آج کا کالم

سیاست کا پھندا معیشت کی پھانسی؟

ڈاکٹر سلیم خان

انتخاب کے نشے میں چور سیاستدانوں اور عوام یہ بھول گئے ہیں ملک کی اقتصادی صحت کتنی  خراب  ہوچکی ہے۔ عام  آدمی یہ نہیں جانتا کہ  سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قومی خزانے کا خسارہ فروری ۲۰۱۹؁ کے آخر تک پورے سال کے ترمیم شدہ بجٹ کے  اندازےسے ۱۳۴  فیصد بڑھ  گیا ہے۔۔  ویسے سرکار کو پہلے ہی سے اندازہ تھا کہ اس دوران سرکاری  خرچ آمدنی سے ۶ لاکھ ۳۴ ہزار کروڈ  زیادہ ہوگا  لیکن حقیقت میں وہ خسارہ  ساڑھے آٹھ لاکھ کروڈہوگیا۔  اس خسارے کی بنیادی وجہ یہ ہے  کہ سرکاری خزانہ کی آمدنی تو کم ہوئی مگر خرچ بڑھتا چلا گیا۔ ایک طرف تو وزیر خزانہ ارون جیٹلی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جی ایس ٹی کے سبب ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھ گئی ہے لیکن یہ تلخ حقیقت ہے کہ  اس خوفزدہ  اضافہ شدہ تعداد کی جانب سے جمع ہونے  والا ٹیکس کم ہوگیا ہے۔ ناقص تیاری کے  ساتھ  نافذ کردہ جی ایس ٹی کے سبب ۲۰۱۸ تا ۲۰۱۹ میں ڈائریکٹ ٹیکس کلیکشن سے ہونے والی حکومت کی آمدنی تقریباً ۱۵ فیصد کم رہی۔  حکومت کا ہدف تقریباً ۱۲  لاکھ کروڑ روپے تھا لیکن  ۲۳ مارچ تک یہ مقدار ۱۰ لاکھ کروڈ سے کچھ زیادہ رہی جو توقع سے ۱۵ فیصد کم ہے۔

گھر کا خرچ اگر  آمدنی سے زیادہ ہونے لگے تو وہ  دیوالیہ پن کا شکار  ہوجاتا  ہے اسی طرح  قومیں بھی قلاش ہوجاتی ہیں ۔  اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو  آئندہ مالی سال میں ۷ اعشاریہ ۱۱ لاکھ کروڑ روپئے کا قرض لینا پڑے گا۔ اس میں سے ۴ اعشاریہ ۴۲ لاکھ کروڑ روپئے کا قرض اس مالی سال کی  پہلی ششماہی میں خرچ ہوجائے گا۔  یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایک طرف زور و شور کے ساتھ جمہوریت کا جشن منایا جارہا ہے اور دوسری جانب  ہم لوگ من حیث القوم قرضدارہوتے جارہے ہیں۔ اس سال اب تک یہ سرکار ۴ لاکھ ۴۲ ہزار  کروڑ کا ادھار لے چکی ہے اور ہر ہفتہ ۱۷ ہزار  کروڑ قرض لیا جارہا ہے اس لیے اگر یہ سرکار چلی بھی جائے تو اپنے بعد والوں کے لیے خالی خزانہ اور قرض کا بڑا بوجھ چھوڑ کر جائے گی۔ یہ حسن ِ اتفاق ہے کہ ایک طرف سرکاری  خزانہ  خالی ہوتا جارہاہے اور دوسری جانب سیاسی جماعتوں اور رہنماوں کی تجوریوں سےدولت پھوٹ پھوٹ کر رورہی ہے۔

