آج کا کالم

سنگھ پریوار: سرکار اور سنسکار برسرپیکار

آرایس ایس فی الحال اپنی 90 ویں سالگرہ منارہا ہے۔ اس موقع پر سنگھ کے سربراہ خصوصی تقریبات میں شریک ہوکر نت نئے بیانات ارشاد فرما رہے ہیں  جو اس حقیقت کے غماز ہیں کہ  یہ جماعت سٹھیا گئی ہے اور اس کے رہنماوں کا دماغی تواز ن بگڑ گیا ہے۔ ورنہ کیا کوئی صحیح الدماغ فرد یہ کہہ سکتا ہے کہ ہندوستان کے رہنے والے سارے لوگ ہندو ہیں۔  دستورہندعیسائیوں ، مسلمانوں ، پارسیوں اور یہودیوں کوہندو کوڈ بل سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے اعتراف کرتا ہے کہ  ان تینوں مذاہب کے پیروکار ملک میں موجود ہیں ۔  اس کے ساتھ  یہ وضاحت بھی کرتا  ہے کہ اس کا اطلاق سکھ، جین  اور بدھ  مذہب کے ماننے والوں پر ہوگا یعنی ان مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگوں کے عائلی معاملا ت بھی  ہندو کوڈ بل کے مطابق نمٹائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ۱۹۹۱؁ میں جوسرکاری مردم شماری ہوئی  اس میں بھی آٹھ مذاہب کا اندراج  کیا گیا۔ اس کے باوجود اگر کہہ دے ہندوستان کے رہنے والے سارے لوگ ہندو ہیں تو اسے مخبوط الحواس کہنے کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔

اکھنڈ بھارت کا خواب سجائے بیٹھےہندو مہا سبھا کیلئے بھی اس احمقانہ بیان نےمسئلہ  کھڑاکردیا۔  وہ احمق نہ صرف پاکستان اور بنگلادیش بلکہ افغانستان کو بھی اکھنڈ بھارت میں شامل سمجھتے ہیں۔  کیا بھاگوت جی ان ملکوں کے باشندوں کو بھی ہندو شمار کریں گے ویسے اگر وہ چاہیں تو  ’’دل کے بہلانے کی خاطر ‘‘ ساری دنیا کو ہندو کہہ دیں کیا فرق پڑتا ؟  یہ تو ایسا ہی جیسے کوئی  انہیں عیسائی اور سونیا کو مسلمانکہہ دے۔ اس طرح  کہنے سننے سے کوئی فرق نہیں  پڑتا۔ انسان اپنا مذہب خود تو تبدیل کر سکتا ہے لیکن کوئی اور ایسا نہیں کرسکتا۔ جب تک ہندوستان کے سارلوگ برضا و رغبت اپنے آپ کو ہندو نہ کہہ دیں اس وقت موہن بھاگوت جی کے بیان کی حیثیت دیوانے کے بڑ سے زیادہ کی نہیں ہوگی۔ سچ تو وہ ہے جس کا اعتراف  وزیر مملکت  برائے داخلہ کرن رجیجونے کیا۔ ہندوستان میں ہندووں کی آبادی گھٹ رہی ہے اس لئے کہ آئے دن لوگ اس سے پیچھا چھڑا رہے ہیں۔

وزیراعظم کے دو حلقہ ہائے انتخابات ہیں  ایک سگا اور دوسرا سوتیلا۔ اپنے سوتیلے حلقہ انتخاب بڑودہ  کو انہیں کامیابی کے بعد  چھوڑنا پڑا۔ اسی شہر میں تقریر کرتے ہوئے بھاگوت جی نے یہ اہم اعلان کیا کہ آرایس ایس  ریموٹ  کنٹرول نہیں ہے ( اس لئے کہ بی جے پی حکومت اول تو ان کی سنتی نہیں ہے اور بفرض ِ محال سن بھی لے تو مانتی نہیں ہے)۔ اس بابت بڑے افسوس کے ساتھ انہوں نے بتایا کہ سنگھ کے تعلق  بہت ساری غلط فہمیاں ہیں اور لوگ سنگھ کے نظریہ  اور سرگرمیوں کو جانے بغیر اس پر رائے زنی کرتے ہیں۔  اس کے بعد وہ بولے سنگھ کا مقصد ایک صحیح رہنما کی قیادت میں  ایک مضبوط قوم کی تعمیر ہے  جس کی بنیاد ہندوتوا ہو۔ یعنی وہ قوم جس کا خواب موہن جی دیکھ رہے ہیں وہ ابھی عالمِ وجود میں نہیں آئی اور نہ وہ رہنما سامنے آیا۔ مودی جی کے اپنے شہر میں موہن جی اگر وزیراعظم کی اس طرح دل آزاری فرمائیں گے تو  کیاپردھان سیوک انہیں بخش دے گا؟ اور یہی ہورہا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی سنی ان سنی کررہے ہیں۔

  بھاگوت نے آرایس ایس کو ایک لت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو اس کا عادی ہوجاتا ہے وہ کہیں نہیں جاسکتا۔ بھاگوت کا یہ دعویٰ رفتار فلم کے فحش نغمہ کی یاد دلاتا ’’مجھے تو تیری لت لگ گئی  لگ گئی، زمانہ کہے لت یہ یہ غلط لگ گئی۔ ‘‘ موہن جی  کو اپنے متنازع  بیانات کے سبب اپنے پیش رو سرسنگھ چالکوں پر اسی طرح کی سبقت حاصل ہے جیسے مودی جی کوسابقہ  وزرائے اعظم پر۔بھاگوت نے کہا قوم پرستی ایک گھسی پٹی اصطلاح بن گئی ہے۔ ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ملک سے محبت کرتے ہیں لیکن یہ حب الوطنی کیا ہے؟ اور یہ محبت کہاں تک جاتی ہے؟ ان سولات کو کھڑا کرکے بھاگوت نے سنگھ پریوار کی دیش بھکتی پر سوالیہ نشان لگا دیا بلکہ اسے مشکوک بنا دیا۔ اس بیان سے بی جے پی والوں کی وہ دعویٰ بھی بے بنیاد ہوجاتا ہے کہ جس کی آڑ میں مسلمانوں  کو پاکستان  بھیجنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔

بھوپال کے اندرسر سنگھ چالک نے ایک ایسا  بیان دیا جو براہِ راست مرکز کی بی جے پی سرکار اور وزیراعظم کے خلاف ہے اور اس کا سب سے زیادہ  فائدہ مہاراشٹر میں ادھو ٹھاکرے اٹھا رہے ہیں۔ بھاگوت نے کہا ’’ کسی کو بھی دوسرے فرد کی قوم پرستی  ناپنے کا حق نہیں ہے۔ مجھے یعنی خود بھاگوت کو بھی نہیں ہے، جو اپنے کو اس ملک کا کرتا دھرتا مانے اسے بھی یہ حق  نہیں ہے۔ کوئی بھی کسی کی حب الوطنی نہیں ناپ سکتا ‘‘۔اس  میں اول  توانہوں نےاپنے آپ کو شامل کیا لیکن آگے یہ کہہ کر کے کہ ’’جو  اپنے آپ کو اس ملک کو کرتا دھرتا سمجھ‘‘وزیراعظم پر سیدھا نشانہ سادھا۔ یہ حقیقت بھی ہےکہ مودی جی  کوئی بڑا سے بڑا فیصلہ کرنے سے قبل سنگھ اور دوسرے ارکان تنظیم تو دور متعلقہ وازرتوں تک کو اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجھتے۔  نوٹ بندی پر وزیراعظم بار بار یہ کہتے ہیں کہ میری نیت صاف ہے اس پر بھاگوت جی کا کہنا ہے ملک کیلئے صرف اچھی نیت کافی نہیں ہے۔ کامل یقین اور  ایثارو قربانی  بھی ضروری ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ عدم اعتماد کا شکار بے جے پی ایثار و قربانی ناپید  ہے۔

مودی جی  یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اقتدار میں آنے سے قبل نہ تو اس ملک کا وجود تھا اور نہ یہ قوم موجود تھی  ظاہر ہے موہن بھاگوت کو اس سے رنج ہوتا ہوگا لیکن وہ  کھل کراس کا اظہار نہیں کرسکتے  اس لئے کہ اگر کسی گرہ کٹ کا بیٹا ڈاکو بن جائے  ڈرا سہما  باپ  اپنی ناراضگی کا اظہار سوچ سمجھ کے کرتا ہے۔ اکھلیش کی طرح بی جے پی بھی اپنے بزرگوں  اڈوانی  اور آر ایس ایس سے نالاں ہے۔ وہ  بھی انتخابی مہم میں ان دونوں کی خدمات سے گریز کرتی ہے۔ یہ دونوں ملائم اور یش پال کی مانند بی جے پی کیلئے ایک غیر ضروری بوجھ بن چکے ہیں۔ بی جے پی  والے بھاگوت کو ان صوبوں میں جانے نہیں  دیتے جہاں انتخابی  مہم چل رہی ہو۔  اس لئے کہ بی جے پی تو درکنار خود بھاگوت نہیں جانتے کہ کب کیا کہہ جائیں گے۔ بہار انتخاب کے وقت وہ اتر پردیش میں گھوم رہے تھے اور اترپردیش انتخاب کے موقع پر مدھیہ پردیش کا دورہ کررہے ہیں۔  ذرائع ابلاغ کی مہربانی سے ان  کے بیانات سرحدوں کو پھلانگ کر دوسرے مقامات پر پہنچ جاتے ہیں اور اس سے جو نقصان ہونا ہوتا ہے ہوجاتا ہے۔

نوّے سالہ تقریبات کا جوش موہن بھاگوت کو بیتول  کی اس جیل میں لے گیا جہاں دوسرے سنگھ چالک کو قید کیا گیا تھا۔ موہن بھاگوت اگر اس موقع پر سنگھ کے بانی  ڈاکٹر ہیڈگیوار تک محدود رہتے تو بہتر تھا اس لئے کہ ہیڈگیوار نے بنچ آف تھاٹ جیسی کوئی زہریلی کتاب نہیں لکھی۔ بھاگوت جی اگر گولوالکر کو ان کے گھر یا دفتر میں خراج عقیدت پیش کردیتے تب بھی کافی تھا لیکن عوام کو یہ بتانے کی خاطر کہ سنگھ کے رہنما جیل کی ہوا بھی کھاچکےہیں وہ بیتول کے جیل میں پہنچ گئے جہاں ۱۹۴۸؁ کے اندر گروجی کو سنگھ پر پابندی عائد کرنے کے بعد قید کیا گیا تھا۔ موہن جی کی اس یاترا سے سنگھ کی تاریخ  کا ایک  تاریک باب روشنی میں آگیا۔ گاندھی جی کے قتل کی وجہ سے سنگھ کے چہیتے وزیرداخلہ ولبھ بھائی پٹیل نے اس پر پابندی لگائی تھی۔ اس طرح گاندھی جی کی دہائی دینے والےسنگھ پریوار کا چہرہ پھر سے بے نقاب ہوگیا۔ اٹل جی سے احساس جرم نے کہلوایا  تھا ؎

چھما کرو باپو تم ہم کو، وچن بھنگ کے ہم اپرادھی             راج گھاٹ کو کیا اپاون، منزل بھولے، یاترا آدھی

بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد سنگھ اور اس کے فسطائی  نظریہ کے سبب  عوام وخواص  اس کے مخالف ہوگئے تھےلیکن بقول بھاگوت اب    دانشور اس کی جانب متوجہ ہورہے ہیں  اور سماج سنگھ کا حصہ بننا چاہتا ہے تا کہ وہ ملک کیلئے کچھ بہتر کرے لیکن  سنگھ سماج کیلئے کیا کررہا ہے اس کے نمونےگئو رکشا  اور نوٹ بندی کے نام پر عوام دیکھ چکے ہیں ۔  بھاگوت نے اعلان کیا سنگھ کا ہدف  فرد، خاندان اورسماج  کے برتاو میں تبدیلی لانا ہے  اور روزگار فراہم کرنا تاکہ ملک  ترقی کرے جس کا ہم خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ سنگھ کا خواب شرمندۂ تعبیر ہورہا ہے۔ گجرات، منی پور  اور مدھیہ پردیش میں  سرسنگھ چالک کے خوابوں کی بھیانک تعبیر پر عامر عثمانی کا یہ شعر صادق آتا ہے؎

