آج کا کالم

سوشل میڈیا پر منموہن سنگھ کی واپسی کے پیچھے کون؟

رویش کمار

وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکہ سے واپس آنے سے پہلے سوشل میڈیا پر امریکی کانگریس کے بہانے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ لوٹ آئے. سوشل میڈیا پر اپنی واپسی کا منموہن سنگھ نے بھی تصور نہیں کیا ہوگا. امریکی کانگریس میں وزیر اعظم کی تقریر کے دوران بجی تالیوں کی گنتی کیا ہوئی ان کے ناقدین پرانا ریکارڈ دیکھنے لگے کہ صحیح میں کسی کے لئے  پہلی بار تالی بجی ہے کیا. یوٹیوب پر منموہن سنگھ کو ڈھونڈنے لگے. میڈیا میں وزیر اعظم مودی کی تقریر ختم ہوتے ہی تقریر سے زیادہ یہ باتیں چلنے لگیں کہ آٹھ یا نو بار امریکی اراکین پارلیمنٹ نے کھڑے ہوکر احترام کا اظہار کیا تو تیس یا تینتیس بار اجتماعی تالیاں بجيں. بھکتوں کی طرف سے ہر بار ایسی حرکت ہو جاتی ہے جس سے وزیر اعظم کے بیرونِ ملک سفر کی ساری بحث یا تو تالی کی گنتی میں کھو جاتی ہے یا اسٹیڈیم میں سننے آئے لوگوں کی تعداد میں. تقریر میں خارجہ پالیسی کے عناصر پیچھے رہ جاتے ہیں.

تالیوں اور کھڑے ہونے پر زور پڑتے ہی بھکت مخالف یوٹیوب پر جولائی 2005 کی ویڈیو تلاش کرنے لگے جب سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے امریکی کانگریس سے خطاب کیا تھا. ایک قسم کا مقابلہ چل پڑا. پہلی بار مودی کے مقابلے منموہن سنگھ کو لایا گیا. لوگ سوشل میڈیا پر ان کی تقاریر کو بھی شیئر کرنے لگے ہیں. کئی فیڈ میں وزیر اعظم کی تقریر کے ساتھ ساتھ منموہن سنگھ کی تقریر کا بھی لنک آجاتا ہے.

میں نے بھی اس ویڈیو کو دیکھا. ان کے احترام میں بھی امریکی کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ دیر تک تالیاں بجاتے رہے. اس ویڈیو کو دیکھتے وقت میں بور ہو گیا اور لگا کہ لوگ اتنی دیر تک تالیاں کیوں بجا رہے ہیں. مہمان کے داخل ہوتے ہی احترام میں تھوڑی دیر تالی تو سمجھ آتی ہے لیکن ایسا لگا کہ باقاعدہ اراکین پارلیمنٹ سے کہا گیا ہو کہ کچھ بھی ہو جائے لمبے وقفے تک تالی بجانی ہے. ایوان میں منموہن سنگھ آ گئے ہیں، بولنے کے لئے اسٹیج پر پہنچ گئے ہیں، کھڑے ہو گئے ہیں اور اب بولنا چاہتے ہیں مگر تالی ہے کہ بجی جا رہی ہے. کوئی تک نہیں ہے، بس بجائے جا رہے ہیں. شاید وہاں کی روایت ہوگی. تالیوں کا بھی مارچ کی طرح مشق کرایا جاتا ہوگا.

بہر حال منموہن سنگھ کا ویڈیو لے کر موازنہ ہونے لگا. بھکت اور بھکت مخالفین کا طرز عمل ایک جیسا ہو گیا. حالت یہ ہوگئی کہ وزیر اعظم مودی کے انگریزی کے تلفظ پر بے تکے تبصرے ہونے لگے. مذاق اڑایا جانے لگا کہ دیکھو وزیر اعظم ٹیلی پرامپٹر پر لکھی انگریزی پڑھتے ہیں. اس لحاظ سے تو انگریزی کے تمام ماہر اینکر خارج ہو جائیں جو کئی سال سے کیمرے کے نیچے لگے ٹیلی پرامپٹر پر دیکھ کر انگریزی پڑھتے ہیں. ہم هندی والے بھی اسٹڈيو میں ایسے ہی پڑھتے ہیں. ایسا ہی چلتا رہا تو سوشل میڈیا کا یہ میچ ہندوستان کی عوامی سیاسی تہذیب کو تباہ کرکے دم لے گا.

بہر حال منموہن سنگھ کے ساتھ جواہر لال نہرو سے لے کر اٹل بہاری واجپئی تک کے ویڈیو نکال لئے گئے. مگر ان تینوں میں زیادہ جگہ ملی منموہن سنگھ کے ویڈیو کو. کوئی ٹیکنالوجی کا ماہر بتا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر گزشتہ 48 گھنٹے میں مودی کے مقابلے میں منموہن سنگھ کی کیا حاضری رہی. ان کا ویڈیو وزیراعظم مودی کی تقریر کے ویڈیو کو بھلے نہ پچھاڑ پایا ہو مگر جہاں جہاں ان کا ویڈیو ہے اس کے آس پاس منموہن سنگھ کا بھی ہے.

یہاں تک اخبارات میں بھی امریکی کانگریس میں ہوئے دونوں کی تقریروں کا خوب موازنہ ہوا ہے. اكنامک ٹائمز نے باقاعدہ وزن کرکے بتایا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے منموہن سنگھ کے مقابلے میں 15 فیصد کم الفاظ کا استعمال کیا ہے. منموہن سنگھ نے اپنے اس وقت کے پیش رو اٹل بہاری واجپئی کا نام نہ لے کر جواہر لال نہرو کا نام لیا تو مودی نے ان کا نام نہ لے کر اٹل بہاری واجپئی کا لیا. اس طرح پہلی بار مودی کے مقابلے منموہن سنگھ جگہ پاتے نظر آئے.

لوک سبھا انتخابات کے دوران مودی کی آندھی میں منموہن سنگھ کھر-پتوار کی طرح اڑ گئے. وزیر اعظم مودی نے بھی ماں بیٹے کی سرکار بول کر ہی زیادہ حملہ کیا. سابق وزیر اعظم پر بہت کم حملہ کیا. اس سال جنوری میں منموہن سنگھ نے ایک پریس کانفرنس کی تھی. دس سال کے پروگرام میں ان کی وہ تیسری اور آخری پریس بات چیت تھی. تب انہوں نے کہا تھا کہ "عصر حاضر کی میڈیا کے مقابلے میں میرے تئیں تاریخ زیادہ سخی ہوگا”. منموہن سنگھ جی اپنی اس واپسی پر مسکرا سکتے ہیں مگر شکریہ تاریخ کا نہیں سوشل میڈیا کا ادا کیجئے گا! اور ہاں یہ سخاوت کے نتیجے میں نہیں ہوا ہے بلکہ ایک قسم کی انتہا پسندی کے جواب میں دوسرے قسم کی انتہاپسندی سے ہوا ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close