آج کا کالم

سوال پوچھنا بلیک منی کی حمایت نہیں ہےجناب!

رویش کمار

آج کے اكونومك ٹائمز کی خبر ہے کہ آمدنی سے زیادہ جائیداد پر دو سو فیصدی جرمانہ کس طرح لگائیں، اسے لے کر انکم ٹیکس افسر کشمکش میں ہیں۔ وزارت خزانہ کے افسر نے نوٹ بندی کے فوراً بعد اس کا اعلان کیا تھا۔ انکم ٹیکس حکام نے کہا ہے کہ قانون میں ایسی کوئی تجویز نہیں ہے جس کے تحت بینکوں میں نقد جمع ہونے پر 200 فیصد جرمانہ لگایا جا سکے۔ اگر کوئی ایک کروڑ کی رقم بینک میں جمع کرتا ہے۔ 33 فیصد ٹیکس دیتا ہے۔ اپنا پیسہ  18-2017  کے انکم ٹیکس ریٹرن میں دکھا دیتا ہے تو اس کا کیا کریں گے؟ انکم ٹیکس حکام نے اخبار کو بتایا ہے کہ اس کے لئے بیک ڈیٹ سے انکم ٹیکس کے قانون میں تبدیلی کرنی ہوگی۔ اگر آپ 200 فیصد جرمانہ لگائیں گے تو سارا پیسہ حکومت کے خزانے میں چلا جائے گا۔

ای ٹی اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں ٹرک ہائی وے پر کھڑے ہو گئے ہیں۔ 30 لاکھ ٹرکوں کا نوے فیصدی حصہ دو دنوں سے تھما ہوا ہے۔ اس سے ضروری چیزوں کی فراہمی میں دقت آ سکتی ہے اورقیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ نوٹ واپسي کے ساتھ ساتھ صارفین کو زیادہ قیمت دے کر بھی اس قومی تہوار میں خوشی خوشی شراکت دینی ہوگی۔ اگر حکومت سخت ہے تو ٹرانسپورٹ اور لاجسٹك سیکٹر میں کیش سے ہونے والے کام کو بند کر دینا چاہئے۔ کیا وہ ایسا کر سکتی ہے؟ ٹرک کا ڈرائیور کریڈٹ کارڈ سے تو رشوت نہیں دے گا نا؟ ڈھابے پر کھانا کس طرح کھائے گا؟ اگر پوری طرح سے کیش بند نہیں ہو سکتا تو کچھ فیصد طے ہونا چاہئے تاکہ قطار میں لگی پریشان عوام کو یقین ہو کہ بلیک منی  والے سچ میں پریشان ہیں۔

دوسری بات یہ کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کو کیش پر منحصر رہنا ہوتا ہے، یہ بھی ہمیں سمجھنا ہوگا. اوور لوڈنگ کا کوئی متبادل نہیں بن پایا ہے۔ اس کے نام پر ہونے والی کمائی بھی کوئی نہیں روک سکا ہے۔ ہماری سیاسی پارٹیاں جب حکومت میں آتی ہیں تو یہی سیکٹر ان کے انتخابات کے اخراجات اور اگلے انتخابات کے وسائل جمع کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاکہ ان سیاسی پارٹیوں کے رہنما بدعنوانی کے خلافبھاشن دے کر لڑنے کی اداکاری کر سکیں۔ ایسا نہیں ہے کہ آر ٹی او کے بارے میں حکومت کو پتہ نہیں ہے۔ اگست 2014 میں پونے کے ایک سیاسی جلسے میں وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے کہا تھا کہ جلد ہی ایک قانون لاکر آر ٹی او نظام ختم کر دیں گے۔ کیا آر ٹی او نظام ختم ہو چکا ہے؟ دو سال سے زیادہ وقت گزر چکا ہے۔

 حکومت نے بتایا ہے کہ نوٹ بندی کے تین دن کے اندر اندر بینکوں میں تین لاکھ کروڑ روپے جمع ہوئے ہیں اور 50000 کروڑ نکالے گئے ہیں۔ اب یہاں کچھ سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ کیا تین لاکھ کروڑ مکمل طور پر بلیک منی ہے؟ اگر حکومت، بینک یا ریزرو بینک اتنی جلدی بینکوں میں جمع کل پیسہ بتا سکتے ہیں تو کیا کچھ اور سوالات کے جواب مل سکتے ہیں؟ یہ تین لاکھ کروڑ میں سے کتنی رقم پرانے نوٹوں کے جمع کرنے کی ہے؟ کتنی رقم دس اور پانچ ہزار سے کم ہے؟ عورتوں کے اکاؤنٹ میں کتنے پیسے جمع ہوئے ہیں؟ انہیں اور کسانوں کو ڈھائی لاکھ تک کی رقم جمع کرنےپر ٹیکس اور پوچھ گچھ سے چھوٹ ملی ہے۔ کیا ریزرو بینک بتا سکتا ہے کہ دیہی سیکٹر میں کتنے پیسے جمع ہوئے اور ممبئی دہلی جیسے بڑے شہروں میں کتنے پیسے جمع ہوئے؟

 ایک اخبار میں آگرہ سے رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ جن دھن اکاؤنٹ میں کئی کروڑ روپے جمع ہوئے ہیں۔ اگر وہ رپورٹ درست ہے تو حکومت کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ ملک بھر میں کروڑوں جن دھن اکاؤنٹ میں کتنے پیسے جمع ہوئے ہیں۔ زیرو جن دھن اکاؤنٹ میں کتنا اچھال آیا ہے۔ حکومت بتاتی بھی رہی ہے کہ جن دھن میں کتنا پیسہ جمع ہوا ہے تو اس بار کیوں نہیں بتا رہی ہے؟ اب اس کو اجاگر کرنے سے یہ ہو سکتا ہے کہ ان اکاؤنٹس کے ذریعہ بلیک منی وائٹ کرنے والوں پر لگام لگ سکتا ہے۔ ہمیں بھی پتہ چلے گا کہ جن دھن اکاؤنٹ کا استعمال تو نہیں ہو رہا ہے۔ اصول کے مطابق جن دھن میں ایک لاکھ تک ہی جمع ہو سکتا ہے اور ماہ میں دس ہزار سے زیادہ نہیں نکال سکتے ہیں۔ اس لئے حکومت اگر معلومات دے تو افواہوں پر بھی روک لگے گی۔

تین لاکھ کروڑ کے اعداد و شمار سے ایک تصویر تو بنتی ہے مگر وہ حقیقی تصویر نہیں ہے۔ تین لاکھ کے بعد یہ رقم دس لاکھ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کافی پیسہ عام کاروباری سرگرمیوں کا ہو۔ کیا اسے بھی تین لاکھ کروڑ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ نوٹ بندی سے پہلے بینکوں میں عام طور پر کتنے لاکھ کروڑ روپے جمع ہو رہے تھے؟ اكونومك ٹائمز نے لکھا ہے کہ 9 سے 12 نومبر کے درمیان صبح صبح 1 لاکھ 67 ہزار کروڑ کا لین دین ہوا۔ اس میں سے 45000 کروڑ پرانے نوٹ جمع ہوئے۔ وہ بھی صرف اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں۔ بدھ سے ایس بی آئی میں 75945 کروڑ جمع ہوئے ہیں۔ بینک آف انڈیا میں 15000 کروڑ اور سینٹرل بینک آف انڈیا میں چار ہزار کروڑ۔ اخبار کے مطابق پرائیوٹ بینکوں نے اپنے اعداد و شمار جاری نہیں کئے ہیں۔ یہ پیسوں کو پرانے نوٹوں اور بلیک منی کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔ اگر سب بلیک منی نہیں ہے تو پھر کیوں بتایا جا رہا ہے یا اسے بتانے کی جلدی کیا ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم روز کا روز جان سکتے ہیں کہ 9 نومبر کے بعد جو رقم جمع ہوئی ہے اس میں سے کتنے پرانے نوٹوں کے جمع ہونے کی ہے اور کتنے پیسے الیکٹرانک سے لے کر تمام کاروباری ٹرانزیکشن کے ہیں۔ کئی طرح سے سننے میں آ رہا ہے کہ بینکوں سے باہر الگ الگ اکاؤنٹس میں بلیک منی ایڈجسٹ کئے جا رہے ہیں۔ کیا حکومت کے پاس اس طرح کی دھاندلی کو ٹریک کرنے کا کوئی ذریعہ ہے؟ یعنی کیا حکومت الیکٹرانک طریقے سے جان سکتی ہے کہ کمپنیوں کے اکاؤنٹس میں کس طرح سے اچھال آ رہا ہے۔ اگر یہی لوگ بچ گئے تو پھر کیا فائدہ۔ کئی بزنس اخبارات کو غور سے دیکھا.۔ سونے کی خرید  میں کتنا اضافہ ہوا، اس پر تو مضمون آنے بھی بند ہو گئے ہیں۔ ٹھوس معلومات نہیں ہیں۔ ایک آدھ دکانوں میں چھاپہ ماری کی خبر ہے جبکہ اس ملک میں لاکھوں دکانیں ہیں۔