درد بڑھتا گیا جتنے درماں کئے، پیاس بڑھتی گئی جتنے آنسو پیے    اور جب دامن ضبط چھٹنے لگا، ہم نے خوابوں کے جھوٹے سہارے لئے

آدرش گجرات میں سنگھ کا سپنا اس طرح ساکار ہوا کہ  ایک خاتون نے بی جے پی کے رہنماوں سمیت 10 لوگوں پر عصمت دری اور سیکس ریکٹ چلانے کا سنگین الزام لگادیا۔ بی جے پی نے اپنے رہنما شانتی لال سولنکی، گووند پروملانی، اجیت رموانی اور وسنت بھانوشالی کو معطل کردیا جن میں سے 3 کی گرفتاری عمل میں آگئی۔ بھاجپ کے سکریٹری ان رہنماوں کے ملوث ہونے  کا انکار کررہے ہیں لیکن اگر یہ درست ہے تو معطلی اور گرفتاری  کی وجہ نہیں بتاتے۔ اس خاتون کے مطابق نشہ آور ادویات پلا کر اس کی عزت لوٹی گئی اور تصاویر  وفلم بناکر ایک سال تک اسے بلیک میل کیا گیا۔ مدعی نے 35 ایسی خواتین کے نام بتائے جنہیں بھاجپ کی تقریبات اور جلسوں میں شامل ہونے کیلئے خصوصی پاس دیئے جاتے تھے۔  برہما چاریہ کا پالن کرنے والے سنگھ پریوار کی بھاجپ کے رہنماوں کا یہ کارنامہ  معاشرتی و اخلاقی اقدار کے دیوالیہ پن کا کھلا ثبوت ہے؟

منی پور کی معروف   سماجی کارکن ارم شرمیلا نے حفاظتی دستوں کو حاصل خصوصی حقوق کے خلاف اپنی 16 سالہ بھوک ہڑتال گذشتہ اگست میں ختم کی اور انتخابی سیاست میں قدم رکھا۔ ارم کا دعویٰ ہے بھوک ہڑتا ل کے بعد ایک بی جے پی رہنما نے ان سے ملاقات کرکے بتایا کہ موجودہ سیاسی نظام  میں انتخاب جیتنے کیلئے کثیر سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ اس نے بتایا اگر کوئی دقت ہو تو  مرکز اسے فراہم کرسکتا ہےگویا ارم شرمیلا کو پارٹی میں لانے کیلئے 36 کروڈ  روپئے رشوت کی پیشکش کی گئی۔ کیا یہی وہ بدعنوانی کا خاتمہ ہے جس کیلئے نوٹ بندی لگا کر 100 سے زیادہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا اور قومی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا گیا۔ بی جے پی کے رام مادھو نے ارم کی تردید کی  لیکن عوام کے نزدیک ارم کا اعتبار رام مادھو سے کہیں زیادہ ہے حالانکہ رام مادھو کو سنگھ نے بی جے پی میں سیاسی سنسکار  کی  آبیاری کیلئے نامزد کیا تھا۔

گجرات کے بعدمدھیہ پردیش میں  دہشت گرد مخالف دستے (اے ٹی ایس) نے پاکستان کی بدنام زمانہ آئی ایس آئی کیلئے جاسوسی   کرنےوالے 11 لوگوں کو گرفتار کرکے کھلبلی مچادی۔ گرفتار شدگان میں دھرو سکسینہ نامی شخص  بی جے پی آئی ٹی سیل کا ایک عہدیداربھی ہے۔ ملزم دھرو سکسینہ کی  ملازم پیشہ والدہ رجنی سکسینہ  شاعرہ ہیں۔  اس کے والد آنند سکسینہ معاملہ دار کے دفتر میں افسر رہ چکے ہیں۔  دھرو نے بھوپال کے این آر آئی کالج سے انجنیرنگ کی تعلیم حاصل کی اور اپنے بھائی مینک کے ساتھ  ایک کال سینٹر چلانے لگا جو آگے چل کر ووکل ہارٹ انفوٹیک نامی کمپنی میں بدل گیا۔اس نے ایک غیر قانونی ٹیلیفون ایکسچینج بھی قائم کیاجو آئی ایس آئی کو خفیہ معلومات فراہم کرتا تھا۔

تعلیم کے دوران دھرو برسرِ اقتدار بی جے پی کے رابطے میں آیا اور یوا مورچہ  میں شامل ہوگیا۔ اس کے بعد  پارٹی ن اسےے آئی ٹی سیل کا منتظم بنادیا۔ بھاجپ کے پوسٹر میں اس تصویر بھی شائع ہوتی رہی ہے۔ دھرو کے قریبی تعلقات نہ صرف وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ بلکہ قومی سکریٹری کیلاش وجئے ورگیہ سے بھی رہے ہیں۔    اس جاسوسی گروہ کے ارکان  بھوپال، ستنا، گوالیار اور جبلپور تک پھیلے ہوئے ہیں۔  ستنا سے گرفتار ہونےوالابلرام بجرنگ دل کا سرگرم کارکن ہے۔ گوالیار سے گرفتار ہونے والےجیتندر کی بھابی  میونسپل کاونسلر ہے۔ یہ گرفتاریاں جموں کی سرحد پر ستوندر سنگھ اور دادو نامی افراد کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی جو حفاظتی چوکیوں کی تصویر لے رہے تھے۔ گذشتہ ماہ اترپردیش اے ٹی ایس نے مہرولی سے 11 افراد کو اسی طرح کے سنگین الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا جہاں پر گلشن سین نامی ملزم نے بھی مدھیہ پردیش میں کام کرنے والے گروہ کا سراغ دیا۔  ان لوگوں کا کام پاکستان میں بیٹھے گروہ کیلئے حوالہ کے ذریعہ مال پہنچانا اور دیگر سہولیات مہیا کرنا تھا۔

یہ وہی مدھیہ پردیش ہے جہاں 6  بے قصور مسلم نوجوانوں کا محض اس لئے فرضی انکاونٹر کردیا گیا کہ عدالت انہیں رہا کرنے والی تھی۔ اس گھناونی حرکت کے بعد وزیراعلیٰ نے سینہ ٹھونک کر  جعلی دیش بھکتی  کا  دعویٰ کیا مگر اب 11 ہندو نوجوان گرفتار ہوئے ہیں جن میں سے دو خود ان کے سنگھ پریوار کا عہدیدار ہیں  اس کے باوجود شیوراج سنگھ کی زبان پر لکڑی کا قفل لگا ہوا ہے۔  رئیس کے خلاف قابل کی وکالت کرنے والے کیلاش وجئے ورگیہ  کے ٹوئیٹر پربھی موت کی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ اس لئے کہ دھرو کے ساتھ ان دونوں کی تصاویرآئے دن ذرائع ابلاغ کی زینت بن رہی  ہیں۔  مشیت نے اپنے انداز میں  ظالموں چہرے پر کالک پوت دی ہے مگردھرت راشٹر بنے وزیرداخلہ ہر روز پاکستان کے خلاف چھیڑتا اور چھوڑتا کا گھسا پٹا راگ الاپ رہے ہیں اور وزارت خارجہ   اظہر مسعود کی  دہائی دیئے جارہی ہے۔موہن بھاگوت کو سوچنا چاہئے کہ کیا 90 سال قبل آرایس ایس اسی طرح کے دیش بھکتی پیدا کرنے کیلئے بنائی گئی تھی۔ انہیں سیاسی اقدار کا فروغ چاہتی تھی جو منی پور میں سامنے آرہے ہیں اوریہی سنسکار  لوگوں میں پیدا کرنا چاہتی تھی جو گجرات میں ظاہر ہورہے ہیں ؟

