آج کا کالم

سمجھ نہیں آتا ہم کہاں کے شہری ہیں؟

ویسے تو یہ سوال ہمیشہ ذہن میں كلبلاتا رہتا ہے، لیکن ان دنوں انتخابی ماحول میں سیاسی جملے بازي نے اسے جم کر ہوا دے دی ہے کہ ہم کہاں کے شہری ہیں. ریاست کے ہیں، یا ملک کے شہری ہیں. یہ صورت حال اس وقت اور عجیب ہو جاتی ہے جب ملک اور ریاست میں مختلف جماعتوں کی حکومت ہو، جیسا کہ ان دنوں یوپی میں ہو رہا ہے، یا اس سے پہلے لوک سبھا انتخابات میں مدھیہ پردیش- چھتیس گڑھ اور غیر کانگریسی ریاستوں مےبھولي عوام اس وقت اور ٹھگی سی رہ جاتی ہے جب ترقی نہ کرنے کے لئے ریاست، مرکز اور مرکز، ریاست کو بغیر سوچے سمجھے کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں. ایک بولتا ہے ہم مرکز سے پیسہ بھیجتے ہیں وہ آپ تک نہیں پہنچ پاتے، دوسرا بولتا ہے پیسہ ہی نہیں ہے تو ترقی کہاں سے کریں! شک میں ہیں کہ ہم شہری، مجرم ٹھراے تو کسے، کریڈٹ دیں تو کسے؟ آخر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جب اپنی ہی پارٹی والی ریاستوں میں آپ انتخابی ریلی کر رہے ہوں تو اپنے نیتا جی کو اچھا-اچھا ٹهراے اور غیر پارٹی والا ہو تو اس کو بے عزت  کرنے میں بالکل بھی رحم نہ کھائیں، مانا کہ یہ سیاسی مجبوری ہے، لیکن اس میں کا من منیمم وے ليوج یعنی کم از کم انسانی اقدار کا بھی خیال نہیں رکھا جانا چاہئے؟

عوام کم از کم اتنا تو سمجھتی ہی ہے کہ بغیر مرکزی مدد کی ریاست اپنے بل بوتے کچھ نہیں کر سکتی اور ریاستوں کے بغیر ملک بھی کیسے چلے؟ آخر آئین نام کی کتاب میں بھی وفاقی نظام حکومت کے تحت ریاست اور مرکز کی انتظامات کو وہ خوب مانند سمجھتا ہے، پر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ آئین نام کی یہی کتاب اس مساوات سے ترقی کرنے کا حق بھی مہیا کراتی ہے. اسی grooves کے میں جب ملک کے سپریم لیڈر بھی ٹھیک بغیر اس بات کو ذہن میں رکھے بیان دیے جاتے ہیں تو حیرت تو ہونی ہی ہے. سوچئے سپریم عہداري سے یہ بات نکل کر عام لوگوں کے کان میں گونجتی ہے تو وہ دل ہی دل کیا سوچتا ہوگا؟ یوپی میں جب عام شہری وزیر اعظم کی تقریر سن رہے ہوتے ہیں اور انہی بیانات کو جب وہ ٹویٹ کرکے لاکھ لوگوں تک پہنچاتے ہیں تو ان کے ذہن پر کیا گزرتی ہو گی، ذرا دیکھئے۔

چاہے عوام کا بھروسہ ہو یا ترقی کا گراف، قانون نظام ہو یا عورت سیکورٹی، کسانوں کی خوشحالی ہو، یا نوجوانوں کو روزگار، یوپی میں سب نیچے ہے. لکھنؤ میٹرو کا افتتاح تو بڑے دھوم دھام سے کیا گیا، لیکن نہ اسٹیشن بنا اور نہ ہی کوئی ٹرین چلی، یہ کام بول رہا ہے یا کارنامے؟ بڑے ہسپتال کا افتتاح تو بڑے زور شور سے ہوا، پر اس میں نہ کوئی ڈاکٹر ہے اور نہ ہی وہاں علاج کا بندوبست، یہ کام بول رہا ہے یا کارنامے؟ یوپی میں خواتین گھر سے باہر نکلنے میں ڈرتی ہیں، گنڈی جیلوں سے گینگ چلا رہے ہیں، یہ کام بول رہا ہے یا کارنامے؟ دلتوں پر مظالم کا واقعہ یوپی میں سب سے زیادہ ہے، اتر پردیش حکومت اسے لے کر بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہے.

وزیر اعظم جنہیں یوپی نے لوک سبھا انتخابات میں ستر سے زیادہ سیٹوں کا تحفہ دیا، اپنے طور پر حکومت بنوانے میں اہم کردار ادا کیا، کل 43 فیصد  ووٹ دیئے. یوپی کے حالیہ انتخابی تاریخ میں کسی بھی پارٹی کو اتنی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی، اب وہی وزیر اعظم اگر یہ بولتے ملیں کہ یوپی میں اگر بی جے پی کی حکومت آئی تو سیکورٹی کے نظام ٹھیک ہو جائے گا، قانون ٹھیک ہوگی، ریل آئے گی، تو اس کیا مانیں گے.

ذرا غور کیجئے ایسے بیان کے کیا معنی ہیں اور ان میں آخر ان کی کوئی ذمہ داری ہے یا نہیں ہے. یہ درست ہے کہ یوپی کو ترقی کے معیار پر ابھی بہت آگے جانا ہے، لیکن کیا مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بھی ایسے ہی برے حالات نہیں ہیں جہاں بی جے پی کی حکومت گزشتہ چودہ سالوں سے مسلسل ہے. وہاں آپ کا کیا نظریہ ہوتا ہے، کیا وہاں یہ حالات پر قابو پانے کے لئے واقعی ٹھوس کام ہو رہے ہیں یا صرف یہ ایک سیاست ہے.

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس میں سے کچھ اس بات پر مسترد کر دیے جائیں کہ آئین میں ریاست اور مرکز کے لئے الگ الگ ذمہ داریاں طے کر دی گئی ہیں اور ان میں سے کچھ ذمہ داریوں کے لئے براہ راست طور پر انکار کر دیا جائے، پر کیا جب عوام ووٹ ڈالتی ہے تو اس کے ذہن میں یہ باتیں ہوتی ہیں کہ کون سے موضوع مرکز کے ہیں اور کون سے ریاست کے ہیں . وہ اپنا وزیر اعظم چنتی ہے اور اس سے آپ کی ترقی کی پوری آس بھی رکھتی ہے. وہ ریاست اور مرکز کو اس طرح سے نہیں جانتی ہے.

یہ تازہ کیس ہیں، اس وجہ سے بھی کیونکہ یوپی اب رجحان کر رہا ہے. لیکن غور کیجئے گا۔ لوک سبھا انتخابات میں اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کی بھی، سونیا اور راہل گاندھی کی بھی یہی لائن ہوتی ہے، ریاستوں کے انتخابات میں تمام جماعتوں کا تقریبا وہی راگ ہے. تو کیا ہم سیاست سے کسی طرح کی سلاست کی امید یا نہیں . شاید تاریخ میں سیاست یہ سطح کبھی نہیں رہا ہے جو برساتی سے لے کر گدھے- گھوڑوں ، شمشان- قبرستان تک پهنچ رہا ہے، خاص طور پر سپریم سیاست میں . بلکہ اٹل بہاری واجپئی جیسے تو وہ لیڈر رہے جنہیں سننے کو اپوزیشن بھی آتر رہا کرتا تھا، لیکن موجودہ سیاسی منظر نامے ایسے الفاظ گڑھ رہا ہے، جسے عام لوگ کے دماغ سے ولوپت کرنا آسان نہیں ہوگا.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close