حکومت کی ایجنسیاں یہ کیوں نہیں بتا رہی ہیں کہ ان چار دنوں میں سونا یا پروپرٹي کے ذریعہ کتنی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ دو چار بڑی کارروائی ان سوالوں کا جواب بن جائے گی مگر وہ جواب نہیں ہو سکتا. علامت کے طور پر دو -تين بڑی کارروائی کر دیجئے، تالیاں بٹوريے اور باقی سوالوں کو چھوڑ کر چلتے بنئے۔ 2 مئی 2016 کے انڈین ایکسپریس میں ہریش دامودرن کی ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ مارچ 2016 کے سالانہ اختتام پر بینکوں میں جمع رقوم میں صرف 9.9 فیصد ہی اضافہ ہوا ہے۔ ڈپوذٹ میں سنگل ڈیجٹ کی یہ نوبت -631962 میں ہی درج ہوئی تھی۔ یعنی بینکوں میں جمع رقوم کو دیکھیں تو ان کی حالت خراب چل رہی تھی۔ ہریش دامودرن نے کئی وجوہات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ لوگوں کی آمدنی ہی نہیں بڑھ رہی ہے اس لئے بینکوں کی جمع رقم تاریخی طور سے گھٹ رہی ہے۔ تو کیا یہ ساری کوشش بیمار بینکوں کو بچانے کی ہے؟

بزنس اسٹینڈرڈ اخبار نے تو باقاعدہ چارٹ نکالا ہیکہ کتنے بلیک منی پر آپ کو کتنا ٹیکس دینا ہوگا، کتنا جرمانہ دینا ہوگا۔ مختلف شرطوں کے ساتھ چارٹ میں بتایا گیا ہے کہ کتنا ٹیکس لگے گا اور کتنا جرمانہ۔ اخبار نے بتایا ہے کہ اگر آپ کے پاس پانچ لاکھ روپے کی غیر اعلانیہ رقم ہے، کوئی ٹیکس نہیں دیتے رہے ہیں تو آپ کو اس پر 20600 ٹیکس دینے ہوں گے۔ اس کا 200 فیصد جرمانہ ہوا 41200. یعنی آپ پانچ لاکھ کے بلیک منی پر صرف 61800 دے کر اسے وائٹ کر سکتے ہیں۔ اگر یہ حساب درست ہے تو پھر تو یہ اسکیم کچھ اور نہیں، نقدی بلیک منی رکھنے والوں کے لئے مبارک ہو دیوالی ہے۔ آپ کو 5  لاکھ کی غیر اعلانیہ رقم پر صرف 12 فیصد ٹیکس اور جرمانہ دینا ہوگا۔ اگر آپ  پانچ لاکھ کی آمدنی پر ٹیکس دیتے رہے ہیں اور آپ کے پاس ایک کروڑ کی غیر اعلانیہ رقم نکلتی ہے تو اس پر جرمانہ اور سزا ملا 8729250 روپے دینے ہوں گے۔ 87 فیصد ٹیکس لگ جائے گا۔ پھر بھی 13 لاکھ روپے وائٹ ہو جائے گا۔ چور کے پاس 13 لاکھ بھی بچ جائے تو یہ بات سمجھیں کہ وہ بادشاہ ہی رہا۔

آج کے دور میں اطلاعات اور حقائق کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ موٹی بات لوگوں میں چلی گئی ہے کہ بلیک منی کے خلاف تاریخی کارروائی ہوئی ہے۔ پانچ سو اور ہزار کے نوٹ بند ہو گئے ہیں۔ کئی طرح کے سوالات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ٹی وی اور اخبارات کی تصاویر میں صرف غریب اور عام لوگ ہی پریشان کیوں ہیں۔ جبکہ یہی وہ لوگ ہیں جو پورے دل سے حکومت کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔ بلیک منی ختم ہو گیا ہے، اگر اس کا دعوی ہے تو سارے حقائق کہاں ہیں۔ اگر صنعت کاروں اور کاروباریوں کے پاس بلیک منی تھا تو ان کے بیچ ظاہری طور پر واویلا کیوں نہیں مچ رہا ہے۔ حکومت ان کے بارے میں کیوں نہیں کچھ بتا رہی ہے تاکہ قطار میں کھڑے لوگوں میں اور صبر و استقلال پیدا ہو سکے کہ وہ تاریخی طور پر اپنی قومی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔ سوالوں کے جواب چاہئے تاکہ ان کا اعتماد مزید بحال ہو سکے۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close