آج کا کالم

سیاست میں اخلاقیات کو تولنے والا کوئی ترازو نہیں!

رويش كمار

ہندوستانی سیاست میں سب کچھ ہے بس ایک ترازو نہیں ہے، جس پر آپ اخلاقیات تول سکیں. انتخابات کے بعد کی کوئی اخلاقیات نہیں ہوتی ہے. گورنر آئین کی جتنی دفعہ اور ان کی تشریحات رٹ لیں، رویے میں گورنر سب سے پہلے اپنی پارٹی کے مفاد کی حفاظت کرتے ہیں. یہی ہم کئی سالوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہی ہمیں کئی سالوں تک نظر آئے گا. گورنروں نے آئین کی روح اور روح سے کھلواڑ نہ کیا ہوتا تو کرناٹک، بہار، اروناچل پردیش اور اتراکھنڈ کے معاملے میں عدالت کو گورنر کے فیصلے پلٹنے نہیں پڑتے. اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کرنے کے فیصلے کو جب چیلنج کیا گیا، تب اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے کہا تھا لوگ غلط فیصلے لے سکتے ہیں۔ چاہے وہ صدر ہوں یا جج. یہ کوئی بادشاہ کا فیصلہ نہیں ہے، جس کی عدالتی جائزہ نہیں ہو سکتی ہے. اس کے بعد کے چیف جسٹس نے کہا تھا کہ اتراکھنڈ میں صدر راج کے معاملے میں مرکزی حکومت کو منصفانہ ہونا چاہئے لیکن وہ پرائیویٹ پارٹی جیسا سلوک کر رہی ہے.

گوا اور منی پور کے تناظر میں ٹی وی پر عجیب سی دلیل سنی. ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ گوا کے گورنر نے بی جے پی کو اس لئے بھی بلایا ہو گا کیونکہ بی جے پی کے ووٹ شیئر زیادہ تھے. یہ وہ تشریح ہے جس کا ذکر آئین میں کہیں نہیں ہوگا. سیٹوں کی بنیاد پر تو حکومت بنانے کی دعوت دی جاتی تھی مگر ووٹ شیئر کی دلیل آئین سے باہر ہے. آپ کو حکومت بنانے کے حق میں طاقت کے دم پر نئی نئی دلیلیں سننے کے لئے تیار رہیے. ووٹ شیئر کو لے کر دلیل دینے والوں سے ہوشیار رہیں. کئی بار کم ووٹ اسٹاک والے کو زیادہ سیٹ مل جاتی ہیں تو کیا اسے حکومت بنانے کی دعوت نہیں ملے گا. جیسے گوا میں کانگریس -28.4 فیصد، 17 سیٹ اور بيجےپي- 32.5 فیصد 13 سیٹیں. منی پور میں کانگریس کا ووٹ شیئر ہے 35.1 فیصد، نشستوں کی تعداد 28 ہے. بی جے پی کا ووٹ شیئر ہے 36.3 فیصد، نشستوں کی تعداد کانگریس سے سات کم 21 ہے. گوا میں عام آدمی پارٹی کا 6. 3 فیصد ووٹ شیئر ہے مگر ایک بھی سیٹ نہیں ہے. لیکن گوا پھارورڈ پارٹی کو 3.5 فیصد ووٹ ہے اور تین رکن اسمبلی. اس دلیل سے کوئی گورنر بغیر ممبر اسمبلی والی عام آدمی پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت نہ دے دے.

گزشتہ دو سال میں اروناچل پردیش اور اتراکھنڈ میں حکومت گرا کر صدر راج نافذ کرنے کے حکومت کے تمام دلائل عدالت میں منہدم ہو چکے ہیں. دونوں جگہوں پر حکومتیں بحال ہوئی ہیں. تب بھی ارون جیٹلی نے بلاگ لکھ کر صدر کے فیصلے اور گورنر کی رپورٹ کا دفاع کیا تھا جو عدالت میں غلط ثابت ہوا. گوا معاملے میں انہوں نے پھر اس بار بلاگ لکھا ہے کہ کانگریس نے بی جے پی پر گوا کے مینڈیٹ چوری کرنے کا الزام لگایا ہے جو صحیح نہیں ہے.

گوا اسمبلی انتخابات میں یہ نتیجہ مینڈیٹ آیا … ایک معلق اسمبلی بنی ….. بی جے پی اتحاد بنانے میں کامیاب رہی اور گورنر کے سامنے 40 میں سے 21 ممبران اسمبلی کی حمایت پیش کیا. وہ خود گورنر کے سامنے پیش ہوئے اور حمایت خط سونپا. کانگریس نے گورنر کے سامنے حکومت بنانے کا دعوی بھی نہیں کیا. منوہر پاریکر کی قیادت میں 21 ممبران اسمبلی کے دعوے کے سامنے گورنر 17 اراکین اسمبلی کے اقلیتی کو دعوت نہیں دے سکتے تھے. ایسی کئی پرانی نذیر ہیں جو گورنر کے فیصلے کی حمایت کرتی ہیں. 2005 میں بی جے پی جھارکھنڈ کی 81 میں سے 30 سیٹوں پر جیت لی. تب 17 ممبران اسمبلی والی جیمیم کے رہنما شیبو سورین کو اپنے حامیوں کے ساتھ حکومت بنانے کے لئے دعوت دی گیی تھی. سال 2002 میں جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے 28 رکن اسمبلی جیتے لیکن حکومت نے پی ڈی پی کے 15 اور کانگریس کے 21 ممبران اسمبلی کے اتحاد کو حکومت بنانے کے لئے بلایا. سن 2013 میں بی جے پی نے دہلی میں 31 نشستیں جیتیں لیکن آپ کے 28 ممبران اسمبلی کو کانگریس کی حمایت سے حکومت بنانے کی دعوت دی گئی.

جیٹلی کے یہ دلیل صحیح ہیں. کانگریس کے دور کے ایسے تمام مثالیں ہیں. اس لئے اخلاقیات کا کوئی پیمانہ لاگو نہیں ہوتا ہے. بشرطیکہ اخلاقیات کے لئے آپ  ضد کر رہے ہوں. گوا میں بی جے پی کے وزیر اعلی دو دو علاقوں سے ہار گئے. ان کے چھ وزیر ہار گئے. 13 رکن اسمبلی بنے جبکہ کانگریس کے 17 بنے ہیں. دونوں کے پاس حکومت بنانے کے لئے 21 کی تعداد نہیں ہے. دونوں کے پاس یہ تعداد اتحاد سے ہی آ سکتی تھی. بی جے پی سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اخلاقیات کا مظاہرہ کرے گی اور اپنی ہار قبول کرے گی. لیکن کانگریس نے کوشش کیوں نہیں کیا. اب وہ بی جے پی پر الزام لگا کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہے. گورنر کو خط بھیجنے کی پہل کیوں نہیں کی.

بی جے پی نے اسے موقع کے طور پر لیا اور نتن گڈکری کو دہلی سے بھیج دیا. گوا میں موجود دگ وجے سنگھ گوا پھارورڈ پارٹی اور آزاد ممبر اسمبلی کو ساتھ نہیں لے پائے. حکومت بنانے کے چیلنج کانگریس کے پاس بی جے پی سے کم تھی. بتایا جا رہا ہے کہ کانگریس میں وزیر اعلی کے دعویدار بہت تھے. اس ٹکٹ پر چار چار سابق وزیر اعلی جیتے ہیں. تو کیا کانگریس کے اندرونی جھگڑے کا فائدہ بی جے پی نے اٹھایا. کیا کانگریس کی قیادت اپنے رہنماؤں کو سنبھال نہیں پایا. یہ بحران کانگریس کا زیادہ لگتا ہے، بی جے پی کا کم لگتا ہے. کانگریس کہتی ہے کہ گورنر نے نہیں بلایا. سپریم کورٹ چلی گئی مگر اسے کوئی راحت نہیں ملی. کانگریس سپریم کورٹ میں ہار گئی. کورٹ نے کہا کہ منوہر پاریکر وزیر اعلی کے طور پر حلف لے سکتے ہیں لیکن انہیں جمعرات تک اسمبلی میں پہلے اکثریت ثابت کرنا پڑے گا. کانگریس نے کورٹ سے کہا کہ گورنر نے بی جے پی کو دعوت دے کر غیر آئینی کام کیا ہے، کیونکہ سب سے زیادہ سیٹیں اسے نہیں ملی ہیں. کورٹ نے پوچھا کہ اگر تعداد تھی تو آپ کو شاہی محل کے باہر دھرنا کرنا چاہئے تھا. اب اس پر بحث ہو سکتی ہے کہ کیا شاہی محل کے باہر دھرنا دینا لازمی شرط ہے. اگر کسی نے کسی پارٹی کو دھرنا دینے سے روک دیا تو کیا حکومت بنانے کی اس کی دعویداری ختم ہو جائے گی.

اس درمیان منوہر پاریکر گوا کے چوتھی بار وزیر اعلی بن گئے ہیں. پاریکر نے دو بار حلف اٹھا لیا. پہلی بار انہوں نے وزیر اعلی کی جگہ وزیر بول کر حلف لیا لیکن نتن گڈکری کے کہنے پر دوبارہ واپس آئے اور حلف لیا. بہار میں لالو یادو کے بیٹے کو دو بار حلف لینی پڑی تھی. تب بی جے پی نے خوب مذاق اڑایا تھا. آئی آئی ٹی سے پاس آؤٹ پاریکر سے بھی چوک ہو گئی. ویسے پاریکر نے تقریبا پونے چار لاکھ کروڑ کے بجٹ کے وزارت دفاع کو چھوڑ ساڑھے چودہ ہزار کروڑ کے بجٹ والے گوا کی کرسی سنبھالی ہے. ان کی کابینہ میں بی جے پی کے کم رکن ہیں، اتحاد کے زیادہ وزیر بنے ہیں. پاریکر کے علاوہ آٹھ وزراء نے حلف اٹھا لیا ہے. اس میں دو بی جے پی کے وزیر ہیں، تین گوا پھارورڈ پارٹی کے وزیر ہیں، ایک آزاد امیدوار وزیر ہے اور دو ایمجيپي کے ہیں. یعنی حمایت دینے والی جماعتوں کے تمام ارکان کو وزیر بنا دیا ہے.

تین نشستیں جیتنے والی گوا پھارورڈ پارٹی کے سو فیصد رکن اسمبلی وزیر بن گئے ہیں. اس کے لیڈر وجے ڈیسائی جس واحد مقصد کے لیے  بی جے پی کی حکومت کو ہٹانا تھا، بی جے پی کی حکومت میں ہی پوری پارٹی کے ساتھ وزیر بن گئے ہیں. ان کے اس فیصلے کے خلاف ان کی پارٹی کے صدر نے استعفی دے دیا ہے. فتح ڈیسائی یوتھ کانگریس کے صدر رہ چکے ہیں. آزاد ممبر اسمبلی بن چکے ہیں لیکن اس بار اپنی پارٹی بنا کر انتخابات میں اترے تھے. پرساد كاتھے نے لکھا ہے کہ ان کے ساتھ کانگریس نے اسٹریٹجک سمجھ کی وجہ سے شوالي میں گوا پھارورڈ پارٹی کے خلاف امیدوار نہیں دیا. جس کی وجہ سے اس سیٹ پر بی جے پی کے وزیر دیانند ماندےكر ہار گئے. فتح ڈیسائی نے انتخابی مہم کے دوران منوہر پاریکر پر جم کر حملے کئے. پاریكر کے وزیر اعلی بننے کے بعد فتح ڈیسائی نے ہی حلف اٹھا لیا. بی جے پی کے وزیر کو شکست دینے والا بی جے پی کی حکومت میں وزیر بن گیا. گوا پھارورڈ پارٹی نے اکتوبر 2016 میں چھ پوائنٹ کا ایجنڈا جاری کیا تھا جس کا مقصد تھا موجودہ بی جے پی حکومت کو اقتدار سے ہٹانا ہے. گوا کی ندیوں کو قومی کرنا ہے. مقامی لوگوں کے لئے ملازمتوں میں 80 فیصد ریزرویشن. ملازمتوں میں مقامی لوگوں کے لئے 80 فیصد ریزرویشن کا مطالبہ ڈونالڈ ٹرمپ کی حوصلہ افزائی نہ کر دے. بی جے پی کی پرانی ساتھی مہاراشٹر گوماتك پارٹی کے تین میں سے دو رکن اسمبلی وزیر بن گئے ہیں. لہذا پاریکر حکومت کو اکثریت ثابت کرنے میں کوئی دقت نہیں آئے گی. اگر کسی اخلاقیات کی وجہ سے گوا میں ہارنے کے بعد بی جے پی کو حکومت بنانے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے تھا تو اسی اخلاقیات کی وجہ سے اکثریت سے دور رہ گئی کانگریس کو بھی حکومت بنانے کے لئے ہلہ نہیں کرنا چاہئے.

منی پور میں کانگریس کو اکثریت نہیں ملی. بی جے پی کانگریس کے بعد دوسری پارٹی بن کر ابھری ہے. مگر اسے بھی اکثریت نہیں ملی. منی پور کی گورنر اس بات سے مطمئن ہیں کہ بی جے پی کے پاس تعداد ہے اور بيرین سنگھ کو حکومت بنانے کی دعوت دی ہے. این بيرین سنگھ تین چار مہینہ پہلے کانگریس سے بی جے پی میں آئے ہیں. اتنے کم وقت میں کانگریس سے بی جے پی میں آکر وزیر اعلی بننے والے وہ پہلے رہنما ہوں گے. این بيرین سنگھ 2002 میں ڈیموکریٹک ریووليوشنري پیپلز پارٹی سے پہلی بار رکن اسمبلی بنے، جس کا کانگریس میں ضم ہو گیا. سن 2007 اور 2012 میں وہ کانگریس کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی بنے اور وزیر بھی. سال 2017 میں وہ بی جے پی کے وزیر اعلی بننے جا رہے ہیں. اروناچل پردیش کے موجودہ وزیر اعلی پےما كھاڈو بھی کانگریس سے بی جے پی میں آئے ہیں. آسام میں کانگریس سے آئے هیمتا یقین شرما حکومت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور شمال مشرقی میں بی جے پی کے پھیلاؤ کے موہرا لیڈر ہیں.

منی پور اور اروناچل کی مثال سے صاف ہے کہ کانگریس کے لیڈروں کا بی جے پی میں اچھا مستقبل ہے. جس تالاب میں کمل کھل رہا ہے اسی میں ہاتھ بھی دھل رہا ہے. اتراکھنڈ میں سونیا کانگریس اور سونیا بی جے پی کا نعرہ لگا تھا مگر کانگریس سے بی جے پی میں جانے والے 14 رہنماؤں میں سے 12 رکن اسمبلی بن گئے ہیں. کانگریس کے لئے بی جے پی میں کافی اچھا دائرہ کار ہے. گوا اور منی پور کو لے کر کیا گورنر نے کانگریس کے ساتھ ناانصافی کی ہے یا وہی کیا ہے جو انہیں آئین اور سپریم کورٹ کے تمام احکامات کرنے کو کہتے ہیں.

مترجم: محمد اسعد فلاحی 

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close