آج کا کالم

سیاست کی میزان پر امت مسلمہ اور سنگھ پریوار

 جمہوری نظام میں ہر پانچ سال کے اندر ایک بارووٹ ڈال دینے کے بعد سارے عوام بشمول ہندو مسلمان بے وزن ہوجاتے ہیں۔

ڈاکٹر سلیم خان

اترپردیش کے پارلیمانی انتخاب میں کسی بھی مسلمان کا منتخب  نہ  ہوناامت کے سیاسی  بے وزنی کی  سب سے بڑی مثال تھی۔ مودی لہر کے بعد یوگی لہر آئی ایسے میں مسلمانوں کو اسمبلی سے بھی صاف ہوجانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ حالیہ ضمنی انتخاب میں  مودی  اور یوگی نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا پھر بھی نورپور اسمبلی  اور  کیرانہ پارلیمانی حلقہ سے مسلم  امیدوار کو نہیں ہراسکے۔   گورکھپوراورپھولپور میں  تو خیر ہندو امیدواروں کے ہاتھوں بی جے پی کی شکست سے دوچار ہونا پڑا لیکن نور پوراور  کیرانہ میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہار کیا  بی جے پی  کی سیاسی بے وزنی کی طرف اشارہ نہیں کرتی؟ حالیہ پانچ صوبوں کےنتائج میں تلنگانہ کی مثال لیں  جہاں پہلی بار بی جے پی نے تنہا اپنے بل بوتے پر انتخاب لڑا۔ اس سے قبل وہ تلگو دیسم کے ساتھ انتخابی میدان میں آتی تھی تو پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ  اس کے اپنے ووٹ کتنے ہیں اور ٹی ڈی پی نے کتنے حبہ کیے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ تلنگانہ اسمبلی میں بی جے پی کے ۵ ارکان  موجود تھے۔ اس بار ان میں سے چار ہار گئے اور صرف ایک کامیاب ہوسکا۔

بی جے پی کو افسوس اس بات کا ہے کہ ہے کہ ۷ فیصد ووٹ حاصل کرنے کے باوجود وہ دوسرا امیدوار کامیاب نہیں کرسکی جبکہ اس کے نصف یعنی ۵ء۳ فیصد ووٹ پانے والی تلگو دیسم پارٹی کو دو حلقوں میں کامیابی مل گئی۔ بی جے پی یہ کہہ کر اپنے آپ کو مطمئن کرسکتی ہے کہ کل تک نائیڈو این ڈی اے میں تھے کل پھر آجائیں گے لیکن   ایم آئی ایم نے تو صرف ۷ء۲ فیصد ووٹ کی مدد سے ۷ امیدواروں کو کامیاب کرلیا۔  ایک اور ۷ میں معمولی فرق نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ایم آئی ایم کے ۷ ارکان تھے اب بھی ۷ ہیں ۔ اس بارممکن ہے ایک آدھ کم ہوجاتا  لیکن شاہ جی اور یوگی جی کی مخالفت نے   ایم آئی ایم کی کامیابی کو یقینی بنادیا۔ یوگی جی کی  احمقانہ  شعلہ بیانی ایم آئی ایم کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکی لیکن اس نے خود اپنا خرمن  خاکستر کردیا۔  مسلمانوں کو سیاسی احمق اور براہمنوں کی ذہانت کا قصیدہ پڑھنے والوں کوچاہیے کہ حیدر آباد شہر کی ووٹنگ کا تفصیلی  جائزہ لیں۔

شہر حیدر آباد میں جملہ ۱۵  حلقہ جات ِاسمبلی ہیں۔ ان میں سے ۷ پر مجلس اتحادالمسلین نے  اپنا قبضہ برقرار رکھا۔اسی طرح دیگر ۷ نشستیں  تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جھولی میں چلی گئیں  نیز   بی جے پی صرف گوشہ محل کے گوشے میں  محدود ہوگئی۔ اب ایک نظر مجلس اور بی جے پی کے ووٹ پر بھی ڈالیں۔ اسمبلی میں ایم آئی ایم کے لیڈر اکبر الدین اویسی نے پانچویں بار ۸۰ ہزار سے زیادہ کے فرق سے کامیابی حاصل کی‘ انہیں کل ۹۵ن ہزار سے زیادہ ووٹ ملے۔ حلقہ بہادر پورہ سے معظم خان نے ۸۲ ہزار کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی جبکہ انہیں ۹۶ ہزار ووٹ ملے۔ اتفاق سے ان دونوں کے خلاف بی جے پی نے مسلم امیدوار میدان میں اتارا تھا۔ اپنے امیدواروں کا یہ حشر دیکھ کر بی جے پی مسلمانوں کو ٹکٹ دینے کی غلطی کیسے کرسکتی ہے؟

یہ بھی دلچسپ حقیقت ہے کہ نامپلی کے علاوہ سارے مجلسی امیدوار۴۰ ہزار سے زیادہ ووٹ کے فرق سے جیتے مگر بیچارہ بی جے پی امیدوار راجہ سنگھ صرف ۱۷ہزار کی اکثریت سے کامیاب ہوا۔ ایک ایسی جماعت جس کی پشت پر سنگھ پریوار سے لے کر اسرائیل تک کھڑا ہے۔ جس کے خزانے میں روپیوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ جس کے پاس  مرکزی حکومت ہے ، چانکیہ ہے اور یوگی اس کے باوجود یہ کسمپرسی کیا سیاسی بے وزنی نہیں  ہے؟ کچھ احمقوں  کو شکایت ہے کہ بی جے پی مسلمانوں کو ٹکٹ کیوں  نہیں دیتی  ظاہرہے جب مسلمان اس کو ووٹ نہیں دیتے تو وہ مسلمان کو ٹکٹ کیوں دے ؟ ایسے میں نہ بی جے پی کو مسلمانوں سے اور نہ مسلمانوں کو بی جے پی سے بیجا توقعات وابستہ کرنا چاہیے۔دونوں کی منزل  جدا ہے دونوں اپنی اپنی  راہ  پر چلتے ہیں۔ اس میں پریشانی کی کیا بات  ہے؟ اقتدار کی زمام کار  پر جب بی جے پی  کی پکڑ مضبوط ہوجاتی ہے تو مسلمانوں کی نمائندگی کم ہوجاتی ہے اور جب وہ کمزور ہوتے ہیں تو مسلمان طاقتور ہو جاتے ہیں۔ یہ سی سا جھولا ہے جس کے ایک سر ے پر ملت اسلامیہ  اور دوسرے پر سنگھ پریوار   براجمان ہے۔ اس کے ایک سرے کےاوپر جانے پر  دوسرے کا نیچے آنا فطری عمل ہے۔ اس میں  نہ خوش ہوناچاہیے اور نہ   غمگین ہونا مناسب ہے۔آندھرا پردیش میں توبی جے پی سے نمٹنے  کے لیے ٹی آر ایس کاایک مسلمان بھی کافی ہے۔ ایم آئی ایم اور ٹی آر ایس نے خفیہ اشتراک سے بلیوں اور بندر کی کہانی کو الٹ دیا۔ ان دونوں نے بجرنگی بندر سے روٹی واپس  چھین کر اس کا منہ نوچ لیا۔

تلنگانہ میں تو خیر مسلمان پیچھے نہیں ہٹے اور اپنی جگہ جمے رہے لیکن راجستھان اسمبلی  میں مسلم ارکان کی تعداد چار گنا بڑھ گئی یعنی پہلےدو ارکان  اسمبلی تھے جو اب بڑھ کر ۸ ہوگئے۔ اس کے علاوہ ایک فرق یہ بھی ہے کہ گزشتہ اسمبلی میں دونوں  مسلمان ارکان اسمبلی کا تعلق  بی جے پی سے تھا اس بار اس کا ایک بھی مسلمان رکن اسمبلی نہیں ہے۔ پچھلے ۲۵ سالوں میں پہلی بار بی جے پی کے ٹکٹ پر کوئی مسلمان کامیاب نہیں ہوا۔ یہ نتائج حزب توقع ہیں۔ ۲۰۰۳ ؁ میں بی جے پی نے ۴ مسلمان امیدواروں کو میدان میں اتارا تھا ان میں سے دو کامیاب ہوگئے تھے۔ اس بار پہلے تو حبیب الرحمٰن کا ٹکٹ کاٹ دیا گیا۔ اس پر برہم ہوکر وہ دوبارہ اپنی پرانی کانگریس میں لوٹ گئے۔ کانگریس نے انہیں ٹکٹ بھی دے دیا لیکن حبیب الرحمٰن بی جے پی کے امیدوار سے ہار گئے۔ بی جے پی سے قبل دوبار وہ کانگریس اور بی جے پی  کے ٹکٹ پر جیتنے والےحبیب الرحمٰن کی شکست اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام نے ان کی موقع پرستی اور ابن الوقتی کو پسند نہیں کیا۔

وسوندھرا راجے کے قریبی سمجھے جانے والے صوبائی وزیر یونس خان کو آخر تک لٹکائے رکھا گیا۔ کانگریس میں وزیراعلیٰ کے امیدوار سچن پائلٹ نے جب  ٹونک سے اپنے کاغذاتِ نامزدگی داخل کیے توان کے سامنے یونس خان کو میدان میں اتارا گیا کہ ’ چڑھ جا بیٹا سولی پر رام بھلی کرے گا‘۔ سچن خود بھی انتخاب لڑنا نہیں چاہتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ گہلوت بھی نہ لڑیں تاکہ راہل کو تقرر کا موقع ملے  لیکن  اشوک گہلوت نے پریس کانفرنس میں اچانک اعلان کردیا کہ پائلٹ ، جوشی  اور وہ تینوں انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اس کے بعد پائلٹ نے محفوظ حلقہ کی تلاش شروع کردی اور ٹونک کو منتخب کیا۔ یہاں سے اکثر کانگریس مسلمان کو ٹکٹ دیتی تھی لیکن اس بار چونکہ پائلٹ آگئے تو بی جے پی نے کانگریسی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے یونس خان کو میدان میں اتارا تاکہ مسلمان ووٹ تقسیم ہوں لیکن مسلمانوں نے اپنی بیدار مغزی کا ثبوت دیتے ہوئےاس سازش  کوناکا م کر دیا۔  یونس کو ۳۲ فیصد تو پائلٹ کو ۶۴ فیصد ووٹ ملے۔ بی جے پی والوں کو پھر سے سمجھ میں آگیا کہ اس قوم کو بے وقوف بنانا اس کے بس کا روگ نہیں ہے۔ اس بار ۷ کانگریسی مسلمانوں کے علاوہ ایک  بی ایس پی کا مسلمان بھی جیتا لیکن بی جے پی کا وزیر ہار گیا۔

راجستھان میں تین مسلمان کانگریسی امیدوار بہت کم فرق سے شکست کھا گئے ورنہ اس بار وہاں  ۱۱مسلم  ارکان اسمبلی ہوتے۔ تجارا سے عماد الدین نے ۵۵ہزار ووٹ حاصل کئے اور بی ایس پی کے سندیپ کمار کو ۵۹ووٹ ملے۔ ان کی  ہار جیت کا فرق محض ۴ہزار ۴ سو تھا جبکہ سماجوادی پارٹی کے فضل حسین نے ۲۲ ہزارووٹ حاصل کر لئے۔ چورومیں کانگریس کےرفیق نے ۸۵ ہزارووٹ حاصل کئےجو بی جے پی کے امیدوار راجندر راٹھوڑ سے  صرف ۱۸سوکم تھے جبکہ  تین مسلم امیدواروں نے جملہ  ۳ ہزار ۶ سو  ووٹ لے لیے۔مکرانہ میں  ذاکر حسین کو بھی ۸۵ ووٹ  حاصل کرنے کے باوجود ۱۴۸۸ ووٹ سے ہار گئے جبکہ  دیگر تین مسلمان امیدواروں نے جملہ  ۲۴۹۳  ووٹ حاصل کرکے اپنے ہی آدمی کو ہرا دیا۔ اگر یہ تین بھی جیت جاتے تو مجموعی طور پر مسلم ارکان اسمبلی کی تعداد اس بار دوگناہوجاتی۔

مدھیہ پردیش  سے ۲۰۱۳ ؁ میں صرف ایک  مسلم امیدوار کا میاب ہوا تھا۔ اس بار اس میں صد فیصد اضافہ ہوا یعنی تعداد دو ہوگئی۔ پچھلی مرتبہ کانگریس نے پانچ لوگوں کو ٹکٹ دیا اس میں سے ایک جیتا تھااس بار تین کو ٹکٹ ملا لیکن ان میں سے دو کامیاب ہوگئے۔ بھوپال سےعارف عقیل ۱۹۹۸ ؁ سے لگاتار کامیابی حاصل کررہے ہیں۔ اس مرتبہ  انہوں  نےایک سابق کانگریسی رہنما رسول صدیقی کی بیٹی فاطمہ رسول کو ۳۵ ہزار سے زیادہ ووٹ کے فرق سے شکست فاش دی۔ بھوپال کے مرکزی حلقۂ انتخاب سے عارف مسعود بھی جیت گئے۔ گزشتہ مرتبہ وہ  صرف ۶ ہزار کے فرق سے ہارے تھے لیکن اب کی بار انہوں نے ۱۵ ہزار ووٹ سے کامیابی حاصل کی۔ اس حلقہ انتخاب میں کمیونسٹ پارٹی اور عآپ نے بھی مسلمان امیدواروں کو ٹکٹ دیا تھا لیکن وہ بیچارے ۵۰۰ ووٹ بھی نہیں جٹا پائے۔ سرونج سے مسرت شہید ہار گئے اور برہانپور کے حمید قاضی نے ذاتی وجوہات کی بناء پر ازخود ٹکٹ لوٹا دیا۔ چھتیس گڑھ  میں چونکہ مسلمان خاطر خواہ تعداد میں نہیں ہیں اس لیے بی جے پی نے ان کی جانب دیکھنے کی زحمت نہیں کی۔ پچھلی مرتبہ کانگریس کے ٹکٹ پر بھی کوئی مسلمان  کامیاب نہیں ہوسکا حالانکہ اس کے ۳۹ ارکان اسمبلی میں تھے۔ اس بار کانگریس نے دو لوگوں کو ٹکٹ دیا اور ان میں سے ایک اکبر بھائی نے کوردھا حلقۂ انتخاب سے۵۹ ہزار کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔

انتخابات میں کانگریس اور بی جے پی کی بات ہر کوئی کر رہا ہے لیکن ان  کے علاوہ علاقائی جماعتوں نے بھی حصہ لیا تھا۔ یہ جماعتیں اپنے علاقہ میں تو بڑی کامیابی حاصل کرتی ہیں لیکن جیسے ہی باہر نکلتی ہیں ان کی ہوا نکل جاتی ہے۔ آج کل رائے دہندگان کے لیے  سارے امیدواروں کو نااہلقرار دینے کا بھی موقع ہے۔ اس بار یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ ان علاقائی جماعتوں کو نااہل قرار دیئے جانے والوں سے بھی کم ووٹ ملے مثلاً چھتیس گڈھ میں نوٹا کا  تناسب  سب سےزیادہ  یعنی ۱ء۲فیصد تھا جبکہ  عآپ کو ۹ء۰فیصد، ایس پی اور این سی پی کو ۲ء۰اور سی پی آئی کو ۳ء۰ فیصد ووٹ ملے۔یعنی ان تینوں کے ووٹ ملا لیے جائیں تب بھی وہ نااہلوں سے کم بنتے ہیں۔  اسی طرح مدھیہ پردیش میں ایس پی کو ایک اور عآپ کو ۷ء۰ فیصدووٹ ملے جبکہ نوٹا کے کھاتے میں ۵ء۱ فیصد ووٹ چلے گئے۔ راجستھان میں سی پی ایم  جیسی قدیم جماعت کو نوٹا کے برابر ۳ء۱ فیصد ملے اور پڑوس کے صوبے کی بہت بڑی جماعت  ایس پی کو صرف ۲ء۰ فیصد پر اکتفاء کرنا پڑا۔ اس سے علاقائی جماعتوں کی محدودیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔تلنگانہ میں ایم آئی ایم نےحیدرآباد کے اندر ۷ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی لیکن  بودھن سے جیتنے والے امیدوار کا تعلق ٹی ا ٓرایس  سے ہے۔

پانچ ریاستوں کے حالیہ انتخابی نتائج نے مسلمانوں کو دوہری  خوشی سے نوازہ۔ پہلی خوشی تین صوبوں میں  بی جے پی کی شکست کے سبب ہے  اور دوسری مسلم ارکان اسمبلی میں اضافہ کے باعث جو ۱۱ سے بڑھ کر ۱۹ ہوگئی یعنی ۷۲ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ معمولی فرق نہیں ہے اور مودی راج میں اس کاظہور پذیر ہونا غیر معمولی  اہمیت کا حامل ہے اس لیے کہ  شاہ جی اقلیتوں کا کوئی حق تسلیم ہی نہیں کرتے اور یوگی جی  مسلمانوں کی دلآزاری کو سب سے بڑا پونیہ سمجھتے ہیں۔  جس جماعت کی اساس ہی اسلام دشمنی اور مسلمانوں سے نفرت و عناد پر ہو اسے مسلمانوں کی کامیابی سے تکلیف تو ہوگی۔ جمہوری نظام میں سیاست کو عوام کی فلاح وبہبود سے بے نیاز کرکے انتخاب کے ہم  معنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔  اس لیے سیاسی وزن انتخابی میزان پر تولا جاتا ہے یعنی جب مسلم ارکان پارلیمان کی تعداد بڑھ جاتی ہے تو ہم لوگ اس خوش فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ امت  وزندار ہوگئی  ہےاور جب یہ تعداد گھٹ جاتی ہے تو ہر کوئی بے وزنی کا رونا رونے لگتا ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے تو یہ بات درست ہے لیکن حقیقت حال سے اس کا کوئی سروکار نہیں ہے۔

 جمہوری نظام میں ہر پانچ سال کے اندر ایک بارووٹ ڈال دینے کے بعد سارے عوام بشمول ہندو مسلمان بے وزن ہوجاتے ہیں۔استبدادی طاقتیں مختلف جمہوری قباوں کو اوڑھ کر نمودار ہوتے ہیں اور عوام ان میں سے کسی  ایک کومسترد کرکےدوسرے کے ہاتھ میں اقتدار سونپ دیتے ہیں۔ یہ نظام جبر و استحصال  اپنی آغوش میں آنے والی ہر جماعت اور رہنما کو ظلم و استحصال کے نت نئے حربوں سے لیس کردیتا ہے۔ اس لیے اقتدار تو بدلتا ہے مگرعوام  کی حالت زارمیں کوئی بنیادی تبدیلی   واقع نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے بستر ضلع میں سرکاری دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے سماجی کارکن ہمانشو کمارتفصیل کے ساتھ قبائلی لوگوں اور مسلمانوں کے خلاف کانگریسی مظالم یاددلانے کے بعد سوال کرتے ہیں   کیاچھتیس گڑھ میں  کیاحکومت بدلنے سے کچھ بدلنے کی امید کی جاسکتی ہے؟بقول  منصور آفاق؎

یہ گفتگو سے سویرے طلوع کرتی ہیں

وطن پہ رات کی زیرک بلائیں حاکم ہیں

وہ ساری روشنیوں کی سہانی آوازیں

تھا اقتدار کا ناٹک بلا ئیں حاکم ہیں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close