آج کا کالم

سکھوں پر بننے والے مذاق کے خلاف کورٹ میں کیس

اسے ابھی آپ محض ایک بیوقوفی بھری تصور یا خوف کہہ سکتے ہیں، لیکن ہمارے معاشرے میں فی الحال جو کچھ چل رہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے اس حقیقت میں بدل جانے پر زیادہ شک بھی نہیں ہوتا. میری کلپنا یہ ہے کہ ایک بنگالی خاندان ایک برہمن خاندان کا پڑوسی ہے. برہمن خاندان خالصتا سبزی ہے جبکہ بنگالی موشاي کام ‘پانی توروي’ (مچھلی) کے بغیر چلتا ہی نہیں ہے. ہائی کورٹ میں کیس اسی معاملے کو لے کر چل رہا ہے کہ ‘چونکہ مچھلی پکانے کی بو سے برہمن خاندان کے لوگوں کی مذہبی اور اهساوادي ایمان کو ٹھیس پہنچ رہی ہے، اس لیے بنگالی خاندان کو مچھلی کھانا پکانا چاہئے یا نہیں …’

اس كلپناتمك خوف کا مطلب آپ سمجھ گئے ہوں گے. میرے اس خوف کی پیدائش اس لمحے ہویی، جب میں نے پڑھا ہے کہ ایک وکیل صاحب نے، جو خود سکھ ہیں، سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ لوگوں نے سکھوں پر مذاق بنا کر پوری کمیونٹی کا مذاق بنا ڈالا ہے. اس سے سکھوں کے بچے کمتر-احساس کا شکار ہو رہے ہیں، معاشرے کی ترقی رک گیا ہے. ایسے مذاق رےگگ کی طرح ہیں.

میں سکھ تو نہیں ہوں، لیکن بہت-سے سکھ میرے دوست ہیں اور بہت گہرے، مباشرت، قابل اعتماد، سچے اور مزیدار دوست ہیں. وہ دوسرے فرقوں کے دوستوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ جاندار اور سخت بھی ہیں. میں نے ہمیشہ ان کی اس ذندادلي کا قائل رہا ہوں کہ ان میں خود پر ہنسنے کی حیرت انگیز صلاحیت ہے. اور ظاہر ہے، ایسا کرنے کے لئے جتنا بڑا دل چاہئے، وہ بھی ان کے پاس ہے. میں ہی نہیں، بلکہ پورا ملک ان کے اس حیرت انگیز مزاحیہ-بودھ کو سلام کرتا ہے. یہ ان کی وہ انفرادیت ہے، جو ان دوسرے سے جدا. ایسا لگ رہا ہے، گویا ان کی اس بھاوناگت خوبصورتی کو کسی کی نظر لگ گئی ہے. کالا ٹیکہ لگانے کا وقت آ گیا ہے.

کالا ٹیکہ لگایا جانا ضروری ہے، دوسری صورت میں نظر لگنے کی یہ بیماری متعدی شکل لے لے گی. فلموں کے ریلیز ہونے سے پہلے ہی لوگوں کی استھاے مجروح ہونے لگتی ہیں. یہاں تک کہ ان وکلاء کی بھی جنہیں معاشرے منطقی-دانشور سمجھتا ہے. کتابیں مجروح کرتی ہیں، بیان مجروح کرتے ہیں، مضمون مجروح کرتے ہیں. ان سب سے دلبرداشتہ ہونے والا کمیونٹی صرف اس وقت مجروح نہیں ہوتا، جب ان کی برادری کا کوئی شخص ملک سے بغاوت، کرپشن، فراڈ یا آبروریزی جیسے معاملات میں پھنس جاتا ہے. یعنی کہ ‘کہہ نہیں سکتے … جی ہاں، کر سکتے ہو …’ اور ‘کرنے والے’ کو یہ کہہ کر بخش دیا جاتا ہے کہ ‘یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے’، تو ایسا ‘کہنے والوں’ کے ساتھ بھی تو کیا جانا چاہئے.

اب سکھ کمیونٹی (پتہ نہیں، یہ لفظی پورا کمیونٹی ہے یا کسی ایک شخص کی ذاتی رائے، جس نے خود ہی خود کو سب کے لئے منتخب کر لیا ہے) سپریم کورٹ میں ہے. کچھ وقت بعد سندھی معاشرےکے  لوگ ہوںگے. پھر بنیوں کا سماج ہوگا. ملک میں خواتین کی تنظیموں کی کمی نہیں ہے، اور نہ ہی کمی ہے بیویوں پر بننے والے مذاق کی. یہ بھی کورٹ کے سامنے ہوں گے. اس طرح سلسلہ چلتا رہے گا، اور نتیجہ یہ ہوگا کہ معاشرے کی كھلكھلاهٹ ختم ہو جائے گی. لوگوں کے ہونٹ سل جائیں گے. یوں کہہ لیجئے کہ ایک ہنستا-كھلكھلاتا متحرک معاشرہ مردے میں تبدیل ہو کر خاموش ہو جائے گا، سناٹا پسر جائے گا.

کورٹ تو اپنی حدود میں فیصلہ دیں گے، لیکن کیا معاشرے کو یہ نہیں چاہئے کہ وہ خود کو ٹٹولے اور جاننے کی کوشش کرے کہ ‘اسے یہ ہو کیا رہا ہے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close