سب سے اوپر دیش  اورپھر جماعت کے  بعد فرد کا نعرہ لگانے والی  بی جے پی نے جنوری ۲۰۱۸؁ میں  الیکٹورل بانڈ نامی  اسکیم  کو ایوان پارلیمان کے ذریعہ لاگو کیا۔  اس کے تحت سیاسی جماعتوں کو  چندہ دینے والے سرمایہ داروں کو  مستند بینکوں سے بانڈ خریدنے کا موقع عنایت کیا گیا۔  یہ بانڈ ۱۵  دن کے لئے جائز ہوتے ہیں اور  اہل سیاسی جماعت اس مدت میں کسی مستند بینک میں بینک اکاؤنٹ  کے ذریعہ ان کو بھنا سکتی ہے۔ ہندوستان کی خستہ حال  معیشت کو دیکھتے ہوئے  لوگ یہ  سوچ رہے ہوں گے کہ  کون ان بانڈس میں اپنی دولت جھونکے گا؟   خاص طور پر ایک ایسے ماحول میں جبکہ وجئے ملیا اور نیرو مودی جیسے  سرمایہ دار بینکوں سے قرض لے لے کر   فرار ہو رہے ہیں  لیکن جب  ایک آر ٹی آئی کے تحت یہ معلومات حاصل کی گئیں تو لوگوں کی حیرت کا ٹھکانہ نہ رہا۔ ایس بی آئی نے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا کہ ابتک مختلف سیاسی جماعتیں  کل تقریباً ۱۴ سو  کروڑ روپے کے الیکٹورل بانڈ بھناچکی ہیں۔   یہ تو سفید چندہ ہے جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کتنا کالا دھن ان لوگوں نے جمع کیا ہوگا ؟

انتخابی اصلاحات کے لئےکوشاں  ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس نے ان  الیکٹورل بانڈ کی فروخت پر روک لگانے  کی خاطر  سپریم کورٹ سے رجوع  کیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ  نے حکم دیا  ہے کہ ۳۰ مئی سے پہلے تمام سیاسی جماعتیں  الیکشن کمیشن کو الیکٹورل بانڈ سے متعلقتفصیلات  بند لفافوں  میں فراہم  کریں۔عدالت عظمیٰ جب ان بند لفافوں کو کھول کر تفصیل ظاہر کرے گا اس وقت کون سی بجلی گرے گی اس کا اندازہ ابھی سے کیا جاسکتا ہے۔عام طور  پر خیراتی ادارے   چندہ جمع کرنے کی خاطر کوپن چھاپتے ہیں بانڈ اسی کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ ایس بی آئی ایک ہزار، دس ہزار، ایک لاکھ، دس لاکھ اور ایک کروڑ روپے کے الیکٹورل بانڈ کی فروخت کرتا ہے۔  کوپن کا حال یہ ہوتا ہے کہ سب سے کم شرح  والے سب سے زیادہ تعداد میں کھپتے ہیں اور زیادہ  قیمت والے کم تعداد میں لیکن یہاں ترتیب الٹی ہے۔  سیاست کے بازار میں  ایس بی آئی سے ۱۰ لاکھ روپئے کے ۱۴۵۹  اور ایک کروڑ روپئے کے کل ۱۲۵۸ الیکٹورل بانڈ خریدے گئےجبکہ  ایک لاکھ روپے کے صرف ۳۱۸ بانڈاور دس ہزار کے صرف  ۱۲ بانڈ  بکے۔  ویسے  ایک ہزار کے بانڈ بھی خریدے گئے لیکن ان کے گاہک فقط ۲۴ تھے۔

  اس ترتیب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ موجودہ سیاسی جماعتوں کو کس طبقہ کی سرپرستی حاصل ہے۔ ظاہر ہے جن لوگوں نے  ابھی  ان سیاسی جماعتوں کے لیے اپنی تجوری کھول رکھی ہے آگے چل کر سرکاری خزانہ انہیں کے لیے کھلے گا۔  ایک جائزے کے مطابق انتخابی بانڈ کے ۲۲۲ کروڈ میں ۹۴ فیصد یعنی ۲۱۰ کروڈ بی جے پی کو ملے ہیں۔  ۲۰۱۷ تا ۲۰۱۸ کے درمیان الیکٹورل ٹرسٹ میں سے بھی ۸۶ فیصد یعنی ۱۶۸ کروڈ اسی کو ملے ہیں۔  مزے کی بات یہ ہے کہ اس عرصہ میں بیجو جنتا دل نے کانگریس سے ایک کروڈ زیادہ یعنی ۱۳ کروڈ جمع کرلیے۔  سماجوادی پارٹی کو ۴۷ کروڈ اور ڈی ایم کے اور ٹرآر ایس کو ۳۶ اور ۲۷ کروڈ ملے۔  الیکشن کمیشن اور سابق الیکشن کمشنرس  نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کر کے الیکٹورل بانڈ سے پارٹیوں کو ملنے والے چندے کی شفافیت کے لئے خطرناک  قرار دیاہے لیکن ان بیچاروں کی سنتا کون ہے؟  جس طرح بجٹ سے پہلے یا بعد میں حصص بازار کے اندر اتار چڑھاو آتا ہے اسی مانند گزشتہ سال کے مقابلے   اس بار لوک سبھا انتخاب سے قبل  الیکٹورل بانڈ کی فروخت میں ۶۲ فیصد کا زوردار اچھال آیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ  سال ۲۰۱۹؁  میں ایس بی آئی نے ۱۷۰۰ کروڑ روپے کے اضافی الیکٹورل بانڈ فروخت کیے۔

 اس بابت الیکشن کمیشن کا دوسرا  اعتراض  یہ ہے کہ غیر ملکی معاونت کے قانون (‘ Foreign Contribution Regulation Act‘ ) میں ترمیم کے مرکز ی  فیصلے سے ہندوستان میں سیاسی جماعتوں کو بے قابو غیر ملکی فنڈنگ کی اجازت ملے‌گی اورجس سے  غیر ملکی کمپنیاں  قومی پالیسی کومتاثر کر سکتی ہیں۔ دیش بھکتی اور سودیشی کا نعرہ لگانے والی حکومت کی جانب سے اقتدار کی ہوس میں معاشی غلامی کو گلے لگا لینا نہایت  شرمناک حرکت  ہے۔ الیکٹورل بانڈ کے  بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس  سے پارٹی کو پتہ نہیں چلے گا کہ کس نے اس کی معاونت کی ہے۔  یہ ایک ایسی خام خیالی ہے کہ جس پر سیاست کی ابجد جاننے والا بھی یقین نہیں کرسکتا۔   سیاسی جماعتوں  کو روپیہ دینا کوئی کارخیر تو ہے نہیں کہ جوآخرت میں ثواب  کی نیت سے کیا جائے۔ یہ تو سیاسی سودے بازی ہوتی ہے۔ یہ محض الزام تراشی نہیں ہے  پچھلے پانچ سالوں میں اس حکومت نے سرمایہ داروں کے ساڑھے پانچ لاکھ کروڈ روپئے قرض معاف کیے ہیں اس میں سے ڈیڑھ لاکھ کروڈ تو پچھلے ایک سال میں معاف ہوئے اور اسی دوران سب سے زیادہ بانڈ بکے۔  معاف شدہ قرض  میں سے کسی خاص فیصد کے بانڈ خرید لیے جائیں تو یہ گھاٹے کا سودہ نہیں ہے۔ یہ کام کانگریس نے بھی کیا مگر اس کے مقابلے بی جے پی نے چار گنا زیادہ فراخدلی  کا مظاہرہ کیا۔  جمہوری نظام کی یہ  ستم ظریفی ہے کہ اس میں  ووٹ عوام سے مانگا جاتا ہے اور نوٹ خواص کو بانٹے جاتے ہیں۔

صنعتی پیداوار سے متعلق سرکاری  اعداد و شمار کے ادارے سی ای او کے مطابق اس سال  جنوری میں پیداوار کی شرح سست ہو کر ایک عشاریہ ۷  فیصد پر آگئی۔  گزشتہ مالی سال کے مقابلہ یہ گراوٹ بہت زیادہ ہے۔پچھلے سال  اس دورانیہ میں  صنعتی پیداوار کی شرح ۷ عشاریہ ۵ فیصد ی تھی، جبکہ اپریل سے جنوری کے دوران ملک میں صنعتی پیداوار کی شرح بھی ۴ عشاریہ ۴ فیصد ہی رہی۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ میک ان انڈیا کا جادو پوری طرح اتر گیا اور  فی الحال حکمراں جماعت اس جانب توجہ دینے کے بجائے دیش بھکتی،  پلوامہ اور سرجیکل اسٹرائیک کو بھنانے میں غرق ہے۔  اس معاشی بحران کی ابتداء  سال ۲۰۱۶؁  کے نومبر میں نوٹ بندی کے احمقانہ فیصلے سے ہوئی تھی جس کو بی جے پی نے ایک بھیانک خواب کی مانند بھلا دیا ہے۔ وزیراعظم سے لے کر عام بی جے پی رہنما تک کوئی  بھی انتخابی مہم کے دوران اس ذکر نہیں کرتا۔

نوٹ بندی کے  سبب پیدا ہونے والے بحران نے بیروزگاری کے عفریت کو جنم دیا۔  عظیم پریم جی یونیورسٹی کے سنٹر فار سسٹینِبل ایمپلائمنٹ نے حال میں ایک  رپورٹ  شائع کرکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا۔ اس  رپورٹ کے مطابق نوٹ بندی نےتقریباً ۵۰ لاکھ لوگوں  سے ان کی ملازمت چھین لی۔ اس کا نقصان اٹھانے والوں میں سب سے زیادہ ۲۰ تا ۲۴ کی  عمر کے نوجوان ہیں۔  یہی لوگ پہلی بار قومی انتخاب میں ووٹ ڈالنے والے ہیں اسی لیے مودی جی چاہتے ہیں کہ وہ اپنی خستہ حالی کو بھلا کر ووٹ ڈالتے وقت پلوامہ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کو یاد کریں۔   ریزرو بینک آف انڈیا  (آر بی آئی) کے سابق گورنر رگھو رام راجن جوستمبر ۲۰۱۳؁ سے ستمبر ۲۰۱۶؁  تک ریزرو بینک کے گورنر رہے ہیں اور جن کا شمار دنیا کے بڑے ماہرین اقتصادیات میں ہوتا ہے فرماتے ہیں  بنا روزگار تخلیق کیے معیشت سات سے آٹھ فیصد کی شرح نمو حاصل نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق  کوئی بڑی سماجی تحریک یہ  نہیں ظاہر کرتی  کہ بیروزگاری میں   اضافہ نہیں ہوا۔

حکومت کی جانب سے سروے کرنے والے ادارے  این ایس ایس او کو بیروزگاری کے  اور دیگرمعاشی  اعداد و شمار جاری  کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ اس سے ناراض ہوکر اس کے سربراہ  پی سی موہنن  استعفیٰ بھی دے چکے ہیں۔حکومت اگر اپنی ذمہ داری نہیں نبھاتی تو نجی ادارے اس کام کو کرتے ہیں۔ بزنس اسٹینڈرڈ  ایک معتبر اقتصادی جریدہ ہے اس کی ایک رپورٹ  کے مطابق سب سے زیادہ بے روزگاری کیرالہ میں ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے تعلیم یافتہ ہونے سے روزگار نہیں ملتا۔  ۲۰۱۱تا ۲۰۱۲ میں وہاں بیروزگاری کی شرح ۶ عشاریہ ایک فیصد تھی لیکن ۲۰۱۷ تا ۲۰۱۸  کے مالی سال میں  یہ ۱۱ عشاریہ ۴ پر پہنچ گئی یعنی  تقریباًدوگنا ہوگئی۔ ایسے میں اگر بی جے پی سبری مالا پر ہنگامہ نہ کرے تو کیا کر ے؟ غالباً اسی بی چینی کا فائدہ اٹھانے کے لیے راہل نے کیرالہ سے انتخاب  لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 ہریانہ جہاں بی جے پی کی اپنی حکومت ہے ۲۰۱۱ تا ۲۰۱۲ میں بیروزگاری صرف ۲ عشاریہ ۸ فیصد تھی مگر ۲۰۱۷ تا ۲۰۱۸ میں یہ ۸ عشاریہ ۶ پر پہنچ گئی۔ یہ معمولی اضافہ نہیں ہے۔  گجرات کے اندر بھی بیروزگاری کی شرح میں ۹ گنا سے زیادہ کا اضافہ  ہواہے۔ ۷ سال  پہلے یہ صرف عشاریہ ۵ فیصد تھی اب ۴ عشاریہ ۸ پر پہنچ  چکی ہے۔  گجرات کے دیہی علاقوں میں ۷ سال قبل صرف عشاریہ ۸ فیصد لوگ بیروزگار تھے مگر فی الحال وہ  شرح ۱۵ فیصد کو چھونے جارہی۔شہری علاقوں میں ۲عشاریہ ایک سے یہ  ۱۰ عشاریہ ۷ پر پہنچ گئی ہے۔ماہرین کا قیاس ہے ۲۰۱۷؁ میں بےروزگاری کی شرح نے ۴۵  سال کا ریکارڈ توڑ دیا اور بعید نہیں کہ فی الحال ۶۰ سال کا ریکارڈ ٹوٹ چکا  ہو۔ اس مہان سیوا کے لیے پردھان سیوک  ہمیشہ یاد کیے جائیں گے کہ انہوں نے اپنے آدرش گجرات کے ساتھ قومی معیشت کا بھی بیڑہ غرق کردیا۔  حکومت کی اسی نادانی نے کسانوں کو خودکشی پر مجبور کیا اور اب وہ  پڑھے لکھے بیروزگار نوجوانوں کے پھانسی کا پھندا تیار کررہی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close