیا ہے- بہت سے لوگ جو خود کشی کی کوشش کرتے ہیں ان کے خاندان کے لوگ پولیس کی کارروائی کے خوف سے انہیں ڈاکٹروں کے پاس لے کر نہیں جاتے، ان کا علاج نہیں کراتے- اسے جرم کے زمرے سے ہٹانے کے بعد ایسے ہزاروں لوگ اب نفسیاتی علاج کے لئے ماہرین کے پاس جا پائیں گے-

 دراصل ہندوستان میں مینٹل ہیلتھ پر کوئی خاص پالیسی تھی ہی نہیں- اکتوبر 2014 میں پہلی بار نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی لانچ کی گئی تھی- مشہور ماہر نفسیات Helen M Farrell کے مطابق ڈپریشن کا مریض مدد مانگنے میں دس سال لگا دیتا ہے- تب تک وہ قبول ہی نہیں کر پاتا کہ وہ مریض ہے- Farrell  کی ٹیڈ ٹاک میں اس موضوع پر ایک تقریر بھی ہے، آپ دیکھ سکتے ہیں- انہوں نے کہا کہہندوستان میں اس موضوع پر مکمل اعداد و شمار بھی دستیاب نہیں ہیں- لوگوں کا خیال ہے کہ ڈپریشن ہے، جیسے کوئی موسم ہے، کارتک کے بعد اگهن آ ہی جائے گا- ذہنی بیماری کے بارے میں شعور کی پہلی شرط ہے کہ ہم قبول کریں- قبول کرنے کی بھی کوئی پہلی شرط ہوتی ہوگی کہ ہمیں پتہ تو چلے کہ ہم بیمار ہیں- ورنہ چار لوگوں کی باتوں پر قومی سطح پر ہم روز گھمسان نہیں کر رہے ہوتے اور اسی کو ہم صحافت نہیں سمجھتے-

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے