سنیما کے تاریخ کی جادویٔی فلم ہے AN INSIGNIFICANT MAN

رويش کمار

اپنی نوعیت کی یہ آخری فلم ہے. جب تک ایسی کوئی دوسری فلم نہیں بنتی ہے، اسے آخری فلم کہنے کا خطرہ اٹھایا جا سکتا ہے. شاید ہی کوئی سیاسی پارٹی اپنے اندر کسی فلم ساز کو اتنی جگہ دے گی جہاں سے کھڑا ہو کر وہ اپنے کیمروں میں اس کے تضادات درج کرتا چلے گا. یہ فلم سیاست کے ہونے کے عمل کی جو جھلک پیش کرتی ہے، وہ نایاب ہے. بہت پیچھے کی تاریخ میں جاکر نہیں بلکہ تین چار سال پہلے کی تاریخ میں جاکر جب AN INSIGNIFICANT MAN کے پردے پر منظر چلتے ہیں تو دیکھنے والے کے اندر اندر کتاب کے صفحے پھڑپھڑانے لگتے ہیں. یہ فلم ایک تماشائی کے طور پر بھی اور ایک سیاسی مخلوق ہونے کے طور پر بھی دیکھنے والے کو آکرشت کرے گی. ہم پرنٹ میں ایسے مضامین پڑھتے رہے ہیں مگر سنیما کے پردے پر اس طرح کا بےمثال نمونہ کبھی نہیں دیکھا. ممکن ہے سنیما کی روایت میں ایسی فلمیں بنی ہوں، جن کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے.

خوشبو راكا اور ونے شکلا جب یہ فلم بنا رہے تھے تب ان سے ملنے کا موقع ملا تھا. تیس سال سے بھی کم کے یہ نوجوان شامل رات رات بھر جاکر عام آدمی پارٹی کے بننے کے عمل کو اپنے کیمرے میں قید کر رہے تھے. درج تو کئی چینلوں نے بھی کئے مگر سب نے اپنے فوٹیج کا سواها کر دیا، کبھی لوٹ کر پھر سے ان تصاویر کو جوڑ کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی. اس کی وجہ بھی ہے. سب سے پہلے میڈیا کے پاس یہ سب کرنے کی سمجھ اور قابلیت نہیں ہے، بعد میں لوگوں کی کمی اور وسائل کی کمی کا مسئلہ بھی شامل ہو جاتا ہے.

عام آدمی پارٹی نئی بن رہی تھی، سیاست کی پرانی روایت کو چیلنج کر رہی تھی اور دینے کا دعوی کر رہی تھی، شاید اسی جوش میں پارٹی نے اندر آکر خوشبو اور ونے کو شوٹ کرنے کا موقع دیا ہو گا. جتنا بھی اور جہاں جہاں موقع ملا، اس سے آپ سیاسی عمل کو کافی قریب سے دیکھ سکتے ہیں. دوسری جماعت تو اتنی ہمت کبھی نہیں کریں گے. اس فلم کو دیکھتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے رہنما اور حامیوں کو اسهجتا ہو سکتی ہے، مگر ایسی بھی اسهجتا نہیں ہوگی کہ وہ فلم ہی سے كرتانے لگیں. یہ فلم ان کے ارادوں کو مضبوط بھی کرے گی لیکن پہلے آہستہ آہستہ کانٹے بھی چبھاتی ہے. ہنساتي بھی ہے اور رلاتي بھی ہے. اس فلم کے کئی سیاق و سباق خوب ہنساتے ہیں. آپ خود پر، میڈیا پر اور رہنماؤں پر بھی ہنس سکتے ہیں.

اروند کیجریوال اس فلم کے مرکزی کردار ہیں. ایک معمولی انسان. یہ فلم انھیں ہیرو یا سپر اسٹار کی نگاہ سے نہیں دیکھتی ہے. ایک کیمرا ہے جو خاموشی سے انہیں دیکھتا رہتا ہے. گھورتا رہتا ہے. وہ دیکھ رہا ہے کہ کس طرح ایک معمولی آدمی سیاست میں قدم رکھ رہا ہے، ہلکا لڑكھڑاتا ہے، پھر سنبھلتا ہے اور جنات کے تکبر کو شکست دیتا ہے. کس طرح اس کے اصول اور رویے آپس میں ٹکراتے ہیں. اروند کیجریوال کے آس پاس کس طرح تضاد پنپ رہے ہیں، وہ کس طرح نکلتے ہیں اور اس کا شکار ہوتے ہیں. خوشبو اور ونے نے اسے بہت خوبصورتی سے پکڑا ہے. ان سب کے درمیان اروند كیسے ٹکے رہتے ہیں، رہنما ہونے کی اپنی دعویداری کبھی نہیں چھوڑتے ہیں. کیمرے کا کلوز اپ کیی بار انھیں پکڑتا ہے. ہارتے ہوئے دیکھتا ہے اور پھر جیتتے ہوئے بھی. پبلک کے سامنے جانے سے پہلے منچ کے پیچھے رہنما کا حال کیا ہوتا ہے، وہ کن باتوں کو سنتا ہے اور پبلک کے درمیان کس طرح رکھتا ہے، یہ سب آپ دیکھتے ہوئے رومانچت ہو سکتے ہیں. رہنما ہونے کی مہارت کیا ہوتی ہے، آپ کو پتہ چلے گا.

یہ سب آپ دوسری پارٹیوں میں یا اب عام آدمی پارٹی میں بھی ہوتے ہوئے نہیں دیکھ پائیں گے. دراصل آپ اس فلم کو صرف انا تحریک کے دور کی نگاہ اور یادوں سے نہیں دیکھ پائیں گے. یوگیندر اور پرشانت کا الگ ہونا، کمار وشواس سے دوری کا بننا یہ سب تو نہیں ہے مگر انہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ سب الگ ہونے والے ہیں یا کئے جانے والے ہیں. شگاف صرف اندر سے نہیں آرہی تھی، باہر سے بھی چوٹ کروائے جا رہے تھے تاکہ یہ نئی تنظیم ابھر کر سامنے آئے اس سے پہلے ٹوٹ جائے. آج تک یہ عمل جاری ہے اور آگے بھی جاری رہے گا.

اس فلم میں میڈیا کے اندر اندر میڈیا کی دنیا دکھتی ہے. عام آدمی پارٹی اپنا میڈیا رچ رہی تھی تو میڈیا بھی عام آدمی پارٹی رچ رہا تھا. دونوں اپنی اپنی دھار سے ایک دوسرے کو کاٹ بھی رہے تھے، تراش بھی رہے تھے. اسی دوران میڈیا عام آدمی پارٹی کو کچلنے کا ہتھیار بھی بنتا ہے. وہ پرانے جماعتوں کے ساتھ کھڑا دکھائی دینے لگتا ہے. یہ سب اتنی تیزی سے تبدیل ہوتا ہے کہ آپ کی یادیں محفوظ کی رکھنے میں ناکام ہو جاتی ہیں. انتخابی سروے آتے ہیں اور مسترد کرتے ہے، ان کے آنے اور منہدم ہو جانے کے درمیان اینکر یا رپورٹر کس طرح کیمرے کے سامنے کس طرح ننگا کھڑا ہے، خوشبو اور ونے کو یہ سب پکڑنے کے لئے شکریہ ادا کرنا چاہئے. یہ فلم بتا رہی ہے کہ کس طرح میڈیا بھی اپنے وقت کی سیاست کو پکڑنے میں کھوکھلا ہو جاتا ہے. کھنڈرات کی طرح بھربھرا کر گر جاتا ہے. اینكرو کے جملے کس طرح چالاکی سے تبدیل ہوتے چلے جاتے ہیں. اس عمل میں وہ دیکھنے والے پر ایک احسان کرتے ہیں. خود جوکر لگتے ہیں اور ناظرین کو خوب ہنساتے ہیں. بعد میں وہی میڈیا آپ کے خلاف دوسری پارٹیوں کا ہتھیار بن جاتا ہے. یہ فلم سب کو ہنساتي ہے. ناظرین کو، آپ کے ورکر کو، حامیوں کو، ووٹر کو، مخالفین کو اور میڈیا کو بھی.

یہ فلم شروع سے لے کر آخر تک اروند کیجریوال کو سپر اسٹار یا کھلنایک کے شیشے سے کہیں نہیں دیکھتی ہے جیسا کہ اس وقت میڈیا اور اس وقت میڈیا کرتا ہے. صرف ایک کیمرہ ہے جو خاموشی سے دیکھ رہا ہے کہ کیا یہ معمولی لوگ اقتدار کے منجمد جمے جمایے کھلاڑیوں کو شکست دے سکتے ہے، اس عمل میں وہ خود بھی شکست کھاتا ہے مگر شکست دے بھی دیتا ہے. بجلی اور پانی کا بل نصف کرنے کا وعدہ پورا کر دیتا ہے. وزیر اعلی اروند کیجریوال کو یہ فلم دیکھنی چاہئے. ٹانک کا کام کرے گی. ایک سیاسی پارٹی ویسے بھی دن رات اپنی تنقید سے گھرایا رہتا ہے، اسی میں جیتا مرتا ہے تو پھر اس فلم کے ساتھ بھی اسے جینا-مرنا چاہئے. اس فلم سےابھرنے والی نستالجيا ابھرے گی آپ کے لیڈروں کو بھی ہنساے گي، رولایٔے گي اور خاموش کرائے گی. ایسا موقع پھر نہیں ملے گا.

اس فلم میں یوگیندر یادو دوسرے ہیرو کے طور پر نظر آتے ہیں. فلم کی ایڈیٹنگ انہیں ہمیشہ اروند سے دور رکھتی ہے اور دوسرے سرے پر رکھتی ہے. متحرک فوٹیج کی ایڈیٹنگ کا کمال دیکھئے. ایسا لگتا ہے کہ فلم آگے ہونے والے واقعات کا دستاویز پیش کر رہی ہو. یوگیندر کے باہر نکالے جانے یا باہر ہو جانے کا راستہ ڈھونڈ رہی ہو. خوشبو اور ونے نے فلم کی ایڈیٹنگ اس طرح کی ہے کہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہوئے بھی مختلف لگیں. سیاست میں جو نیا ہوتا ہے اسے اخلاقیات ہی سب سے پہلے مارتی ہے. چھوٹی چھوٹی نیتکتا اس کا بڑا امتحان لے لیتی ہیں. جبکہ منجھے کھلاڑی ایسی نیتکتاؤں کو دھوئیں میں اڑا کر چل دیتے ہیں. کر لو جو کرنا ہے. ہمیں ہیں، ہمیں رہیں گے.

AN INSIGNIFICANT MAN بھارت کے سنیما تاریخ کی ایک جادویٔی فلم ہے. اس میں کوئی بھی فنکار نہیں ہے بلکہ جو حقیقی کردار ہیں، وہی مصور کے کردار میں ہیں. عام آدمی پارٹی اس بات کا فخر لے سکتی ہے کہ اس نے اپنے اندر گھٹ رہے واقعات کو درج کرنے کے لئے کسی فلم ساز کو جگہ دی، اب ہو سکتا ہے کہ وہ ایسا نہ کر سکے جیسا کہ دوسری پارٹی بھی نہیں کرنا چاہتی ہیں پھر بھی ایک مثال کے طور پر ہی صحیح، ان کے لئے یہ قیمتی دستاویز تو ہے ہی. اروند کیجریوال جب آندولن سے نیتا بن رہے تھے تب حالات پر پکڑ بنایے رکھنے کی کوشش میں وہ کس طرح دھوکے کے شکار ہو رہے تھے، اس کا ثبوت دستاویز ہے اور یہ فلم ان کے خلاف نہیں بلکہ ان کے آگے کے سفر کے لئے ایک اچھی ڈکشنری ہے. یہی بات یوگیندر یادو، کمار وشواس، پرشانت بھوشن اور شاذیہ علمی پر لاگو ہوتی ہے. فلم سیاست کا مستند دستاویز ہے یہ کہنے سے تھوڑا مجھے بچائے گی پھر بھی کچھ ایک معاملات میں یہ مستند دستاویز ہے.

خوشبو اور ونۓ نے اپنے ماہ کے فوٹیج سے جو کیا ہے، اس پر آج کا سندھرو  غالب ہے. ان ہزاروں گھنٹوں کے فوٹیج سے ڈیڑھ گھنٹے کی فلم سے پیدا ہوتی ہے. ظاہر ہے نوے فیصد سے زیادہ کٹ ہٹ گیا ہوگا. فلم کے سارے فوٹیج اصلی ہیں، مگر ایڈیٹنگ میں ایک سنیمایٔی تصور کا غلبہ ہے. بہت سے شوٹس شاندار ہیں. کیمرے کا کمال ایسا ہے کہ آپ حیران رہ جائیں گے. فلم کے بارے میں سب نہیں لکھنا چاہتا، مگر ایسی فلم آپ کو دوبارہ دیکھنے کو شاید ہی ملے، لہذا دیکھ لیجیے گا.

مترجم: محمد اسعد فلاحی



⋆ رویش کمار

رویش کمار
مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے