آج کا کالم

سوالات سے کسے نفرت ہو سکتی ہے؟

رویش کمار

سوال کرنے کی طرز عمل سے کسے نفرت ہو سکتی ہے؟ کیا جواب دینے والوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہے؟ جس کے پاس جواب نہیں ہوتا، وہی سوال سے چڑھتا ہے۔ وہی تشدد اور مار پیٹ پر اتر آتا ہے۔ اب تو یہ بھی کہا جانے لگا ہے کہ اتھارٹی سے سوال نہیں ہونا چاہئے۔ یہ صرف ایک بات نہیں ہے بلکہ یہ عام عوام کو انتباہ ہے۔ اس کی حیثیت بتانے کی کوشش ہے کہ ہم اتھارٹی ہیں اور آپ کو کچھ نہیں ہیں۔ ہم جو کہیں گے آپ وہی مانیں گے۔ حکومت کے جو وزیر یہ بات کہتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ سوال پوچھ پوچھ کر ہی انہوں نے اقتدار حاصل کی ہے۔ اگر اس وقت کی حکومتیں بھی یہی کہتی تو اس ملک میں کبھی تبدیلئ اقتدار ہی نہیں ہوتی۔ جس سے بے خوف ہو کر کرسی پر غنڈے بدمعاش بیٹھ جاتے۔ اكثر اقتدار سے وابستہ لوگ ہی کیوں کہتے ہیں کہ کچھ بھی پوچھنے کی آزادی ہو گئی ہے۔ تو کیا حکومت سے پوچھ کر پوچھیں گے؟ آپ کبھی بھی دیکھ لیجئے، بہت آزادی ہو گئی ٹائپ کی دھمکی وہی دیتے ہیں جن کی وفاداری اس وقت کی حکومت کے تئیں ہوتی ہے۔ ایسے لوگ حکومت کے نمائندے غنڈے ہوتے ہیں۔

سوال پوچھنے سے ہی جمہوریت متحرک رہتی ہے۔ اب تو یہ کہا جانے لگا ہے کہ مسلسل عدم اطمینان اور سوال کا اظہار کرنے سے ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے، حکمرانوں نے اشارہ کر دیا ہے کہ وہ اب کسی کو جوابدہ نہیں ہیں۔ ہم جواب نہیں دیں گے۔ ایسی باتیں سن کر کسی کو بھی ڈرنا چاہئے۔ اگر ترقی پر سوال نہیں ہوگا تو کیا ہوگا؟ کیا اس بات کی ضمانت آپ کسی لیڈر یا حکومت سے لے سکتے ہیں کہ وہ جو کرے گی، کبھی غلط نہیں کرے گی۔ اگر دس ہزار کروڑ کے ٹھیکے میں دلالی ہو گئی تب تو سوال پوچھنے پر حکومت جیل میں ڈال دے گی کہ آپ تو ترقی کے مخالف ہیں۔ ترقی سوالات سے پرے نہیں ہے۔ اس لئے بھی نہیں ہے کہ دنیا میں ترقی کا کوئی بھی ماڈل ایسا نہیں ہے جس میں ہزار كمياں نہ ہوں۔

کیا آپ نے حکومت اور ترقی کا کوئی ایسا ماڈل دیکھا ہے، سنا ہے، پڑھا ہے جس میں سوال پوچھنا منع ہے کیونکہ وہ حکومت کوئی غلطی کرتی ہی نہیں ہے۔ اس کی ترقی کے ماڈل میں کوئی غریب نہیں ہوتا ہے۔ اس کی ترقی کے ماڈل میں کوئی کسان خودکشی نہیں کرتا، اس ماڈل میں سب کا سستا علاج ہوتا ہے۔ میرے علم میں دنیا میں ایسا کوئی ماڈل نہیں ہے، ایسی کوئی حکومت نہیں ہے۔

سوالوں کو لے کر عدم رواداری بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ بہت صاف ہے۔ دنیا کے تمام ماڈل فیل ہو چکے ہیں۔ ایک یا دو فیصد لوگوں کے پاس پوری دنیا کی آدھی سے زیادہ جائیداد آ گئی ہے۔ بھارت میں بھی چند لوگوں کے پاس آدھی سے زیادہ آبادی کے برابر جائیداد آ گئی ہے۔ حکومتوں کے نمائندے انہیں چند لوگوں کے رابطے میں رہتے ہیں۔ بلکہ ان کی مدد کے بغیر اب سیاست ممکن نہیں ہے۔ آپ دیکھتے ہی ہوں گے کہ الیکشن آتے ہی اشتہارات میں کتنے بےشمار پیسے خرچ ہوتے ہیں۔ سیاست کو ایونٹ مینجمنٹ بنا دیا جاتا ہے۔ پریس بھی اس کےساتھ ہوتا ہے۔

اس کے باوجود صحافیوں کا بڑا حصہ ان سے علیٰحدہ بچا ہوا ہے۔ وہ نئے نئے طریقوں سے سوال پوچھنے کاآپشن بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پریس کی آزادی کو لے کر پوری دنیا میں بحث ہو رہی ہے۔ کارپوریٹ اور حکومت دونوں مل کر پریس کا گلا دبا رہے ہیں۔ یہ اس لئے ہو رہا ہے کہ عوام اب پوچھنے والی ہے کہ صرف دو فیصد آبادی کے پاس ستر فیصد آبادی کا پیسہ کہاں سے آ گیا ہے؟  کیوں وہ بھوکے مرنے لگے ہیں؟ ظاہر ہے سوال پوچھنے کی گنجائش ہی ایک خطرہ ہے۔ اس لئے اسے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاکہ عام لوگ بھوک، روٹی اور روزگار سے جڑے سوال نہ کر سکیں۔ حال ہی میں پنجاب کے ایک کسان نے پانچ سال کے اپنے بیٹے کو سینے سے لگا کر نہر میں چھلانگ لگا دی۔ اس پر دس لاکھ کا قرضہ تھا۔ وہ کیوں نہر میں کود گیا کیونکہ کوئی اس کے لئے سوال اٹھانے والا نہیں تھا۔ کوئی اس کی بات سننے والا نہیں تھا۔

اس لئے  پریس کی آزادی کی حفاظت کرنا صحافی سے زیادہ شہری کی ذمہ داری ہے۔ آپ ہمارے محافظ ہیں۔ حکومتوں کو لگتا ہے کہ خوب تشہیر کر کےعوام کو اپنا غلام بنا لیا ہے۔ یہ عوام وہی سنے گی جو وہ کہے گی۔  پوری دنیا میں لیڈران اسی طرح کی زبان بول رہے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ عوام پریس کے خلاف ہے۔ پریس میں کئی كمياں ہو سکتی ہیں لیکن عوام کی طرف سے سوال پوچھنے کا حق ان سےکوئی نہیں چھین سکتا ہے۔ عوام ہی پوچھ بیٹھے گی کہ حضور کیا بات ہے کہ آپ کو سوال پسند نہیں ہے۔

صحافی خوف زدہ ہوگا، نہیں لکھے گا تو نقصان شہریوں کا ہی ہوگا۔ حکومتوں کا ظلم بڑھ جائے گا۔ غلام ذہنیت پر مبنی صحافت شہریوں کا دم گھونٹ دے گی۔ اس لئے سوال پوچھنے کے ماحول کی حمایت کیجئے۔ جو بھی اس کے خلاف ہے اسے جمہوریت کے دشمن کے طور پر سمجھئے۔ ایک حب الوطنی یہ بھی ہے کہ ہم عوام کی حفاظت کے لئے سوال کریں۔  سوال کرنے سے ہی قومی سلامتی مضبوط ہوتی ہے۔ جواب ملنے سے ہی لوگ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ اگر جواب نہیں ملے گا تو عوام غیر محفوظ محسوس کرے گی۔ عوام غیر محفوظ رہے گی توملک محفوظ نہیں رہ سکتا ہے۔ سرحد پر جوان ہماری حفاظت کرتے ہیں اور سرحد کے اندر صحافی حکومتوں سے سوال کر شہریوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس لئے صحافی کو قلم کا سپاہی کہا گیا ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کو عوام کا خادم کہا جاتا ہے۔ ہم سوال پوچھنے والے سپاہی ہیں تاکہ خادم عوام سے بےوفائی نہ کرے۔

مترجم : شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close