خواجہ احمد عباس نے حرص و  ہوس اوربدعنوانی کے موضوع پر  1956   میں راجکپور کیلئے  جاگتے رہو لکھی۔  اس فلم میں شیلندر کا لکھا ایک نغمہ  بہت چلا جس کے بول تھے ’’جاگو موہن پیارے جاگو، نویگ  چومے نین تہارے، جاگو موہن پیارے جاگو ‘‘۔ یہ نغمہ آرایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت سے کہہ رہا ہے ’’ بھاگو موہن پیارے بھاگو، نویگ کھینچے نیکرتہاری ، بھاگو موہن پیارے بھاگو‘‘۔ موہن جی کو اس نویگ  یعنی نئے زمانے کا احساس اٹل جی کے اقتدار سنبھالنے پر تو نہیں ہواتھا مگر مودی کے پردھان سیوک بن جانے کے بعد  ہوگیا  ہے۔ اس کی سیدھی وجہ یہ ہے کہ اٹل جی بھی بھاگوت کی ماننددھوتی میں نظر آتے تھے مگر مودی جی کو کسی نے دھوتی میں نہیں دیکھا۔ سماجوادی پارٹی میں بھی ہے کہ ملائم سنگھ یادو ہمیشہ دھوتی میں اکھلیش پاجامے میں دکھائی دیتے ہیں۔   سماجوادی پارٹی کے اندر جو تبدیلی واقع ہورہی ہیں وہی سب انفرادی اوراجتماعی  سطح پر سنگھ  پریوارمیں بھی ہورہا ہے لیکن محسوس نہیں ہوتا۔  زمانے کی یہ تبدیلی نسل نوکی آمد کا اشارہ ہے۔

نیکر کاپتلون بن جانا معمولی سا ظاہریپریورتن  ہے مگر جوتبدیلیاں منی پور، بھوپال اور احمدآباد میں سامنے آئی ہیں وہ  زیادہ خطرناک اور دوررس ہیں۔ سر سنگھ چالک موہن بھاگوت کے بقول  سنگھ کو کافی طویل مدت تک مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن سویم سیوکوں کی انتھک محنت اور سماجی قربانی کے سبب حالات سنگھ کے حق میں ہوگئے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ان 90 سالوں میں تنظیم مختلف شعبوں میں پھیل گئی لیکن اسی کے ساتھ نظریہ سمٹتا چلا گیا۔  افرادی قوت  میں غیر معمولی  اضافہ ہوا۔ لوگ  ملے مگران میں  کردار غائب ہوگیا۔ مرکز میں  اپنے بل بوتے پر سرکار  بھی  بن گئی  لیکن سنسکار بگڑ گئے۔ سنگھ پریوار کا یہ المیہ ہے کہ اپنی تما تر کامیابیوں کے باوجود یہ نظریاتی تحریک  اپنے بڑھاپے میں  اقدار اور اقتدار کی کشمکش میں گرفتار ہوگئی۔ یرقانی پریوار میں یہ سرطانی آسیب اس تیزی سے پھیل رہا ہے کہ اس کا سورن جینتی منانا مشکوک ہوگیا ہے۔ممکن ہے  اس وقت تک اس کا لاغر شریر (جسم) باقی رہے لیکن  وہ یقیناً آتما(روح) سے خالی ہوگا۔ اٹل  بہاری واجپائی کی مشہور کویتا  اس صورتحال کی بہترین غماز ہے؎

کیا سچ ہے، کیا شیو، کیا سندر؟(کیاستیم، کیا شیوم، کیاسندرم)

شو کا ارچن، شیو کا ورجن، (لاش کی  تعظیم اور شیو کی ممانعت)

کہوں وسنگتی یا روپانتر (کہوں انحطاط یا تبدیلی)

ویبھو دونا، انتر سونا  (ظاہری شان دوگنی، اندرون میں  سوناپن)

کہوں پرگتی یا پرستھلانتر(کہوں ترقی یا مقام سے ہٹ جانا )

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close