سیاست کی دہشت گردی یا دہشت گردی کی سیاست؟

ڈاکٹر عابد الرحمن

 گجرات اے ٹی ایس نے دو مسلمانوں کو گرفتار کیا ہے الزام ہے کہ یہ دونوں اسلامک اسٹیٹ کے دہشت گرد ہیں اور ریاست میں ہو نے والے اسمبلی انتخابات کے دوران دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جس کے لئے انہوں نے کچھ مذہبی مقامات کو نشان زد ( ریکیRecce ) بھی کر چکے تھے، وہ سوشل میڈیا کے ذریعہ ISISکے رابطہ میں تھے (indiatoday 26/10/2017)۔ اگر یہ الزامات صحیح ہیں اور یہ لوگ واقعی دہشت گردی کی پلاننگ کر رہے تھے تو ہم گجرات اے ٹی ایس کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے ملک کو جانی و مالی تباہی کی ممکنہ واردات سے بچا لیا۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہماری پو لس کے ذریعہ کی گئی اس طرح کی کارروائیاں زیادہ تر غلط ثابت ہوئی ہیں جن میں پکڑے گئے تمام افراد جنہیں پولس اور میڈیا نے پہلے ہی دن سے خطر ناک دہشت گرد مشہور کردیا تھا ،عدلیہ سے با عزت بری ہوئے ہیں اور کئی واقعات میں تو پولس کی کہا نیاں من گھڑت بھی ثابت ہو چکی ہیں۔

ابھی حال ہی میں دہلی کی ایک عدالت نے بنگلو رو سے گرفتار کئے گئے ایک معروف عالم دین مولانا انظر شاہ قاسمی صاحب کو یہ کہتے ہوئے کیس سے ڈسچارج کر دیا کہ دہلی پولس کے اسپیشل سیل کے ذریعہ پیش کئے گئے شواہد مقدمہ شروع کر نے کے لئے بھی کافی نہیں (unfit)ہیں۔ مولانا صاحب کو دہلی پولس نے بنگلورو سے گرفتار کیا تھا اور ان پر الزام لگایا تھا کہ ان کے القائدہ کی بر صغیر اکائی  (subcontinent module) سے تعلقات ہیں۔ اسی کے ساتھ ان پر یہ الزامات بھی لگائے گئے تھے کہ انہوں نے بنگلورو میں القائدہ کے ایک ممبر کو دوسرے ممبر سے ملوایا تھا اور یہ کہ وہ اپنی تقاریر کے ذریعہ لوگوں کو القائدہ میں شامل ہونے کے لئے اکساتے تھے۔ ان کی گرفتاری کے فوراً بعد میڈیا چینلس نے انہیں خطرناک دہشت گرد القائدہ کا ماسٹر مائنڈ اور نہ جانے کیا کیا قرار دیا تھا لیکن پولس اپنے الزامات کے سپورٹ میں اتنے شواہد بھی پیش نہ کر سکی کہ ان پر مقدمہ ہی چلایا جائے جس کی وجہ سے عدالت نے فرد جرم عائد کر نے کی کارروائی میں ہی انہیں کیس سے ڈسچارج کر رہا کر نے کا حکم سنادیا۔

دہشت گردی اور اس کی منصوبہ بندی کے الزام میں مسلمانوں کی گرفتاریاں اب کوئی نئی بات نہیں رہی ، پولس اس طرح کے کیسس میں مسلمانوں کو گرفتار کرتی ہے میڈیا انہیں خطر ناک دہشت گرد اور دل میں آئے وہ کہہ کر پورے ملک اور بیرون ملک میں بد نام کرتا ہے مسلمان رو پیٹ کر اور اخبارات خاص طور سے اردو خبارات کے صفحات کالے کر کے اور کبھی کبھار احتجاج کر کے خاموش ہو جاتے ہیںاور جمیعت علماء ہند پوری تندہی سے ان لوگوں کے مقدمات لڑ تی ہے اور اس کی وجہ سے کئی سال بعد معلوم ہوتا ہے کہ پکڑے گئے مسلمان بے قصور ہیں،پولس ان کے خلاف الزامات ثابت نہیں کر پائی اور میڈیا نے ان کے خلاف جو کچھ کہا وہ جھوٹ تھا۔

لیکن مذکورہ کیس میں ایک نئی بات ہوئی کہ گجرات کے وزیر اعلیٰ وجئے روپانی نے دہشت گردی کی ان گرفتاریوں کو کانگریس لیڈر اور راجیہ سبھا ممبر احمد پٹیل سے جوڑ دیا اور ان کے استعفیٰ کی مانگ کی کیونکہ گرفتار شدگان میں سے ایک شخص ابھی کچھ دن پہلے تک انکھلیشور کے سردار پٹیل اسپتال میں کام کرتا تھا اور حال ہی میں اس نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ احمد پٹیل اس اسپتال کے ٹرسٹی رہ چکے ہیں۔ ایسا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا ، دہشت گردی کی گرفتاریوں میں گرفتار شدگان کے ساتھ کبھی کسی کمپنی یا ادارے کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا گیا۔ اس معاملہ میں حکومت کے ایسا کر نے سے لوگوں کے اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ دہشت گردی اور اس کے خلاف پولس اور سرکار کی کارروائیوں کو سیاسی طور پر استعمال کیا جا تا ہے اور یہاں یہ بات صاف طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ چونکہ گجرات میں اسمبلی انتخابات قریب ہیں اور اس بار کانگریس کم از کم کڑے مقا بلہ کی حالت میں آ تی دکھائی دے رہی ہے شاید اسی منظر نامے کو بدلنے کے لئے دہشت گردی کی مذکورہ گرفتاریوں کو کانگریس کے ایک مسلم لیڈر سے جوڑ کر عوام کو گمراہ کر نے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ مذکورہ دونوں گرفتار شدگان 2014 سے ہی پولس کی نظر میں تھے ( انڈین ایکسپریس آن لائن 28،اکتوبر 2017)

 اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہیں پہلے ہی کیوں نہیں گرفتار کر لیا گیا اور اب گرفتاری کی باری آئی بھی تو ابھی اسی وقت اور خاص طور سے اسی دن کیوں جس دن گجرات اسمبلی الیکشنس کی تاریخوں کا اعلان کیا گیا،چہ معنی دارد؟ کیاریاست کا سیاسی ماحول گرمانے اوراسے کانگریس کے خلاف استعمال کر نے کے لئے ہی گرفتاری کا یہ وقت مقرر کیا گیا تھا؟لیکن اس سے بھی کڑا سوال کھوپڑی میں ٹھوکریں لگا رہا ہے کہ کہیں یہ دونوں گرفتار شدگان بھی مولانا انظر شاہ قاسمی صاحب کی طرح بے قصورتو نہیں جنہیںمحض اس سیاسی قلابازی کے لئے ہی بلی کا بکرا بنادیا گیا ؟

خیر عدالت میں جب مقدمہ چلے گا تو سب دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا لیکن عدالت کی کارروائی اس راز سے تو پردہ اٹھا دے گی کہ یہ لوگ بے قصور ہیں یا قصور وار لیکن ہمارے یہاں پولس کے محاسبہ کا کوئی کار گر نظام نہ ہونے کی وجہ سے یہ نہیں معلوم ہو سکے گا کہ ان بے قصوروں کی گرفتاریوں کے پیچھے اصل مقصد کیا تھا۔ اور اس پورے ڈرامے کی ڈور کس کے ہاتھ میں تھی۔ ہم نہ کانگریس کے طرفدار ہیں اور نہ بی جے پی کے اور نہ ہی ان دونوں کے کٹر مخالف ہاں ہم کٹر مخالف ہیںتو دہشت گردی، دہشت گردوں، ان کے حمایتیوں اور ان کے ذریعہ مقامی قومی اور بین الاقوامی سطح پر سماجی اور سیاسی فوائد بٹور نے والوں کے ،چاہے وہ کوئی ہوں کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں اور کسی بھی سیاسی پارٹی کے لیڈر یا کار کن ہوں۔ ہم ابتداء سے یہی مطالبہ کرتے آرہے ہیںکہ دہشت گردی کے خلاف سرکاری اور پولس کارروائیوں کو بھی دہشت گردی نہ بننے دیا جائے، گرفتار شدگان کو قانون کے غیر جانبدار معیاری اور مکمل ضابطہ سے گزارتے ہوئے ہی انصاف کی چکی میں پیسا جائے۔

اگر وہ قصور وار ثابت ہوئے تو انہیں سخت ترین قانونی سزا دی جائے لیکن اگر وہ مولانا انظر شاہ صاحب اوردہشت گردی کے دیگر بہت سارے ملزمین کی طرح بے قصور ثابت ہو جائیں اورپورے قانونی عمل کے بعد یہ معلوم ہو جائے کہ ان کی گرفتاریاں بے جا زبردستی اور من گھڑت شواہد کی بنیاد پر ہوئی تھیں تو ان کو گرفتار کر نے والی پولس فورس کا بھی سخت ترین محاسبہ کیا جائے اور انہیں بھی عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی اپنے اختیارات کا اس طرح بے جا اور غیر قانونی استعمال نہ کرے۔ لیکن اس کیس میں سیاست کی صاف دراندازی سے اب یہ بھی ضروری ہو گیاہے کہ اس طرح کی تمام گرفتاریوں کا سیاسی پس منظر بھی تلاش کیا جائے ،اور اس پس منظر میں بیٹھ کر ملکی سلامتی سے کھلواڑ کر نے والے پولس اور سلامتی ایجنسیوں کے سیاسی آقاؤں کو بھی بے نقاب کر عوام کے سامنے برہنہ کیا جائے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ صرف مذکورہ معاملہ میں ہی نہیں بلکہ دہشت گردی کے ضمن میں ہو نے والی اب تک کی تمام گرفتاریوں میں بھی یہ دیکھا جائے کہ وہ سب سیاست کی دہشت گردی ہیں یا دہشت گردی کی سیاست۔



⋆ عابد الرحمن

عابد الرحمن
ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے